پاکستان پیپلز پارٹی، امید سحر
سرزمین بلوچستان اپنے قدرتی وسائل، طویل ساحلی پٹی، گیارہ ہزار سالہ پرانی تاریخ و ثقافت، قدرتی معدنیات، رنگ برنگی موسم، دریاؤں، سمندروں، صحراؤں پر مشتمل خطہ پر واقع ہے۔ بلوچستان کے مغرب میں ایران شمال میں افغانستان اور جنوب میں بحریہ عرب واقع ہے۔ سرزمین بلوچستان جو پاکستان کی تقریباً 44 فیصد رقبہ پر مشتمل قدرت کے تمام نعمتوں سے مالامال ایک امیر خطہ ہے۔ جس کی آبادی کم وسائل دوسرے تمام صوبوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
بلوچستان میں معدنی دولت کی فراوانی کا یہ عالم ہے۔ کہ اس سرزمین میں پوشیدہ جملہ خزانوں کے ساتھ ساتھ یورینیم جیسے معدنی خزانے بھی موجود ہیں۔ اس سرزمین کے نیچے سونا، تانبا اور چاندی کے بے شمار خزانے دفن ہیں۔ اور یہاں سے نکلنے والے گیس سے نہ صرف ہمارے ملک کے کارخانے چلتے ہیں۔ بلکہ ملکی ضرورت کے زیادہ تر گیس کا انحصار بھی بلوچستان پر ہوتی ہے۔
بلوچستان میں چین کی مدد سے تیارکردہ گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے عالمی و انقلابی منصوبوں نے بلوچستان کو علاقائی و عالمی تجارت کا مرکز بنا دیا ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت لاکھوں لوگوں کے لیے ملازمتوں اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ بلوچستان کے عوام سیاسی سماجی ثقافتی اور قومی نا برابری ظلم و نا انصافی سے طویل عرصے سے آئینی و قانون حقوق سے محروم ہیں۔ اسی بناء پر بلوچستان کے عوام وفاق پاکستان سے ناراض رہتے ہیں۔
لیکن بلوچستان کے عوام کے دکھ اور یہاں کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلز پانی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو جو 70 کے دہانی میں وزیراعظم بنے تھے۔ تب انہوں نے بلوچستان کے عوام کے مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں کالجز کے قیام، تفتان تا ایران آرسی ڈی شاہراہ، بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کا قیام، بولان میڈیکل کالج، انجینئر نگ یونیورسٹی خضدار، سوئی گیس ایل پی جی پلانٹ کوئٹہ کے قیام، گڈو سے کوئٹہ بجلی کے ٹرانسمیشن لائن کی فراہمی اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو پولیس و دیگر وفاقی محکموں میں ملازمت کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ہر ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھیں جائیں گے۔
ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت وزیراعظم صوبہ بلوچستان کے تمام اضلاع کے دورہ کیا۔ انھوں نے کھلی کچہریوں کا انعقاد کر کے لوگوں کے مسائل کو سننے کے بعد ان کے دہلیز پر مسائل کو حل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔ جملہ مسائل پر عوام کے ساتھ مشاورت کر کے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کیا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد 2008 میں ایک دفعہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت میں وفاق اور بلوچستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوا تو انہوں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کی فلسفہ پر عمل پیرا ہو کر سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کی گئی ناروا سلوک سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، و مقدمات، ظالم، و نا انصافیوں، استحصال پر نہ صرف بلوچستان کے عوام سے معافی مانگا بلکہ بلوچستان میں تمام سیاسی لیڈر شپ پر قائم تمام جھوٹے مقدمات کو نہ صرف ختم کیا۔ بلکہ بات چیت کے ذریعے بلوچستان کے سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق کو 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا۔
این ایف سی ایوارڈ سے بلوچستان کو ملنے والے شیئرز جو 4.5 فیصد تھے اس کو بڑھا کر 9 فیصد کر دیا گیا۔ صوبے کو وسائل فراہم کر کے بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم کیا گیا بلوچستان کے عوام کے ضرورتوں محرومیوں کو مٹانے اور ان کو قومی دھارے میں لانے کے لئے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے زخموں پر مرہم رکھ کر خوشحالی کے سفر کا آغاز کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے گئی عملی اقدامات سے نہ صرف آج بلوچستان کے عوام مطمئن ہیں۔ بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بلوچستان کے عوام دی گئی آئینی تحفظ سے آج بلوچستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت پانچ ہزار سے زائد لوگوں کو روزگار کی فراہمی، بلاجواز چیک پوسٹوں کی خاتمہ، بلوچستان حکومت کے اٹھارہ ارب روپے قرضوں کی ادائیگی، سی پیک جیسے عظیم منصوبے کی بنیاد رکھی۔ ایسے دیگر اقدامات سے بلوچستان کے عوام کے احساس محرومیوں اور مایوسی کا خاتمہ کر کے بلوچستان کے عوام روشن مستقبل کی نوید سنائی دی۔
تاریخ گواہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنے کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ایک نڈر اور باصلاحیت نوجوان کر رہا ہے۔ جس کی رگوں میں قائد عوام شہید جمہوریت اور مرد آہن کی خون دوڑ رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان میں ایک ناقابل شکست قوت بن چکی ہے۔ بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ بن چکا ہے چیرمین بلاول بھٹو اور صدر زرداری بلوچستان پر خصوصی توجہ مرکوز کیے رکھے ہیں۔ بلوچستان کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو امید سحر سمجھتے ہیں۔
اس سال 30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی اپنے 56 ویں سالگرہ شالکوٹ (کوئٹہ) میں منا رہی ہے۔ سالگرہ کا مرکزی پروگرام کوئٹہ میں منعقد کرنے کا مقصد بلوچستان کے ترقی و خوشحالی کے سفر کو وہاں سے شروع کرنا ہے جہاں 2013 کو پیپلز پارٹی کے حکومت ختم ہوا تھا اور بعد کے حکومتوں نے اس ترقی اور خوشحالی کو ادھورا چھوڑا تھا۔ بلوچستان کے ترقی و خوشحالی کا بیڑہ اٹھا کر نوجوان قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 30 نومبر کو بلوچستان تشریف لاکر ایک عظیم الشان جلسہ عام سے تاریخی خطاب کریں گے۔
بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لے کر درپیش بنیادی مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی اور پروگرام دیں گے۔ فروری میں ہونے والے انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی منشور بلوچستان کے عوام سامنے لاکر بلوچستان کے مستقبل کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے اقدامات اور منصوبوں کا بھی اعلان کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی جلسہ عام بلوچستان کے تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو گا۔


