اپنی باز نشستگی و خستگی پر


لو بھئی، ہوشیار باش، کہ آج ہم پوری طرح سٹھیا گئے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل نے اپنے ایک مضمون میں ریٹائرمنٹ کا ترجمہ دوبارہ تھکاوٹ و خستگی کیا ہے۔ ہمارے ہاں سرکار انگلشیہ کے تتبع میں باز نشستگی و خستگی کی عمر ساٹھ برس ہے جسے عوامی محاورے میں ’سٹھیانا‘ بھی کہتے ہیں۔ لغت میں سٹھیانے کا مطلب لکھا ہے بڑھتی عمر کے سبب قویٰ مضمحل ہوجانا۔ غالب فرما گئے ہیں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
غالب کے معاملے میں نوبت بایں جا رسید کہ
بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
پر مجھے طاقت سوال کہاں

سٹھیائے ہوئے شخص میں تو ایسے سوال کی طاقت بھی نہیں رہ جاتی۔ وہ ازکار رفتہ یعنی صرف کار پر لاد کر لانے لے جانے جوگا رہ جاتا ہے۔ از کار رفتہ شخص کار بوالہوسی اور عشق و عاشقی پر گرفت تو کجا مرفوع القلم ہونے کے سبب شرعی تکلیفات اور فقہی مواخذے سے بھی مستثنیٰ مانا گیا ہے۔ لہذا اس عمر سٹھیائی میں آج اور اب ہم جو بھی کہہ اور کر گزریں، ہمیں معذور سمجھا جائے!

لیکن صاحب زمانہ زمانہ ہے وہ اپنی چلتر بازیاں / سخت گریاں کہاں چھوڑتا ہے۔ غالب نے یہ بھی کہہ رکھا ہے
فلک، سفلہ بے محابہ ہے
اس ستم گر کو انفعال کہاں!
اور
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
ہتھکنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے

تو صاحب ہمارے سٹھیا جانے، یعنی عمر عزیز کے چھٹے عشرے کو چھو لینے میں ہمارا کوئی کمال نہیں یہ سب چرخ نیلی فام و فلک کے ستم گر کا کیا دھرا ہے۔ مزید یہ کہ ہماری ریٹائرمنٹ اور آپ سب احباب کو یہاں جمع کرنے میں بھی ہمارا کوئی کمال، کوئی قصور نہیں۔ قصور صرف فلک ستم گر کا اور کمال صدر شعبہ اردو ڈاکٹر کامران کاظمی، شعبہ اردو کے اساتذہ اور سب سے بڑھ کے میرے ان عزیز طلبہ کا ہے جنہوں نے مجھ سے کسب فیض کا بدلہ یوں لیا کہ نہ صرف میری رضا مندی بلکہ میرے علم میں بھی لائے بغیر انہوں نے چپکے چپکے مجھے اور اپ سب کو یہاں جمع کرنے کا اہتمام کر دیا!

بھئی بات یہ ہے کہ موت اور ریٹائرمنٹ میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کا وقت طے ہے یعنی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

ہو سکتا ہے کہ بعضوں کو ریٹائرمنٹ کے خیال سے بھی نیند نہ آتی ہو مگر بندہ تو آج کل دن کو بھی خواب خرگوش اور حالت مد ہوش کے مزے لیتا ہے۔ ہاں موت اور ریٹائرمنٹ کا وقت طے ہے مگر دونوں میں فرق بھی ہے: وہ یہ کہ اس کا وقت اپ کی پیدائش کے روز ہی سے طے ہو جاتا ہے۔ ہوتا تو موت کا بھی متعین ہے مگر ریٹائرمنٹ کا تعین اتنا بین اور کھلا راز ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم کے پروانہ مشاہرہ یعنی پے سلپ پر بھی درج ہوتا ہے۔

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی

کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ ریٹائرمنٹ وہ دلخراش واقعہ ہے جس کا ذائقہ ہر اس ذی نفس کو چکھنا ہوتا ہے جس نے کبھی کارسرکار کے پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑائی ہو۔ اس میں ان کو بھی استثنیٰ نہیں جو بالعموم اپنی عمر چھپانے کے لیے معروف ہیں، جو فیس بک پر تاریخ پیدائش اور حتی کہ دن بھی لکھ دیتی ہیں مگر سال نہیں لکھتیں۔ مطلب یہ کہ ریٹائرمنٹ سے کسی کو بھی رستگاری نہیں

آج وہ کل ہماری باری ہے

اس کلیے میں اگر استثنیٰ پیدا کرنے کا کوئی ہنر جانتا ہے تو وہ صرف ہمارے سیاست دان ہیں مگر صاحب سیاستدان کوئی سرکاری ملازم تو نہیں وہ تو ہمارے آقا ہیں وہ تو وہ ہیں جو کسی کو جب چاہیں ریٹائرمنٹ سے استثنیٰ دے کر خود اپنے سر پر مسلط کر لیں اور پھر عمر بھر ”مجھے کیوں نکالا“ یا ”میر جعفر و میر صادق“ وغیرہ پکارتے پھریں! روتے پھریں کہ اس نے ہمارا تختہ الٹ دیا!

سرکاری ملازم نہ ہونے کے باوجود یہ سیاستدان ہم آپ سے زیادہ پنشن لینے اور اپنی پنشن حسب منشا بڑھانے کا بھی اختیار رکھتے ہیں جبکہ ہم ایسے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری۔ اس میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں اللہ نے قوام بنایا اور وہ بھی جن کے سر پر فلک ستم گر نے رن مریدی کا تاج سجایا۔ یعنی ہر قسم کے زنان و مردان جنہوں نے سرکاری ملازمت کے پھٹے میں کبھی ٹانگ اڑائی انہیں ریٹائرمنٹ کا مزہ ضرور چکنا اور حیات بعد الریٹائرمنٹ میں وظیفے پر پلنا ہے۔ اور یہ بھی کسی کسی کے نصیب ہے ورنہ اکثر کو تو اس وظیفے کے لیے خوار بھی ہونا پڑتا ہے!

یہ جو میں نے اپنی عمر گھٹا کے بتانے والوں کی بات کی واللہ اس میں طبقہ نسواں کا کوئی تمسخر نہیں اس چلتر میں بعض مردان صفا و بال صفا بھی شامل ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ عورت ہو یا مرد دونوں ایک خاص وقت تک عمر کم بتاتے ہیں اور پھر ایک خاص دور کے بعد بڑھا کر بتانے لگتے ہیں۔ مقصد ان دونوں فریب کاریوں کا ایک ہی ہوتا ہے : دیکھو ہوں تو میں 80، 85 کے پیٹے میں مگر بالکل ساٹھا پاٹھا یعنی ہٹا کٹا نظر آتا ہوں۔

تو بھئی دیکھنا دو تین برس اگر اور زندہ رہے تو یکا یک ہم بھی خود کو 70 کا بتایا کریں گے!

بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو زندگی میں خود تو کچھ ڈھنگ کا کر نہیں سکے ہوتے مگر دوسروں کی عمر کی کھوج میں لگے رہتے ہیں : ”غضب خدا کا دیکھو فلاں نے اپنی عمر کم لکھائی تھی اس وجہ سے اب تک کرسی سے چمٹا بیٹھا ہے“ ۔ چند برس پہلے مجھے ایک ایسے ہی کھوجی کی زیارت کا اتفاق ہوا جو اس عزم کا اظہار کر رہا تھا کہ ”ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی عمر کم لکھوائی ہے اور دو دو پینشن لے کے مزے کر رہے ہیں۔ میں ان پر مقدمہ دائر کرنے والا یوں ان کی پینشن بند کروا کے چھوڑوں گا“ ۔ میں ان صاحب کی بات سن کے دنگ رہ گیا۔ ان سے ذرا بے تکلفی ہوتی تو استاد ذوق کا مشورہ ان کو ضرور پیش کرتا

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ناخن نہ دے خدا تجھے اے پنجہ جنوں
دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو

مگر وہ صاحب آ پڑوسن چپٹی کھیلیں بیٹھے سے بیگار بھلی والا مزاج رکھتے ہیں۔ آج کل بھی اسی ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں کہ مجھ جیسے گوہر قابل کو نظر انداز کر کے فلاں کو فلاں ادارے کا صدر نشین کیوں بنایا گیا وغیرہ وغیرہ!

دوسروں کو چھوڑیے چلیے ہم اپنی بات کرتے ہیں۔ حضرات گرامی اور شاگردان عزیز! شادی کی طرح چونکہ مجھے ریٹائرمنٹ کا بھی قبل ازیں کوئی تجربہ نہیں اس لیے اس موقع پر میری ان ان گھڑ باتوں کو معاف کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی دو اڑھائی برس پہلے تک میں ذہناً خود کو اکثر احباب سے چھوٹا سمجھتا رہا۔ ذہنی کدکڑے بھی خوب لگائے۔ سیاست کا معاملہ ہو تو دماغ اور دیگر طرح کی واردات ہوں تو دل قلانچیں بھرنے لگتا تھا۔ سعدی نے اگرچہ تنبیہ کر رکھی ہے کہ بزرگی بہ عقل نہ بہ سال مگر گھٹنے میں درد جگر اور کچھ ریٹائرمنٹ ریٹائرمنٹ کی تکرار سننے کے سبب آج کل یکایک خود کو کچھ بزرگ بزرگ سا محسوس کرنے لگا ہوں۔ لیکن صاحب یہ بزرگی بھی درد گھٹنا تک ہی ہے ورنہ ہمارا سٹھیاپے میں بھی وہی حال ہے جو سعدی کا 40 سال میں تھا

چہل سال عمر عزیزت گزشت
مزاج تو از حال طفلی نگشت
دیکھیے ”طفلی نگشت“ پر قصاب کاشانی کا کیا خوبصورت شعر یاد آیا
خام طبعی بیں کہ گشتم پیر، وز طفلی نرفت
شوخئی آسائش گہوارہ از یادم ہنوز

