انتخابات ہی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے
یہ پاکستان کی سیاست کا خاصہ رہا ہے کہ جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں اس سے پہلے وہ تمام سیاست دان جو قومی اور صوبائی اسمبلی کا مستقل حصہ رہتے ہیں یا پھر اپنی روایتی سیٹوں پر ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ جنہیں آپ جیتے والے گھوڑے کہہ لیں یا پھر سیاسی زبان میں انہیں الیکٹ ایبل کہا جاتا ہے ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے، ہر جماعت ان الیکٹ ایبل کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔ جس جماعت میں یہ الیکٹ ایبل غول در غول شامل ہو رہے ہوتے ہیں ان کی شمولیت سے باآسانی اندازہ لگا لیا جاسکتا ہے کہ فلاں جماعت وفاق یا صوبے میں حکومت بنائے گی۔
2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف میں شمولیت کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا ہر امیدوار بھاری فیس کے بدلے میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ اس وقت پی ٹی آئی کا ٹکٹ جیت کی علامت بنا ہوا تھا مگر آج صورت حال مکمل تبدیل ہو چکی ہے۔ 9 مئی کے بعد سے جس طرح تحریک انصاف خشک پتوں کی طرح بکھری ہے ایسے دوسری مثال پاکستان میں نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی کی کچھ نمایاں شخصیات جو اب بھی پی ٹی آئی سے امید لگائے بیٹھے تھے انہوں نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو خیر آباد کہتے ہوئے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ پاکستان کے روایتی سیاست دان ہواؤں کا رخ دیکھ کر مضبوط گھونسلے میں پناہ حاصل کر رہا ہے۔
چیئر مین پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لگ یہی رہا ہے کہ انتخابات سے قبل انہیں کسی مقدمے میں سزا سنا دی جائے گی جب کہ دوسری طرف پی ٹی آئی ’بلے‘ کا نشان لینے میں بھی ناکام رہی ہے، ابھی تو پارٹی کے انٹرنل انتخابات کا مرحلہ بھی باقی ہے جس میں فیصلہ ہونا ہے کہ کیا خان صاحب تحریک انصاف کے چیئرمین رہیں گے بھی یا نہیں۔ بقول شاعر
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
جن سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کی اور استحکام پاکستان پارٹی بنائی، ابھی تک وہ بھی عوام میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ استحکام پاکستان کے امیدواروں کے لئے مشکل یہ بھی ہے انہیں ایک جانب اپنی پرانی جماعت کے ناراض ووٹر کا سامنا کرنا ہو گا تو دوسری طرف مسلم لیگ نون کے امیدوار مد مقابل ہوں گے۔ اس صورتحال میں استحکام پاکستان پنجاب میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ چند الیکٹ ایبل جو استحکام پاکستان کا حصہ ہیں ان کی کامیابی یقینی ہے۔
جو لوگ چیئر مین پی ٹی آئی کے خلاف کھڑے ہوئے انہیں اس کا صلہ تو دیا ہی جائے گا۔ آپ ایسے حسن اتفاق کہہ لیں یا منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی۔ 2018 میں چیئرمین پی ٹی آئی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے گیم پلان بنائے جا رہے تھے۔ مسلم لیگ کو شکست دینے کے لئے سر توڑ کوشش کی جا رہی تھی، انتخابی نتائج تبدیل کیے جا رہے تھے۔ آج مسلم لیگ کو کامیاب کرانے اور نواز شریف کے مقدمات کو ختم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ وہ ہی نواز شریف ہیں جنہیں سزا دلانے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے لے کر اس وقت کے اداروں کے سربراہ بھی اس گیم پلان کا حصہ تھے۔
16 ماہ اقتدار میں حصہ دار رہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون پر الزام لگا رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے میں مدد کر رہی ہے۔ نواز شریف کو مقدمات میں ریلیف مل رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے نواز شریف کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”اپنی جماعت پر بھروسا کرو، اپنی جماعت کے ذریعے سیاست کرو، کسی دوسرے ادارے کو نہ کہیں کہ آپ میرے لیے سیاست کریں، آپ میرے لیے جگہ بنائیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی ( باپ) اگر کل بری تھی تو آج بھی بری ہو گی۔”
پیپلز پارٹی کو اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ پنجاب اور بلوچستان ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ نواز شریف کے دورہ بلوچستان کے موقع پر جس طرح بلوچستان کی بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے نواز شریف کی قیادت پر بھروسا کرتے ہوئے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے یا ان کی شمولیت کرائی گئی ہے۔ شمولیت کا سلسلہ سندھ اور خیبر پختون خوا تک پھیل گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد پیپلز پارٹی کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔
پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مل کر انتخابات لڑنے کی حکمت عملی بنا رہی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی انفرادی طور پر انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور ہے، پی پی پی کے مدمقابل پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے بیانات سے لگ یہ رہا ہے کہ انہوں نے پنجاب اور بلوچستان میں انتخابات سے قبل ہی شکست قبول کرلی ہے۔ اب وہ اپنے سیاسی گڑھ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں وہ بلا شریک غیرے پندرہ سال سے حکمران رہی ہے۔ سندھ بھر میں آج بھی ان ہی کا سیٹ اپ موجود ہے۔ چاہیے وہ ڈپٹی کمشنر ہوں، مختیار کا رہوں‘ تپے دار ہوں یا سندھ حکومت کے محکمے۔ پی پی پی اپنے بٹھائے ہوئے سیٹ اپ کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
2016 سے پہلے سندھ کے بڑے شہروں میں متحدہ قومی موومنٹ کا راج ہوا کرتا تھا۔ ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد کے انتخابات میں متواتر کامیابی حاصل کر رہی تھی، کوئی دوسری جماعت اس کے مد مقابل بھی نہیں آتی تھی مگر اب وہ ایم کیو ایم نہیں رہی۔ اپنے قائد، اپنے نظریہ سے علیحدگی اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد یہ ایک نئی ایم کیو ایم ہے۔ 2018 کے انتخابات میں ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی نے الگ الگ حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
ایم کیو ایم ان انتخابات میں بمشکل قومی اسمبلی کی 6 نشستیں حاصل کر سکی تھی۔ اس وقت پی ٹی آئی کو جتوانے کے لئے کراچی کی سیٹیں اس کی گود میں ڈال دی گئی تھی اور آج پی ٹی آئی کو شکست دینے کے لئے یہ سیٹیں ایم کیو ایم کو دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2024 کے انتخابات میں ایم کیو ایم قومی اسمبلی کی کم از کم 15 اور صوبائی اسمبلی کی 35 نشستیں حاصل کر لے گی۔ ایم کیو ایم نے اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے پی ڈی ایم کی جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم نے لاہور میں نواز شریف سے ملاقات بھی کی ہے۔ باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ انتخابات سے قبل ایم کیو ایم اور پی ایم ایل ن کا ملاپ بھی کسی کی خواہش پر ہی ہوا ہے جس کے انتخابات میں مثبت نتائج آئیں گے۔
اندرون سندھ میں آج بھی پیپلز پارٹی کی گرفت کافی مضبوط ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں اپنے میئر لانے کے بعد پیپلز پارٹی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کراچی سے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے گڈاپ، کیماڑی، بن قاسم، ملیر اور لیاری کی حلقہ بندیوں میں تبدیلیاں کر کے یہاں سے اپنی کامیابی کو یقینی بنالیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عاصم اور مسرور احسن ڈسٹرکٹ سنٹرل میں کافی عرصے سے قدم جمائے ہوئے ہیں لیکن حال ہی میں ایم کیو ایم کے چند رہنماؤں نے ایم کیو ایم کو خیرباد کہتے ہوئے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ جس کے بعد ڈسٹرکٹ سنٹرل میں صورت حال کافی دل چسپ ہو گئی ہے۔ خواجہ سہیل اور مزمل قریشی، ممبر قومی اسمبلی رہے ہیں جب کہ وسیم قریشی تین بار صوبائی رکن رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ذمہ داروں نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایم کیو ایم نے اپنے ممبر اسمبلی اور کارکنوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی بدلنے والوں کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت مہم چلائی جا رہی ہے۔
جواب میں سعید غنی کی سربراہی میں ایک پریس کانفرنس بھی ہوئی ہے جس میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ایم کیو ایم کے سابقہ عہدیداران اور ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر بھی شامل تھے جنہوں نے ایم کیو ایم کے قائد ین کو پیپلز پارٹی کے پلٹ فارم سے جواب دیا ہے۔ الگ یہ رہا ہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان لفظی جنگ میں مزید اضافہ ہو گا۔
ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی کے دھڑوں کے انضمام کے بعد پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ ان انتخابات میں کتنی کامیابی حاصل کرتی ہے اس کا دارومدار موجودہ ایم کیو ایم کے ”تین بڑوں“ کے فیصلوں پر انحصار ہو گا کہ وہ پارٹی ٹکٹ کس اصول، معیار اور کارکردگی کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ کلفٹن، صدر، جمشید ٹاؤن، پی ای ایس ایچ سوسائٹی، گلشن اقبال اور گلستان جوہر کی نشستوں پر پہلے بھی سخت مقابلہ رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہاں سے کامیابی حاصل کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہیں ہو گا۔ ایم کیو ایم کا ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی خواہش ہے کہ انہیں لیاقت آباد، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل، اورنگی ٹاؤن کا ٹکٹ مل جائے۔ 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے ان ہی علاقوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ٹکٹوں کی تقسیم بھی ایک اہم مرحلہ ہے جسے ایم کیو ایم نے طے کرنا ہے۔ اس کے بعد صورت حال واضح ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی بہت منصوبہ بندی کے ساتھ ایم کیو ایم کے گڑھ میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، کہا جا رہے کہ آنے والے وقت میں ایم کیو ایم کے کچھ سابقہ ممبر قومی و صوبائی اسمبلی پی پی پی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سیاست ہے اور سیاست میں میں سب جائز سمجھا جاتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد اب قومی و صوبائی اسمبلی کے نتائج ہی ایم کیو ایم کے مستقبل اور کراچی کی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے۔


