کیا والدین بھی اپنے بچوں سے حسد کر سکتے ہیں؟
ہم نے میاں بیوی، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، کولیگز اور افسر ماتحت وغیرہ کے درمیان حسد کے بارے میں تو سن رکھا ہے۔ آج قارئین کو حسد کی ایک حیران کن قسم سے متعارف کراتے ہیں۔ وہ ہے والدین کا اپنی ہی اولاد سے حسد۔ جس کی وجہ سے اولاد کی زندگی، صحت، تعلیم، محبت، جذباتی لگاؤ اور شادی شدہ زندگی والدین کے حسد کے ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہے۔
لیکن والدین کو حاسد کہنے کو دل نہیں مانتا کیونکہ باپ کے وجود کو انسانی معاشرے میں بچوں کے لئے گھنا سایہ اور ماں کے پیروں تلے جنت کا خیال اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ کوئی بھی اس گھنے سایہ دار درخت کے خار زار اور پیروں تلے کی جنت کی پس دیوار جہنم کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہاں کلچر اور مذہب نے بھی اس کو آنکھوں سے اوجھل رکھنے کی سعی کی ہے یعنی منفی اور مجرمانہ والدین کی پشت پناہی کی ہے۔ اور یہ بہت ہی حیران کن بات لگتی ہے کہ کیا ماں باپ ایسے ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں والدین اگر نارسسٹ اور سائیکو پیتھ ہوں تو حسد کی خصوصیت سے کیسے مبرا ہو سکتے ہیں۔ وہ سب سے حسد کر سکتے ہیں خواہ ان کی اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔
حاسد ماں / باپ کا اپنے بچوں سے حسد اسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب پریگنینسی ٹیسٹ کے پازیٹو ہونے کی اطلاع ملتی ہے۔
ماں تو خوش ہونے کے بجائے رونا دھونا شروع کرتی ہے۔ اور شکوہ یہ کہ اب اس کی اٹھنے بیٹھنے، گھومنے پھرنے کی آزادی ختم ہو گئی۔ چونکہ حاسد ہونے کے ناتے اسے اپنے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا۔ وہ ناخوش ہوتی ہے کیونکہ ہونے والے بچے کا باپ اور متعلقہ قریبی رشتے نومولود کی آمد کی خبر سے خوش ہیں۔ حاسد کسی کو خوش کیونکر دیکھے۔ اور اب اس کے دل میں ہونے والے بچے سے بھی نفرت اور جلن کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں جو سب کی خوشی کی وجہ بن رہا ہے۔ اور اس کو ملنے والی شوہر اور دوسروں کی توجہ بٹنے کا خوف لاحق ہونے لگا۔
جبکہ حاسد باپ بھی بیوی کی عدم توجہی کا شکوہ کرتا ہے اور بچے سے حسد کرتا ہے کیونکہ بیوی جو اس کی ملکیت تھی اب اس کی توجہ کا بیشتر وقت بچے پر مبذول ہو گیا ہے۔
وہ پیدائش سے پہلے ہی اس وجود سے چھٹکارا پانے کے لئے ابارشن کے خفیہ طریقے اپناتے ہیں۔ لیکن اگر ابارشن ممکن نہ ہو تو حاسد ماں اپنے ارد گرد کے لوگوں خاص طور پر شوہر، سسرال اور اپنے والدین کو بھی تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے۔ یعنی دوران حمل بلا ضرورت پورے خاندان کو اپنی خدمت پر مامور کر کے خود کو وی آئی پی سلوک کا حق دار سمجھتی ہے۔ ایسا کرنے سے وہ توجہ کا مرکز بن کر تسکین حاصل کرتی ہے۔
حاسد ماں ضد میں محفوظ حمل کے کسی بھی مشورے پر عمل نہیں کرتی خواہ یہ ڈاکٹر کا مشورہ ہی کیوں نہ ہو مثلاً دوران حمل بہترین خوراک، طرز عمل و طرز زندگی۔ یعنی دوران حمل ہر وہ کام کرنا اور خوراک کے ضمن میں ہر وہ کھانا کھانا جو بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ جبکہ حاسد باپ کسی طرح حاملہ بیوی کی صحت، آرام اور ذہنی آسودگی کا خیال نہیں رکھتا بلکہ جسمانی تشدد کی کوئی بھی ممکنہ کوشش کر کے خفیف طریقے سے حمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حاسد والدین کے روئیے خاندان میں نومولود کی آمد کی خوشی کو ایک میدان جنگ میں بدل دیتے ہیں۔
حاسد ماں / باپ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ انہیں بچے سے بہت پیار ہے لیکن پس پردہ وہ اس کے وجود کی وجہ سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب گھر کے ہر فرد کی توجہ اور پیار فطری طور پر اس بچے کی جانب ہے۔ یہ بات حاسد ماں / باپ کو پسند نہیں اس لئے وہ ہر اس شخص سے ظاہر اور خفیہ نفرت کرتے ہیں جو بچے کو پیار کرنے، گود میں اٹھانے یا اس کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش کا اظہار اور کوشش کرتا ہے خواہ وہ بچے کا باپ/ ماں اور گرینڈ پیرنٹس ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک حاسد ماں کی زچگی کا دورانیہ ہی ایسا ہوتا ہے جب دونوں سائڈ کے خاندانوں میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ حاسد والدین اپنے ماں باپ کو بھی شامل حسد کرلیتے ہیں اور وہ پہلے فلائنگ منکی بنتے ہیں مگر پھر رفتہ رفتہ وہ بھی اس حسد کے محاذ پر اپنے نئے والدین بننے والے بچوں کے جائز ناجائز حقوق کے لئے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔
حاسد ماں بچے کو اپنا دودھ پلانے، اپنے ساتھ سلانے سے گریز کرتی ہے۔ جبکہ باپ فارمولہ ملک کو ضرورت پڑنے پر بھی غیر ضروری سمجھتا ہے۔ دونوں ہی بچے کی ہر رونے کی آواز پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے سے خاص طور پر شوہر/ بیوی اور دیگر افراد خانہ سے نوکروں کی طرح بچے کے کام کرنے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں لیکن جب یہی لوگ بچے کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ وقت گزارنا چاہیں تو حاسد ماں / باپ کے موڈ، غصہ اور لڑائی جھگڑا عروج پر ہوتے ہیں اور یہ روئیے تقریباً تمام عرصۂ پرورش اور تربیت جاری رہتے ہیں یعنی اپنے بچے سے حسد کا مظاہرہ کنٹرول، دھونس اور بد مزاجی اور بے رخی کے رویوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
حاسد ماں باپ بچے کو ناپسند تو کرتے ہیں لیکن اس بچے کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں۔
حاسد ماں / باپ بچے کی اچھی اور معیاری خوراک کا خیال نہیں رکھتے۔ ماں پکانے سے اور باپ اخراجات سے گریزاں رہتا ہے۔
دونوں والدین میں سے جو حاسد ہوتا ہے وہ وسائل ہونے کے باوجود بچے کے لئے اعلی اور معیاری تعلیمی اداروں کی مخالفت کرتا ہے۔
حاسد ماں / باپ بچے کو دوسرے قریبی رشتوں سے دور رکھتے ہیں اور پروان چڑھتے بچے کی کلکاریوں، مسکراہٹوں اور معصوم شرارتوں سے نہ خود محظوظ ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کو موقع دیتے ہیں خواہ وہ دوسرا شریک اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ اس حسد کی بھینٹ چڑھ کر بچہ اپنے ہی ماں / باپ اور گرینڈ پیرنٹس کے ساتھ انٹر ایکشن اور کھیلنے سے محروم رہ کر اینٹی سوشل بن سکتا ہے۔
حاسد والدین کوالٹی ٹائم اور جینوئن محبت فراہم نہیں کر سکتے۔ حاسد والدین یوں تو بچے سے حسد کرتے ہیں لیکن اس کی پرورش، تربیت تعلیم اور زندگی کے تمام فیصلوں کو دھونس کے ذریعہ یک طرفہ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔
بچے کو بہت چھوٹی عمر میں ڈے کیئر سینٹر میں ڈالنا اور کیئر ورکرز کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بچے کی کارکردگی اور شخصی مسائل پر بحث مباحثہ کرنا۔ اگر کیئر ورکرز یہ بتائیں کہ بچے کا دن بہت اچھا گزرا ہے تو ایسے میں حاسد والدین کوئی نہ کوئی نقطہ نکال کر ان کو باور کراتے ہیں کہ ان کے بچے میں یہ مسائل ہیں۔ گھر میں ہونے والے مسائل کو بڑھا چڑھا کر سکول میں بیان کرنا اور باپ/ ماں اور دیگر موجود لوگوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اور سکول کے نارمل رویوں کو ایب نارمل بتانا اور کیئر ورکرز، ٹیچرز، سکول انتظامیہ اور کبھی بچے کے کلاس فیلوز کو تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں اتنا زچ کرتے ہیں کہ سکول انتظامیہ ان کو ناپسند کرنے لگتی ہے جس کے نتیجے میں اساتذہ بچے کو بھی نظر انداز کرنے لگتے ہیں یوں بچہ بھی سکول میں ناپسندیدہ بن جاتا ہے۔
مشاہدہ ہے کہ ایسے والدین بڑے خفیف انداز سے اپنے بچوں کو دانستہ غلط روئیے سکھاتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ بچہ ناپسندیدہ بن جائے اور کوئی اسے توجہ نہ دے۔ دراصل اس توجہ کے مستحق وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں
ٹین ایج میں حاسد ماں اپنی ہی بیٹی کی بلوغت اور حسین جوانی سے جلنے لگتی ہے اور باپ بیٹے کی تعلیمی کارکردگی، مشاغل شوق اور شہرت سے جلتا ہے۔
ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ، جسمانی تشدد اور تضحیک کر کے بچے کو جذباتی ٹھیس پہنچانا کامیابیوں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا بھی حسد کی علامت ہے۔
حاسد والدین بچوں کی شادیوں کے بعد بھی سرگرداں رہتے ہیں۔ بیٹے بیٹی کی ہنستی کھیلتی زندگی میں دخل اندازی اور ان کی شادی شدہ زندگی کو غیر ضروری اور تباہ کن مشوروں سے نوازتے ہیں۔ اور یہی والدین ہیں جو بیٹی / بیٹے کا گھر اجاڑنے کے مشورے اور بلکہ عملی منصوبے بنا کر دیتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بیٹے / بیٹی کو ملنے والے سکھ چین سے بھی جلتے ہیں۔
بہو اور داماد کا انتخاب کرتے وقت بہت اونچے معیارات قائم کرتے ہیں اور شادیاں موخر کرتے ہیں۔ لیکن جب اونچے معیار کے رشتے مل جائیں تو اسی داماد / بہو کے اعلی رتبے، تعلیم اور سٹیٹس سے حسد کرتے ہوئے شادی شدہ بچوں کے گھریلو معاملات میں دخل اندازی کر کے ان کے ہنستے بستے گھر اجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ بیٹی کے بچوں سے حسد کرنا تو عام سی بات ہے جو آج کل زیادہ فروغ پا رہی ہے جس کا مظاہرہ ان کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں کم تر معیارات پر عمل پیرا ہونے کے لئے بن مانگے مشورے دینے کی صورت میں نظر آتا ہے۔
بچوں کے تعلیمی کیرئیر میں دھونس کے ساتھ رکاوٹ ڈالنا اور فیصلے صادر کرنا حاسد باپ کی نشانی ہے۔ ایسا باپ بیٹے کی تعلیم منقطع کروا کر اپنی دکان پر بٹھا کر اپنے خاندانی کاروبار / زمینداری کے نام پر خوش ہوتا ہے۔ پس پردہ وہ اپنے بیٹے کو اس خوف کے تحت آگے نہیں بڑھنے دیتا کہ بیٹا اس کا احترام نہیں کرے گا یا بڑھاپے میں اس کی چھاؤں میں نہیں بیٹھے گا
جبکہ حاسد ماں گھر کے کام کاج میں مددگار کھو جانے سے خوفزدہ ہو کر بیٹی کی تعلیم کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ جاتی ہے اور یوں لاتعداد بچے شعوری ارتقاء میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور بہت سے بچے ساری زندگی حاسد والدین کے حسد کی بنائی ڈگر پر چلتے ہوئے خود بھی حاسد والدین بن سکتے ہیں جو ایک زہریلی وراثت کا قیام ہے۔
آخر میں تجویز ہے کہ وہ لوگ جو حسد کا منفی جذبہ لئے پروان چڑھتے ہیں وہ شادی کے بندھن یا کم از کم بچے پیدا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ وہ اپنے لئے حسد کی آگ بھڑکانے یعنی بچے پیدا کرنے سے گریز کریں تاکہ ان کے ہاتھوں دنیا میں نقص امن میں اضافہ نہ ہو۔ اپنی آگ کی وراثت اپنے تک رکھیں۔


