لاہور واقعی ہی لاہور ہے


لاہور شہر سے ایک عجیب سی انسیت محسوس ہوتی ہے۔ اسے جتنی بار دیکھا ہر بار اس سے محبت بڑھتی ہی چلی گئی ہے۔ لاہور کا نام آتے ہی ذہن میں پرانے لاہور کے قصے لاہور کی تاریخی عمارتیں اور لاہور کی تاریخ آتی ہے۔ معلوم نہیں وہ لاہور کیسا تھا لاہور میں کتنی رونق ہوا کرتی تھی کاش پرانے اور زندہ دل لاہور کو دیکھ پاتے کہ قیام پاکستان سے پہلے لاہور کیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد گزشتہ صدی کے آخری سالوں تک لاہور کے رنگ کیا تھے۔ ان دنوں یہ وہی لاہور ہوا کرتا تھا کہ جس لاہور کے بارے میں مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔

لاہور تو خیر پہلے بھی میں دو تین دفعہ دیکھ چکا ہوں لیکن ہر بار یہاں کچھ نیا دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس بار ہم لاہور گئے تو اس کے وہ رنگ دیکھے جو کبھی اس کے ماضی میں اپنی آب و تاب سے چمکتے تھے۔

اس بار لاہور کے سفر کی خاص بات یہ تھی کہ ساتھ جانے والے دوستوں کو لاہور کے بارے میں کافی معلومات تھیں اور دوسرا وہ تاریخ کے ایک سے بڑھ کر ایک استاد تھے لہٰذا جو بھی چیز دیکھتے اس کا تاریخی پس منظر بتاتے تو یقین کریں کہ ایک بار ذہن ماضی کی طرف چلا جاتا کہ وہ کیا ہی خوبصورت دور تھا۔ پرانے لاہور کا سن کر دل میں ہوک سی اٹھتی کہ کاش اس وقت کے لاہور کو دیکھ پاتے۔ لاہور کی تاریخ تو بہت بڑا موضوع ہے مگر فی الحال میں لاہور کے حالیہ سفر کا احوال آپ کو سنا رہا ہوں۔

نومبر کی ایک خوبصورت اور ہلکی سی سرد صبح دوستوں کے ہمراہ لاہور جانے کا پروگرام کئی دنوں پہلے سے طے تھا۔ صبح سات بجے ہی تیار ہو کر اپنے عزیز دوست استاد علی خان کے ساتھ چکوال کے نثار ہوٹل پہ پہنچ گئے۔

چائے پی اور اپنے ایک اور عزیز دوست اور اعلیٰ پائے کے نثر نگار و شاعر ملک کاشف اعوان کا انتظار کرنے لگے۔ دوران انتظار ہمارے ایک دوست قبلہ حافظ نعیم شہزاد چشتی بھی آ گئے۔ قبلہ فجر کی نماز کے بعد چکوال شہر میں بچوں کو قرآن پاک پڑھانے آتے ہیں۔ وہ معروف نعت خواں جناب خالد حسنین خالد مرحوم کے شاگرد ہیں۔

حافظ نعیم کی خوبصورت آواز سننے کے لیے بھی لوگوں کی بڑی تعداد بے تاب رہتی ہے۔ قبلہ سے گپ شپ کے دوران ہی ملک کاشف اعوان کی کال آئی تو ہم ہوٹل سے نکل کر لاہور کے لیے چل پڑے۔ لاہور جانے کا پروگرام تو دراصل ایک رائٹرز کی ورکشاپ میں ایوارڈز دینے کی تقریب کے سبب تھا۔ اس تقریب میں میرے دونوں دوستوں ملک کاشف اعوان اور علی خان کو ایوارڈ دینے کے لیے لاہور مدعو کیا گیا تھا۔

ہمارے سفر کی ایک خاص بات کہ گاڑی بھائی راجہ رضوان چلا رہے تھے جن کے ساتھ جو بھی سفر کیا یادگار ہی رہا۔ اپنی ڈرائیونگ کی وجہ سے وہ پورا راستہ دونوں احباب کی تنقید کی زد میں ہی رہتے ہیں البتہ میں یہ صورتحال انجوائے کرتا رہتا ہوں۔ چکوال سے نکل کر بھون سے ذرا آگے ایک بار پھر ایک ہوٹل پہ ناشتے کا دور چلا۔

سب نے خوب ناشتہ کیا کہ اب کھانے کا دور لاہور رات گئے ہی چلے گا۔ سفر شروع ہوا تو سالٹ رینج کے خوبصورت علاقے دیکھتے رہے اور کوہستان نمک کی پہاڑیاں کیا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔ کوہستان نمک کا یہ سلسلہ جہلم سے شروع ہوتا ہے اور چکوال سے ہوتا ہوا کالا باغ تک پھیلا ہوا ہے۔

سالٹ رینج ختم ہونے کے بعد میدانی علاقہ شروع ہوا تو استاد جی نے بتایا منہاس یہ اب میدانی علاقہ یہاں شروع ہوتا ہے دور یہ علاقہ باڈر پار تک ایسا ہی ہموار ہے۔

اس وقت ذہن میں خیال آیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے باڈر کھلے ہوتے صبح موٹر وے سے لوگ بیٹھے شام کو انڈیا جاتے گھوم کے پھر واپس پاکستان آ جاتے مگر ایسا شاید کبھی بھی ناں ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ کئی صدیوں بعد آس پاس کے لوگوں کو کچھ عقل شعور آ جائے تو کچھ حالات ایسے پیدا ہو ہی جائیں جیسے یورپ کے کچھ ملکوں میں لوگ آسانی سے آ جا سکتے ہیں۔

خیر بھیرہ ریسٹ ایریا سے چائے پی ساتھ اس دن ورلڈ کپ کے میچ کی صورتحال دیکھی تو اس اہم میچ میں پاکستان میچ تو جیت گیا لیکن اگلے مرحلے کے لیے ٹیم نا پہنچ سکی تھی۔ چائے پینے کے بعد سفر جاری رہا پنجاب کے خوبصورت میدانی علاقوں کو دیکھتے رہے اور جب لاہور شہر کے تھوڑا قریب پہنچے تو آسمان پر سموگ کے بادل تھے ایسے لگتا کہ ہر طرف دھند ہے۔

پھر خیال آیا کہ روزانہ خبروں میں لاہور کا ذکر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پے ہوتا ہے خیر لاہور پہنچ گے تو اب لاہور کی خوبصورت سڑکیں خوبصورت عمارتیں دیکھنے کو دل بے تاب تھا لیکن ہمیں سب سے پہلے اس تقریب میں شرکت کرنا تھی جو لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں جاری تھی۔

وہاں پہنچنے پر منتظمین نے استقبال کیا۔ جہاں ایوارڈ تقسیم ہوئے اس تقریب میں بڑی علمی ادبی شخصیات نے بھرپور شرکت کر رکھی تھی۔

اس تقریب میں شرکت کے بعد لاہور گھومنے نکل پڑے۔ شام کو کسی خاص پروگرام میں شرکت کرنا تھی جو ملک کاشف اعوان نے خفیہ رکھی کہ جب وقت آیا تو آپ سب کو پتہ چل جائے گا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ آج شام رات یادگار ہونے والی ہے۔ ملک صاحب بہت باذوق بندے ہیں اتنی مصروفیات کے باوجود ہر وقت گھومنے پھرنے کا وقت نکال ہی لیتے ہیں۔

ہوٹل سے نکلے سب کو بھوک ستانے لگی تو لیکن ہلکی ہلکی بھوک میں لاہور کے دہی بھلے اور ساتھ چوک میں لگے جوس سپاٹ سے جوس پیا تو جسم میں کچھ جان آ گئی تو سیدھا بی بی پاک دامن حاضری کے لیے پہنچ گئے۔ میں پہلی دفعہ بی بی پاک دامن گیا۔ دربار کا کام جاری تھا تو اس لیے بند تھا۔ باہر سے ہی اپنے لیے اور خاص دوستوں کے لیے دعا مانگی اور ساتھ واقع قبرستان میں ایک قبر پر حاضری دی۔

اب ملک صاحب کی طرف سے دیے گئے پروگرام میں شرکت کے لئے چند گھنٹے باقی تھے تو انھوں نے کہا کہ کیوں ناں ادھر قریب ہی واقع بادشاہ قطب الدین ایبک کے مزار پر چلا جائے۔ لاہور کے مصروف ترین انار کلی بازار سے ہوتے ہوئے مزار پر پہنچے تو اپنے وقت کے بادشاہ کے مزار پہ مکمل خاموشی تھی۔ تھوڑی دیر رکنے کے بعد واپس نکلے تو تو قریب ہی ایک پرانا ہوٹل شاید پاک دہلی ہوٹل تھا۔ ملک صاحب کے بقول وہاں ایک رات قائد اعظم محمد علی جناح بھی ٹھہرے تھے۔ ہوٹل دیکھتے ہوئے جب اندر داخل ہوئے تو اندر ہوٹل کے مالک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ہوٹل کے متعلق بہت سی معلومات دیں۔ ان کی عمر کوئی پچاسی سال تھی لیکن ماشاءاللہ مکمل صحت مند تھے۔

وہاں سے نکلے تو مغرب ہو چکی تھی بازار میں خوب رش تھا تو بس جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف چلتے گئے۔ وہاں ہمارے ہم سب کے ہر دلعزیز نوجوان چکوالی ظاہر محمود اردو پوائنٹ کے معروف اینکر پرسن بھی اور کمال کے رائٹر بھی جن کا زیادہ وقت پڑھائی کے بعد اب لاہور ہی گزرتا ہے بھی آ گئے اور ہمارے ہم سفر بنے۔

ظاہر صاحب اکثر لاہور آنے کا کہہ چکے تھے بس ہم ہی تھے کہ کاموں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہماری اگلی منزل شاہی قلعہ لاہور تھی۔

گاڑی پارک کرنے کرنے بعد ملک صاحب اچانک غائب ہو گئے قلعہ میں داخل ہوئے تو کیا خوب رونق تھی کافی رش تھا سب کو دیکھ کے کچھ سمجھ آئی کہ آج کوئی خاص پروگرام ہے۔ شاہی قلعے کے اردگرد کی تاریخی عمارتیں رات کو دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد ملک صاحب آئے کہا آج آپ سب شاہی مہمان ہیں اور اکبر بادشاہ نے آپ کے مہمان بنایا ہے۔ یہ سن کہ میں حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے اکبر بادشاہ کے مہمان مطلب کے اکبر بادشاہ کے بارے میں پڑھ تو رکھا تھا لیکن آج اس کے مہمان ذہن میں عجیب باتیں چل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ شاہی مہمان تیار رہیں آپ سب آج بادشاہ سلامت کے مہمان ہیں۔

یہاں پر میں والڈ سٹی لاہور کی تمام ٹیم کو خراج تحسین پیش کروں گا کہ سیاحوں کی دلچسپی کے لیے شاہی قلعہ میں ہر ویک اینڈ پر ایک پروگرام منعقد کرتے ہیں جس میں لاہور کی تاریخی ثقافتی اہمیت کو مختلف پروگرامز کے ذریعے اجاگر کیا جاتا ہے۔ سب نے اپنے اپنے پاس لیے اور ایک گروپ میں شامل ہوئے جہاں ایک انتہائی خوش شکل نوجوان ہمارے گائیڈ مقرر ہوئے اور قافلہ چل پڑا۔

ہمیں مکمل شاہی پروٹوکول کے ذریعے قلعہ میں جانے کی اجازت دی گئی جیسے بادشاہ اپنے دور میں کرتے تھے۔ وہاں پر سب عملہ مکمل شاہی لباس میں تھا اور اپنی اپنی ڈیوٹی سنبھالے ہوئے تھے۔ شاہی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو بینڈ باجے سے استقبال کیا گیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر فاتحہ پڑھی پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بارہ دری کی تاریخ کے متعلق بتایا گیا۔ اس کے بعد پھر شاہی سواری کے ذریعے قلعہ کے دیگر مقامات دکھائے گئے۔ بارود خانہ سمیت جو حال ہی میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا ہے بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔

سب سے اہم بات بادشاہ سے ملاقات تھی سب حاضرین بیٹھ گئے وہاں پر شاندار کرسیاں اور نیچے بیٹھنے کے لیے بھی جگہ بنائی گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ سلامت کی آمد ہوئی جس کے بعد رقص پیش کیا گیا۔

حاضرین نے یہ رقص بہت پسند کیا اور خوب سراہا۔

سب سے آخر میں شاہی کچن میں چائے پیش کی گئی اور ڈھول پرفارمنس کے ملک کے معروف ڈھول پارٹی موجود تھی۔ ملک صاحب نے کہا آپ لوگ بھی ان ڈھول والوں کے ساتھ مست ہو جاؤ۔ بس یہ کہنا تھا سب سے پہلے بھائی رضوان پھر ظاہر اور آخر میں خود میدان میں کود گیا۔ خوب شغل میلہ کیا۔

میرے خیال سے یہ میری زندگی کی ایک حسین اور یادگار رات تھی ملک صاحب کی بدولت ایسی یادگار رات دیکھنے کو ملی۔

وہاں سے نکلنے کے بعد قریبی ہوٹل پر کھانا کھایا۔
رات کے تقریباً بارہ بجنے کے قریب تھے۔ ظاہر محمود کو رخصت کیا اور واپس چکوال کی طرف نکل پڑے۔

پورے راستے سوچتا رہا کہ کتنا خوبصورت دن گزرا لاہور کی کچھ تاریخی عمارتیں دیکھی ہیں لاہور تو بہت بڑا شہر ہے اس کو دیکھنے کے لیے کئی دن گزر جائیں لیکن انسان کا جی نہیں بھرتا۔ میرا لاہور جانے کا ایک عرصے سے پروگرام بن رہا تھا جو ملک کاشف اعوان کی وجہ سے پورا ہوا۔ لاہور سے مجھے ایک عجیب سی محبت ہے ہر بار لاہور کو ایک نئے انداز سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

رات بھر سفر میں رہے کوئی صبح کے چار بجے اپنے گھر پہنچا اور سو گیا کیونکہ صبح پھر روٹین کے کاموں میں لگ جانا تھا۔ میرے لیے یہ سفر بہت یادگار رہا کافی دوست پوچھ رہے تھے کہ سفر کیسا رہا کہاں کہاں گئے کیا دیکھا تو ان احباب کے لیے میرا یہ سفر نامہ حاضر ہے۔

Facebook Comments HS