اونچی ذات میری
سٹیریو ٹائپنگ یعنی کہ دقیانوسی خیالات لوگوں کے بارے میں رکھنا یا ان کو اس معیار پر پرکھنا بہت عام ہے۔ ویسے بھی ایک محاورہ ہے کہ کتاب اس کے ٹائٹل اور کور سے پہچانی جاتی ہے۔ اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے کہ لوگ جب کسی کو دیکھتے ہیں کہ وہ اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے ہے اور اس کے اٹھنے بیٹھنے کا انداز اور گفتگو کرنے کا انداز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لازما یہ شخص پڑھا لکھا ہو گا۔ لیکن ان دقیانوسی خیالات کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جو ایک قبیلے یا ایک قوم یا ایک ذات پر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔
یعنی کہ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ شیخ اور ہندو اور یہودی کنجوس ہوتے ہیں۔ اور ویسے بھی اگر کسی قبیلے یا قوم کہ کسی ایک فرد سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو تو اس کا الزام پوری قوم پر لگانا جائز نہیں۔ کسی کی دل آزاری مقصد نہیں ہے یہاں لیکن مثال کے طور پر قوموں کو ان کے پیشوں سے یا ان کی بہادری کی وجہ سے یا ان کی کسی کمزوری کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ جہاں مثبت رنگ میں کسی کا ذکر ہوتا ہے تو وہ لوگ اپنی اس سٹیریو ٹائپنگ کو مائنڈ نہیں کرتے ہیں لیکن جہاں منفی انداز آ جاتا ہے وہاں دل آزاری ہو جاتی ہے۔
جیسے کہ اگر کسی قوم کی بہادری کے متعلق بات کی جائے تو لوگ بہت فخر محسوس کرتے ہیں، جیسے راجپوت، مغل، بھٹی اپنے اس خون پر فخر کرتے ہیں، لیکن اگر کسی کو میراثی یا بھانڈ کہہ دیا جائے تو لوگ فوراً لڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں کہ تم نے ہم کو میراثی کہا ہے۔ یہ تو ایک ماحول کا اثر ہوتا ہے، کہ اگر اپ کے گھر میں ہر وقت موسیقی بج رہی ہو تو اپ کا رجحان بھی موسیقی کی طرف ہی جائے گا۔ اور اگر کسی بچے کو شروع سے ہی تلوار پکڑا کر اور سینہ زوری کی تعلیم دی جائے تو لازمی بات ہے بہادری اس کی سرشت میں سما جائے گی۔ اسی ماحول کا اثر آبائی پیشوں والوں کے گھروں میں بھی ہوتا ہے، یعنی کہ نائی، تیلی، قصاب، موچی، لوہار، ترکھان، رنگ ریز وغیرہ۔ جو بچے جس ماحول کو دیکھیں گے اسی میں سما جائیں گے۔
ایک نفسیاتی ماہر لنکاسٹر اپنی ایک ریسرچ میں بیان کرتا ہے کہ
”تمام دقیانوسی تصورات میں سچائی کا ایک دانہ کہیں نہ کہیں سرایت کرتا ہے، جس میں ایک شخص عام طور پر اپنے تجربے سے ایک یا زیادہ مثالوں کے بارے میں سوچ سکتا ہے جو دقیانوسی تصورات کے مطابق ہوتی ہیں۔ ایک بار جب کسی کو دقیانوسی تصورات سے آگاہ کر دیا جاتا ہے، تو وہ دقیانوسی تصور کے مطابق ہونے والی مزید مثالوں کی تلاش میں رہیں گے، جو دقیانوسی تصور کی سچائی پر یقین کو تقویت دیتے ہیں، (بین پہلو 18 جنوری ) 2018
ایک نیا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ دقیانوسی تصورات جو معاشرے اور ماحول کی وجہ سے ہمارے دلوں اور دماغوں میں سماعت کر چکے ہوتے ہیں ان کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دقیانوسی تصورات ہمارے ذہنوں میں خود کو برقرار رکھتے ہیں، استعمال کے ساتھ مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ ”دقیانوسی تصورات کے ساتھ دوسرے لوگوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے ہوئے دنیا میں جانا ہم نے سیکھا ہے۔ ذہنی مشق کی ایک اور شکل ہے، مزید مشق کے ساتھ، یہ مفروضے وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ ہمارے پاس ان کی پشت پناہی کرنے کا کوئی حقیقی ثبوت نہیں ہے۔ (وسکونسن دسمبر 2022
1995 میں اسٹینفورڈ کے دو ماہر نفسیات کلاڈ اسٹیل اور جوشوا آرونسن نے یہ دریافت کرنے کے لیے ایک مطالعہ کیا کے کیوں، اوسطاً، افریقی امریکی کالج کے طلباء نے ٹیسٹوں کی بنیاد پر ، تعلیمی لحاظ سے اسی طرح کے قابل ہونے کے باوجود، سفید فام امریکی کالج کے طالب علموں سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کیا؟ انہوں نے انڈر گریڈ طلباء کے دو گروپوں (ایک سیاہ فام، ایک سفید) کو ایک ہی GRE ٹیسٹ سیکشن کا انتظام کیا جن کے تمام SAT سکور زیادہ تر ایک جیسے تھے۔
جب گروپوں کو بتایا گیا کہ امتحان نے نہیں دانشورانہ صلاحیت کی جانچ کی جائے گی اور صرف مسئلہ حل کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ افریقی امریکی طلباء نے سفید فام طلباء سے ساتھ ساتھ مقابلہ کیا، لیکن جب طلباء کو بتایا گیا کہ امتحان میں قابلیت کا تجربہ کیا جائے گا تو افریقی امریکی طلباء نے نمایاں طور پر خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس مقابلے میں جب بتایا گیا کہ قابلیت کی جانچ کی گئی تو سفید فام طلباء سے نمایاں طور پر بد تر لیکن سفید فام طلباء کے ٹیسٹ کے نتائج میں کوئی یکساں فرق نہیں تھا۔
اسٹیل اور آرونسن نے نظریہ بنایا کہ جب کوئی شخص کسی ایسے سماجی گروپ کا حصہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک وسیع یا تاریخی طور پر وابستہ منفی دقیانوسی تصورات منسلک ہوتے ہیں تو جب کسی ایسے امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو منفی امیج کی ”تصدیق“ کر سکتا ہے، تو وہ شخص اس سے زیادہ کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ ہم سب کا تعلق کسی نہ کسی سماجی ذیلی سیٹ سے ہے (بزرگ، نوجوان، مذہبی وابستگی، جنس، شادی شدہ، اکیلا، سیاسی رجحان، تقریر یا لہجہ۔ فہرست لامتناہی ہے ) جس میں کچھ منسلک منفی دقیانوسی تصورات ہیں، دقیانوسی خطرہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو دقیانوسی تصورات سے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ جب ہمیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ خاص طور پر نوجوان۔ واقعی قابل ہو۔ (جوئل پیٹرسن 8 نومبر 2017 )
جو کچھ ہمارے شعور میں داخل ہوتا ہے، یقیناً، ہمارے اردگرد کی ثقافت سے آتا ہے۔ اور ثقافت کی طرح ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ذہن نسل، جنس، طبقے کے موضوعات پر بٹے ہوئے ہیں۔ جنسی رجحان۔ ڈوویڈیو کا کہنا ہے کہ ”ہم نہ صرف معاشرے میں پائے جانے والے ابہام کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ بالکل اسی طرح اس کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔“ ہمارا معاشرہ انصاف، مساوات اور مساوات کے بارے میں اونچی آواز میں بات کرتا ہے، اور زیادہ تر امریکی ان اقدار کو اپنی مانتے ہیں۔
ایک ہی وقت میں، اس طرح کی مساوات صرف ایک آئیڈیل کے طور پر موجود ہیں، اور یہ حقیقت ہمارے لاشعور پر گم نہیں ہوتی۔ چھ بجے کی خبروں پر خواتین کی جنسی اشیاء کے طور پر تصاویر، افریقی امریکی مجرموں کی فوٹیج، ۔ ”یہ وہ علم ہے جس سے ہم بچ نہیں سکتے،“ ہم نے اسے جاننے کا انتخاب نہیں کیا، لیکن یہ اب بھی ہمارے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ ” (اینی مرفی پال نے 1 مئی 1998 کو شائع کیا)
یہ ساری تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ماحول کا بہت اثر ہوتا ہے جانتے ہوئے بھی اور انجان میں بھی یعنی شعوری بھی اور لاشعوری بھی۔ اس میں آپ کے خون اور ذات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آپ فوج کی ہی مثال لے لیں۔ فوج میں بھرتی اپ کی جسمانی صلاحیت کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ آپ کے خون کی وجہ سے، کہ اپ کے اندر جنگجوؤں کا خون ہے تو اپ کے لیے فوج ہی بہتر ہوگی۔ فوج جنگجو پناہ آپ کے اندر خود بھرتی ہے اور اپ کو اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔
ایک فوجی کو کہا جاتا ہے کہ سیدھا سینہ اور چھاتی باہر نکال کر اور گردن کو اونچی کر کہ کھڑا ہو، جو ایک بہادری کی علامت انسان کے اندر پیدا کرتی ہے۔ فوجی کو کہا جاتا ہے کہ وہ زور زور سے گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز نکالے تاکہ اپنے اندر کی وحشیت باہر نکال سکے۔ اور جب فوجی اس ماحول میں ہوتے ہیں تو خوب بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ قرآن بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مومن جب دشمنوں سے لڑتے ہیں تو بہت سخت ہوتے ہیں مگر جب وہ آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو ان کا دل بہت ہی نرم ہو جاتا ہے۔ پس موقع محل پر ہر چیز جائز ہوتی ہے، غصے کے وقت غصہ بھی دکھانا پڑتا ہے اور پیار کے وقت پیار بھی دکھانا پڑتا ہے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ۔
امریکہ میں ایک فلم جس کا نام ”ٹریڈنگ پلیسزتھا بنائی گئی، جو کچھ اسی طرز کی تھی، اس میں دو بہت ہی امیر انسانوں کی بحث چھڑ جاتی ہے، ایک کہتا ہے کہ اچھی نسل اور خاندان کہ لوگ ہی اچھے ہوتے ہیں اور ماحول کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور دوسرے کا دعوی تھا کہ نہیں انسان کے ماحول کا بہت اثر ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں شرطیہ طور پر ثبوت سے ثابت کر سکتا ہوں۔ بہرحال دونوں میں شرط لگ جاتی ہے اور وہ اپنی ہی کمپنی کے ایک افسر پر چوری کا الزام لگا کر اپنی فرم سے باہر نکال دیتے ہیں اور اس کو سڑکوں پر رلوا دیتے ہیں اور ایک خانہ بدوش سیاہ فام کو اس کی جگہ لے آتے ہیں۔ وہ شخص جو سڑکوں پر زندگی بسر کر رہا تھا افسر کا رتبہ پا کر بڑا حیران ہوتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصے میں بہت اچھی طرح اس افسری کا کام نبھانا شروع کر دیتا ہے۔
بہرحال قرآن اس مسئلے کا حل بتاتا ہے اور اور اسی پر میں اپنا مضمون ختم کرتا ہوں، خدا تعالی قرآن میں فرماتا ہے ”لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے“
اسلامی اخوت کے موضوع سے زیر تبصرہ آیت میں، انسان کے ایک ہمہ گیر، ہمہ جہت بھائی چارے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ آیت درحقیقت انسانی بھائی چارے اور مساوات کا میگنا کارٹا تشکیل دیتی ہے۔ اس نے نسلی تکبر یا قومی غرور سے جنم لینے والے برتری کے جھوٹے اور احمقانہ تصورات پر مضبوطی سے کلہاڑی چلائی ہے۔ تمام مرد ”ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیے گئے“ انسان کے طور پر خدا کی نظر میں برابر قرار دیے گئے ہیں۔ انسان کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کی جلد کے روغن، اس کے پاس موجود دولت کی مقدار یا اس کے مرتبے یا سماجی حیثیت، یا نسب سے نہیں بلکہ اس کی اخلاقی عظمت اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے طریقے سے ہے۔ خدا اور انسان۔ پوری نسل انسانی صرف ایک خاندان ہے۔ قبیلوں، قوموں اور نسلوں میں تقسیم کا مقصد انہیں ایک دوسرے کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے کی قومی خصوصیات اور خوبیوں سے مستفید ہو سکیں۔ اسلام کے نزدیک یہی انسان عظمت کا معیار ہے اور یہی واحد حقیقی اور حقیقی معیار ہے۔
اس آیت میں انسان کے بھائی چارے کو اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل مکہ میں آخری حج کے موقع پر اپنے منفرد انداز میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”اے لوگو! تمہارا معبود ایک ہے اور تمہارے آباء و اجداد ایک ہیں، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر ، ایک سفید فام کو سرخ پریا سرخ کو سفید پر کوئی افضل نہیں، لیکن صرف اس حد تک کہ وہ خدا اور انسان کا فرض کیسے ادا کرتا ہے خدا کی نظر میں سب سے زیادہ صالح وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ (بیہقی) ۔ الوداعی حج کے دوران نبی کریم ﷺ کی طرف سے کہے گئے یہ عمدہ الفاظ جو صدیوں سے گونج رہے ہیں اسلام کے بلند ترین نظریات اور مضبوط ترین اصولوں میں سے ایک ہیں۔ اس کا سہرا حضور ﷺ کے سر جاتا ہے کہ طبقاتی تفریق کے شکار معاشرے میں آپ نے شدید جمہوری پیغام کی تبلیغ کی۔ (تفسیر القرآن)


