ڈاکٹر خالد سہیل سے خط کتابت کا آغاز


پیارے دوست اور استاد ڈاکٹر خالد سہیل،

آپ کے مختصر لیکن جامع خط نے لوک ورثہ اسلام آباد کی اس خوب صورت شام کی یاد تازہ کر دی جب آپ سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔ اس شام میں خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ فکر انگیز گفتگو بھی ہوئی۔ میں ”ہم سب“ پر چھپنے والا آپ کا ہر کالم پڑھتا تھا۔ اگلے کالم کا انتظار بھی کرتا۔ آپ کے زود نویس ہونے کا فائدہ یہ تھا کہ انتظار زیادہ نہ کرنا پڑتا۔ آپ کو پڑھ کر میں نے انسانی نفسیات، جنس اور جنسی معاملات کی پیچیدگیاں، مذہب اور مجموعی طور پر تنوع کے بارے بہت کچھ سیکھا۔ پڑھ کر اس لیے بھی اچھا لگتا تھا (اور ہے ) کیونکہ میرے اپنے بہت سے نظریات اور خیالات کی نہ صرف تصدیق ہوتی تھی بلکہ مزید وضاحت بھی ہوتی تھی۔

میں بہت حیران اور متاثر تھا کہ کوئی شخص اتنا زیادہ کام کیسے کر سکتا ہے۔ مسلسل کالمز، مسلسل کتابیں اور فل ٹائم جاب بحیثیت سائیکالوجسٹ۔ استفسار پر آپ نے بتایا کہ آپ نے عام آدمیوں والے جھنجھٹ نہیں پال رکھے۔ آپ نے کہا کہ آپ بہت پہلے سے ہی اپنے متعلق بہت ”کلیئر“ تھے حتی کہ اپنی ماں کی ایموشنل بلیک میلنگ میں بھی نہیں آئے کہ انہیں بیٹی جیسی بہو اور چاند جیسے پوتے پوتیاں دلا دیتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی کی ایک خوب صورت، بے فکر اور مزیدار زندگی گزارتے ہیں۔ آپ کو، پڑھنا، لکھنا، دوستوں سے ملنا اور لوگوں کی نفسیاتی مدد کرنا ہی پسند ہے اور آپ وہی کرتے ہیں۔ آپ کا قدر دان تو میں پہلے ہی تھا، یہ سب جان کر اور بھی ہو گیا۔ سچی بات ہے کہ تھوڑی جیلسی بھی ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ بنتی بھی تھی۔

کینیڈا کی ملاقات میں آپ کی مہمان نوازی، آپ کے دوست، اور فیملی آف ہارٹ سے متاثر ہوئے بغیر چارہ نہ تھا۔ آپ سے خوب صورت کتابوں کے تحفے لیے۔ ان پر آپ سے آٹو گراف لیے۔ دوستی اور بات اور بڑھی۔ میں بہت خوش ہوں کہ لکھنے میں آپ کی شاگردی کا چانس نکلا ہے۔

پاکستانی معاشرہ عام طور پر اور نوجوان خاص طور بہت ہی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ مذہب، جنس، روایات اور انسانی نفسیات آپس میں شدید الجھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی شعبے میں بھی مستند معلومات میسر نہیں ہیں۔ تنقیدی سوچ کی صلاحیت کی آبیاری نہیں ہو سکی اس لیے وہ ناکارہ اور غائب ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں پاکستانی نوجوان جعلی حکیم، ملا اور سازشی تھیورسٹ اپنے تئیں موٹیویشنل سپیکرز کے ہتھے چڑھا ہوا ہے۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے آپ کے ساتھ مباحثہ بہت پر امید لگتا ہے۔ میں بہت اچھا بلکہ پرجوش محسوس کر رہا ہوں۔ اور دل سے چاہتا ہوں کہ خطوں کا یہ سلسلہ جاری رکھوں اور پاکستانی نوجوان جن پیچیدگیوں میں الجھے ہونے کی وجہ سے زندگی کو انجوائے نہیں کر پا رہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کروں۔

آپ کے وقت اور رہنمائی کا بہت شکریہ۔ آپ کے خط کا انتظار رہے گا۔
آپ کا مرید دوست
سلیم ملک
اسلام آباد
10 نومبر 2023
۔ ۔

محترمی و معظمی و مکرمی سلیم ملک صاحب!

جب میں نے پہلی بار آپ کا طنز و مزاح سے بھرپور کالم۔ ہم سب۔ پر پڑھا تھا تو مجھے اسی دن اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ ایک صاحب طرز ادیب اور ایک صاحب دل انسان ہیں اور آپ سے میری دوستی ہو سکتی ہے۔ میرے اس خیال نے اس شام ایک حقیقت کا روپ دھارا جس شام آپ نے اسلام آباد کی مادری زبانوں کی کانفرنس کے بعد مجھے نہ صرف ایک محفل میں پہچان لیا بلکہ مجھ سے بغلگیر بھی ہو گئے۔ آپ کی باتیں بھی آپ کے کالموں کی طرح ظرافت و لطافت ’شادابی و شگفتگی سے بھرپور تھیں۔ اس شام مختلف موضوعات پر آپ کی دلچسپ باتوں سے میں محظوظ بھی ہوا اور مسحور بھی۔

پاکستان کی ملاقات کے بعد جب کینیڈا میں ہماری ملاقات ہوئی اور گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا تو مجھے اندازہ ہوا کہ آپ ابن بطوطہ کی طرح مختلف ممالک و معاشروں میں نہ صرف سفر کر چکے ہیں بلکہ اس سفر کے تجربات و مشاہدات کو اپنی ذات اور شخصیت میں سمو بھی چکے ہین۔ اس لیے میرا یہ کہنا بالکل مبالغہ نہ ہو گا کہ آپ ایک مرد جہاندیدہ ہیں اور ایک مرد جہاندیدہ سے زندگی کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم ایسے مکالمے سے ایک دوسرے سے اور ہمارے قارئین ہم سے کچھ سیکھ سکیں گے۔

میری نگاہ میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے جنس کا موضوع ایک شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا اس موضوع پر بے تکلفی سے گفتگو کرنا بہت سوں کے لیے کار آمد ثابت ہو سکتا ہے اور انہیں نئے خطوط پر سوچنے کی دعوت دے سکتا ہے۔

اب آپ مجھے بتائیں کہ جب آپ نے میرے کالم پڑھے تو آپ کے کیا تاثرات تھے اور اب آپ کا میرے ساتھ خطوط کا تبادلہ کرنا اور مل کر

سماج ’جنس اور نفسیات
کے موضوع پر کتاب لکھنا کیسا محسوس ہو رہا ہے؟
آپ کا مداح خالد سہیل 21 اگست 2023

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik