خوارِ مونیکا سے خاور مانیکا کا سفر


عرض مصنف: آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ نہ میرا تعلق مسئلہ مذکورہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے سے ہے اور نہ ان کے مخالفین سے۔ اس لئے جو کچھ پڑھیں وہ محض تصویر کا ایسا رخ ہے جو لکھنے والے کی نگاہ اور واجبی علمی بصیرت کا شاخسانہ ہے۔

موضوع تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ امریکی صدر تھے بِل کلنٹن۔ وہی بقول منجھلے شریف جنہوں نے مئی 1998 ء میں اُن کو ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر کئی ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی (لیکن حصے میں چند عرب آئے وہ بھی سمدھیانے میں ) ۔ اب کلنٹن کی وجہ شہرت ان کی بیوی ہیلری کلنٹن بھی ہیں جو امریکی صدر بنتے بنتے رہ گئی تھیں۔ امریکہ میں تمام اہم سرکاری اداروں میں طالب علموں کو بحیثیت انٹرن کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس میں امریکی صدر کا دفتر وائٹ ہاؤس بھی شامل ہے۔ 22 سالہ مونیکا لیونسکی، ایک خوبرو چلبلی یہودی لڑکی تھی، جس کو جولائی 1995 ء میں وہائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف لیون پنیٹا کے دفتر میں بلا معاوضہ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس نے اتنا ”اچھا“ کام کیا کہ اسے وہائٹ ہاؤس میں ہی صدر کے قانونی معاونت کے دفتر میں تنخواہ پر دسمبر 95 ء میں مستقل نوکری مل گئی۔ یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ نومبر 95 ء میں ہی صدر کلنٹن سے اس کے راز ون یاز شروع ہو گئے تھے۔

بقول مونیکا مارچ 97 ء تک اس کے صدر کے ساتھ کم ازکم نو مرتبہ دفتر میں ہی پیچ لڑے۔ بل کلنٹن مونیکا پر پہلے تو کم خوار تھے میڈیا میں یہ راز و نیاز افشاء ہونے کے بعد مزید خوار ہوئے۔ اور نوبت ان کی صدارت سے برطرفی تک آن پہنچی۔ کلنٹن نے بہرحال ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی کانگریس، قوم اور سب سے بڑھ کر اپنی بیوی سے معافی مانگی۔ اور پھر اس کی چٹپٹی کہانی سن کر سب ہنسی خوش رہنے لگے۔ مونیکا کے چکر میں کلنٹن تو خوار ہوئے مگر مونیکا نے نہ صرف مشہوری کمائی بلکہ اپنی کتھا سنانے اور محنت کا میڈیا سے معاوضہ بھی وصول کیا۔

دیکھا جائے تو خوارِ مونیکا میں پھر بھی سچ اور اعلی ظرفی نظر آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں خاور مانیکا کے انٹرویو اور اپنی سابقہ بیوی پر کیے گئے دعوی پر مجھے صرف دکھ ہوتا ہے۔ یہ ہماری بیوروکریسی کا معیار ہے جہاں اس ذہنیت کا کا شخص 21 گریڈ تک پہنچ گیا۔ ایک ایسا افسر جو نہ پاکستانی قوانین کو جانتا ہے اور نہ بابا فرید گنج شکرؒ کے روحانی سلسلے سے تعلق رکھنے کے دعوے کی رو سے اسلامی تعلیمات کو ۔ میں بابا فریدؒ کی ساتھ اپنی عقیدت کے پیش نظر اِس نمونے کے نام کے ساتھ اُن کا نام استعمال نہیں کروں گا۔

مجھے سب سے پہلے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک مردانہ پِیر کے ساتھ، جوان یا بوڑھی عورت تنہائی میں ملاقات کرے تو کوئی اسلام خطرے میں نہیں پڑتا۔ یعنی پیر خاور مانیکا سے ساٹھ سالہ عورت یا 18 سالہ لڑکی دَم کروانے پہنچے تو کوئی بات نہیں۔ نامحرم مرد کسی غیر محرم شادی شدہ عورت سے تنہائی یا فون پر گپیں لگا لے تو مرد کا کارنامہ کہلائے (کیونکہ اس نے عقد ثانی، عقد ثلاثہ اور عقد اربع کرنا ہوتا ہے ) لیکن عورت نامحرم مرد سے بات کر لے تو استغفراللہ۔ بالفرض ایک مسلمان شادی شدہ خاتون ڈاکٹر ہیں۔ کیا ان سے تنہائی میں ان کا مریض ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا ان پر زوم یا فون پر مرد مریض یا اس کی بیوی کی صحت کے بارے میں طویل گفتگو کرنے پر پابندی ہوگی۔ کیا اگر ایک خاتون وکیل کا شوہر مانیکا جیسا مرد ہو تو کیا اس پر ممانعت ہوگی کہ نا وہ اپنے دفتر میں کسی موکل سے تنہا ملاقات کرے اور نا وہ موکل اس کے گھر آئے۔ اسلام تو کہتا ہے، جب تنہائی میں ایک مرد اور ایک عورت اکیلے ہوں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے۔ لیکن یہ پاکستانی مردوں کا عجیب اسلام ہے جو مرد کی تنہائی پر معترض نہیں ہوتا، لیکن بیوی، بیٹی، بہن اگر کسی نامحرم سے مل لے تو خطرے میں آ جاتا ہے۔

طلاق اور خلع کوئی انہونی بات نہیں ہے اور دور نبوی ﷺ میں بھی سینکڑوں طلاقیں اور خلع کے فیصلے ہوئے۔ اسلام شادی کے وقت بھی عورت کی رضامندی کی تاکید کرتا ہے اور اگر وہ شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس کی بھی اجازت دیتا ہے۔ مانیکا جیسے لوگ بظاہر یہ تصور کرلیتے ہیں کہ شادی کرنے کا مطلب ہے کہ بیوی شاید ان کی کنیز یا باندی بن گئی ہے۔

اسلام کی طلاق اور خلع کے اصولوں میں زبردست حکمت موجود ہے۔ چونکہ اسلام میں گھر کا خرچ چلانے کی بنیادی ذمہ داری مرد کی ہے اس لیے اس کی طرف سے کی گئی علیحدگی یا طلاق میں واپسی کا راستہ رکھا گیا ہے کہ وہ ایک ایک کر کے تین دفعہ طلاق دے۔ احساس ہو کہ غلطی پر ہے تو بیوی سے رجوع کر کے پھر زندگی گزار لے۔ لیکن بیوی کو جو حق خلع حاصل ہے اس میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ جب عورت خلع مانگ کر طلاق لے یا دونوں باہمی رضامندی سے نکاح ختم کریں تو طلاق کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ خاور مانیکا کے 2018 ء میں دیے گئے انٹرویوز اُنکے اِن الزامات سے یکسر مختلف ہیں جو وہ آج لگا رہے ہیں۔

مانیکا صاحب اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لئے ایک بنیادی بات پھر لکھ رہا ہوں۔ اگر مرد بیوی کو ایک طلاق دے، جو پاک حالت میں دینی ضروری ہے، تو تین مہینے بعد دوسری یا تیسری طلاق دیے بغیر بھی طلاق مکمل ہوجاتی ہے۔ لیکن پہلی طلاق کے بعد بیوی کو (نئے پیریڈز آنے سے پہلے ) شوہر، بیوی سے رجوع کر لے تو یہ تعلقات نارمل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر پیریڈز آ گئے تو دوسری طلاق خودبخود موثر ہوجاتی ہے۔ اور یوں دو مہینے گزرنے سے پہلے اب اگر شوہر بیوی کے ساتھ تعلق کو رکھنا چاہتا ہے تو اسے بیوی سے دوبارہ نکاح نئے مہر اور نئے شرائط کے ساتھ کرنا ہو گا۔ لیکن اگر دو پیریڈز گزر گئے اور تیسرا مہینہ شروع ہو گیا تو تیسری طلاق بھی خودبخود موثر ہوجاتی ہے۔ جس کے بعد عورت کو صرف اگلے پیریڈ تک عدت گزارنی ہوتی ہے۔ اور مرد کے پاس اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

پاکستان میں شرعی طلاق اور قانونی طلاق کی پیچیدگیاں بدستور موجود ہیں۔ مجھے نہیں علم کے مانیکا نے طلاق یا خلع شرعی طریقے سے دی یا ایویں کسی پچاس روپے والے سرکاری اسٹامپ پر ۔ خود ان کے موجودہ انٹرویو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے بیوی کے کہنے پر طلاق دی ہے جو خلع ہی کہلاتی ہے۔ جب وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ان کی بیوی کی سہیلی نے انہیں بیوی کی طرف سے خلع کا کہا۔ اور جب انہوں نے بیوی سے پوچھا اور وہ چپ رہی تو اس کا مطلب ”ہاں“ ہی لیا جائے گا۔ اور ان کی طرف سے دی گئی طلاق خلع ہی ہے۔ جس کے بعد خاتون کو شوہر سے ایک سے دو پیریڈز آنے تک دور رہنا چاہیے۔ متعدد علماء خلع کی صورت میں عورت کو اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ شوہر سے پچھلے تین پیریڈز سے ملی ہی نہیں یا اس کے امید سے ہونے کے کوئی امکان نہیں تو بعض ایک اور بعض حجت کے لئے دو پیریڈز انتظار کا کہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص اعلی تعلیم کے لئے امریکہ جاتا ہے اور وہاں سے دو سال بعد بیوی کو طلاق بھیج دیتا ہے۔ تو کیا عورت ایسی صورت میں بدستور تین مہینے انتظار کرے؟ جو محض زیادتی ہے۔ البتہ بیوگی کی صورت میں چونکہ اس کو شوہر کے ترکہ سے حصہ بھی ملنا ہے اور شوہر کا سوگ بھی منانا ہوتا ہے۔ اِس لئے ( 130 ) دن کی عدت ہر حال میں لازمی ہے۔ اس میں حاملہ ہونے کے امکانات سے زیادہ حالت سوگ کا منانا زیادہ شامل ہے۔ یاد رہے بیوگی کی عدت صرف حاملہ ہونے کے امکان کے لئے نہیں بلکہ شوہر کے سوگ سے بھی متعلق ہے۔ اس لئے 80 سالہ بیوہ بھی بیوگی کی عدت گزارتی ہے۔

14 نومبر 2017 ء کو جب مانیکا صاحب نے بقول ان کے طلاق کے کاغذ، خاتون کو بھجوائے اس وقت ان کے ذہن میں تھا کہ وہ تین مہینے یعنی فروری میں رجوع کر لیں گے۔ لگتا ہے ان کی اسلامی فہم گھاس کھانے گئی تھی۔ اوّل تو شرعی خلع میں رجوع نہیں ہوتا اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں خلع نہیں طلاق ہوئی تو ایک مہینے کے اندر شوہر کو بیوی سے رجوع کرنا ہوتا ہے یعنی 14 دسمبر 2017 ء تک۔ اِس دوران انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی بلکہ خود ان کا بیان ہے کہ میں تو فروری کی نیت رکھتا تھا۔ 14 دسمبر 17 ء کے بعد ، 14 جنوری 18 ء تک اب ان کے پاس شادی بچانے کا ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرتے۔ جبکہ یہ تو فروری کا انتظار کر رہے تھے! اس فروری میں ہونے والے متوقع نکاح کی بھی عجیب کہانی ہے، اگر وہ کرتے۔ اِس میں بشری ریاض وٹو ان کی کنیز یا باندی نہیں تھیں کہ یہ طلاق کے بعد دوبارہ اُن سے نکاح کا کہتے اور وہ میرے سرتاج میں واری کہہ کر نکاح کر لیتیں۔ اِس لئے ان کا یہ کہنا کہ میں فروری 18 ء میں نکاح کرنے کی سوچ رہا تھا۔ تو خوار صاحب، 14 جنوری کے بعد یعنی فروری میں تو صرف حلالہ ہی ممکن تھا۔

یہ تو تھی شرعی طلاق یا خلع کا معاملہ جہاں تک قانونی طلاق یا خلع کا سوال ہے۔ جب شوہر طلاق کا فیصلہ کر لے تو اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ متعلقہ یونین کونسل کو ایک درخواست دے گا کہ میں اپنی بیوی جو فلاں پتے پر رہتی ہے اسے طلاق دے رہا ہوں وغیرہ۔ یونین کونسل خود اس پتے پر رجسٹرڈ خط بھیج کر عورت کو آگاہ کرے گا۔ اگر شوہر خود بیوی کو بتانا چاہے تو لازماً یا تو اس کے ہاتھ میں کاغذ دے کر رسید لے گا یا اس کے بھائی والد یا کسی دوسرے محرم مرد کے حوالے کرے گا۔ مجھے نہیں پتہ مانیکا صاحب نے جو کاغذ دیے وہ یونین کونسل کی طلاق تھی یا کچھ اور۔ دونوں صورتوں میں سابقہ بیوی کی سہیلی کو کاغذات دے کر وہ قانوناً ایک اور جرم کرچکے ہیں۔ جس کی قانون میں سزا بھی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یونین کونسل کا یا کوئی بھی تحریری طلاق نامہ تین مہینے بعد ہی دیا جاتا ہے (ہر جاء اس میں درج ہو کہ یہ پہلی طلاق ہے ) ۔ تو 14 نومبر 17 ء کو ان کی طرف سے بیوی کو دیا گیا کاغذ پکی طلاق کہلائے گا۔ جس کے بعد نکاح کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدت کے دورانیہ پر آپ اعتراض کر سکتے ہیں تو اس کے لئے اطلاعاً عرض ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عدت صرف ایک پیریڈز ہی رہ جاتی ہے، تین پیریڈز نہیں۔ تین مہینے کی اصطلاح اس لیے مشہور ہے کہ اگر کوئی اکٹھی تین طلاق دے تو تین مہینے کی عدت ہوتی ہے۔

جہاں تک ان کے اپنی بیوی پر لگائے گئے زناکاری کے الزامات ہیں۔ مجھے سوائے افسوس اور ملامت کے کچھ نہیں۔ یہ گھر گئے تو فلاں صاحب بیڈروم میں اکیلے پائے گئے تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ممکن ہے مہمان بیڈروم کے غسل خانے میں وضو کرنے گیا ہو؟ ظاہر ہے آپ کی بیوی تو وہاں موجود نہیں تھی۔

ناجائز تعلقات کے شبہے پر مرد اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو دے لے لیکن اس پر زنا کا الزام نہیں دھر سکتا۔ زنا اتنا بڑا، بُرا اور بھیانک الزام ہے جس کے لئے خود اسلام بھی کم از کم چار گواہوں کا مطالبہ کرتا ہے جو اس بات کا دعوی کریں کہ ہاں ہم نے یہ گناہ ”پایہ تکمیل تک پاتے“ دیکھا ہے! ، یا مرد و عورت، خود چار مرتبہ اس گناہ کا اقرار کریں اور اس پر مصر رہیں۔ غیر شادی شدہ عورت حاملہ ہو جائے۔ اِس صورت میں بھی اگر وہ بیوہ یا مطلقہ رہی ہو تو اسلام اس کو دو سال تک حاملہ ہونے کی چھوٹ دیتا ہے۔ تو خوار مانیکا صاحب آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟ عمران خان اور آپ کی سابقہ بیوی دونوں کا کہنا ہے کہ وہ خاتون کبھی کھلے چہرے بھی، خان کے سامنے نہیں آئی۔ خود آپ نے کبھی دیکھا نہیں۔ واحد گواہ آپ کے پاس گھر کا ملازم لطیف ہے! وہ اگر یہ کہہ دے کہ اس نے دونوں کو حرام کاری کرتے دیکھا تھا تب بھی زنا کی حد تو ان دونوں پر لگ نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے تین اور گواہ درکار ہوں گے۔ اور ایسی عورت کو آپ دوبارہ اپنے نکاح میں کیوں رکھنا چاہتے تھے۔ آپ کی بیوی سنگسار ہو نہ ہو مجھ جیسوں کے لئے بلا ثبوت ایسے گھٹیا الزام لگا کر آپ قابل سنگسار ضرور ہو گئے ہیں۔

