مجید امجد، ٹھنڈی سڑک، ساہیوال


بچپن میں ساہیوال میں گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں مجید امجد کا نام سامنے آ ہی جاتا تھا، ساہیوال ریلوے اسٹیشن کے سامنے، نہر لوئر باری دوآب کے کنارے واقع ہمارے پسندیدہ ”کنعان پارک“ کا نام مجید امجد پارک رکھ دیا گیا، پارک کے دروازے پر جب ہم نے ”مجید امجد پارک“ کا بورڈ دیکھا تو انتہائی ناگوار گزرا، ایک تو کنعان پارک کے نام سے ایک خاص انسیت جڑ چکی تھی دوسرا شاید مجید امجد پارک بے وزن نام تھا، ایک پارک کے لیے یہ نام ہمیں جچ ہی نہیں رہا تھا (اور آج تک کبھی کسی نے کنعان پارک کو مجید امجد پارک نہیں کہا) خیر تب میں نے پہلی دفعہ والد صاحب سے پوچھا کہ یہ مجید امجد کون تھا؟ والد صاحب نے، مختصر جواب دیا کہ یہ کوئی شاعر تھا جو فوت ہو چکا ہے۔

گورنمنٹ کالج ساہیوال کے ادبی مجلہ سے تعلق مجید امجد کے نام کے علاوہ کام سے بھی تعارف کی وجہ بنا، کالج میں ہونے والی ادبی تقاریب میں ملک کے مشہور ادیب اپنی تقریر کا آغاز مجید امجد کے نام سے کرتے تھے، فرید ٹاؤن ساہیوال میں ریاضی کی ٹیوشن پڑھنے جاتا تو ہمارے ٹیچر اس گلی میں واقع ایک بوسیدہ سے گھر کے بارے میں بتاتے کہ یہاں مجید امجد رہتا تھا۔

اب احساس ہونا شروع ہوا کہ یہ کوئی بڑا آدمی تھا، ایک دن والد صاحب سے پھر پوچھا کہ کیا آپ کبھی مجید امجد سے ملے ہیں؟ (والد صاحب ایک انتہائی نیچر لور شخصیت واقع ہوئے تھے، قدرتی مناظر، درخت، چرند پرند، ہرے بھرے کھیت ان کی کمزوری تھی، گرمی ہو یا سردی فجر کے بعد نہر کے کنارے روزانہ کی بنیاد پر میلوں کی واک ان کا معمول تھا، سرکاری ملازم لیکن طبیعت ایسی درویشانہ کہ ساہیوال کے علاوہ کہیں نوکری نہیں کروں گا، اپنی تمام پروموشنز صرف اس وجہ سے ڈیکلائن کرتے تھے کہ کسی اور شہر نہیں جاؤں گا، ساہیوال تو جیسے ان کے لیے ایک پارک کی حیثیت رکھتا تھا)

وہ بتانے لگے کہ وہ اکثر جوانی کے دنوں میں ساہیوال کی ٹھنڈی سڑک پر گھومنے جایا کرتے تھے ( ساہیوال کی ٹھنڈی سڑک اپنے آپ میں ایک کمال مقام تھا، انتہائی سرسبز و شاداب، دیو ہیکل درختوں پر مشتمل ایک ”سیگریگیٹڈ“ سی جگہ تھی جس کے دونوں اطراف بڑے بڑے لکڑی کے پرانے گیٹ تھے (جو ہمیشہ بند رہتے تھے ) جہاں سے صرف پیدل یا سائیکل سوار گزر سکتے تھے، اس پورے علاقے میں جا بجا پیلے اور سفید رنگ کی ”کلونیل“ کوٹھیاں بکھری ہوئی تھیں جن کے سامنے عمدہ طریقے سے سجے باغیچے تھے، یہ سب کچھ تو ہم نے بھی اپنے بچپن میں دیکھ رکھا تھا اور والد صاحب تو شاید 60 کی دہائی کے اواخر کی بات کر رہے تھے، اس وقت تو یہ علاقہ قدرتی مناظر کے اعتبار سے کیا خوب جگہ ہوگی) ۔

