سویلینزکےملٹری ٹرائلز: عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فیصلہ دیا کہ سویلین افراد کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل اور سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 2 ون ڈی، شق 4 آف سیکشن 59 PAA غیر قانونی ہیں۔ حالانکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ کثرت رائے سے تسلیم کرچکا ہے کہ پارلیمان کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ اختیار فوجی عدالتوں کے ٹرائل کے بارے میں واپس لے کر سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کو ڈس اون کر دیا۔ جرنیلوں اور ڈکٹیٹرز کے خلاف فیصلے نہ کر پانے والی عدالتیں، مجرموں کو پولیس کے مطابق چھوڑ دیتی ہیں۔ دہشت گردی کے کئی مقدمات سننے سے ججز کا انکار اور دہشت گردوں کی رہائی کے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو اسی عدالتی نظام کے سپرد کر دینا جو پہلے مجرم کو سزا دیتا اور پھر معاف کر کے معصوم قرار دے دیتا ہے۔
فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کا تصور نیا نہیں۔ امریکہ، روس، برطانیہ، چین، کینیڈا، یونان، اسرائیل، ترکیہ، فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت، ایران، کویت، بحرین، شام، یمن، عراق، سعودی عرب، اردن، لبنان، سوڈان، لیبیا، الجیریا، کینیا، مالی، ارجنٹائن، کیوبا، جبوتی، اریٹیریا، چلی، پیرو، میکسیکو، برونڈی، کمبوڈیا، گوئٹے مالا، کولمبیا، وینزویلا اور زمبابوے سمیت بہت سے ممالک میں ملٹری کورٹس کے قائم ہوئیں۔ برطانیہ میں ( 2011 کے ) فسادات کے بعد سمری کورٹس بنیں۔ امریکہ کی ’سمری کورٹس‘ فیڈرل رائٹس ایکٹ کے تحت قائم ہوئیں۔ اٹلی نے ’فاسٹ ٹریک اور جاپان نے‘ سمری کورٹس، تشکیل دیں، کینیڈا میں ’ایمرجنسی میجرز ایکٹ خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے لاگو ہوا۔ فرانس نے ایمرجنسی ایکٹ اور اسپین نے آرگینک لا آن پبلک سیکورٹی کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کر کے سویلینز کے ٹرائل کیے۔
عام شہریوں کے مقدمات اس وقت فوجی عدالتوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ جب ان پر فوج پر براہ راست اثرانداز ہونے کی کوششوں، فوجی تنصیبات یا اہلکاروں پر حملوں، جاسوسی یا غداری کے الزامات ہوں یا قومی سلامتی کا مسئلہ اور ہنگامی حالات کے باعث حکومت سمجھے کہ مقدمات کی فوری اور سماعت کے لئے فوجی عدالتیں زیادہ موزوں ہیں۔
ریاست پاکستان کا جامع قانونی نظام فوجی عدالتوں کے نظام انصاف کو نظم و ضبط میں لاتا، قانونی اصولوں کی پاسداری اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بناتا ہے۔ فوجی عدالتوں میں لائے جانے والے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بہترین طریق کار اور دفاعی نظام موجود ہے۔ جرم ثابت ہونے تک ملزم کو بے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ مکمل دفاع کے لیے قانونی مشیر یا وکیل کی فراہمی کا حق بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔ فیصلے کے خلاف اپیل کے حق کی موجودگی مقدمہ کی کارروائی کی شفافیت پر دلالت کرتی ہے۔ فوجی عدالتیں مطلوبہ طریقہ کار ’اور انسانی حقوق‘ کے عالمی پیمانوں کے مطابق کام کرتی ہیں۔
ایک مثال برطانیہ کی ملاحظہ فرمائیں۔ 4 اگست 2011 کو لندن کے شمال میں پولیس نے ایک سیاہ فام نوجوان مارک ڈگگنب کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا، پولیس نے گولی چلا دی جو نوجوان کے سینے میں لگی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ ایک شہری کی پولیس کے ہاتھوں موت معمولی بات نہ تھی۔ وہ پاکستان کا ساہیوال تو نہ تھا جہاں معصوم بچوں کے سامنے ماں باپ کو گولیوں سے بھون کر مقدمہ داخل دفتر کر دیا جائے۔ لندن کے شہری سڑکوں پر نکل آئے، پولیس سے جھڑپیں، فسادات میں بدل گئیں، پانچ افراد جان سے گئے، لوٹ مار اور 200 ملین پاؤنڈ کے نقصانات ہوئے۔ پولیس نے جن تین ہزار افراد گرفتار کیا، ان میں اسکول کی ایک گیارہ سالہ طالبہ بھی تھی۔ عدالتوں کے لیے تین ہزار افراد کے مقدمات کا فیصلہ کرنا امتحان تھا مگر برطانیہ کو محفوظ بنانے کے لیے برطانیہ کا عدالتی نظام پوری طرح فعال ہو گیا، جج سپاٹ چہروں کے ساتھ مقدمات سنتے اور فیصلے کرتے رہے، استغاثہ کی مدد سے 1292 افراد کو جرم ثابت ہونے پر سزائیں دی گئیں۔ کم سن طالبہ پر کپڑے کی دکان کی کھڑکی کے شیشے پر پتھر اچھالنے کا الزام تھا۔ جج مورس کوپر کے سامنے کم سن لڑکی اور اس کا باپ رحم کی درخواست لئے کھڑے تھے۔ جج نے لڑکی سے پوچھا وہ جرم کا اعتراف کرتی ہے؟ لڑکی نے صحت جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی، لیکن جج مورس کوپر نے معافی مسترد کرتے ہوئے سزا سنا دی۔ ایک خاتون کو لوٹ مار میں چوری ہونے والے دو انڈرویئر خریدنے پر پانچ ماہ کی سزا سنائی گئی۔ گیارہ سالہ بچی اور مسروقہ چیز خریدنے والی خاتون کی سزا پر ”انسانی حقوق کے علمبرداروں“ کا ردعمل اب تک دکھائی نہیں دیا۔
دوسری مثال امریکہ کی ہے امریکی عدالت نے ( 2021 میں ) پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے اس سرغنہ کو 18 سال قید سنا کر جیل بھیج دیا جس نے اسپیکر نینسی پلوسی کی کرسی پر پاؤں رکھ کر تصویریں بنوائیں۔ امریکہ میں ملٹری کمیشن ایکٹ کے تحت قائم فوجی عدالتوں میں سویلینز پر مقدمات چلائے گئے۔ 2007 میں ڈیوڈ میتھیو ہک کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ اب آئیے پاکستان کی طرف جہاں۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک فیصلے میں ماموں سے بھانجی کو وراثت میں حصہ دلوایا اور دعائیں لیں۔ اس انصاف کے لئے ”خوش قسمت“ مسماۃ سارہ اختر کو صرف 34 برس انتظار کرنا پڑا، آپ اسے انفرادی کیس کہہ لیں تو بتایئے کہ سانحہ مئی کراچی، پکا قلعہ حیدرآباد، ماڈل ٹاؤن لاہور اور بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ہمارے نظام انصاف نے کیا تیر مارا۔ اسی لیے کہا گیا کہ:
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے
ان حالات کے باعث پارلیمان نے قانون سازی کے ذریعے فوجی ٹرائل کا فیصلہ کیا جسے معزز عدلیہ نے زمینی حقائق دیکھے بغیر غیر قانونی قرار دے ڈالا۔
9 مئی 2023 کو ایک قومی سیاسی جماعت کی طرف سے ریاستی اداروں اور تنصیبات پر حملے، ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نذرِ آتش اور شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنا کیا قابلِ معافی جرائم ہیں؟ بین الاقوامی سطح پر فوج کے امیج کو داغدار کرنے، بیرونی دشمنوں کو جوہری اثاثوں کی حفاظت سے متعلق سوالات اٹھانے اور معاشی دلدل میں پھنسے ہوئے ملک کی سنگین صورتحال کو ان واقعات نے مزید بڑھاوا دیا۔ آئین سے اخذ کردہ قانونی طریقہ کار کے تحت وفاقی حکومت اور مسلح افواج کی اعلیٰ کمان نے 9 مئی کے واقعہ میں ملوث منصوبہ سازوں، اور سہولت کاروں کے فوجی ٹرائلز کا فیصلہ کیا۔ ماضی میں آرمی ایکٹ کے تحت دیے جانے والے تمام فیصلوں کو نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھی تسلیم کیا۔ اسی طرح ( 2015 میں ) 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترمیم کے متعلق سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائلز کو جائز قرار دیا۔ 2016 اور 2017 میں بھی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کی۔
موجودہ نازک صورتحال میں عساکر پاکستان شہریوں کی حفاظت اور قومی سالمیت کے تحفظ کے لئے مشکلات سے دو چار ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام سپیڈی ٹرائل کے بغیر ممکن نہیں۔ ملک کے کمزور عدالتی نظام کے سبب دہشت گردوں کو سزا دینے کے بجائے اداروں کے ہاتھ باندھنا درست ہے؟ آئین کے تحت ریاست کے ہر ادارے کا کردار متعین ہے لیکن جب مسئلہ ملک و قوم کی سلامتی کا ہو تو اس میں دفاعی اداروں کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے معاملات کو سیاسی ضروریات کی بھینٹ چڑھانے سے احتراز کرنا چاہیے۔
فوجی عدالتیں ملکی عدالت ہی کے سسٹم کے حصے کے طور پر کام کرتی ہیں۔ سول عدالتوں کے پاس ایسے مقدمات کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 ( 3 ) کے تحت فوجی حکام کو منتقل کرنے کا اختیار ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انصاف کی جلد فراہمی کے لئے فوجی عدالتیں موزوں ترین فورم ہیں۔ اس لیے ریاستی و قومی سالمیت کے اداروں اور عسکری تنصیبات کے خلاف گھناؤنے جرائم کے سد باب کے لئے سپیڈی انصاف ضروری ہے۔ فیصلوں میں تاخیر سے ایسے واقعات کی روک تھام میں رکاوٹ اور شرپسندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے


