بلال پاشا۔ ایک عہد جو تمام ہوا!


میرے ذہن میں اس وقت دو کہانیاں، اور دو کردار، تکرار میں مصروف ہیں، اور میں گتھی سلجھانے میں غلطاں ہوں۔ میرے ذہن کے پردے پہ دو مختلف انسانوں کی زندگی کسی فلم کی طرح چل رہی ہے، ایک وہ کہ جس نے ہار مان لی، دوسرا وہ جس نے سب کچھ جیت کر زندگی ہار دی۔ آج کی تحریر میرے لیے تکلیف دہ ہے، الفاظ کا چناؤ بہت مشکل ہے اور خیالات کا بہاؤ ناقابل بیاں ہے۔

خیر شروع کرتے ہیں پہلی کہانی سے، ناکام کہانی سے، دو ہزار اٹھارہ میں مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد سے میرا تعلق درس و تدریس سے رہا ہے، مختلف اکیڈمیز میں مینٹورشپ کے نام پہ میں نے بھی لوگوں کو خواب بیچے ہیں، میں نے بھی لوگوں کی آنکھوں میں نیلی بتی، سبز پلیٹ کے حصول کے دیے جگمگائے ہیں، خیر میں بھی تدریس کے نام پہ سجے خوابوں کے بیوپار میں مگن تھی۔ اس اکیڈمی میں ایک کونے میں بیٹھی وہ لڑکی بہت دیر تلک لکھا کرتی، اکثر اپنے لکھے سوال چیک کروانے آتی ( کیونکہ ہم بچوں کو یہی چورن بیچتے ہیں کہ اس امتحان کے لیے روزانہ چھ گھنٹے لکھنے کی عادت ہونی چاہیے ) بہت سلیقے سے دھیمی سی آواز میں مخاطب کرتی وہ بچی، ہمہ وقت خوش لباس رہتی اور ہمیشہ ہر ایک سے کھلکھلا کر ملا کرتی۔

میری اپنے شاگردوں سے ہمیشہ ہی ایک الگ انسیت ہو جایا کرتی ہے، میرا اس لڑکی سے تعلق فقط سوال چیک کرنے تک کا نہ تھا، گو ہم دوست نہیں تھے، لیکن استاد شاگرد سے شاید بڑھ کر تھے، کبھی گزرتے گزرتے میرا اس کے جوتوں کی تعریف کر دینا اور اس کا جھینپ جانا ایک معمول سا تھا، اور پھر ایک روز۔۔۔ وہ بظاہر ہنستی مسکراتی لڑکی ایک کاغذ کا سینہ چیر کر اس میں اپنے تمام درد سمو کر پنکھے سے لٹک گئی!

یہ ایک قیامت تھی جو خاموشی سے گزر گئی، نجانے کتنے روز لگے سب کو نارمل ہونے میں، ہاں لیکن میرے قریبی دوستوں نے ایک دوسرے پہ نظر رکھنا شروع کر دی، ہم سب کسی انہونی کے ڈر سے ایک دوسرے سے جڑے رہنے لگے اور اس نتیجے پہ پہنچے کہ زندگی بہت قیمتی شے ہے اسے کسی مقابلے کے امتحان کے لیے گنوانا نہیں چاہیے۔ ہم سب نے اپنے سے وابستہ لوگوں کو سمجھانا شروع کر دیا، ہم نے اپنے شاگردوں کو پلان بی پہ غور کرنے کا مشورہ دینا شروع کر دیا اور زندگی اپنی ڈگر پہ رواں ہوتی چلی گئی۔

اب آتے ہیں دوسرے کردار کی دوسری کہانی کی طرف۔ اور اس کہانی کا آغاز ہوا دو ہزار اٹھارہ میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے انٹر ویو کی تیاری کے دوران، مجھ سے اگلی قطار میں بیٹھا وہ لڑکا غیر معمولی حد تک زندہ دل تھا، سر فرید کے کہنے پہ بھری کلاس میں گانا سنانے لگ گیا، یوں ہماری ہلکی پھلکی دوستی ہوئی، پھر فائنل رزلٹ کے بعد وہ دوست سے بھائی بن گیا۔ مجھے جہاں دیکھتا بھائی جان کہہ کر مخاطب کرتا۔ اہلبیت سے کوئی خاص لگاؤ تھا، مجھے عراق سے عقیق لانے کی سختی سے تاکید کی، پھر میری لائی انگوٹھی پہن کر قصیدہ پڑھ کر ویڈیو بنا بھیجی۔ کبھی ہم شعر و شاعری پہ بات کرتے، کبھی ہم باقی سب کی چغلیاں کرتے اور کبھی ایک نئی اکیڈمی بنانے کی سکیم تیار کرتے۔ یہ سب قصہ پارینہ ہو گیا، کل اچانک اس نے اس دنیا سے کنارہ کر لیا۔ لوگوں کی کالز اور میسجز کا نہ ختم ہونے والا اک سلسلہ شروع ہو گیا۔

ہم فیس بک پر ایک گروپ میں لوگوں کو مفت تیاری کرواتے تھے، میں نے اسی گروپ میں اس کے لیے ختم قرآن کا آغاز کیا، اور رات تلک میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو چکی تھی کہ ہم یہ سب آخر کیوں کر رہے ہیں؟ ہر دوسرا شخص یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا تھا کہ اسے آخر ہوا کیا؟ جس شخص نے اپنا علم بانٹا اس کو زاد راہ دینے سے زیادہ اہم لوگوں کے لیے یہ جاننا تھا کہ آخر اس کی موت ہوئی کیسے؟ وہ شخص جس نے بیوروکریٹ والے تکبر کو سائیڈ پہ رکھ کے ہر ایک سے ملنساری سے پیش آیا، اب ہر ایک اس کی موت کی مسالے دار خبر میں دلچسپی لے رہا تھا۔ میرے لیے یہ سب تکلیف دہ تھا، کہ یہاں عوام کو صرف تفریح سے سروکار ہے، جس فیس بک پوسٹ پہ ختم قرآن کا آغاز کیا گیا وہاں الحمدللہ تین ختم مکمل ہوئے لیکن جو لوگ وہاں صرف چسکے لینے آئے تھے وہ ایک ایک پارہ بھی پڑھ دیتے تو شاید دس ختم ہو سکتے تھے۔ لوگوں کے ہاتھ بس کہیں سے ایک تحریر لگ گئی کہ کیسے غربت سے نکل کر اس نے سی ایس ایس کیا اور سب حاصل کرنے کے بعد وہ دنیا چھوڑ گیا۔

یہ دو کہانیاں بظاہر مختلف ہیں ایک حصول کی راہ میں مارا گیا دوسرا حاصل کر کے مر گیا۔ تو یہاں سوال میں یہ ہے کہ کیا یہ نوکری یا عہدہ اتنا اہم ہے کہ ہم بوڑھے ماں باپ کی عمر بھر کی محنت مٹی میں رول دیں؟ کیا ہمارے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں بچا؟ کیوں ہم فقط اسی ایک امتحان کے لیے مرے جا رہے ہیں؟

آتے ہیں تحریر کے مقصد کی طرف، میں نے گزشتہ پانچ سالوں میں کم و بیش بیس پچیس ہزار بچوں کو سی ایس ایس کے حوالے سے راہنمائی دی۔ اور میری ہمیشہ سے عادت رہی کہ سلیبس ختم کرنے کے بعد ایک موٹیویشنل تقریر جھاڑ دی۔ ”پہلے آپ یہ سوچ لیں کہ آپ نے سی ایس ایس کرنا ہے یا نہیں کرنا اور اگر کرنا ہے تو لڑ جائیں، مر جائیں، کر جائیں“ یہ جملہ جانے کتنے بیجز کے سامنے دہرایا، جانے کتنے کانوں میں میں نے یہ سیسہ انڈیلا، جانے کتنے پراگندہ ذہنوں میں یہ زہر گھولا۔

میں آج اپنے اس جملے کی بازگشت سے شرمندہ ہوں۔ پیارے بچو اگر یہ تحریر آپ تک پہنچے تو جان لیجیے کہ میں اپنے الفاظ پر شرمندہ ہوں، میرے گروپ کے کسی طالب علم پہ اگر میرے اس جملے کا کوئی اثر ہوا ہے تو میں نادم ہوں۔ یہ امتحان، یہ عہدے، یہ سب اس قابل نہیں کہ اس کی خاطر آپ اپنی بیش بہا زندگی ہار جائیں۔ آپ اپنے لیے پلان بی رکھیے، جیسے میں نے رکھا، اور میں آج دوپہر تک اپنے جرنلزم کے جس فیصلے سے بہت مطمئن تھی، شام میں کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے پاشا کے بارے میں انٹرویو دینے کی آفر پر میں اس فیصلے سے بھی شاید نالاں ہوں۔ کہ اس دنیا میں حساس لوگوں کے لیے جگہ کم ہے۔

جیسے کسی سرکاری ہسپتال کی بوسیدہ عمارت میں غریب کا بیمار نحیف لڑکا ایڑیاں رگڑ رگڑ کے دم توڑتا ہے بالکل اسی طرح میں نے ”احساس“ کو مرتے دیکھا ہے۔

آپ سب سے بس اتنی ہی گزارش ہے کہ زندگی جئیں، اپنے لیے اور اپنوں کے لیے۔ اور اپنے اردگرد چلتے پھرتے ہنستے کھیلتے انسانوں پہ نظر رکھیں خاص کر تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور لوگوں کی غیر معمولی مسکراہٹ کو پرکھ لیں کہ شاید آپ اپنا بھائیوں جیسا کوئی بلال پاشا موت کی آغوش سے بچا پائیں۔

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

Facebook Comments HS

2 thoughts on “بلال پاشا۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

  • 29/11/2023 at 3:58 شام
    Permalink

    Allah pak unko jannat ul firdos ma jaga dy or hum sb ki raahnumayi kry ameen sum ameen

  • 29/11/2023 at 5:16 شام
    Permalink

    Respectable Lady, I am impressed with your followers on Social Media. You must be doing wonders for your disciples. 30k hits in a day on this website. You are doing something

    Keep doing good work and changing the lives of deserving Pakistani young generation

    Regards

Comments are closed.