سلام پاشا کی خالہ۔ مصری افسانہ: محمود تیمور


ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی

اس دن دارالحکومت سے نکلنے والے شام کے اخبارات میں سانحہ ارتحال کے صفحے پر سیاہ حاشیے کے درمیان ایک طویل پیغام شائع ہوا تھا۔

”آہ بدقسمتی! گہرا غم! ایک نیک، پرہیزگار اور متقی خاتون اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں۔ وہ محترم محمد سلام پاشا کی خالہ تھیں جو ایک سابق سرکاری افسر اور اپنی مفید اور شاندار سرگرمیوں کی وجہ سے اشرافیہ کے مشہور ترین نمائندوں میں سے ایک ہیں۔ وہ جرجا میں اپنی جاگیر پر ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا تھیں۔ جس کے آگے انتہائی ماہر ڈاکٹر بھی بے بس ہو گئے تھے۔ جنازہ کل صبح دس بجے اسٹیشن سے روانہ ہو گا۔ جہاں مرحومہ کی میت خصوصی ٹرین کے ذریعے ساڑھے آٹھ بجے پہنچے گی، مرحومہ اور ان کے بھتیجے کے حیثیت، مرتبے اور مقام کو دیکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ بہت سے معزز افراد جنازے میں بنفس نفیس شرکت کریں گے۔“

کیفے الجندی کی ایک میز پر کمال بے دوستوں کے ساتھ براجمان تھا۔ جہاں اس نے ہمیشہ کی طرح کافی اور حقے سے حظ اٹھایا تھا۔ پھر اخبار خریدا اور اس پیغام کو پڑھتے ہوئے ہنس پڑا۔ آخر ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: ”دوستو! ایک انتہائی اہم پیغام!“

سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کمال نے طنزیہ لہجے میں بات جاری رکھی: ”سلام پاشا کی خالہ کا انتقال ہو گیا۔“
محفل میں شریک ایک دوست نے حیرت سے استفسار کیا۔ ”اس میں اتنی مضحکہ خیز بات کیا ہے؟“

”میں نے اس سے پہلے کبھی اس خالہ کے بارے میں نہیں سنا۔ بظاہر، ایسا لگتا ہے وہ ابھی پیدا ہوئی تھیں کہ موت نے انھیں دبوچا اور ہمیشہ کے لیے چھپا لیا۔“ کمال نے کہا اور ہنس دیا۔

”میں نے اس خالہ کے بارے میں سنا ہے۔“ ایک دوست رفعت بیگ بولا۔
”اچھا!“ کمال بے نے حیرت سے کہا۔

”ہاں، مگر تمہیں حیران ہونے کا حق ہے۔ کیوں کہ ان کا وجود سب سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ سلام پاشا نے ہمیشہ کوشش کی کہ لوگوں کو خالہ کے بارے میں کچھ علم نہ ہو۔“ رفعت بیگ نے مزید کہا۔

”کیوں؟“

”وہ بدنامی سے ڈرتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگوں کو یہ علم ہو کہ اس کی ایک غریب خالہ بھی ہیں جو تقریباً بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہیں اور جرجا کے قریب ایک خستہ حال جھونپڑی میں رہتی ہیں۔“

سب نے حیرانی سے رفعت بیگ کی بات سنی۔
کمال بے نے کہا: ”لیکن وہ جاگیر؟ کیا جھوٹی کہانی ہے؟ جس میں اخبار کے مطابق مرحومہ کا انتقال ہوا ہے۔“

”یقیناً وہ کہانی ہے۔ سلام پاشا کو اپنی خالہ کا حال معلوم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ غربت میں زندگی گزار رہی ہے، لیکن اسے پروا نہیں تھی۔ مجھے ایک قابل اعتماد ذریعے سے معلوم ہوا تھا کہ اس نے حالیہ برسوں میں انھیں صرف پچاس قروش دیے تھے۔ وہ بھی اس نے سیکرٹری کے ذریعے بھیجے۔ سلام پاشا اس کے ساتھ اپنے تعلق سے انکاری تھا۔ اس کے برعکس وہ غریب عورت ہر ممکن طریقے سے مدد کے لیے اس کے پاس جانے کی کوشش کرتی تھی۔ تاہم پاشا نے ہمیشہ اپنی اس رشتہ دار سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا۔ دراصل یہ واحد کڑی تھی جو اسے تلخ اور تاریک ماضی سے جوڑے رکھتی تھی۔ ان دنوں کے ساتھ جب وہ ایک سادہ نیلی قمیض اور سندارہ (بے حاشیہ ٹوپی) میں گھومتا، مویشی پالتا اور کھیتوں میں اپنے والد کے لیے کھانے کا خوان سر پر اٹھائے جاتا نظر آتا تھا۔“

”عجیب بات ہے، رفعت بیگ تم کو یہ سب کیسے معلوم ہوا؟“

”میں نے یہ باتیں اس خاندان کے ایک فرد سے سنی ہیں۔ جس نے سلام پاشا کی پرورش کی۔ اس خاندان کا سربراہ جس نے سلام پاشا کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا۔ ایک شریف اور سخی آدمی تھا۔ اس نے سلام کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے قاہرہ کے پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا اور ڈپلومہ حاصل کرنے تک سب اخراجات اٹھائے۔ پھر جب یہ معلوم ہوا کہ سلام ثانوی درجے کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے تو اس نے ایک سرکاری ادارے میں اسے ملازمت دلوانے میں مدد کی۔

جب سلام نے اپنے قدم اچھی طرح جما لیے اور ترقی کرنے لگا تو وہ ایک معمولی اور فرمانبردار نوجوان سے بدل کر ایک ضدی اور مغرور آدمی بن گیا۔ وہ خوش قسمت تھا کہ تیزی سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گیا اور مزید مغرور ہوتا گیا۔ اس کا کردار اور نیت پوری طرح آشکار تھی۔ وہ ہر بات بھول گیا جو اس کے ماضی سے جڑی تھی۔ حتیٰ کہ اس شخص کو بھی جس نے اس کی پرورش اور تربیت کی اور اس کی بہبود کے لیے کام کیا۔ ہاں دوستو، سلام ناشکرا نکلا اور اب بھی بسا اوقات ناشکرا پن کرتا ہے۔ میں اس شخص کے کردار کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس لیے آپ نے جو کچھ کہا۔ وہ سن کر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا۔“

”کیا اس غریب خالہ کے علاوہ اس کا کوئی اور رشتہ دار نہیں تھا؟“
”نہیں، وہ واحد زندہ بچی تھی۔ یہ اس کی خالہ سے نفرت اور اسے تسلیم نہ کرنے کا راز بھی ہے۔“
”بہرحال اس نے تسلیم تو کر لیا؟“
”ہاں، اس کے مرنے کے بعد تسلیم کیا۔“
”یہ بہت عجیب بات ہے۔ اس کے اعتراف کی کیا وجہ ہے؟“

”وہ خود نمائی کی تسکین کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ جب وہ زندہ تھی تو اس نے ہمیشہ پیسہ دینے سے انکار کیا، لیکن اب وہ خوب رقم خرچ کرے گا۔ اس کا مقصد جھوٹی چمک کی نمائش کرنا ہے۔ جس کا وہ ساری زندگی پیچھا کرنے کا عادی رہا ہے۔ جس سے اسے خوشی ملتی ہے۔ کیا یہ پروقار ماتمی تقریب اور شاندار جنازہ صرف بیان دینے کا ذریعہ نہیں؟ کیا یہ خوش آئند بات نہیں ہے کہ اس تقریب میں ملک کی ممتاز شخصیات، اشرافیہ اور ہمارے اعلیٰ حکومتی عہدیداران دل کی گہرائیوں سے اظہار تعزیت کریں گے اور اس کے غم میں شریک ہوں گے۔“

کمال بے ہنسا: ”وہ پاگل ہے! میں تقریب میں شرکت کرنا چاہتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔“

”کیا آپ کی اس شخص سے واقفیت ہے؟“
” بس اتنی، جتنی آپ کی ہے۔“
”پھر کیا قدغن ہے؟“
”میں کل اپنی جاگیر پر اہم کام سے جا رہا ہوں۔“ کمال بے نے کہا۔
وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے مشورہ دیا: ”اسے ٹیلیگرام بھیج دیں۔“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں، میں ایسا ہی کروں گا۔“
”میں تو جنازے میں جاؤں گا اور آپ کو بتاؤں گا کہ میں نے وہاں کیا دیکھا۔“ رفعت بیگ نے کہا۔

کمال بے نے تالی بجا کر ویٹر کو بلایا اور کاغذ، سیاہی اور قلم لانے کا مطالبہ کیا۔ پھر کافی دیر سوچتا رہا آخر بولا: ”مجھے نہیں معلوم کہ اس احمق کو کیا لکھوں۔“

”مختصر لکھیں، مثلاً ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔“

”یہ کافی نہیں ہے رفعت بیگ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ وہ مجھے حقیر سمجھے، میرا مذاق اڑائے اور لوگوں میں مجھے کنجوس کہتا پھرے؟ میں ایک ایسا ٹیلیگرام لکھنا چاہتا ہوں جس پر کم از کم تیس قروش خرچ ہوں۔“

پھر وہ حسنی بیگ کی طرف متوجہ ہوا: ”کیا آپ اس شخص سے اظہار تعزیت کے لیے مجھے چند غمناک اور دل کو چھو لینے والے الفاظ لکھ کر دے سکتے ہیں؟“

اس ٹولی میں حسنی بیگ کو شاعر سمجھا جاتا تھا۔ وہ کچھ دیر کمال بے کو تکتے ہوئے سوچ میں گم رہا، پھر بولا: ”تم اسے نثر میں چاہتے ہو یا نظم میں؟“

”میں آسان اور قابل رسائی نثر کو ترجیح دوں گا، کیوں کہ وہ آدمی جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک جاہل اور احمق شخص ہے۔“

”تو، لکھیں۔“ حسنی بیگ نے مترنم لہجے میں بولنا شروع کیا۔
”یہ کیا دوست؟ تم شاعری کرنے لگے، جبکہ مجھے نثر چاہیے۔“
”یہ ابھی شروعات ہے۔ تم کو ایک تاثر بنانے کی ضرورت ہے۔ لکھیں لکھیں۔

”آج میں نے بہت گہرے دکھ اور درد کے ساتھ اس عظیم اور اندوہناک سانحے کا پیغام پڑھا جو آپ کو پہنچا ہے۔ آپ کی پیاری خالہ کی وفات جو ایک شریف اور پرہیزگار خاتون اور آپ کے گھر کا سایہ تھیں۔ حضور والا! میری پرجوش اور دلی تعزیت قبول کیجیے۔ اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے، آپ کی عمر دراز کرے اور مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔

اداس اور افسردہ۔ کمال بے۔ ”
”خوب حسنی بیگ! میرے خیال میں اس ٹیلیگرام کی قیمت چالیس یا پچاس قروش ضرور ہوگی۔ خیر پروا نہیں۔“

ان لوگوں میں ناصر بیگ بھی تھا۔ جس نے سلام پاشا کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بارے میں کچھ جانتا تھا۔ وہ متجسس تھا۔ ”وہ آدمی دیکھنے میں کیسا لگتا ہے؟“ اس نے کمال بے سے پوچھا۔ ”اس کی عمر کتنی ہے؟ اس کے بارے میں مزید بتائیں۔“

کمال بے نے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر اپنے دوستوں کو سگریٹ پیش کیے اور بولا۔ ”سلام پاشا ایک دراز قد آدمی ہے۔ اس کا چہرہ سیاہ ہے جو کثرت شراب نوشی سے سرخ رہتا ہے۔ اس کی سرخ آنکھوں کے نیچے نیلے حلقے اس کے نشے میں ہونے کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کم رو ہے اور چہرے پر چیچک کے نشانات ہیں جو اس کی بدصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کی عمر پچپن سال ہے، لیکن وہ زندگی غیر سنجیدہ طرز پر گزارتا ہے۔ وہ کنجوس، احمق اور جاہل ہے۔

جہاں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں بخل سے کام لیتا ہے اور بعض معاملات میں انتہائی فضول خرچ نظر آتا ہے۔ وہ صرف ظاہری شان و شوکت اور جھوٹی عظمت کے لیے کوشش کرتا ہے اور اپنے تمام دستیاب ذرائع یعنی منافقت، چاپلوسی، خیانت، جھوٹ اور پیسہ استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ثانوی درجے کے اسکول میں ناکام ہونے کے بعد اپنے محسن کی متعدد سفارشات سے مستفید ہوتے ہوئے ایک سرکاری اہلکار بن گیا۔ اسے چاپلوسی کے ذریعے ترقی ملی اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچا۔

اس نے اپنی قسمت ناجائز ذرائع سے بنائی۔ اس نے زمین خریدی، محلات بنائے اور امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے لگا۔ آخرکار اس کی چالبازیوں کا پتہ چل گیا اور اسے ذلت کے ساتھ سرکاری ملازمت سے نکال دیا گیا۔ اس نے ملازمت کو بچانے کے لیے جہاں ہر طرف سے بکثرت پیسہ آتا تھا ایک بار پھر چاپلوسی کا سہارا لیا، مگر تذلیل کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، کسی نے اس کی مدد نہیں کی اور کافی دولت اور شہرت کے باوجود اپنی مرضی کے خلاف اسے ملازمت چھوڑنی پڑی۔ لوگ جلد ہی اس مکروہ معاملے کو بھول گئے۔ اس کا نام دوبارہ قاہرہ میں سامنے آیا۔ اب وہ عزت اور احترام سے گھرا ہوا ہے اور اپنے محل میں با اثر امراء اور شرفاء کی طرح رہتا ہے۔“

۔

سلام پاشا کی خالہ کے جنازے کا جلوس عالی شان اور پروقار تھا۔ جس میں درجنوں نامور تلاوت قرآن کرنے والے، نابینا افراد، قد آور ٹوپیوں میں درویش، عود دان اٹھائے ہوئے لوگ، سفید پگڑیوں اور سبز پوشاکوں میں ملبوس مختلف مذہبی فرقوں کے شیوخ اور خادمین موجود تھے۔ تمام صفوں سے آگے دو اونٹوں پر پھلوں اور کیکوں کے چار کریٹ لدے تھے۔ یہ نام نہاد کفارہ تھا۔ سلام پاشا سیاہ جیکٹ اور نئے پیٹنٹ چمڑے کے جوتوں میں جو خاص طور پر جنازے کے لیے خریدے گئے تھے، اداس اور افسردہ نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اس کی آواز میں بناوٹ کا عنصر عیاں تھا۔ اس نے اپنے جملوں میں عزیز میت کے فضائل بیان کیے، اپنے شدت غم کو بیان کیا، اس نے بتایا کہ وہ خالہ کی عزت اور ان سے محبت کیسے کرتا تھا اور خالہ نے اس کے ساتھ کس طرح مادرانہ شفقت کا سلوک کیا۔

اسی دوران اس کے سیکرٹری نے اپنے دوست کو سرگوشی کی: ”اگر پاشا اس جنازے پر خرچ آنے والی رقم کا دسواں حصہ بھی اپنی عزیز مرحومہ کو دے دیتا تو اس کی باقی ماندہ زندگی کو غربت کی ہولناکیوں سے بچا سکتا تھا۔ پاشا نے مجھے مہنگے، لذیذ پھلوں اور کیکوں کے چار کریٹ بھرنے کا حکم دیا ہے۔ جس کا اس کی خالہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔ انہیں غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تاکہ وہ مرحومہ کے لیے رحمت کی دعا کریں اور اس کی یاد کو برقرار رکھا جا سکے۔“