والد صاحب بولے کہ میری نئی نئی نوکری ہوئی تھی اور میں آفس کے بعد پیدل ٹھنڈی سڑک سے ہوتا ہوا گھر کی طرف نکل پڑتا تھا، گرمیوں کی ایک شام ٹھنڈی سڑک سے گزرتے ہوئے اچانک شدید بارش شروع ہو گئی، میں بارش سے بچنے کے لیے ایک بڑے درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا، کچھ دیر کے بعد دور ایک دبلا پتلا بارش میں بھیگتا سائیکل سوار نظر آیا، جس درخت کے نیچے میں نے پناہ لے رکھی تھی وہ وہیں آ کے رکا، سائیکل کو اسٹینڈ پر لگایا، مجھے سلام کیا اور خاموشی سے بارش اور درختوں کو تکنے لگا، میں نے خود اس سے بات شروع کی، جب میں نے بتایا کہ میں سرکاری ملازم ہوں تو تب اس نے کچھ دلچسپی دکھائی۔

موسم، پرندے، درخت اور مختلف موسموں میں ٹھنڈی سڑک کے رنگ زیر بحث آئے، بارش رکی تو جاتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ محکمہ خوراک میں سرکاری ملازم ہے اور اس کا نام مجید امجد ہے، اس کے بعد وہ مجھے کئی ایک بار سائیکل پر سوار مختلف سڑکوں پر نظر آیا۔

مجید امجد سے والد صاحب کی یہ مختصر سی ملاقات میرے ذہن میں نقش ہو گئی، اب میں جب بھی مجید امجد کے بارے میں سوچتا تو مجھے ٹھنڈی سڑک کے بڑے بڑے درختوں کے بیچ، جھڑے پتوں سے بھری سنسان سڑک پر ایک سائیکل سوار نظر آتا، کبھی ایک بڑے گھنے درخت کے نیچے سائیکل اسٹینڈ پر لگائے، خاموشی سے بارش کو تکتے ہوئے ایک دبلا پتلا کردار (جس کے عقب میں اس سے مخاطب ہونے کا خواہش مند ایک نوجوان) ، گورنمنٹ کالج ساہیوال کے روز گارڈن اور باغیچوں کی راہداریوں میں چہرے پر سنجیدگی جمائے گھومتا ایک منحنی سا شخص نظر آتا۔

گو کہ میں سائنس اور ریاضی کا طالب علم تھا، اس کے باوجود ایک دفعہ کالج کے نیوز لیٹر میں کچھ لکھ بیٹھا، پروفیسر ریاض زیدی صاحب نے بلایا اور لکھتے رہنے کو کہا، مجھے کالج کے ادبی مجلے ”ساہیوال“ کی ادارتی ٹیم کا حصہ بنا کر سالانہ انگریزی اور اردو کے مباحث کے مقابلوں میں دوسرے کالجز کے ساتھ بھڑوا بھی دیا، یوں خشک تعلیم کے ساتھ کچھ نہ کچھ تر و تازگی کا ساتھ رہا۔

پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور پروڈیوسر کام کرتے ہوئے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ مجھے مجید امجد اور اس کے ساہیوال کے رومانس پر کچھ نہ کچھ کام کرنا ہے، لیکن یہ کام کیا ہو گا؟ میں کچھ فائنل نہیں کر پا رہا تھا، میں روایتی ڈاکیومنٹری نہیں بنانا چاہتا تھا کہ یہ ساہیوال ہے، یہاں مجید امجد رہتا تھا، یہ وہ گلیاں ہیں جہاں وہ گھومتا تھا، ساہیوال کا نام ساہیوال کیوں ہے؟ اس کا پہلے نام کیا ہوتا تھا؟ یہاں کی بھینس دودھ کیوں زیادہ دیتی ہے، وہ دودھ زیادہ دیتی ہے کہ اس کو دھویا زیادہ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

