انتخابات کی تاریخ اور سیاسی پارٹیوں کی گہماگہمی


ملک میں 8 فروری کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن بھی کہہ چکا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو کہہ دیا ہے کہ انتخابات ٹائم پر ہی ہونے چاہیے۔ انتخابات ٹائم پر ہونے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تقریباً تمام جماعتیں متفق ہیں۔ مگر اس پوری انتخابی مہم میں اس بار کوئی بھی پارٹی رہنماء خوش دکھائی نہیں دے رہا ہے اور تمام کے تمام لیڈران کے چہرے اترے ہوئے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ واقعی میں انتخابات 8 فروری کو ہونے بھی ہیں جس نہیں کیونکہ جس طرح سے باتیں کی جا رہی ہیں اور غیریقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے تو لگ نہیں رہا ہے کہ اتنی جلدی ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کا کچھ دن قبل ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر کو دیے گئے انٹرویو میں لگ تھا تو کچھ نہیں لیکن اس نے نواز شریف کی بڑھتی ہوئی پوزیشن اور میڈیا کوریج سمیت تمام معاملات سے کتنی آسانی نے جان چھڑا لی اور تمام توجہ اپنے اور بلاول پر مرکوز کر دی۔ حالانکہ بلاول بھٹو جس طرح سے کے پی کے میں انتخابی مہم چلا رہا تھا۔ وہ انتہائی احسن طریقہ تھا اور کے پی کے کے دوروں کے دوران ہی بلاول بھٹو نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب ستر سالوں کے بابوں کو گھر پر بیٹھنا چاہیے اور نوجوان قیادت کو آگے آنا چاہیے جس کا تذکرہ بلاول بھٹو پارلیمنٹ میں بھی کر چکے ہیں اور مختلف جلسوں میں بھی کیا ادھر نواز شریف کے لوگ بھی سندھ اور بلوچستان میں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے اور انہوں نے بلوچستان سے تو کافی معرکہ مار بھی لیا باقی سندھ میں بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ کے آنے والے انتخابات میں سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے بہت سارے ایم پی اے ایم این اے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ کر نون لیگ میں شمولیت کریں گے جن کے اندرونی طور پر نون لیگ سے پہلے ہی رابطے ہیں۔ ایسی صورتحال دیکھ کر سابق صدر آصف علی زرداری کو پوری میڈیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کا خیال آیا اور انہوں نے انٹرویو میں کہہ دیا کہ بلاول سیاست میں ابھی بچہ ہے۔ اس کو مزید سیکھنے کی ضرورت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جس کے بعد وہ ہی ہوا جو آصف علی زرداری چاہتے تھے کہ پورے میڈیا کی توجہ ان پر مرکوز رہے۔

اس کے اس انٹرویو کے بعد بلاول بھٹو جلد ہی دبئی روانہ ہو گئے اور اس کے پیچھے زرداری صاحب بھی روانہ ہو گئے جس کے بعد سوشل ویب سائٹ پر ایک پکچر جاری کی جاتی ہے کہ فیملی ری یونین ہو رہی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ سب کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم کل بھی ساتھ تھے اور آج بھی ساتھ ہیں۔ مگر اس پوری صورتحال میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے وہ لیڈران جو ہر وقت میڈیا کے منہ میں ہوتے ہیں۔ ان کے لئے مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کی بات کو صحیح مانیں یا بلاول بھٹو کی بات کو صحیح مانیں کہ اب ستر سالوں کے بابوں کو گھر بیٹھنا چاہیے۔

ان لیڈران کو صحافیوں کے ایسے سوالوں سے الجھنا پڑ رہا ہے۔ دیکھتے ہیں۔ آگے کیا ہوتا ہے۔ مگر اس وقت آصف علی زرداری نے اپنے کارکنان اور لیڈران کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کچھ عناصر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری میں اختلاف تو ہیں۔ مگر ان کو فی الحال ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ ان کے کام میں سابق صدر آصف علی زرداری مداخلت نا دیں اور انہیں کام کرنے دیں مگر آصف علی زرداری چاہتے ہیں کہ جیسا وہ کہے ویسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کو وہ زیادہ قریب سے جانتا ہے کہ کہاں پر کون سا پتا کھلانا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ بلاول کو ابھی سیاست میں بچہ ہے اور کو ٹائم لگے گا۔ ہاں البتہ وہ مجھ سے زیادہ اچھا بول سکتا ہے اور مجھ سے زیادہ پڑھا لکھا ہے۔ مگر سیاست میں ابھی اس کو ٹائم لگے گا۔

ادھر مسلم لیگ نون کی قیادت انتہائی تحمل اور ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور ان میں کہیں پر بھی کوئی جذباتی پن دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے اور اپنے مخالفین کو بھی انتہائی احسن طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں جو گالم گلوچ کی سیاست چل رہی تھی، وہ شاید ختم ہو گئی ہے اور اب سب ایک دوسرے کے لئے اچھے الفاظ میں مخالفت کر رہے ہیں۔ شاید ان کو اس بات کا یقین ہے کہ آنے والے انتخابات جو 8 فروری کو ہونے ہیں، اس میں کسی بھی ایک پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہی مل کر حکومت بنے گی۔ جس کی وجہ سے اب تک ہونے والے جلسے جلوسوں اور کنوینشنز میں تمام پارٹیز ایک دوسرے پر بہت ہی احتیاط سے مخالفت اور باتیں کر رہی ہیں تاکہ کوئی ایسی بات نا نکلے جس سے آگے چل کر کوئی شرمندگی اٹھانی پڑے۔

میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ چاروں صوبوں کی حکومتیں انہیں دی جائیں تو ہی بات ہو سکتی ہے ورنہ اسٹیبلشمنٹ خود اس ملک کو سنبھالے اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے مشکل یہ ہے کہ اب ان سے یہ ملک چل نہیں رہا جس کے لئے انہوں نے ماضی قریب میں جتنی بھی غلطیاں کیں ہیں، اس کا کفارہ اس صورت میں ادا کرنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو ملک میں دوبارہ لائیں اور ملک کو ایک صحیح سمت میں چلا سکیں۔

اب اس بات میں کتنی صداقت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن میاں نواز شریف کی باڈی لینگویج سے لگ رہا ہے کہ کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے کیونکہ اس کے چہرے سے پریشانی بھی دکھائی دے رہی ہے اور اس کی تقاریر سے بھی لگ رہا ہے کہ وہ بے انتہا تحمل اور انتہائی سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ کسی بھی طرح لفظی غلطی نہیں کرنا چاہ رہے یہ ہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ میں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس دفعہ کسی کو بھی اکثریت نہیں ملے گی اور تمام جماعتیں مل جل کر حکومت بنائیں گی۔ اب دیکھتے ہیں کہ 8 فروری کو کیا ہوتا ہے۔

 

Facebook Comments HS