آسائش گہوارہ کی طفلانہ یادوں سے شروع کروں تو بات لمبی ہو جائے گی بہتر ہے کہ جوانی و پیری کے درمیان سے کہیں بات کا سرا پکڑوں۔ سن 1985 میں محمد خان جونیجو نے نئی روشنی سکول سکیم شروع کی تو ہم نے بھی اس میں درخواست داغ دی۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ نہ صرف نوکری مل گئی بلکہ پہلی پہلی پوسٹنگ اپنی پیدائش کے گاؤں چک نمبر 11 سانگھڑ میں ہوئی۔ اسے نیک شگون جانا کہ نہ صرف ملازمت کا آغاز شعبہ تدریس سے ہوا بلکہ اپنی جنم بھومی سے خدمت گزاری کا آغاز ہوا۔ پھر کچھ عرصہ سانگھڑ میں ڈاک خانے کی نوکری بھی کی اور دلیپ کمار کی فلم ودھاتا کے سات سہیلیوں کی فریاد والے گانے کے مصداق ”ٹھپو لگاوے گھڑی گھڑی“ کے مزے بھی چکھے۔ ابھی ڈاک خانے میں ہی تھا کہ 1986 میں لاہور سے سراج منیر کی طرف سے ادارہ ثقافت اسلامیہ میں آنے کی پیشکش ہوئی جو دل و جان سے قبول کرلی۔ سراج منیر کے ساتھ تین چار سال کام کرنا گویا زندگی کا حاصل تھا۔ ان سے میں نے علم اور جمال کو اکٹھا کرنا سیکھا۔ لاہور ہی میں سہیل عمر سے تعلق ہوا جن نے میں علم کی تدوین اور ادارت کا ہنر اخذ کیا۔ سراج منیر اور سہیل عمر دونوں سے کتابی تعارف تو 1982 میں حیدراباد میں ہوا تھا مگر ان سے شخصی مراسلت کا ذریعہ تحسین فراقی بنے تھے جن سے آج تک بڑے قرب کا تعلق ہے۔ اسی اٹوٹ تعلق کی بنا پر 1995 میں میرے لاہور چھوڑنے کے بعد 2008 میں وہ مجھے گورڈن کالج، راولپنڈی سے واپس لاہور یعنی اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں لے گئے۔ یہ اوریئنٹل کالج کی قدیمی سیاست تھی یا کیا کہ خاکسار کچھ بزرگ مہربانوں، جن سے میرا کبھی کوئی راست تعلق نہیں رہا تھا، کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکا کیا۔ ابھی میں وہیں تھا کہ انہیں دنوں تحسین فراقی کے پاس اسلام آباد سے تشریف لائے ڈاکٹر معین الدین عقیل کے توسط سے معلوم ہوا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے شعبہ اردو میں پوسٹ آئی ہیں۔ میں نے بھی درخواست بھیج دی اور حیران کن طور پر صرف 15، 20 دن کے اندر اندر اگست 2010 میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں آ گیا۔

بندے کی ساری ملازمانہ زندگی جو 1985 میں نئی روشنی اسکول سانگھڑ سے شروع ہوئی ادارۂ ثقافت اسلامیہ، سول سیکریٹیریٹ پنجاب لاہور، گورڈن کالج راولپنڈی اور وہاں سے پھر لاہور اور لاہور سے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے مختلف پڑاؤ کے مابین بکھری پڑی ہے۔ چونکہ نجی و سرکاری ملازمتوں کے اصول و قواعد اور حصول و دست کشی کے ضابطہ جاتی امور سے کبھی اگاہی نہیں رہی اس لئے ملازمتوں کے تسلسل اور پینشن کے معاملات سے بھی کاملاً بے خبری رہی اور اسی لیے اپنے ملازمتی مفادات محفوظ کیے بغیر یک گونہ احمقانہ لاتعلقی سے ایک نوکری چھوڑ کر دوسری نوکری کی طرف لپکتا رہا۔ اب جبکہ ملازمانہ زندگی کے چہل سالہ سفر کا اختتام اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پر ہو رہا ہے اور چونکہ مجھے اپنی زندگی کے تجربات و حاصلات و احساسات بیان کرنے کو کہا گیا ہے اس لیے اب تک کے اس آخری پڑاؤ پر پہنچنے کا ذکر کچھ تفصیل سے کرنا بہتر ہے کہ اس کا آغاز بڑے مہتم بالشان طریقے یعنی ایک معاندانہ اور مخالفانہ فضا میں ہوا تھا اور اب اختتام بھی بے مثال محبتوں میں ہو رہا ہے۔

اسلامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درخواست دینے اور سلیکشن کے مرحلے تک پہنچنے میں حیرت انگیز طور پر صرف 15، 20 دن کا عرصہ لگا تھا۔ اس زمانے میں شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر رشید امجد، کلیہ زبان و ادب کے ڈین ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے اور یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک تھے۔ راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح میں 25، 26 برس قیام کے باوجود میں نے فیصل مسجد اسلام آباد پہلی مرتبہ اس روز دیکھی جب اگست 2010 میں یہاں میرا انٹرویو ہوا۔ انٹرویو کے دوران محسوس ہوا کہ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر رشید امجد کی طرف سے مجھے کچھ ناموافقت کا سامنا ہے جس پر مجھے کچھ حیرت بھی ہوئی کیونکہ اس سے قبل رشید امجد صاحب سے چند روز پہلے کی ایک مختصر سی ملاقات کے علاوہ میرا ان سے کسی طرح کا بھی کوئی تعارف، تعلق یا واسطہ نہ رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ رشید امجد ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ لیکن مجھ پر حیرت کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جب انٹرویو سے باہر نکلنے کے آدھے گھنٹے کے بعد ہی مجھے لاہور سے یار غار امجد طفیل کا فون آیا کہ ”مبارک ہو تم سلیکٹ ہو گئے ہو“ !

میں نے پوچھا
”تمہیں کیسے پتا؟ انٹرویو میں تو حالات میری موافقت میں نہ تھے“
امجد نے بتایا کہ

”ابھی ابھی مجھے اسلام آباد سے رشید امجد کا فون آیا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارے دوست کو ہم نے سلیکٹ کر لیا ہے“ !

درج بالا حالات کے پس منظر میں یہ خبر میرے لیے بہت ہی تعجب خیز تھی۔

ہوا یہ تھا کہ جناب افتخار عارف جو اس سلیکشن بورڈ میں بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ شریک تھے انہوں نے رشید امجد کی رائے کے برعکس یہ موقف اختیار کیا کہ اس اسامی کے لیے جتنے بھی امید وار آئے ہیں، بورڈ کے تمام اراکین گواہ ہیں کہ ان سب میں بہترین انٹرویو انہی کا ہے لہذا بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ میں تو عزیز ابن الحسن کے علاوہ کسی اور کی سلیکشن پر صاد نہیں کروں گا ”

یہ سب باتیں کئی برس بعد مجھے ایک دفعہ ڈاکٹر طیب منیر اور دوسری دفعہ ڈاکٹر اقبال آفاقی کی موجودگی میں خود افتخار عارف کی زبانی پتہ چلیں۔ افتخار عارف کے علاوہ میرے لیے سب سے زیادہ تائید اور عملی کوشش ڈین کلیہ زبان و ادب ڈاکٹر معین الدین عقیل نے کی تھی جس کے لیے میں ان ہر دو حضرات کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ تو یہ سبیل ہوئی شعبہ اردو اسلامی یونیورسٹی میں میری تعیناتی اور 13 سال تدریسی خدمات سر انجام دے کر اپنے ہمکار اساتذہ، شعبہ اردو کے دفتری عملے اور اپنے بے شمار طلباء کی فقید المثال محبتوں میں نوکری سے سبک دوشی اور خیر و عافیت اور اعزاز و تکریم اس کی منزل تک پہنچنے کی!

رشید امجد شعبہ جب تک ہمارے شعبہ اردو کے چیئرمین رہے، اور پھر ان کے یہاں سے چلے جانے کے بعد 2021 میں ان کی وفات تک ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔ حقیقت یہ ہے کہ رشید امجد شخصی طور پر انتہائی ہمدرد، شفیق، سادہ دل اور نیک روح آدمی تھے وہ حد سے زیادہ لوگوں کی مدد کرتے اور اپنے نقصان کی قیمت پر دوسرے کو ضرر بچانے کی کوشش کرنے والے انسان تھے۔ انہیں ذاتی طور پر مجھ سے کوئی عناد نہیں تھا بس اوریئنٹل کالج لاہور سے کچھ بد آموزوں نے انہیں خاکسار کے بارے میں یہ کہہ کر بد راہ کیا تھا کہ ”یہ شخص نہ تو کلاس میں پڑھاتا ہے اور نہ اسے کچھ لکھنے پڑھنے سے شغف ہے“ ۔ گویا، "تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموز ست” کا معاملہ تھا۔

اپنے اسی تاثر کا اظہار بطور چیئرمین شعبہ اردو رشید امجد صاحب نے سلیکشن بورڈ کے سامنے کر دیا جس پر افتخار عارف نے اپنا مذکورہ بالا موقف دیا تھا۔ ڈاکٹر رشید امجد کے انتقال کے بعد یہ سب باتیں آج میں یوں سرعام کبھی نہ کہتا اگر یہ سب وہ خود ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی سوانح حیات ”عاشقی صبر طلب“ میں نہ لکھ گئے ہوتے!

حقیقت یہ ہے کہ اس چہل سالہ سفر خدمت گزاری و بندگی بے چارگی کے دوران راہ میں آنکھیں بچھانے اور سر پر بٹھانے والے زیادہ ملے اور کچھ تھوڑے سے راستے میں کانٹے بونے اور انکھوں میں دھول جھونکنے والی دوست نما چیزیں بھی کارکنان قضا و قدر کے طور پر اپنے فرائض شر سر انجام دیتی رہی ہیں۔ مگر بقول غالب

سفینہ جبکہ کنارے پہ آ لگا غالب
خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے

زندگی میں محبت تعاون اور سہولتیں فراہم کرنے اور علم، جمال، تہذیب اور اپنی اقدار و روایات کے شعور اور ان پر فخر کا احساس بیدار کرانے والے اتنے زیادہ اور وافر طور پر ملے کہ دوسری طرف والے گھسیٹیے ان کے سامنے کسی شمار میں ہی نہیں۔ لہٰذا اپنا تو زندگی میں اکثر و بیشتر یہی وتیرہ رہا کہ

شدہ است سینۂ ظہوری پر از محبت یار
برائے کینۂ اغیار در دلم جانیست

محبت یار کا ذکر ہو تو طیب منیر یاد نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر رشید امجد جیسے حلیم الطبع اور داستان طراز ادیب و افسانہ سرا صدر شعبہ کے بعد ڈاکٹر نجیب جمال جیسے نفیس طبع محقق بھی شعبہ اردو میں آئے مگر طیب منیر کی بات ہی اور تھی۔ خوش لباسی و خوش وضعی، زندہ دلی و جملہ بازی طیب منیر کے مزاج کے عناصر چہارگانہ تھے۔ یوں تو سب کے ساتھ ان کے مراسم تھے مگر ادبی و تنقیدی نظریات میں اختلاف کے باوجود مزاج کی ہم آہنگی کی بنا پر میرے ساتھ ان کی خاصی نبھتی تھی۔ طویل عرصہ اصغر مال کالج میں گزار کر اپنی ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی روز وہ شعبہ اردو اسلامی یونیورسٹی میں بلا لیے گئے تھے۔ عربی زبان و ادب کے مایا ناز عالم ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم نے، جن کے طیب صاحب کے خاندان سے بھی مراسم تھے، ایک دفعہ بتایا کہ طیب صاحب کے والد صادق الرویا تھے۔ میں جو کہ خوش عقیدگیوں والا ادمی نہیں اس لئے سنی ان سنی کر دی۔ اس کے کافی عرصے کے بعد ایک روز طیب صاحب آئے اور مجھے ایک طرف لے جا کے کہنے لگے کہ

”میں نے رات خواب دیکھا ہے تم صدر شعبہ بنو گے“ ۔

میں نے سن کر قہقہہ لگایا اور بات ہنسی میں اڑا دی کہ طیب صاحب تو ایسے ہی ہانک دیتے ہیں۔ ابھی رشید امجد بطور صدر شعبہ موجود تھے اس کے بعد ڈاکٹر نجیب جمال نے آنا تھا اور پھر نجیب جمال کے بعد طیب صاحب کو خود صدر شعبہ بننا تھا۔ مگر طیب صاحب کی ناگہانی وفات کے بعد تقدیر نے جب بالکل غیر متوقع طور پر مجھ ایسے بے بضاعت کو کم عمر ترین، بلکہ اسلامی یونیورسٹی شعبہ اردو کی تاریخ میں اب تک کا طویل ترین عرصہ کا صدر شعبہ بنا دیا تو میں یہ سوچ کر ہمیشہ اداس رہا کہ طیب صاحب کے نیک طینت والد کی صدق الرویائی صفات میں سے کا کچھ حصہ طیب صاحب کو بھی ضرور ودیعت ہوا تھا مگر ان کے خواب کی صداقت ان کی اپنی موت سے مشروط تھی، اس کا تو بالکل اندازہ نہ تھا۔

یہ تو نہیں کہ خاکسار کوئی درویش طبع آدمی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نوکری کے معاملے میں میری کوئی بلند آرزوئیں کبھی تھی ہی نہیں۔ شعبہ اردو کی ایک محقق پیشہ مگر متصوفانہ ذوق و شفیق مزاج ہر دل عزیز استاد محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ

”تم نہ کبھی اسلام آباد کی ادبی تقریبات اور جلسوں میں جاتے ہو نہ یونیورسٹی کے اعلی انتظامیہ کے قرب جوار میں پائے جاتے ہو نہ تقریبات میں بڑھ چڑھ کر فوٹو بنواتے ہو تو ایسے بھلا کیسے کام چلے گا“ ؟

میں نے انہیں جواب دیا کہ ”جب میں نے نوکری شروع کی تھی تو سوچ لیا تھا کہ مجھے ترقی نہیں کرنی“ ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قناعت نہیں بلکہ میری کاہلی تھی جو بہر صورت ہمیشہ کام آئی

اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی

ایک گمنام درویش صفت بزرگ دوست نے ایک دفعہ اپنا یہ واقعہ سنایا تھا کہ ’جب میں نے پٹواری کی نوکری شروع کی تو میرے مرشد نے مجھے کہا کہ خود کو معطل سمجھ کے نوکری کرنا‘ ۔ تو اے عزیزان گرامی! ”موتوا قبل ان تموتوا“ کی ایک صورت یہ بھی ہے۔ واللہ اس میں بڑے مزے ہیں۔ مقدر میں جو ترقیاں ہوتی ہیں وہ بھی ضرور ملتی ہیں اور آدمی سرمستی و بے خوفی کی زیست بھی کرتا ہے۔ کچھ پانے کی ہوس نہ ہو تو کچھ کھونے کا ڈر بھی نہیں رہتا۔ ورنہ سرکاری نوکری تو وہ بد بلا ہے جو بڑوں بڑوں کو خون تھوکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

خاکسار کی ملازمت کا ایک معتدبہ حصہ جس گورڈن کالج راولپنڈی میں گزرا ہے اسی کالج کے ابتدائی زمانوں کے ایک استاد یا شاگرد معروف شاعر تلوک چند محروم نے غالباً اپنی ریٹائرمنٹ پر ایک قطعہ کہا تھا جس کا آخری مصرع، تو یوں کہنا چاہیے کہ، چاکرانہ زندگی کی تلخی اور چست شعری ہنروری کا مرقع ہے :

سی و پنج سال عمرم بہ ملازمت بسر شد‎
سحر شباب خود را ہمہ تیرہ شام کردم‎
شرفم بہ عہد پیری چہ بود کہ در جوانی
بہ سگاں ادب نمودم، بہ خراں سلام کردم
ذرا سوچیے تلوک صاحب نے جب یہ قطعہ کہا ہو گا تو وہ کس کرب سے گزرے ہوں گے؟
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ
اس کے دل پر بھی کڑی عشق پہ گزری ہوگی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

تو یہی کچھ اس مصرعے میں ہے۔ محبت کی سزائیں تو ہم نے بھی خوب بھوگی ہیں مگر یہ قطعہ سرکاری نوکری کے حوالے سے برسبیل تذکرہ یاد اگیا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خاکسار کے حصے میں نہ کوئی خاص سگ آیا اور نا زیادہ خر آئے! سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا والی روش نے ہمیشہ خیریت ہی رکھی۔

کوئی ایک آدھ خر آیا بھی تو ہم کنی کترا کے نکل گئے۔ ایک سوقیانہ سی مثل ہے کہ سگ کی اگاڑی اور خر کی پچھاڑی دونوں ہی خراب ہیں۔ اسی سے مستفاد سول سیکرٹیریٹ لاہور کے زمانے سے ہمارا بھی ایک قول ہے : جو کٹ کھنی صفات درج بالا مشاہیر کے صرف اگواڑے پچھواڑے کو ودیعت ہوئی ہیں وہ افسر کے چاروں اطراف یکساں شدت سے پائی جاتی ہیں اور یہ کہ افسر سے شر کا صدور یقینی اور خیر ظنی ہوتا ہے لہذا سمجھداری کا تقاضا ہے افسر کے دونوں اطراف سے بچا جائے اور یقین کو ظن پر قربان نہ کیا جائے! یہی وجہ ہے کہ بندگی بیچارگی کے اس سارے عرصے میں ہم افسران خرنشان کی سلامیاں بھرنے سے عموماً گریزاں و پرہیزاں ہی رہے!

ایسا نہیں کہ ہمیں اچھے افسر زندگی میں کبھی ملے ہی نہیں۔ سراج منیر کا میں ذکر کر چکا۔ وہ ادارے ثقافت اسلامیہ میں شیخ محمد اکرام، میاں ایم ایم شریف اور خلیفہ عبدالحکیم جیسے علماء اور فلسفیوں کی مسند پر بٹھائے جانے والے کم عمر ترین ڈائریکٹر اور ادارے کے انتظامی امور میں مختار کل تھے۔ مگر ان کے انتقال پر عالم یہ تھا کہ بڑے سے بڑے افسر سے لے کر ادارے کے خاکروب تک ان کی لحد پر پچھاڑیں کھا رہے تھے۔ راولپنڈی کا حشمت علی کالج جہاں میری اولین پوسٹنگ ہوئی وہاں کے پرنسپل حنیف جنجوعہ بھی ایک ایسے ہی دل جیت اور من پریت افسر تھے۔ لیکن اس کے برعکس مثال گورڈن کالج کے ایک چند روزہ اتفاقی پرنسپل بھی تھے جو حادثاتی طور پر، اور، عارضی پرنسپل بننے کے اگلے روز ہی رفقا کے سلام کا جواب دینا بھی عار سمجھنے لگے تھے اور کوئی قسمت مارا اگر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا تو جواباً پرنسیپل صاحب کی انگلیوں کی دو پوروں ہی کا لمس پاتا۔

اچھے افسران کی محبتوں نے سینے کو اگر بھر نہ دیا ہوتا تو میں ان صاحب کی کینہ توزیوں کی بھی چند مثالیں ضرور عرض کرتا کہ جس نے اپنے کالج کی شان ڈاکٹر عارف نوشاہی جیسے فارسی کے عالم بے بدل اور محقق اجل کو بھی اپنی نیش زنی سے محفوظ نہ رکھا تھا۔ گرمی کی چھٹیوں میں جونہی اسے بغیر اطلاع نوشاہی صاحب کے ایران جانے کا سنا، ترنت اکاؤنٹس آفس میں فون کر کے اس نے نوشاہی صاحب کی تنخواہ بند کروا دی۔ مگر خیر جانے دیجئے!

میرے صدر شعبہ ڈاکٹر کامران کاظمی نے مجھے کہا ہے کہ آج کے دن چونکہ تمہاری پی ایچ ڈی کی کلاس بھی ہے اس لیے وہ باتیں بھی یہیں کر لینا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے سارے طلباء آج جمع ہیں مگر اپنی یونیورسٹی کے دوسرے شعبوں اور شہر کی دیگر یونیورسٹی سے آئے ہوئے اساتذہ کے سامنے بالکل کمرہ جماعت کا سا ماحول بنا دینا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے تھوڑی تھوڑی باتیں ہر طرح کی کر لیتے ہیں۔

اپنے طلبا سے میری گزارش یہ ہے کہ اس بات پر فخر کریں اور خود کو سر بلند رکھیں کہ اپ اردو زبان و ادب کے طالب علم ہیں۔ دوسرے مضامین کے اسٹوڈنٹس کے سامنے خود کو کبھی شرمندہ اور کمتر محسوس نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ معاشیات تاریخ فلسفہ، میتھمیٹکس، فزکس، کیمسٹری، سائنس، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی اور اس طرح کے دیگر علوم زندگی کی ایک خاص جہت کے مطالعات ہیں لیکن ادب پڑھنے کا مطلب کل زندگی کو پڑھنا ہے۔

افسانہ ناول اور شاعری پڑھنا محض اس دائرے میں بند رہ جانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے زمانے ماحول اور گرد و پیش کے زندہ مسائل سے آنکھیں چار کر کے جئیں۔

اپنی تہذیب اپنی اقدار اور روایات پر کبھی شرمندہ نہ ہوں ان پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ زندگی زمانے اور ماحول کی مشکلات آنی جانی شے ہیں۔ چیزیں اور آسائشیں تہذیب کی راہ کے کھلونے ہوتے ہیں۔ دوسروں کی تہذیب و ثقافت اور عروج و ترقی کو دیکھ کر اپنی اقدار و روایات کو ہرگز چھوٹا نہ سمجھیں۔ ہم جتنی بھی حالت زوال میں ہوں جدید فلسفے، نظریات، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ثمرات و حاصلات ہمارے اندر جو بھی شکست و ریخت پیدا کریں ہمارے اندر جو بھی تشکیک اور وسوسے سر ابھاریں ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم میں کوئی شے ہم سے بھی بڑی ہے۔ بقول سلیم احمد

میں اس کے جسم کا ہوں ایک ذرہ
میری کل عمر اس کی اک گھڑی ہے
شجر جیسے ذرا سے بیچ میں ہو
کوئی شے مجھ میں مجھ سے بھی بڑی ہے

اس بڑی شے سے وفاداری ہی ہماری زندگی اور موت کا مدار ہونا چاہیے۔ tragic sense of life والے اونا مونو کے معروف افسانے ”بھلے بزرگ عمانوئیل شہید“ کی طرح اپنے ہر سوال اور اپنی ہر تشکیک کو اپنی اقدار کی تکریم پر قربان کرتے رہیے۔ سنائی کے مشورے کو حرز جان بنا لیجیے

عقل را قربان کن در بارگاہ مصطفیٰ

یاد رکھیں کہ ہمارے قبل تجربی رجحانات اور غلط حسی معطیات ہماری عقلی سرگرمی کو متاثر ہی نہیں کرتے بلکہ اس کا رخ بھی متعین کرتے ہیں۔ عقلیت اور عقلی سرگرمی درست خطوط پر چلنے کے باوجود کبھی کبھی بالکل غلط ہوتی ہیں۔ گئے ایٹن نے اپنی معروف کتاب king of the castle میں اس کی مثال یوں دی ہے کہ اندھیرے میں رسی کو سانپ سمجھ کر چیخنے چلانے والے آدمی کے تمام مابعد رد عمل اور حرکات عقلی تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں مگر اس کے اس طرح کے رد عمل کو ہم سمجھداری نہیں سمجھتے بلکہ اسے احمق خیال کرتے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اندھیرے نے اس کے حواس کو ڈیٹا غلط مہیا کر دیا ہوتا ہے۔ قصاب کاشانی ہی کا ایک شعر ہے

در قفس جا دارم و غافل ز صیادم ہنوز
والھم چندان کہ می‌ پندارم آزادم ہنوز
عقل کی معروضیت دھوکے کا جال ہے اس قفس سے جتنی جلدی رہائی حاصل کر لیں اتنا ہی اچھا ہے۔

اپنے ہم کار اساتذہ کے سامنے میں ایک مسئلہ رکھنا چاہتا ہوں : کسی اجتماعی فورم پر جب ہمیں اپنے شعبے فیکلٹی یا دانش گاہ کی کارکردگی بیان کرنا ہوتی تو ہمارے دعوے مبالغے کی ہر حد پار کر کے زمین و اسمان ایک کر دیتے ہیں۔ اپنے شعبے اپنے یونیورسٹی کی رینکنگ کو بلند سے بلند تر کر کے بتاتے ہیں مگر اپنی نجی محفلوں میں، اپنے چائے خانوں میں جب بیٹھتے ہیں تو ہر وقت زوال کا رونا روتے ہیں تعلیمی نظام کی خرابیاں بیان کرتے ہیں ملک کو قوم کی پستی پر آنسو بہاتے ہیں۔ سوال ہے کہ ان دو انتہاؤں میں ہمارا کون سا موقف درست ہوتا ہے؟ پہلا یا دوسرا؟ سوال ہے کہ ہم میں یہ منافقت کیوں ہوتی ہے؟ یہ ہم سب کے سوچنے کی بات ہے۔ انتہاؤں کے درمیان جھولتے اس معاشرے میں کیا ہم استاد اور دانشوران قوم کسی نقطۂ توازن پر نہیں ٹھہر سکتے؟

1998، 99 میں پاکستان کے سب سے بڑے نفسیات دان اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل کا ایک فکر انگیز مضمون بعنوان ”ریٹائرمنٹ“ شائع ہوا تھا۔ نفسیات کے علاوہ ادب، فلسفہ اور تصوف ڈاکٹر اجمل کے خاص میدان تھے اور یہ مضمون ان چاروں جہتوں کا ایک عجیب مرقع تھا۔ ریٹائرمنٹ کے حقیقی مفہوم کی گرہ کشائی، پینشن کے عذاب، شعور کے مختلف درجات، شخصیت کی نشوونما کے لیے سرکاری افسری کے نقاب یعنی persona کا ٹوٹنا اور مکاشفہ و اخروی نجات جیسے بہت سے مسائل اس مضمون میں چھیڑے گئے ہیں۔ لیکن اس مضمون کی ایک انتہائی متاثر کن شے مغربی اور جاپانی اساطیر کے امتیاز اور کمال اور تکمیل کے لطیف فرق کی بحث ہے۔ جی چاہتا ہے آج کی گفتگو اسی پر ختم کی جائے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ مغربی پری کہانیوں میں انتقال (یعنی کایا کلپ) کا جذبہ بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن جاپان کی پری کہانیوں میں عفو و درگزر سے کام لیا جاتا ہے جاپان کی پری کہانیوں میں حسن کے غم و اندوہ کا احساس لازمی ہے ان کے ہاں حسن کی تکمیل ہی نہیں ہوتی جب تک وہ احساس الم کے ساتھ نہ ہو۔ حسن الم کو حیات بخشتا ہے یہ اس کا کمال نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ جاپانی ہر مسئلے اور ہر الجھن کا جمالیاتی حل ڈھونڈتے ہیں۔ کمال کی آرزو مردانہ صفات میں شامل ہے اور تکمیل کی تمنا نسوانی صفات میں شمار ہوتی ہے۔ کمال، رجولیت کا مقصد ہے۔ تکمیل، نسائیت کا ایک پہلو ہے۔ مرد کا نسائی حصہ تکمیل چاہتا ہے لیکن وہ بسا اوقات اسے دبا دیتا ہے عورت کا مردانہ پہلو کمال کی جستجو کرتا ہے اور تکمیل کی خواہش کو دبا دیتا ہے۔

گو ڈاکٹر اجمل نے یہ بات لکھی تو نہیں مگر ان کا عندیہ یہ معلوم ہوتا ہے جس طرح مغربی اساطیر کا جوہر ’کایا کلپ‘ ہے اس طرح مغربی تہذیب کا سفر بھی تحت انسانی (sub human) پاتال کی طرف ہے جس کا اختتام کافکائی مکڑے پر ہوتا ہے اور مشرق (جس کا نمائندہ یہاں جاپان ہے ) کے کمال اور تکمیل کا نقطہ توازن ہر الجھاؤ کے جمالیاتی سلجھاؤ میں پوشیدہ ہے۔ اللہ جمیلٌ یحب الجمال!

ہو سکتا ہے کہ کوئی معترض اٹھے اور کہے کہ ڈاکٹر اجمل کے ”ریٹائرمنٹ“ کی یہ تعبیر درست نہیں۔ راقم کو بھی اس پر کوئی اصرار نہیں۔ بندے نے تو اس متن کو ڈاکٹر اجمل کے ورلڈ ویو کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ دریدائی التوائے معنی اور کثرت تعبیر کے وکلا کو اس ناچیز قاری کا یہ حق تعبیر تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے!
اپنی ریٹائرمنٹ کی اس تقریب کہ جسے 6 گھنٹے کی ایک باقاعدہ کانفرنس کی شکل دی گئی ہے، کے اختتامی مرحلے میں ایک ساتھی اور استاد کو اس پر وقار طریقے سے رخصت کرنے کی ایک شاندار روایت قائم کرنے پر میں اپنے عزیز طلبا اور شعبہ اردو کے تمام اساتذہ اور خصوصاً صدر شعبہ اردو ڈاکٹر کامران کاظمی کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ اپنے یونیورسٹی کی دوسری فیکلٹیز کے علاوہ شہر کی دیگر یونیورسٹیوں سے آنے والے اساتذہ اور خصوصاً لاہور سے اس خصوصی طور پر اس تقریب کے لیے آئے اپنے دوستوں، برخط (آنلائن) شرکا کی محبتوں اور ناچیز کے بارے میں کہے پرسپاس الفاظ کا میں اسیر اور مقروض ہوں۔

میرے وہ طلباء جنہوں نے مجھے لاعلم رکھ کر مجھے متحیر کرنے کا یہ سامان کیا، سوشل میڈیا پر کلمات خیر کہے، حقیقت یہ ہے کہ میرے ان عزیز از جان شاگردوں اور دوستوں نے میری بساط سے بڑھ کر قدر افزائی کی ہے اور میرے اندر کچھ ایسی صفات و خصوصیات وغیرہ ڈھونڈ نکالیں اور اپنی تحریروں اور گفتگو میں کھوج کھوج کر ان کا اظہار کیا جن کا مجھے بھی ابھی پتہ چلا ہے۔ بہرحال یہ مبالغہ ہائے محبت ہیں انہیں منطق قانون شریعت اور فقہ کی میزان میں نہ ماپا جائے!

آخر میں میر کے دو شعر جو غیر متعلق نظر آنے کے باوجود اتنے بھی بے محل نہیں کہ یہ تخاطب چرخ نیلی فام سے ہے

تجھی سے گلوبند ہے خستگی
تجھی سے ہے وابستہ دل بستگی

عاشقوں کی خستگی بد حالی کی پروا نہیں
اے سراپا ناز تو نے بے نیازی خوب کی

Facebook Comments HS