جے یو آئی کی کامیابیوں کا سفر


اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ جے یو آئی ہی بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی و مذہبی تنظیم ہے، اس کے پاس کمیٹڈ ورکرز کی بہت بڑی کھیپ ہے، یونٹ سے لے کر صوبہ تک مربوط تنظیمی ڈھانچہ ہے، زیرک قیادت ہے، اور ہر قسم کی سیاسی مد و جزر سے گزرنے کا تجربہ ہے۔

28 جولائی کو جب موجودہ صوبائی تنظیم سازی کے چند دن ہوئے تھے، ابھی تک صوبائی کابینہ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی، جے یو آئی بلوچستان نے بے مثال ملین مارچ کا انعقاد کیا اور اسی ملین مارچ میں مولانا نے اسلام آباد آزادی مارچ کا اعلان کیا، اس کامیاب ملین مارچ سے لے کر اس کامران طوفان الاقصی کانفرنس کی کامیابی تک جے یو آئی بلوچستان کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ بلوچستان کی حقیقی عوامی قوت ان کے ساتھ ہے اور اس نے اپنے کارکنان کے علاوہ عوامی قوت کو مسلسل اپنے ساتھ جوڑے رکھا ہے، عوام کسی تنظیم کے ساتھ اس وقت ہمیشہ کے لیے جڑا رہتا ہے جب اس کے بیانیے میں کسی قسم کا دوغلا پن نہ ہو، کسی قسم کا چونکہ چنانچہ اور اگر مگر نہ ہو، جے یو آئی کا بیانیہ صاف و شفاف و دو ٹوک ہے جس پر عوامی اعتماد کا اظہار مہر تصدیق ثبت کا کر دیتا ہے۔

ملک میں عام انتخابات کا غلغلہ ہے، لیول پلئینگ فیلڈ کی سرگوشیاں ہیں، سیاسی جماعتوں کی نئی صف بندیاں ہیں، سیاسی قیادتوں کی آنیاں جانیاں ہیں، میل ملاپ ہے، جے یو آئی نے اس سب کے باوجود مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ان کے نام سے منسوب کر کے عالم اسلام اور پوری دنیا کے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی، طوفان الاقصی کانفرنس کی جس طرح بین الاقوامی کوریج ہوئی اس سے کانفرنس کی اہمیت اور اس کے دو ٹوک بیانیے کی افادیت کا اندازہ ہوتا ہے، اس کانفرنس کی منفرد بات جے یو آئی کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم ہے، جس نے مرکزی کوارڈینیٹر انجنیئر ضیاء الرحمن کی نگرانی میں پہلی بار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

29 اکتوبر کی کانفرنس ہر حوالے سے مثالی تھی، لوگوں کی کثیر تعداد کی شرکت سے ایوب اسٹیڈیم کی وسعتوں کو تنگی داماں کی شکایت رہی، اسٹیڈیم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا، اسٹیڈیم کے باہر بھی لوگوں کی اتنی بڑی تعداد جمع تھی کہ گمان تھا کہ ایک کانفرنس اسٹیڈیم کے اندر اور ایک باہر ہو رہی ہے، لوگوں میں جوش تھا، ولولہ تھا، قیادت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پیر و جوان، علماء اور عام لوگوں نے رضاکارانہ اپنی شرکت یقینی بنا کر فلسطینی مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا، کانفرنس سے اپنے خطاب کے ابتدائی کلمات میں قائد ملت اسلامیہ نے فرمایا کہ، جنہیں تم دہشت گرد کہتے ہو انہیں ہم مجاہد سمجھتے ہیں، اور ہم اس جنگ میں شریک ہیں، یہ اس رائل اور امریکہ کو دو ٹوک پیغام تھا۔ اس کانفرنس میں ایک اور پیغام بھی قائد کے ان الفاظ میں واضح تھا کہ ”اگر ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے تو تمھارا باپ بھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتا ہے، یہ پیغام جسے دیا گیا وہ اس پیغام کو اچھی طرح سمجھتا ہے، جس طرح ماضی میں مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالہ گیا اب یہ عمل کسی بھی طرح قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہو گا۔

ملین مارچ سے طوفان الاقصی کانفرنس تک، جے یو آئی بلوچستان نے جس طرح کامیابی سے کامرانی تک کا سفر طے کیا اس میں صوبائی امیر مولانا عبد الواسع صاحب کی متحمل مزاجی، معاملہ فہمی، ڈسپلن کی پابندی، کارکنان سے مسلسل رابطے، ہمہ وقت متحرک ہونا شامل ہے، اسی طرح صوبائی جنرل سکریٹری مولانا آغا محمود شاہ صاحب کی کاوشیں جے یو آئی کی نئی اٹھان میں شامل رہی ہیں۔ جب نئی تنظیم سازی کے بعد نئی کابینہ وجود میں آیا تو اس کی چند قدم نہ چلنے کی پیشن گوئی تھی، ساری پیشن گوئیاں ہوا میں اڑ گئی ہیں، جے یو آئی بلوچستان کامیابیاں سمیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔

جے یو آئی بلوچستان اس پوزیشن میں ہے کہ آئندہ انتخابات میں بلوچستان میں اپنی حکومت بنا سکے، سازشیں، رکاوٹیں اور نئی سیاسی انجنئیرنگ کی ریشہ دوانیاں نہ ہوئیں تو بلوچستان میں اگلا وزیراعلی جمعیت علماء اسلام سے ہو گا، ان کے پاس عوامی ایجنڈا ہے، بلوچستان کے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی انفراسٹرکچر کو درست کرنے کے منصوبے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے عوام کے ساتھ ساتھ اپنے مرکزی قائد کا مکمل اعتماد حاصل ہے، ان چار سالوں میں قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلھم نے بلوچستان کے متعدد دورے کیے اور ہر دورہ دوسرے سے زیادہ عوامی طاقت کا مظہر رہا ہے، جبکہ طوفان الاقصی کانفرنس نے ماضی کے اپنے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

بلوچستان کے عوام کی تائید سے کامیابی کا یہ سفر اپنی منزل کی جانب جاری ہے اور گراس روٹ لیول پر جڑیں رکھنے والی جے یو آئی ہی یہاں کے عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS