نواز، عمران مفاہمت :میں بچ گیا ہوں تو کیا پھر سے مار دو گے مجھے

ان دنوں بعض دانشور نواز شریف سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ عمران خان کو معاف کر دیں اور ان کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھائیں۔ تاکہ سیاست کی مکدر فضا میں کچھ ٹھہراؤ آ سکے۔ سیاسی معاملات میں مختلف نقطہ نظر یا تنقید کا پہلو موجود ہونا سیاسی و جمہوری روایات کا حصہ ہے۔ اگر یہ سیاسی دشمنی یا عدم قبولیت میں تبدیل ہو جائے تو مفاہمت کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔
مفاہمت سے کوئی ادنی شعور رکھنے والا بھی انکار نہیں کرتا، مگر اس کے لیے زمینی حقائق کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے بہتر ین راستہ فریقین کے ماضی کے طرز عمل کا جائزہ ہے۔ نواز شریف نے جو طرز عمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔ نواز شریف نے عمران خان کو شوکت خانم کے لئے قیمتی زمین اور بھاری عطیات دیے۔
2۔ مولانا فضل الرحمان ہی نہیں اپنی پارٹی کے لوگوں کی مخالفت مول لے کر عمران خان کو خیبرپختونخوا کی حکومت دی۔
3 ۔ عمران خان انتخابی مہم میں 17 فٹ کی بلندی سے گر کر زخمی ہوئے تو نواز شریف نے 11 /مئی کو منعقدہ الیکشن کے تیسرے روز شوکت خانم ہسپتال جاکر عمران خان کی عیادت کر کے مفاہمت کا اشارہ دیا۔ جلسۂ عام میں ان کی صحت یابی کی دعا اور دو دن کے لئے انتخابی مہم معطل کر دی۔
4۔ عمران خان کے اعزاء کے مرنے پر تعزیت کی۔
5۔ اقتدار ملا تو تلخیاں کم کرنے کے لیے بنی گالا گئے۔
6۔ سیاسی مخالفت کے باوجود عمران خان کو عزت و توقیر دی۔
7۔ عمران خان کی بحیثیت کھلاڑی قدر کی اور پلاٹ الاٹ کیا۔
8، ۔ عمران خان کا دور نواز شریف کے لئے پرویز مشرف کے دور سے بدترین تھا اس کے باوجود نواز شریف جب وطن واپس لوٹے اور مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب میں عمران خان کا نام تک نہ لیا،
جواب میں عمران خان نے جو کچھ کیا وہ بھی ملاحظہ کر لیا جائے تو تقابل آسان ہو جائے گا۔
1۔ عمران خان نے جواباً ہر وہ سیاسی اور معاشرتی غلاظت ملی جس کا تصور کیا جا سکتا تھا۔
2۔ پہلے دھرنوں کی مکروہ سازش کی، اور پھر نا اہلی کے لیے عدلیہ کو خفیہ اشاروں پر نواز شریف کے خلاف استعمال کیا اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینا جرم ٹھہرا یا۔
3 عمران خان وزیراعظم بنے تو نواز شریف ہی نہیں پورے خاندان اور ساتھیوں کو جیل ملی۔ پہلی مرتبہ ایک پابند سلاسل باپ کے سامنے اس کی بیٹی کی گرفتاری کا شرمناک اقدام کیا گیا۔
4۔ بیوی بستر مرگ پر تھی تو نواز شریف کو حال تک پوچھنے کی اجازت نہیں دی۔ الٹا سوشل میڈیا کے ذریعے ٹرولنگ کی۔
5۔ عمران خان نے امریکا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وطن واپس جا کے نواز شریف کے ہمنواؤں سے جیل کی تمام سہولیات واپس لیں گے۔
6۔ چور ڈاکو کی گردان ’دفتر اور رہائش گاہ پر فدائین کی گالیوں اور الزام و دشنام اور نفرتوں کی آگ مسجد نبوی کی معطر فضاؤں تک پہنچائی گئی۔
7۔ 2018 ء کے انتخابات میں آر ٹی ایس کے ذریعے دیرینہ خواب، تعبیر کو پہنچا تو آنے والے چار برس عمران خان نے اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ تک نہ ملایا۔
8۔ قومی سلامتی کے انتہائی حساس اجلاس ہوئے۔ پوری فوجی قیادت نے شرکت کی۔ عمران خان بحیثیت وزیراعظم کسی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ دلیل یہ کہ میں ”چوروں“ سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔
9۔ نواز شریف کی والدہ اور اہلیہ کا انتقال ہوا تو عمران وزیراعظم تھے۔ گھر جانا تو دور فون پر بھی تعزیت نہ کی محض ایک رسمی بیان پر اکتفا کیا۔
مفاہمت کے لیے تمام فریقوں کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے مگر عمران خان کا طرز عمل یہ رہا کہ وہ اقتدار کے دوران اور اس سے رخصتی کے بعد بھی میں نہ مانوں کی رٹ لگاتے رہے۔
’میں نہیں تو کچھ بھی نہیں ”کی پالیسی کے ذریعے خود کو نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن کی متعدد تعاون کی پیشکشوں کو تحقیری اسلوب میں مسترد کیا۔ ان کی ضد، یو ٹرنز اور مخالفین پر تہمت بازیوں نے ملک کا سیاسی ماحول مسلسل آلودہ کیے رکھا۔
4مارچ 2023 کو ویڈیو لنک خطاب میں ایک طرف کہا کہ: ”سب سے بات اور سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں۔“ تو ساتھ ہی مخالفین پر ماضی کے بے بنیاد الزامات کی بارش کی اور بیزار کن باتوں کو دہرایا۔ عمران خان نے پچھلے چند برسوں کے دوران کئی یو ٹرنز لیے، جن کے باعث خان صاحب کی مذاکرات کی پیشکش کا جواب انکار میں آیا۔ انکار کی یہ نوبت خان صاحب کے رویے سے ہوئی۔ عمران خان نے سنگین الزامات سے بیک وقت اپنے تمام مخالفین کے دل دکھائے اور ثابت کیا کہ وہ مفاہمانہ رویے سے عاری ہیں۔ اسی لیے جب وہ از خود ہر ایک سے مکالمہ اور مصافحہ کرنے کے متمنی ہوئے تو کوئی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
ہمارے دانشور حکیم سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد کے وژن پر بھی نظر ڈال لیں تو معاملات مزید سمجھ آ جائیں گے۔ عمران خان اتنے خوش قسمت ہیں کہ جج کئی کئی دن ان کا انتظار کرتے رہے کہ وہ ریلیف لینے آئیں، انہیں لانے کے لئے مرسیڈیزیں بھیجی گئیں، انہیں ایسے مقدمات میں بھی ضمانتیں دی گئیں جو قائم نہیں ہوئے۔ جیل سے نکال کر ریسٹ ہاؤسز میں رکھا گیا۔ اب بیرکیں توڑ کر انہیں واک کرنے سکیں اور سائیکل چلانے کی اجازت دی گئی۔
یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ عمران خان، نواز شریف کی وجہ سے جیل میں نہیں، بلکہ وہ اس کام کی وجہ سے ہیں جس کا خواب ستر برس سے انڈیا دیکھ رہا تھا۔ عادل راجاؤں اور حیدر مہدیوں جیسے کتنے لوگ ہیں جو اب بھی ریاست کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ کیا جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مجسمے جن کی جوتیوں کی ٹھوکر بنے ان کو کیے کی سزا نہیں ملنی چاہیے، ؟ کیا ہندوستان کو اسرائیل کی طرح کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ وہ لاہور کو غزہ بنا دے۔ کیا فوجی تنصیبات پر حملے کرنے پر عمران خان نے کسی قسم کی ندامت کا اظہار کیا، براہ راست یا بالواسطہ کوئی معافی مانگی۔ اس کی کیا گارنٹی دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی افتاد طبع کے باعث ہے یہ سب دوبارہ نہیں کریں گے؟ عمران خان کی سیاست کی اٹھان اور کمال الزامات تھوپنے پر ہی رہا۔
جھاڑیاں اگتی رہیں صحن چمن میں ہر سو
پھولنے پائے شجر کوئی نہ پھلنے پائے
جب عمران خان سے مفاہمت کے داعی خود اعتراف کرتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعہ سے پہلے عمران خان سے ان کی تین ملاقاتیں ہوئیں ایک میں مجیب الرحمان شامی، دوسری میں امتیاز عالم اور ان کا وفد اور تیسری ملاقات اسلام آباد اور لاہور کے نمایاں ٹی وی اینکرز شامل تھے، ان ملاقاتوں کا محور یہی تھا کہ سیاسی جماعتوں سے پی ٹی آئی مفاہمت کرے مگر عمران خان کا موقف یہ تھا کہ وہ ان کرپٹ سیاسی حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان جن لوگوں کو کرپٹ کہا اور جیلوں میں بد ترین ماحول میں رکھا اور ان کی کردار کشی کی ان سے مفاہمت کن شرائط پر ہو گی۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا 9 مئی کی لہو رنگ شام پر مٹی ڈال دی جائے تاکہ کل کوئی بھی جتھہ ’کوئی بھی گروہ‘ کوئی بھی بے مہار مجمع ’دفاع وطن کی علامتوں پہ چڑھ دوڑے؟ اس کے باوجود آئین و قانون کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی کوئی ذی شعور حمایت نہیں کرتا کہ ملزموں کو بلا ثبوت کڑی سزائیں سنا کر نمونۂ عبرت بنا دیا جائے۔ ہر شہری کے آئینی حقوق ہیں جن کی پاسداری ہونی چاہیے۔
موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں جو دانشور عمران خان کو سادہ و معصوم شخص کہہ کر اس کے بھولپن کی گردان میں مصروف اور نواز شریف پر حالات اعتدال پر لانے، متعفن روایات پر مٹی ڈالنے اور ایک نئے عہد کی بنیاد رکھنے کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ذمہ داری عمران خان کے کندھوں پر ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کی علی الاعلان معافی مانگیں۔ اگر وہ آج بھی 9 مئی کو اپنی ٹوپی میں سرخاب کا پر سمجھتے اور اسی نظریے کا پرچم تھامے سیاست میں واپس آنا چاہتے ہیں تو صلح صفائی کیسے ممکن ہوگی؟ نواز شریف تو زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں :
تم ایک بار تو مصلوب کر چکے ہو دوست
میں بچ گیا ہوں تو کیا پھر سے مار دو گے مجھے