مجھے لگتا تھا کہ مجید امجد کی شخصیت اور اس کے تخلیقی کام میں اس شہر کے ماحول اور آب و ہوا کا بہت اہم کردار تھا، یہ شہر اس کی پناہ گاہ تھا، کچھار تھا، ٹھنڈی سڑک کے بڑے بڑے درخت اور ان کے موٹے موٹے تنے مجید امجد کو سائیکل سمیت اپنے اندر چھپا لیتے تھے، وہ آزادی سے اس احساس کے ساتھ کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا یہاں گھومتا تھا، قدرت کے نظارے لیتا تھا، پرندوں کی آوازیں سنتا تھا۔

ایک دفعہ ایک پروڈیوسر کے کمرے میں خواجہ زکریا سے ملاقات ہو گئی، مجھے ان کے مجید امجد کے بارے میں کیے گئے کام کا علم تھا، مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے فوراً اپنی خواہش کا اظہار کر دیا کہ میں مجید امجد پر کام کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ میرے لیے کچھ لکھیں گے؟ انہوں نے کہا کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے مختصر سا خیال بتایا اور کہا کہ ابھی میں اس پر کام کر رہا ہوں۔

انہوں نے پوچھا کہ آپ آج کل کیا کر رہے ہیں یا اس سے پہلے آپ نے کیا کیا ہے؟ میں ابھی ٹریول لاگز، ڈاکیومنٹریز اور عید کے اسپیشل ڈراموں کا بتا ہی رہا تھا کہ اتفاق سے پروڈیوسر صاحب کے کمرے میں لگے ٹی وی سیٹ پر میرے سٹ کام کا پرومو بار بار چل رہا تھا، کیونکہ اس کی قسط اسی شام آن ائر ہونی تھی، وہ پروڈیوسر شرارتا بولے، خواجہ صاحب یہ فرقان صاحب کے ڈرامے کا پرومو چل رہا ہے، چونکہ وہ سٹ کام تھا، بیک گراؤنڈ میں فنکی میوزک اور سامنے اسٹیج اداکار نسیم وکی، صبا فیصل اور ذوالقرنین حیدر فاسٹ فارورڈ موڈ میں دل کی شیپ کے غبارے پھاڑ رہے تھے۔

خواجہ صاحب نے پرومو بڑے غور سے دیکھا، میری طرف مڑے اور کچھ توقف کے بعد نہ جانے کیوں میری خوب حوصلہ افزائی کی اور میری مدد کرنے کے لیے حامی بھی بھری، شاید میرے ساہیوال کے تعارف کے ساتھ ان کی اپنی خواہش کہ مجید امجد پر کام ہونا چاہیے میرے لیے مثبت ثابت ہوئی۔

اب میں اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا، مجھے جلد از جلد فیصلہ کرنا تھا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟

چند دنوں کے بعد میں پی ٹی وی سینٹر لاہور کے گراؤنڈ فلور کے کوریڈور سے گزرتا ہوا جی ایم آفس کی طرف جا رہا تھا کہ برآمدے کے دوسرے کنارے پر دور سے اداکار فاروق ضمیر آتے ہوئے نظر آئے، میں ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گیا، مجھے یوں لگا کہ ساہیوال کی ٹھنڈی سڑک کا سائیکل سوار کوٹ پینٹ پہن کر لاہور کی سیر کو آیا ہے۔

میں فوراً اپنے کمرے کی طرف مڑا، مجھے سمجھ آ چکا تھا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں، کمرے میں پہنچتے ہی میں نے کاغذ پینسل نکالا اور ایک ڈاکیو ڈرامے کا مرکزی خیال لکھنا شروع کیا۔

ایک خوبصورت سے سر سبز و شاداب شہر میں گھومتا ایک کردار، ایک پرانی سرکاری عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں فائلوں سے بھری الماریوں کے بیچ ٹائپ رائٹر سامنے سجائے ردھم میں ٹائپنگ کرتا ہوا ایک سایہ، ایک مکان کے مختصر سے فرنیچر والے کمرے کی سلاخوں والی الماری کے پیچھے چارپائی پر آلتی پالتی میں بیٹھے لکھتا ہوا شاعر۔

میں نے کئی دن اس پر کام کیا، بیک گراؤنڈ میوزک، کہانی، انٹرویوز، گیت، راوی، باغات، ہڑپہ، انڈس ویلی، ڈانسنگ گرل اور ساہیوال۔

مرکزی خیال کا کام مکمل کر لینے کے بعد اب مرحلہ تھا جی ایم کو اس کام کے لیے آمادہ کرنا، کیونکہ روٹین کے کاموں کے ساتھ ایک اسپیشل پروگرام کے آئیڈیا کو سمجھانا اور منظور کروانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔

میں یہ آئیڈیا جی ایم سے اکیلے میں ڈسکس کرنا چاہتا تھا، ایک دو بار ان کے پاس گیا لیکن کوئی مناسب موقع نہ بن سکا، ایک دن انہوں نے خود ہی پوچھ لیا کہ کیا تم کوئی بات کرنا چاہ رہے ہو؟ میں نے بتایا کہ آپ سے ایک آئیڈیا ڈسکس کرنا ہے، انہوں نے چند سینیئر پروڈیوسرز کی موجودگی میں مجھے آئیڈیا سنانے کو کہا، میں نے مجبوراً تفصیل کے ساتھ سارا مدعا بیان کیا، انہیں آئیڈیا پسند آیا اور کچھ تصحیح کے ساتھ اس پر مزید کام کرنے کے لیے کہا۔

ان سینیئر پروڈیوسرز میں سے ایک نے مجھے بلا کر شدید خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں، وہ بولے میں نے مجید امجد کو دیکھا ہے، اگر میں آپ کے ساتھ ہوں گا تو آپ کو بہت مدد ملے گی، ہم مل کر یہ کام کرتے ہیں، میں جی ایم صاحب سے خود بات کر لوں گا، اس سے پہلے اس موضوع پر کام نہیں ہوا۔

مجھے مل کر کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، لیکن میں کو پروڈکشن میں کبھی بھی کمفرٹیبل نہیں رہا، اچھا یا برا، میں نے ہمیشہ اکیلے کام کیا ہے، کیونکہ پروڈکشن ایک ایسا تخلیقی عمل ہے جس میں ایک ہی موضوع پر بیسیوں اینگل نکل سکتے ہیں اور سب کے سب ٹھیک اور غلط ہو سکتے ہیں، میں نے جو سوچا تھا میں صرف وہی کرنا چاہتا تھا۔

ان صاحب نے خود ہی جی ایم صاحب سے بات کی اور جی ایم نے باتوں ہی باتوں میں مجھے ان کو ساتھ رکھنے کا مشورہ بھی دے دیا، میرا دل بیٹھ سا گیا، اب بال میری کورٹ میں تھی، میں نے آئیڈیا کی ایک فائل بنائی اور اسے اپنے سرکاری دفتر کی الماری میں مناسب وقت تک کے لیے رکھ چھوڑا۔

چند سالوں کے بعد جب میرا امریکہ آنا ٹھہر گیا تو اپنی چیزیں سمیٹتے ہوئے وہ فائل نظر آئی، میں نے چند پروڈیوسر دوستوں سے اس آئیڈیا کو ڈسکس کیا اور پیشکش کی کہ وہ اپنے نام سے اور اپنے طریقے سے اسے کر سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

امریکہ میں ایک دن سوشل میڈیا پر فاروق ضمیر کے انتقال کی خبر دیکھی، مجھے یوں لگا کہ میرا مجید امجد مر گیا۔

Facebook Comments HS