عورت کی برہنگی
پاکستان میں خواتین یا تو مظلومیت کا شکار ہیں یا مادر پدر آزاد زندگی گزار رہی ہیں۔ دوسری قسم والی خواتین کو نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے، نہ معاشرتی اور اسلامی تعلیمات کی، بس بے ہنگم طریقے سے آگے قدم بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ماڈرن اور جدید تقاضوں کے مطابق بننے سنورنے اور لباس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ تاکہ دوسری عورتوں سے منفرد نظر آیا جائے۔ جسم کے نازک اعضاء بیشک نمایاں ہوں، فیشن پر ضرور پورا اترنا ہے۔ ماڈرن عورت کو نیم برہنہ ہونے میں کوئی ندامت نہیں ہوتی۔ بس ڈریس اور ڈریسنگ ایسی ہو کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جائے۔ سوسائٹی میں واہ واہ ہو اور دوسری عورت جل بھن جائے۔ یہی آج کی عورت چاہتی ہے۔ میں اس عورت کی بات نہیں کرتا جو چادر اور چار دیواری کا پاس رکھتی ہے۔ جو اپنا بدن چھپا کر رکھتی ہے۔ جو اسلامی احکامات کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔
اسی طرح بعض خواتین سوشل میڈیا پر جسم دکھا کر پیسے اور شہرت دونوں کما رہی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خاتون یوٹیوبر کی وڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے محبوب کو پستان دکھا رہی ہے۔ وہ کچھ اور بھی دیکھنا چاہتا تھا لیکن عورت نے شرما کر انکار کر دیا۔ یہ سکینڈل شہرت کی بلندیوں تک پہنچا، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے موصوفہ کے جسم کو دیکھا اور اپنی عاقبت خراب کی۔ کیا ہم یہ بات نہیں جانتے کہ عورت کے پستان خالق کائنات نے کس لیے تخلیق کیے ہیں۔
اپنا بدن برہنہ کرنے والی عورت کو یہ نہیں معلوم کہ پستان بچوں کی فیڈنگ کے لیے ہوتے ہیں ناکہ نامحرم کو دکھانے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے۔ اس یوٹیوبر کا قصہ کافی عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا۔ موصوفہ کے والد کی میڈیا ٹاک بھی سوشل میڈیا پر دیکھی اور سنی گئی۔ جس میں وہ اپنی کماؤ بیٹی کی حمایت میں کھل کر بولے۔ اور ایسا بولے کہ سب کو حیران کر دیا، فرمانے لگے، وڈیو لیک کرنے والے کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
حالانکہ انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ ساری غلطی ان کی بیٹی کی تھی۔ جس نے کیمرے کے سامنے اپنا بدن ننگا کیا۔ مگر ان کی آنکھوں کے سامنے دولت کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک اور عورت کی وڈیو بھی موجود ہے جس میں وہ ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کر رہی ہے، اس کا پورا بند کپڑوں سے پاک ہے۔ سر تا پاؤں ننگی، بیباکی کا عالم، شرم نام کی کوئی چیز ان کے چہرے پر موجود نہیں۔ ماضی میں ان کو وزارت خارجہ میں مٹر گشت کرتے دیکھا گیا تھا۔ ان کے سابق حکمران جماعت کے بعض راہنماؤں کے ساتھ دوستی کے بھی چرچے عام تھے۔ جو اس جماعت کے بکھرنے کے بعد ختم ہوچکے۔
یہاں میں سوسائٹی کے سامنے ایک سوال رکھ رہا ہوں کہ ایک مسلم معاشرے میں عورت کس کے سامنے برہنہ ہو سکتی ہے۔ کیا وہ سرعام یا ماں باپ، بھائیوں کے سامنے اپنے کپڑے اتار سکتی ہے۔ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ عورت صرف اپنے شوہر کے سامنے اور اپنی خوابگاہ میں ہی ایسا کر سکتی ہے وہ بھی پورے حیود اور قیود کے ساتھ، اسلامی تعلیمات کے عین مطابق۔
آج جو نوجوان لڑکی یا کوئی اور عورت جدید تراش خراش کا لباس زیب تن کرتی ہے۔ چست پینٹ پہنتی ہے۔ بغیر بازوؤں کے شرٹ پہنتی ہے۔ اس کے بازو اور جسم کے پوشیدہ اعضاء نمایاں نظر آتے ہوں وہ گمراہی پھیلانے میں مصروف ہے۔ اس کی وجہ سے نوجوان نسل ہیجان میں مبتلا ہو کر غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ اسلام پردے کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ باقی دنیاوی رسوم و رواج کو ایک طرف رکھ دیں۔ اول چیز سزا اور جزا ہے جو بے پردگی اور ستر کو نہ ڈھانپنے سے ملے گی۔
فتنے اور فساد سے بچنے کے لیے کے عورت کے لیے اپنا جسم تو کیا اپنے چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی ڈھانپنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ عورت کانچ سے بھی نازک چیز ہے۔ ذرہ سے لغزش سے ٹوٹنے والی، اور ٹوٹ کر بکھرنے والی۔ شریعت اسے گھر کی چار دیواری میں رہنے کا حکم اس لیے دیتی ہے تاکہ وہ اور اس سے جڑے رشتے ناگہانی آفتوں سے محفوظ رہیں۔ البتہ ضرورت کے وقت باہر نکلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف شرط یہ ہے کہ پردے کے بارے میں جو احکامات دین اسلام نے مقرر کر رکھے ہیں ان کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔


