امید کی خوشی؟


یہ دنیا امید پر قائم ہے۔ سرسید احمد خان نے اسی حوالے سے اپنا مشہور مضمون امید کی خوشی لکھا تھا جو بعد میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لیکن سر سید کی روح سے معذرت کے ساتھ، بعض اوقات محاورے ہزاروں سالوں تک سچے رہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سو ڈیڑھ سو سال پہلے امید کی خوشی انسان کو سہارا دیتی تھی لیکن آج کے دور میں ایسا نہیں ہے۔ اب اس سے الٹ معاملہ ہو تا ہے۔

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ دیسی اور فارمی مرغی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کبھی غور کیا کہ فارمی مرغیوں کی زندگی دیسی مرغیوں سے کتنی بہتر اور آسان ہوتی ہے؟ انہیں پیدائش کے وقت ہی سے مختلف بیماریوں جیسے رانی کھیت وغیرہ کے خلاف مدافعتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ باجرہ، گندم اور اچھی پروٹین پر مشتمل طاقتور خوراک کھلائی جاتی ہے۔ ٹھنڈ لگنے سے بچانے کے لیے ہیٹر وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں گرمی سے بچانے کے لیے پنکھے اور ہوا دار جگہ پر رکھا جاتا ہے۔

مختصراً ان کی زندگی دیسی مرغیوں سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی وہ زیادہ بیمار پڑتی ہیں۔ ان کے پر بہت مرجھائے ہوئے اور تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان کو کھجلی ہوتی ہے اور پروں میں بہت جوئیں ہوتی ہیں۔ تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں راکھ اور مٹی سے اپنے پروں کو دھونے اور صاف کرنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ اس سے جوئیں نکل جاتی ہیں اور میل کچیل صاف ہوجاتی ہے تو وہ سکون اور راحت محسوس کرتی ہیں۔ اگر انہیں فارم ہاؤس کے باڑے اور میں تھوڑی سی راکھ اور مٹی مہیا ہو جائے تو وہ صحت مند رہیں گی۔ لیکن انہیں گوشت کے لوتھڑے بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، ان میں نقاہت ہوتی ہے، ہر وقت اضمحلال کا شکار ہو کر سوئی رہتی ہیں۔

جبکہ دیسی مرغیوں کو کوئی حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جاتے۔ وہ استعمال شدہ برتنوں یا کوڑے سے خود چن کر یا کوئی کیڑا مکوڑا ہاتھ لگے تو کھا لیتی ہیں۔ ان کی خوشی اور صحت مندی کا راز گھومنے پھرنے میں مضمر ہوتا ہے۔ دیسی مرغیاں جب مٹی اور راکھ سے پروں کو صاف کرتی ہیں تو ان کی خوشی چہرے اور انداز سے نمایاں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے انڈے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ صحت مند ہونے اور اچھا دکھنے کی وجہ سے ان کے دام بھی زیادہ لگتے ہیں۔

حالانکہ ماہرین کہتے ہیں کہ دیسی اور فارمی مرغی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

اگر آپ کو اس کا یقین نہیں آتا تو خود تجربہ کر لیجیے۔ بازار سے کوئی بھی بہت ہی گنجی سی فارمی مرغی لے آئیے۔ آپ دیکھیں گے کہ چند دنوں میں وہ دیسی مرغی کی طرح صحت مند، خوش باش اور چوکس ہو جائے گی۔

بھینسوں، گائیوں، بھیڑ بکریوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔ آپ انہیں گھر میں باندھ کر جتنا بھی کھلائیں، ایک تو وہ بہت کمزور ہوں گی اور دودھ بھی بہت کم دیں گی لیکن جو باہر سے چر کر آتی ہیں، ان کا دودھ بھی زیادہ ہوتا ہے اور وہ صحت مند بھی بہت ہوتی ہیں۔ کبھی غور کریں کہ ان کو باہر کے کھیتوں گلیوں میں کون کھانے دیتا ہے؟ بس تھوڑی راستے میں پڑی چیزیں کھا لیتی ہیں۔

تو ان کی صحت مندی کا یہ راز ہے۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ اب تھوڑا آگے گئے تو خوب کھانے کو ملے گا۔ اور اسی امید میں دن بیت جاتا ہے۔ بکریوں مرغیوں، گائے بھینسوں کا تو یہی کام ہے کہ کچھ گھومیں پھریں، دودھ دیں اور آخر میں انسان کی خوراک بن جائیں۔

بقول شاعر
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
لیکن انسان کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔

پھر دوبارہ اصل موضوع پر آتے ہیں کہ یہ امید کی خوشی کیا ہے؟ آپ اس کو خوش فہمی بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسان بد ترین حالات میں بھی خود کو تسلی دیتا ہے کہ کوئی بات نہیں بس چند دنوں بعد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ آپ اسے ایک طرح سے نشہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

لیکن آج کل کے دور میں یہ کچھ ایسے ہی ہے کہ جیسے انسان نشہ کر کے بے فکر ہو جائے کہ خود بخود سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنی ذمہ داری دوسرے کے حوالے کر دیں۔ جبکہ ایسا ہوتا نہیں۔ اس لیے آج کل یہ محاورہ بہتر ہے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا۔

بقول شاعر (چچا غالب)
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

پہلے جب عورتوں کو شادی پر زیورات دیے جاتے تھے تو ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ اگر عورت کو مستقبل میں کوئی مالی مشکل پیش آئے تو اسے فروخت کر کے کام چلا لے۔ لیکن آج کل نت نئے فیشن کے زیورات نے سونے کو پیتل بلکہ گلیوں نالوں میں بہنے والی چیز بنا دیا ہے۔ اب عورتیں نئے زمانے کا سونے کا زیور بنوانے کے لیے اچھے بھلے پرانے زیور کو تڑوا دیتی ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تو سنار تانبے اور پیتل کے ٹانکے جو انہوں نے خود ہی لگائے ہوتے ہیں، کا خرچہ کاٹ لیتا ہے۔

دوسرا نئے زمانے کے زیورات کا سونا پرانے کی طرح خالص نہیں ہوتا، تیسرا یہ کہ نئے زیورات بنانے وقت ایک آدھ رتی سونا ذرات کی شکل میں سنار کے کپڑوں اور سامان پر گر جاتا ہے جو بعد میں صفائی کرنے پر گندے نالوں میں جا گرتا ہے اور آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ غریب لوگ برتن لے کر ان ذرات کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ نئے زیورات سونے کی بجائے مصنوعی بنوا لیے جائیں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے اور جب ان کا رواج ختم ہو جائے تو ان کے اندر کی دھات جیسے پیتل، چاندی وغیرہ دوبارہ استعمال کر لی جائے۔

حالانکہ دوسرے شعبوں میں یہی کام ہوتا ہے۔ مثلاً زیادہ تر لوگ ہنڈا یا کوئی بھی نیا موٹر سائیکل خریدنے پر اس کی ٹینکی اور اطراف کے اصل ٹاپے اسی دن اتروا کر ان کی جگہ دوسرے سستے لگوا لیتے ہیں تاکہ جب موٹرسائیکل فروخت کرنا پڑے تو اس کی اصل ٹینکی ٹاپے لگوا کر زیادہ قیمت وصول کر سکیں۔ ویسے بھی سوچیں کہ کیا صرف سرخ پیلے رنگ کے زیورات پہننا ضروری ہیں؟ کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ تر عورتیں گلابی یا سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگاتی تھیں لیکن آج کل کالی، جامنی، غرض کسی بھی رنگ کی لگا لیتی ہیں۔

مثلاً ڈبلیو ڈبلیو ای کی خاتون پہلوان بیانکا بلئیر عام طور پر جامنی رنگ کی لپ اسٹک لگا کر آتی ہے۔ اور اگر پرانے رواج کو ترک کرنے کی بات ہے تو مغرب کی عورت نے لمبی چٹیا باندھنا کب کی چھوڑ دی ہے لیکن بیانکا نے اس متروک رواج کو دوبارہ فروغ دیا ہے۔ اسی طرح بہت سی خواتین گلابی یا سرخ کی بجائے سفید، نیلے پیلے اور کالے رنگ کی نیل پالش لگوائے ہوتی ہیں۔

ہمارے یہاں ایک بات مشہور ہو گئی ہے کہ بیوی آتی ہے تو ، اپنا رزق ساتھ لے آتی ہے۔ حالانکہ میاں کو بیوی آنے پر اس کے رزق کی پریشانی ہوتی ہے تو وہ زیادہ کمائی کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ پھر بچے ہوتے ہیں تو ان کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے حالانکہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو باپ اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حلال حرام کی تمیز تک بھول جاتا ہے، دوسروں پر کوئی رحم نہیں کرتا۔ دوسروں کا حق مارتا ہے۔ تب جا کر وہ گھر کے اخراجات پورے کر پاتا ہے۔

اسی وجہ سے آپ نے دیکھا اور محسوس کیا ہو گا کہ جو خواتین و حضرات کماتے ہیں، وہ ہر وقت اپنی آمدن کو بڑھانے کی جستجو میں پریشان رہتے ہیں۔ دن رات کا آرام خود ہر حرام کر لیتے ہیں۔ ہر وقت دوائیاں لیتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی صحت بہتر نہیں ہوتی۔ اور پھر وہ اسی جدوجہد میں وقت سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔

اس پریشانی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے سوچ سمجھ کر خرچہ کریں۔ بازاروں میں سیل سیل کے اشتہار دیکھ کر فضول اشیاء نہ خریدیں کہ بعد میں مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑے۔ آپ ایک عملی مثال دیکھ لیں کہ دو تین مرلے کا گھر کہ جس میں دو چار افراد کے علاوہ ایک موٹر سائیکل کھڑی کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اس گھر کے لوگ سستی دیکھ کر گاڑی خرید لیتے ہیں اور پھر گاڑی کھڑی کرنے کی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔ یا تو اس کے لیے کوئی دوسری جگہ کرائے پر لینا پڑتی ہے، جس کا خرچہ بعض اوقات ان کی مالی استطاعت سے زیادہ ہوتا ہے۔ یا باہر فٹ پاتھ پر کھڑی کرتے ہیں جس سے دوسروں کو پریشانی لاحق ہوتی ہے۔

لوگوں نے قناعت چھوڑ کر خود پر نت نئی اشیا خریدنے کے حوالے سے اتنے بوجھ ڈال دیے ہیں کہ اس وجہ سے امید کی خوشی جھوٹی پڑ گئی ہے۔ اب امید کے سہارے کچھ نہیں ہو سکتا۔ آج کے زمانے میں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے والا محاورہ سچا ہو گیا ہے۔

جب بچے کھانا کھانے کی عمر تک پہنچتے ہیں تو والدین انہیں چپس، جوس اور ٹافیوں کی علت لگوا دیتے ہیں، جب بچوں کو شروع سے ایسی چیزوں کی عادت لگوا دی جاتی ہے تو وہ سبزیاں اور پھلوں جیسی صحت مند خوراک نہیں کھاتے جس سے وہ کم عمری میں موٹاپے کا شکار یو کر ذیابیطس اور بلند فشار خون کا شکار یو جاتے ہیں۔

اب نئی نسل کو تو اس حوالے سے حقیقت بتا دیں۔ ان کے اتنے ناز و نعم اور ہر خواہش مت پوری کریں اور نہ مالی استطاعت بارے اندھیرے میں رکھیں تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ جو فرمائش کریں گے، حاضر ہو جائے گی۔

انہیں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیں کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ بس تعلیم ختم کرتے ہی ان کے لیے نوکری حاضر ہو جائے گی۔ انہیں تعلیم کے ساتھ کچھ ہنر بھی سکھائیں۔

مثلاً لڑکیاں پڑھائی سے فارغ ہونے کے بعد ماں کے ساتھ گھر کا چھوٹا موٹا کام کروائیں اور بعد میں کھانا پکانا اور سلائی کڑھائی کرنا سیکھیں۔ کھانا پکانا اور سلائی کرنا ایسے کام ہیں جنھیں سکھانے میں لڑکا لڑکی کی تمیز نہیں کرنی چاہیے۔ عملی زندگی میں یہ دونوں صنف کی ضرورت ہیں اگر خاندان میں ایسا ماہر نہیں ہے تو محلے میں کوئی ایسی عورت ضرور ہو گی تو جس طرح لڑکیاں محلے میں ٹیوشن پڑھنے جاتی ہیں، اسی طرح یہ کام سیکھنے جائیں۔

لڑکے بھی گھر میں پڑھائی کے بعد باہر جا کر ایک دوسرے سے لڑائی یا کھیل کود میں لگ جاتے ہیں، اس کی بجائے فارغ وقت میں انہیں کسی ہنر سکھانے پر لگا دیں۔ بظاہر کوئی معمولی سا ہنر ہی ہو، مثلاً سائیکل مرمت کرنے، الیکٹریشن، یوپی ایس اور چارجر مرمت کرنے، درزی، پکوڑے، سموسے یا دہی بھلے کی دکان، نائی کی دکان پر کھڑا کر دیں۔ یا کسی دکان پر سامان فروخت کرنے والا کام کروا دیں۔ اگر مالی حیثیت اچھی ہے تو دکاندار سے کہہ دیں کہ معاوضہ دو یا نہ دو لیکن مار کٹائی مت کرو اور جلد سے جلد ہنر سکھاؤ۔

اس سے بچے جب تعلیم مکمل کریں گے تو ان کے پس کوئی ہنر بھی ہو گا۔ وہ اپنی ملازمت کے انٹرویو میں بھی اس عملی تجربے کا ذکر کر سکیں گے اور نوکری نہ ملے تو اس ہنر سے فائدہ اٹھا کر کوئی کاروبار کر سکیں گے۔ ہنر نہ ہونے سے ہی آپ ایسی خبریں سنتے ہیں کہ درجہ چہارم کی ایک نوکری کے لیے ہزاروں امید وار آ جاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے نوکری دینے والے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ وہ ابھی تعلیم سے فارغ ہوئے ہیں، پوچھتے ہیں کہ کوئی تجربہ بھی ہے۔

تو اس میں امید کہاں باقی رہ گئی۔ لوگ زہر کھا کر اس کے امرت بننے امید رکھ لیں تو وہ پوری نہیں ہوتی۔ سوچوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو سوچنا چاہیے کہ نئے زمانے کی کیا ضروریات ہیں۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔

Facebook Comments HS