مانیکا جیسے افراد کے لئے یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ جس خاتون پر زناکاری اور بدکاری کا الزام لگا رہے ہیں وہ اب کسی کی بیوی بعد میں ہے۔ آپ کی تین بیٹیوں کی ماں پہلے ہے۔ آپ ان بچیوں کی موجودہ اور مستقبل کے سسرالیوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ میری بیٹیوں میں ایسی عورت کا خون دوڑ رہا ہے!

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ ویسے بھی فیصلہ دے چکی ہے کہ دوران عدت نکاح قانونی ہوتا ہے۔ اور مزید یہ کہ عدت میں نکاح کا مسئلہ آپ 14 جنوری 18 ء تک تو اٹھا سکتے تھے۔ اب آپ ہوں، قاری حنیف، مفتی سعید یا ”میں“ ، ہم سب کی شرعی حیثیت ایک ہی ہے، یعنی نامحرم۔ البتہ چونکہ یہ مقدمہ دوسری مرتبہ کسی عدالت میں لگ رہا ہے تو وہ صاحب جو خود کو مفتی قرار دیتے ہیں یعنی مفتی سعید، عدالت کو چاہیے ان کا نکاح رجسٹرار ہونا کینسل کرے کیونکہ پہلے نکاح کے وقت ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تصدیق کرتے کہ جس سے شادی ہو رہی ہے وہ بالغ عورت ہی ہے کوئی نابالغ بچی تو نہیں۔ اس کے پاس شناختی کارڈ ہے کہ نہیں۔ مسلمان ہے، قادیانی ہے یا ہندو۔ مطلقہ یا بیوہ ہے تو پچھلے خاوند کے انتقال یا طلاق نامہ کی تصدیق شدہ کاپی نکاح نامے سے منسلک کرتے۔ وہ یہ کہہ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے کہ میں نے کسی سے پوچھا تھا۔ مفتی اور نکاح خواں آپ ہیں یا کوئی دوسرا؟ اگر انہوں نے کہا کہ سارے شرعی تقاضے پورے ہیں تو ممکن ہے ان کے مسلک میں پورے ہوں۔ اسی طرح وہ اپنے آپ کو مفتی کہتے ہیں کیا ان کے علم میں نہیں کہ دوران عدت نکاح اگر کر لیا جائے تو دوران عدت پچھلے شوہر کے چیلنج کرنے پر عدت کا دورانیہ بڑھ کر چھ پیریڈز ہوجاتا ہے؟ تو کیوں انہوں نے پچھلی عدت کی خلاف ورزی پر چھ پیریڈز کا انتظار کیے بغیر دوبارہ نکاح پڑھا دیا۔ عائلی اور صوبہ پنجاب کے قوانین کے مطابق سے تو انہوں نے متعدد جرم کیے ہیں۔ میری ان کو فتاوی کی ڈگری جاری کرنے والوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ ان کے مفتی ہونے کو دوبارہ چیک کر لیں!

باقی اگست 2018 ء میں ایک خبر متعدد ٹی وی چینلوں پر چلی تھی کہ خاور مانیکا صاحب نے اپنے سے تیس 35 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرلی (جس کی تردید میری نظر سے نہیں گزری) ۔ اگر وہ خبر درست تھی تو اس شادی کے نکاح نامے کو بھی دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ اُس میں انہوں نے اپنی ازدواجی حیثیت کیا لکھی تھی؟ (اگر خبر درست تھی) ۔

نوٹ: اس مضمون کے جواب میں مفتی حضرات یا وکلا کسی اسلامی یا قانونی نکتے کی وضاحت کرنا چاہتے ہوں، تو ہم سب کے صفحات ان کے لیے حاضر ہیں : مدیر


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments