ایڈز کی وبا پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے
ایچ آئی وی ہیومن امیونو وائرس ایک ایسا وائرس ہے۔ جو ان خلیوں پر حملہ کرتا ہے جو جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے انسان دوسرے انفیکشن اور بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ ایچ آئی وی والے کسی شخص کے بعض جسمانی رطوبتوں کے ساتھ رابطے سے پھیلتا ہے۔ ایڈز ایچ آئی وی انفیکشن کا آخری مرحلہ ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب وائرس کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام بری طرح خراب ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں، ایچ آئی وی والے زیادہ تر لوگوں میں ایڈز نہیں ہوتا ہے کیونکہ تجویز کردہ ایچ آئی وی کی دوا لینے سے بیماری بڑھنے سے رک جاتی ہے۔
ایچ آئی وی کی دوا کے بغیر، ایڈز والے لوگ عام طور پر تقریباً تین سال تک زندہ رہتے ہیں۔ ایک بار جب کسی کو یہ بیماری ہو جائے تو ، علاج کے بغیر متوقع عمر تقریباً ایک سال تک گر جاتی ہے۔ ایچ آئی وی کی دوا اب بھی ایچ آئی وی انفیکشن کے اس مرحلے پر لوگوں کی مدد کر سکتی ہے، اور یہ جان بچا بھی سکتی ہے۔ لیکن جو لوگ ایچ آئی وی ہونے کے فوراً بعد ایچ آئی وی کی دوا شروع کرتے ہیں وہ اس مرض کا مقابلہ آسانی کے ساتھ کرتے ہیں۔
اسی لیے ایچ آئی وی کی بروقت جانچ بہت اہم ہے۔ ہیومن امیونو وائرس (HIV) ایک ریٹرو وائرس ہے جس کا بنیادی ہدف CD 4 + مدافعتی خلیات ہیں، جس میں HIV 1 کا تنا سب سب سے زیادہ غالب ہے۔ اپنے آخری مرحلے پر ، ایچ آئی وی ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشینسی سنڈروم (ایڈز) کا سبب بنتا ہے۔ ایچ آئی وی/ایڈز جسمانی رطوبتوں کے تبادلے سے پھیلتا ہے جس میں منی، خون اور ماں کا دودھ شامل ہیں۔ سب سے پہلے رپورٹ شدہ کیسز 1980 کی دہائی میں سامنے آئے تھے اور اس کے بعد سے اس نے پوری دنیا میں 75 ملین سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے، 2013 کی گلوبل برڈن آف ڈیزیز (GBS) رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایچ آئی وی عالمی سطح پر بیماری اور اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
یہ وائرس بنیادی طور پر نوجوان اور معاشی طور پر پیداواری آبادی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اس کے معاشی اور سماجی نتائج بہت زیادہ ہیں۔ اب پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ایڈز کی مریضوں کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اگرچہ تیس ہزار ہے لیکن اسی پروگرام کے ایک جائزے کے مطابق اس وقت ملک میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں ایڈز کی مریضوں کی تعداد معلوم کرنا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ایڈز سکریننگ کا انتظام اس وقت پاکستان کے کسی بھی ہسپتال میں نہیں ہے۔ لاڑکانہ میں ڈبلیو ایچ او نے چند برس پہلے گریڈ ٹو کی میڈیکل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا تھا۔ اس ضلع میں ایڈز کی مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی کہ پوری دنیا کے لیے یہ ایک خبر بن گئی تھی۔ ایڈز کا مرض سندھ اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع کو زیادہ متاثر کر رہا ہے۔
اس کی وجہ ان علاقوں میں نائیوں اور دیسی علاج کرنے والوں کا پرانا طریقہ کار ہے جو اب تک رائج ہے۔ اس مرض کے پھیلنے میں ان علاقوں میں روایتی اوزاروں سے ختنے کروانے کے عمل نے پورے کے پورے گاؤں کو متاثر کیا ہے۔ اور یہ عمل اسی طرح جاری ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ پاکستان میں منشیات کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ منشیات استعمال کرنے والے اکثر افراد استعمال شدہ سرنج استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے بھی ایڈز تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔
ایڈز کی پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ غیر محفوظ جنسی اختلاط ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں چوری چھپے جسم فروشی کا دھندا چل رہا ہے۔ جس میں روزانہ کے حساب سے لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں ٹرانسجینڈر بھی بطور سیکس ورکر کام کر رہے ہیں۔ ان سیکس ورکروں سے یہ مرض بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ وہ افراد جو بیرون ملک مقیم ہوتے ہیں۔ وہ یہ وائرس اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ اور پھر اس وائرس کو اپنے خاندانوں اور ان مقامی سیکس ورکروں کو منتقل کرتے ہیں۔
افغانستان سے پاکستان آنے والے ٹرانسجینڈر جن کی تعداد ہزاروں میں ہے ایڈز کے زیادہ شکار ہیں۔ یہ اس مرض کو گلی گلی پھیلا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ٹرک ڈرائیوروں میں بھی ایڈز کی وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے جس کا سبب لواطت ہے۔ ایڈز کی بیماری جس تیزی کے ساتھ پاکستان میں پھیل رہی ہے مستقبل قریب میں اس کو قابو میں کرنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس بیماری کے حوالے سے عوامی رہنمائی اور تربیت کا کوئی عملی انتظام نہیں ہے۔
ورلڈ بنک اور دیگر اداروں کی تعاون سے چلنے والے این جی اوز صرف نمائشی کاموں پر پیسہ خرچ کرتے ہیں اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ انہیں اس مرض کے پھیلاؤ اور اس کو قابو میں کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ان این جی اوز نے فائیو سٹار ہوٹلوں میں درجنوں کانفرنسیں اور ورکشاپ کروائے ہیں۔ جس کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے کہ ان کانفرنسوں اور ورکشاپوں میں شرکت کرنے والوں کو اس مسئلہ یا اس کے تدارک و روک تھام سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔
ان پیسوں سے اگر سکریننگ مشینیں خرید کر ہسپتالوں کو دی جاتیں تو اس مرض کی تشخیص اور اس کے پھیلاؤ میں کمی کا انتظام کیا جاسکتا تھا۔ پاکستان دنیا کی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں انتقال خون کا عمل انتہائی غیر محفوظ ہے۔ اس لیے کہ یہاں ایک تو جیسا خون ڈونر سے لیا جاتا ہے ویسے ہی مریض کو لگا دیا جاتا ہے اور دوسرا اس خون کی ایچ آئی وی سکریننگ اور دیگر وائرسیز کی سکریننگ کرنا کا کسی بھی بلڈ بنک یا ہسپتال میں کوئی انتظام نہیں ہے۔
گلی گلی میں موجود پرائیویٹ کلینکس تو کسی پروٹوکول کو نہیں اپناتے یہاں تک کہ وہ اس عمل میں چند روپے بچانے کی چکر میں کئی آلات کو بار بار استعمال کرتے ہیں۔ جس سے یہ امراض دوسروں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اس ملک میں دانتوں کا علاج اسی فیصد عطائی کرتے ہیں یہ علاج چونکہ کم خرچ ہوتا ہے اس لیے اس میں بھی کسی قسم کے حفاظتی طریقہ کار کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ہزاروں مریضوں کے لیے ایک ہی آلہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔
شہروں اور دیہات میں غریب طبقہ اب بھی حجام کے استرے سے حجامت بنواتے ہیں جس سے منتقل ہونے والے امراض پھیلتے ہیں۔ پھر پاکستان میں تعلیم اور شعور کی کمی وجہ سے جو اس مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ علاج اور احتیاط نہیں کرتے اور اس مرض کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ اگر حقیقی معنوں میں پاکستان میں ایڈز کے لیے سکریننگ کی گئی تو جو نتائج سامنے آئیں گے وہ ناقابل یقین اور برداشت ہوں گے۔ حکومت کی ترجیحات میں عوام کی زندگی صحت اور تعلیم شامل ہی نہیں ہے۔
جو امداد یا خیرات اس مد میں دنیا سے ہمیں ملتی ہے۔ اگر اس کا بھی صحیح استعمال کیا جائے تو کسی حد تک اس مرض کی مزید پھیلاؤ سے بچا جاسکتا ہے۔ مگر اس ملک میں مسجد کے چندے سے لے کر فلسطین کی زخمیوں کے لیے کیے گئے چندے کو لوگ ہڑپ جاتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سارے مسائل شاید وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجائیں مگر اس بیماری کی روک تھام سے بے توجہی اس ملک کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دے گی۔ یہ جو لاکھوں لوگ خلیج اور دیگر ممالک میں جاکر محنت مزدوری کر رہے ہیں ان پر پابندی لگ جائے گی اور پاکستانیوں کا ملک سے باہر جانا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
چونکہ ایچ آئی وی ایک تیزی سے تبدیل ہونے والا وائرس ہے، اس لیے ایچ آئی وی کے تمام تناؤ کو روکنے کے لیے ایک ہی ویکسین کی تیاری حالیہ دنوں میں انسانی معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے Antiretroviral علاج (ART) فی الحال دستیاب واحد طریقہ ہے۔ لیکن پاکستان ان بدقسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں یہ بہت ہی کم مقدار میں دستیاب ہیں۔ اور ان علاقوں میں تو دستیاب ہی نہیں ہیں جہاں اس کی شدید ضرورت ہے۔ حکومت اس کی دستیابی کے لیے عالمی اداروں سے درخواست کر سکتی ہے اور اس کی موجودگی تمام ہسپتالوں میں یقینی بنانا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
ہم نے دنیا بھر سے کورونا کی ویکسینوں کی انسانوں پر ٹرائل کے لیے اربوں روپے لیے جو زیادہ تر چند اشخاص کی جیبوں میں گئے اور ان ٹرائل بیس ویکسینوں کے لیے جس طرح ہم نے پوری حکومتی مشنری استعمال کی اگر اس کا ایک ہزار واں حصہ بھی ہم اس موذی مرض کی تشخیص اور اور روک تھام میں لگا دیں تو پاکستان کی آنے والی نسلیں اس سے محفوظ ہو سکتی ہیں۔ ہم پاکستانی ہر وہ کام کرنے کے لیے راضی ہو جاتے ہیں جس میں ہمیں پیسے ملتے ہیں چاہے اس میں ہمارا کتنا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
مگر کوئی بھی ایسا کام جس سے انسانیت کا بھلا ہو اور اس میں مالی فائدہ نہ ہو وہ نہیں کرتے۔ ہمارا معاشرہ اور ہمارے منتظمین اخلاقی طور پر جس گراوٹ کا شکار ہیں۔ وہ ایک بہت بڑی وجہ ہے ہماری تنزلی اور دیوالیہ پن کی۔ اگر حکومت چاہے تو آج ہی لازم کر سکتی ہے کہ کسی بھی مریض کو اس وقت تک خون منتقل نہیں ہو گا جب تک اس کی ایچ آئی وی سکریننگ نہ ہوئی ہو۔ منشیات کے عادی افراد کو معاشرے سے دور کوئی سینٹر بنا کر دوبارہ زندگی کی طرف لایا جاسکتا ہے۔
خواجہ سراؤں کو گلی گلی مکروہ جسم فروشی کے دھندے سے روکا جاسکتا ہے۔ جو بھی شخص باہر سے آئے ائر پورٹ پر اس کی سکریننگ کی جا سکتی ہے۔ ملک بھر میں عطائیوں کو کام سے روکا جاسکتا ہے۔ ہر تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنروں کی ایک فوج ہوتی ہے جو کروڑوں روپے کی گاڑیوں میں بندوق برداروں کی حفاظت میں پھر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ان سے کام لیا جائے تو ایک ہی دن میں پورے پاکستان میں کوئی عطائی نہیں بچے گا۔ اس ملک میں شاید ہی کوئی ایک ایسا رہنما آئے گا جو ان لاکھوں تنخواہ خوروں سے کوئی کام لے سکے۔ ایڈز سے بچاؤ تدبیر اور احتیاط میں پوشیدہ ہے۔ احتیاط لوگ کریں اور تدبیر حکومت تو ہی دنیا کی طرح ہم اس موذی مرض سے خود کو محفوظ رکھ سکیں گے۔


