تلاش بہاراں، علی پور کا ایلی اور الکھ نگری : ایک تاثر
برسوں پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو ایک ضخیم کتاب میں ڈوبے ہوئے دیکھا تو کتاب کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا یہ وہی کتاب ہے جو ہم کچھ روز پہلے کتاب میلے سے لائے تھے۔ میں نے پوچھا کیا کہتی ہے، کہنے لگا یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو خود کو بڑا منحوس سمجھتا ہے۔ کتاب کا نام ”علی پور کا ایلی“ تھا۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگا تمھیں شاید اچھی نا لگے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ میں نے کتاب نہیں پڑھی، بلکہ برسوں اس کتاب کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ کبھی کبھار کسی کی کوئی بات ہمیں کسی چیز سے روک دیتی ہے۔ یہ تو بعد کے مطالعے سے مجھ پر کھلا کہ چیزوں کو چھوڑنے یا اپنانے کا فیصلہ ہمارا اپنا ہونا چاہیے۔
دسمبر 2018 میں ایک شادی کے سلسلے میں مجھے کچھ روز کے لیے ڈسکہ جانا ہوا اور وہاں برسوں بعد اس کتاب پر میری نظر پڑی اور میں نے کتاب اٹھا لی۔ میرے پاس پڑھنے کو اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پچھلے پچیس برسوں میں نے بہت کچھ پڑھا، مفتی صاحب کی کچھ کتابیں جیسا کہ تلاش، لبیک، نظام سقہ وغیرہ میرے مطالعہ میں رہیں مگر علی پر کا ایلی اور الکھ نگری نہ پڑھ سکا۔ تلاش تو وہ کتاب ہے جس کی میری زندگی میں خاص اہمیت ہے کیونکہ اسی کتاب نے مجھ میں فہم قرآن کا شوق پیدا کیا۔
خیر کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا اس کی ایک وجہ شہرت 1960 میں آدم جی ایوارڈ نہ جیت پانا بھی بنی۔ اس سال ایوارڈ جمیلہ ہاشمی کو تلاش بہاراں لکھنے پر دیا گیا۔ کتاب کا آغاز سست رہا، ابتدائی مضامین مجھے دلچسپ ناں لگے مصنف نے ہر سو نحوست پھیلا رکھی تھی۔ آغاز کا موضوع مصنف کا باپ اور اس کی جنسی بے راہروی تھی، ہمارے ہاں جیسا تقدس والد کو حاصل ہے اس کی روشنی میں ایسا موضوع پڑھنا آسان نہیں ہوتا۔ قصہ مختصر چار روز میں صرف 150 صفحات ہی پڑھ سکا اور کتاب وہیں چھوڑ آیا۔ اس کے بعد کئی ایک بار وہاں جانا ہوا مگر کتاب نہ پڑھ سکا۔ 2019 میں اسلام آباد جاتے ہوئے تلاش بہاراں خریدی اور پڑھ لی کیونکہ کتاب صرف 420 صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب دشت سوس کی نسبت کم دلچسپ تھی، مضبوط مرکزی کردار اور آزادی نسواں کے موضوع کے باوجود مجھے کوئی بلند کتاب نہ لگی۔
دسمبر 2020 میں مجھے پھر دو روز کے لیے ڈسکہ جانا پڑا، شدید سردی کی وجہ سے آوارگی مشکل لگی اس لیے ایک بار پھر علی پور کا ایلی پکڑ لی۔ پچھلی بار کے تجربے کا تذکرہ صدیق مکرم سے کیا تھا اور ان کا کہنا یہ تھا کہ کچھ ہی صفحات کے بعد معاملہ دلچسپ ہو جائے گا۔ ان کی نصیحت پلے باندھی اور کتاب میں کھونے کی کوشش کی۔ کوئی 200 صفحے گزرے ہوں گے کہ میں کتاب کی گرفت میں تھا۔ شہزاد وارد ہو چکی تھی اور ایلی بڑا ہونے لگا تھا۔
دو روز میں 300 صفحات پڑھ لیے اور واپسی پر کتاب ساتھ لے آیا۔ لاہور آ کر اگلے تین روز کتاب کی گرفت میں رہا اور شہزاد سے تسنیم اور اس سے سادی تک محظوظ ہوتا رہا۔ کتاب آگے بڑھتی گئی اور دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کتاب میں موجود تمام کردار بالکل اجنبی نہ لگے۔ کتاب ختم ہوئی تو میری تشنگی باقی تھی، ایسے لگا جیسے 1200 صفحوں کی کتاب نہیں پڑھی بلکہ دو چار ورک الٹے ہیں۔
آپ مصنف کی بیباکی اور دلیری کی داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کتاب کی زبان نہایت سادہ اور عام فہم ہے اور کسی بھی واقع کے بیان پر آپ بدمزہ نہیں ہوتے۔ میں نے پچھلے برس مستنصر حسین تارڑ کا ناول خس و خاشاک زمانے پڑھا، ناول اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اپنی زبان کی بیباکی کے حوالے سے مجھ پر گراں گزرا۔ علی پور کا ایلی اس لیے بھی دل کو لگتی ہے کہ یہ ہر متوسط طبقے کے ایسے فرد کی کہانی ہے جس نے اپنا راستہ بنایا ہے۔ اس کا اقرار و اظہار مشکل ہے مگر ہم سب کی زندگی میں شہزاد، تسنیم اور سادی ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم شہزاد کو اپنانے کی جرات نہیں رکھتے۔ اسی جرات نے تو مصنف کی کہانی کو زندگی بخشی ہے۔
اب اگر میں علی پور کا ایلی کا موازنہ تلاش بہاراں سے کروں تو میں کہوں گا دونوں میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ دراصل تلاش بہاراں ایک آرٹ ناول ہے جبکہ علی پور کا ایلی آرٹ بھی ہے اور کمرشل بھی۔ اول الذکر مخصوص لوگوں کے لیے ہے جبکہ مو خر الذکر سب کے لیے۔
علی پور کا ایلی میں رہ جانے والی تشنگی مجھے الکھ نگری تک لے آئی۔ کتاب خستہ حالت میں صدیق مکرم سے مل گئی، کہنے لگے یہ میری مکان بدلیوں کا نتیجہ ہے۔ کتاب کو غنیمت جانا اور پڑھنے لگا۔ کتاب کا آغاز گزشتہ میں پیوستہ تھا اور اپنے معراج پر بھی۔ ہندوستان کی تقسیم اور اس سے منسلک المیہ ایک ایسا تیز دھار آلہ ہے جو نا جانے کب تک کاٹتا رہے گا۔ ہجرت کر کے آنے والی نسل اور اس کی پاکستان میں آبادکاری ایک انوکھا تجربہ ہے جس پر ابھی شاید بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ بالکل ویسا ہے جیسا کے شہاب نامہ اور بابا صاحبہ مگر کتاب کا دوسرا حصہ ایک دم بوجھ بن جاتا ہے۔ 500 صفحوں کے بعد آپ محسوس کرتے ہیں کہ کتاب کو بے وجہ طول دیا گیا ہے۔ میرے اس دوست نے کچھ روز پہلے درست کہا تھا کہ جس مقام تک علی پور کا ایلی پہنچی ہے الکھ نگری کا اس سے کوئی مقابلہ نہیں۔