شام ہو گئی تھی، لالٹینوں نے اس گلی کو بقعہ نور بنا دیا گیا۔ جس پر سلام پاشا کا گھر واقع تھا۔ وہاں اتنی زیادہ لالٹینیں تھیں کہ راہگیروں کو یوں لگا جیسے وہ کسی فضول خرچ امیر کی طرف سے دی گئی خوشی کی محفل میں شریک ہوں۔ خوب صورت رنگین کپڑوں سے سجا ایک شاندار خیمہ جس میں قیمتی قالین بچھائے گئے تھے، چمکتی دمکتی روشنیوں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وہاں مشہور قاریوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ سلام پاشا نے یہ دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔

جہاں کھانا تیار کیا جا رہا تھا وہاں بہت شور تھا اور میزیں سجی ہوئی تھیں۔ سلام پاشا نے قریبی دوستوں اور معززین کے لیے بہترین پکوان تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کو عزت کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہا تھا اور میزوں کے درمیان چلتے ہوئے نوکروں پر اونچی آواز میں چلاتے، ایک چیز کا حکم دیتے اور دوسری سے منع کرتے ہوئے، کسی چیز کا مطالبہ کرتے یا رد کرتے ہوئے مصروفیت ظاہر کر رہا تھا۔ پھر وہ خیمے میں اپنی جگہ پر واپس آیا اور مہمانوں کے درمیان غم کی تصویر بنے بیٹھ گیا۔

وہ گہری آہیں بھر رہا تھا اور میت کے فضائل، خالہ کی موت اور اس خبر کو کیسے برداشت کیا۔ یہ سب بیان کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب قاریوں نے قرآن مجید آخری سورت تک پڑھ لیا تو مہمانوں نے یکے بعد دیگرے سلام پاشا کو الوداع کہنا شروع کیا اور اس سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے خیمے سے باہر نکلنے لگے۔ آخر صرف پاشا اپنے ساتھیوں اور نوکروں کے ساتھ رہ گیا۔ وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور پسینہ خشک کرنے کے لیے رومال سے پنکھا جھلنے لگا۔ پھر اس نے آہ بھری: ”اوہ، میں کتنا تھک گیا ہوں! مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا مشکل کام ہے۔“

پاشا کے پاس اس کا ایک کاسہ لیس کھڑا تھا۔ وہ چھوٹی مونچھوں اور چھدری داڑھی والا بوڑھا چاپلوس آدمی تھا۔ اس نے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا: ”اوہ، بے شک آپ تھک گئے ہوں گے، لیکن یقین کریں، اگر یہ تھکن نہ ہوتی تو تقریب اتنی شاندار نہ ہوتی۔ ہر کوئی چاہے بوڑھا ہو یا جوان اس تقریب اور یہاں جو کچھ دیکھا اس بارے میں بات کر رہے تھے۔“

پاشا نے آہیں بھرتے اور مزید کراہتے ہوئے کہا: ”اے عبدالنبی! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کل رات سے ایک پل بھی نہیں سویا اور آج مجھے ایک لمحے بھی بیٹھ کر آرام کرنے کا وقت نہیں ملا۔ آپ نے خود دیکھا ہو گا شام کو کتنے مہمان تھے۔ کیا میں انہیں چھوڑ سکتا تھا؟“

”ہرگز نہیں، یہ آپ کو زیب نہیں دیتا۔“

”میں ان پر توجہ کے لیے، ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بار بار ان کے گرد گھومتا رہا۔ میں نے خود خیال رکھا کہ دسترخوان پر تمام کھانے اور برتن ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ کیا میں کسی ملازم پر بھروسا کر سکتا تھا؟“

