ن لیگ اور پیپلز پارٹی تضاد، پرانی ہانڈی میں نیا پکوان


آج ورق گردانی کہ دوران ایک سطر نظر سے گزری ”پرانی ہانڈی میں نیا پکوان“ پڑھ کر ہنسی آ گئی اور سوچا کہ یہ سطر تو بالکل پاکستانی سیاست پر مصدق آتی ہے،

اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے کئی حوالات ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مفادات کہ مد نظر کئی تحریکیں چلائیں گئیں، آئیے ملک میں اب تک برپا ہونے والی بڑی مخالف تحریکوں کا معروضی جائزہ لیتے ہیں۔

ان میں اولین اور سب سے جامع تحریک صدر ایوب خان کہ خلاف 1968 میں شروع ہوئی تھی ایوب خان کے خلاف تحریک میں دائیں اور بائیں جانب کی جماعتیں شامل تھیں۔

اس کہ بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 میں عام انتخابات کروائے تو اندھوں کو بھی دھاندلی صاف نظر آنے لگی حالانکہ اگر وہ شفاف انتخابات بھی کرواتے تب بھی وزیراعظم کی مسند ذوالفقار علی بھٹو ہی کی تھی، انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تو دائیں بازو کی جماعتیں مظاہروں میں سر فہرست رہیں آہستہ آہستہ یہ مظاہرے ملک گیر احتجاج کی حیثیت اختیار کر گئے اس تحریک کو نظام مصطفیٰ کا نام دیا گیا، بلا آخر جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور جمہوریت پر قدغن لگا دی۔

14 مئی 2006 کو پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہان اور سابق وزرائے اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں ایک 36 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے جسے چارٹر آف ڈیموکریسی یا میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا، یہ معاہدہ ایک تفصیلی دستاویز تھا پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے میثاق جمہوریت میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں فوجی حمایت یافتہ حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ اداروں کی مدد سے اقتدار میں آئیں گے اور نہ ہی عوام کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کسی سازش کا حصہ بنیں گے۔

مگر میثاق جمہوریت تو جیسے پورس کا ہاتھی ثابت ہوا اور دستخط کنندگان کی جانب سے میثاق جمہوریت کی ہر شق کی بار بار خلاف ورزی کی گئی گویا دستخط کنندگان نے میثاق جمہوریت کو کوڑے دان میں ڈال دیا ہو، جب جس سیاسی جماعت کو گرین سگنل ملتا ہے وہ تمام اصولوں کو بھول کر ”جی حضوری“ کا راگ الاپنے لگ جاتی ہے، اقتدار کے کھیل میں اخلاقیات اور اصول مفادات کا شکار ہو جاتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گرانے کے لئے پی ڈی ایم (ایک غیر فطری اتحاد) معرض وجود میں آیا، پی ڈی ایم کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں مورخہ 17 نومبر 2020 کو میثاق پاکستان پر دستخط کیے گئے جسے میثاق جمہوریت کا تسلسل قرار دیا جا رہا تھا۔

اس وقت کی برسر اقتدار حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف پر مہنگائی اور کرپشن کے الزامات لگائے گئے جس کے نتیجے میں 9 اپریل 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) حکمران جماعت کی حیثیت سے پاکستانی سیاست کے منظر نامے پر ابھری۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں مگر کھاتے ہوئے سب ایک ہو جاتی ہیں اسی طرح 16 ماہ کے دور حکومت میں پی ڈی ایم نے مل جل کر حکومت کی، اس دوران مہنگائی اور معاشی اعتبار سے پاکستان مسلسل زبوں حالی کا شکار ہوتا رہا مگر اشرافیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی مہنگائی نے عوام کے حواس چھین لئے مگر حکومت خواب غفلت میں کھوئی رہی حالانکہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ سیاست میں عدم استحکام اقتصادیات کی جڑیں ہلا دیتی ہیں، خیر 16 ماہ حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد ایک بار پھر میرے پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ وہی پرانا کھیل کھیلنے کی بھر پور تیاری کی جا رہی ہے۔ کھیل وہی پرانا پر کھلاڑی نئے، چالیں وہی پرانی پر مہرے نئے بس عوام بیچارے جن کے ووٹ کو بطور پیادہ استعمال کر کے کھلاڑی اپنا کھیل بخوبی کھیلیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شطرنج کے اس کھیل میں ماسٹر پلیئر کس ٹیم کا حصہ بنتا ہے۔

Facebook Comments HS