”نہیں، پاشا بالکل نہیں، آپ ہمیشہ ہر چیز کا خود خیال رکھتے ہیں۔“ کاسہ لیس بولا۔

پھر اس نے جمائی لیتے ہوئے بات ختم کی: ”اللہ کی قسم اور اس کے جلیل القدر پیغمبر اور تمام اولیاء اللہ کی قسم، میں نے اپنی زندگی میں آج سے زیادہ لذیذ کھانے نہیں کھائے اور اس سے زیادہ شاندار اور پروقار تقریب نہیں دیکھی۔ آپ کی مرحومہ خالہ کی روح آپ کے سر پر منڈلا رہی ہے اور مقدس فریضے کی ادائیگی پر آپ کا شکریہ ادا کر رہی ہے۔“

پھر عبدالنبی جمائی لیتے ہوئے کھڑا ہوا اور جانے کی اجازت مانگی۔ پاشا نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور چپکے سے چاپلوسی اور تعریف کے عوض انعام میں کچھ رقم تھما دی۔

پھر پاشا نے باہر جاکر بلند آواز میں اپنے سیکرٹری کو پکارا۔ صاف ستھرے لباس میں ملبوس اڑتیس سالہ شخص جیسے ہی قریب آیا۔ پاشا نے جھک کر کہا: ”مجھے جنازے کا انتظام بالکل پسند نہیں آیا۔ میں آپ کے لاپروا رویے سے مطمئن نہیں ہوں۔“

”میرا لاپروا رویہ؟ لیکن جناب جنازہ غیر معمولی طور پر شاندار تھا۔“
”جھوٹ!“ پاشا چلایا۔

”جناب! یقین کریں جلوس تین سو میٹر تک پھیلا ہوا تھا اور دارالحکومت کی سب سے چوڑی سڑک کو بھی ہم نے بھر دیا تھا۔ ہم نے تمام اہم ترین لائنوں پر ٹراموں میں تاخیر کروائی اور تمام ٹریفک کافی دیر تک تاخیر کا شکار رہا۔ ہم نے کسی ریڑھی یا گاڑی کو اوور ٹیک کرنے یا جلوس کو پار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کیا آپ نے درویشوں کو نہیں دیکھا؟ ہم نے انہیں پورے قاہرہ سے اکٹھا کیا اور جنازے کے آگے قرآن پڑھنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

کیا آپ نے ان لوگوں کا ایک پورا گروہ نہیں دیکھا جن کے ہاتھوں میں عود دان اور عود کے برتن تھے؟ ہم نے اس پر بے تحاشا پیسہ خرچ کیا۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک نئی پٹی خریدی۔ ڈرائیور ماسٹر عبدو کو ہدایت کی کہ وہ اپنی وردی ڈرائی کلین کروائے اور خلیل کو حکم دیا کہ وہ اپنی قمیضیں استری کرے۔ جہاں تک نوکروں اور مصاحبین کا تعلق ہے تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدے۔ انہوں نے خوب توجہ مبذول کرائی۔

اے میرے آقا! میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے سڑک کے دونوں طرف لوگوں کو احترام اور خاموشی سے کھڑے دیکھا جو جلوس جنازہ کی شان و شوکت پر حیران تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔ میں نے بلند آواز میں جواب دیا کہ یہ سلام پاشا کی خالہ کا جنازہ ہے۔ انہیں اس پر دلی افسوس ہوا۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ جب غریب لوگ پھل اور کیک لے کر آپ کے لیے دعا کر رہے تھے؟ ان کی پکاروں نے قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی آوازوں کو دبا دیا تھا۔“

پاشا نے بڑی خوشی اور فخر سے سیکرٹری کی بات سنی۔ تاہم اس نے سر جھکا لیا اور دوبارہ چیخا: ”بیوقوف! پولیس اہلکاروں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ وہ کہاں تھے؟ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ میری خالہ کے جنازے میں صرف دو گھڑسوار اور چار پیدل پولیس والے تھے؟ ”

”میں قسم کھاتا ہوں مسٹر پاشا مجھے مزید کی اجازت نہیں ملی۔“ سیکرٹری بولا۔

”تم کو اجازت نہیں ملی؟ گو کہ انہوں نے عبدالکریم پاشا کی والدہ کے جنازے میں دس گھڑ سواروں اور بیس پیدل پولیس اہلکاروں کی اجازت دی تھی۔“

”آپ محترم، جانتے ہیں کہ عبدالکریم پاشا کون تھے۔“

سلام پاشا نے اس کی بات کاٹی اور بولا۔ ”میں صرف یہ جانتا ہوں کہ تم ایک غافل آدمی ہو۔ کتنی بے عزتی کی بات ہے! میری خالہ کے جنازے میں میرے موجودہ حالات اور حکومت میں میرے ماضی کے کردار کے مطابق کثیر تعداد میں پولیس اہلکار نہیں تھے، مملکت کے تمام معززین مجھے جانتے ہیں۔ وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے؟ میں لوگوں کی حیرت کا اندازہ لگا رہا ہوں اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔“

”جناب! آپ صرف تعریف سنیں گے۔“
”تم کو اپنی غلطی کو کل درست کرنا ہوگی۔“
”آپ جو حکم کریں۔“

”اخبارات میں جنازے کا تفصیلی مضمون چھپنا چاہیے، تقریب کا احوال پوری جزئیات کے ساتھ بیان ہو، وہاں موجود معززین اور مشہور افراد کے نام اور تابوت کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی بتائی جائے۔“

”حضور والا! آپ جنازے میں کتنے پولیس اہلکار دیکھنا چاہیں گے؟“
”چالیس پیدل اور تیس گھڑ سوار۔“
”ہوجائیں گے۔“

”تمہیں جنازے کی شان و شوکت اور پوری تقریب، کھانے کی رونق، تلاوت قرآن کرنے والوں کی شہرت وغیرہ کے بارے میں اخبار میں سب رپورٹ دینی ہے۔ اخبارات کو دل کھول کر ادائیگی کریں کوئی کنجوسی نہ کریں۔“

”جیسا آپ چاہیں گے، ویسا ہی ہو گا۔“

پاشا نے جمائی لی، کچھ دیر خاموش رہا پھر حسب عادت مدھم آواز میں بولا: ”کیا تم نے گلوکار کو کوئی رقم دی تھی؟“

”جی ہاں جناب، لیکن کیا آپ واقعی آج شام منانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟“

”مجھے کیا قدغن ہے؟ میں اپنی ریت کیوں بدلوں۔ میں ان شبینہ تفریحات کو منسوخ نہیں کر سکتا جن کی میں ہمیشہ میزبانی کرتا ہوں۔ جہاں تک جنازے کی باقی رسومات کا تعلق ہے، اس کے بارے میں تم سب جانتے ہو۔ کیا میں ان احکامات کو دہراؤں؟“

”جناب مجھے سب یاد ہے۔“

”تم جیسے احمقوں کے سامنے اسے دہرانا بہتر ہے۔ جنازے کے تین دن بعد تم کو یہاں گھر میں اور قبرستان میں ہر رات قرآن کی تلاوت کرنے والوں کو بلانا ہو گا۔ چہلم تک۔ یہ سب مرحومہ کی تعظیم اور لوگوں کے تئیں فرض ادا کرنے کے لیے ہے۔ کیا تم سمجھ گئے؟“

”سمجھ گیا، سر!“

اگلے دن شام کو عبدالنبی، پاشا کے پاس بیٹھا، اسے جنازے اور سوگ کی تقریب کے لیے مختص ایک مضمون پڑھ کر سنا رہا تھا، جسے سیکرٹری نے مرتب کیا تھا۔ پاشا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے غور سے سن رہا تھا۔ مضمون میں جنازے کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا تھا، جلوس میں چلنے والے مشہور لوگوں کے نام بتائے گئے تھے، یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کس طرح غریبوں میں خیرات تقسیم کی گئی۔ کس طرح لوگوں نے میت کا سوگ منایا اور اس پر رحمتیں نازل کیں۔ پاشا کی نیک دلی کی تعریف بھی کی گئی تھی۔ جس نے اپنی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھایا تھا۔

”متاثر کن تماشا“ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں لکھا تھا: ”جب اخبار چھپنے کے لیے تیار تھا تو ہمیں اپنے خصوصی نمائندے سے یہ پیغام موصول ہوا اور محترم محمد سلام پاشا کی خدمات اور ان کی وسیع شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فوری طور پر شائع کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس کے بعد ناموں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ جس میں ہر نام کے ساتھ“ عزت مآب۔ عزت مآب۔ کے سابقے تھے۔ پولیس اور ان کی تعداد کا ذکر کیا گیا۔ عبدالنبی نے پاشا کو پڑھ کر سنایا: ”تابوت کو تیس گھڑ سواروں اور چالیس پیدل پولیس والوں نے گھیر رکھا تھا۔“

پاشا نے خوشی سے کہا۔ ”یہ ٹھیک ہے۔ انہوں نے بخوشی مجھے اتنے سپاہی دیے۔ اگر میں اس سے زیادہ مانگتا تو بھی انکار نہ کرتے۔“

عبدالنبی نے ہاتھ رگڑتے ہوئے جواب دیا: ”آپ بہت مشہور آدمی ہیں۔ آپ کی درخواست کو کیسے رد کیا جاسکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آپ نے کتنی لگن سے حکومت کی خدمت کی ہے۔ جب کہ میرا خیال ہے کہ عبدالکریم کی والدہ کے جنازے میں صرف آٹھ اہلکار تھے۔“

پھر عبدالنبی نے اخبار پڑھنا جاری رکھا۔ مضمون کے آخر میں کہا گیا تھا: ”سلام پاشا، پروردگار ان کی حفاظت فرمائے بہت اداس اور پریشان نظر آرہے تھے، جس کے باعث ہر کوئی ان کے ساتھ مخلصانہ ہمدردی رکھتا تھا۔“

”یہ سچ ہے۔ یہ سچ ہے۔ جناب آپ بہت افسردہ تھے۔“
”دوست ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سب کچھ مشیت ایزدی سے ہوتا ہے۔“ پاشا نے غمگین لہجے میں کہا۔

اسی وقت جب پاشا اور اس کا دوست اخبار پڑھتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ ایک ضعیف بوڑھا آدمی جو بمشکل اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا تھا، محل کی دہلیز پر بیٹھا خانسامہ کی طرف سے دیا ہوا سگریٹ پی رہا تھا۔ یہ خستہ حال بوڑھا ان لوگوں میں سے تھا۔ جنہوں نے پاشا کی جاگیر پر طویل عرصے تک خدمت کی تھی۔ اس کی آنکھیں عمر کے ساتھ کمزور اور داڑھی سفید ہو گئی تھی۔ اس نے سر پر پگڑی باندھی ہوئی تھی اور دیہاتی لباس میں تھا۔

ایک لمبی خاموشی کے بعد وہ خانسامہ کی طرف متوجہ ہوا اور کمزور آواز میں بولا۔ ”جناب میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، میں نے میت کو دیکھا، وہ جرجا کے آس پاس بچوں کو سرکنڈوں کی مرلیاں بیچتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ کیا میں پاگل ہو گیا ہوں؟ سمجھ نہیں پا رہا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، یا میں نے وہ دیکھنا شروع کر دیا ہے جو دوسرے نہیں دیکھتے؟“

خانسامہ اس کے قریب ہوا اور سرگوشی کی: ”انکل بیومی ہرگز نہیں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن۔ پاشا یہ چاہتا ہے اور پاشا کی خواہش سب سے مقدم ہے۔“

ختم شد۔

Facebook Comments HS