کیا پنجاب سے باہر بھی پاکستان ہے؟

پاکستان انتظامی طور پر چار صوبوں، وفاقی دارالحکومت، انتظامی نیم صوبہ گلگت بلتستان، اور آزاد جموں کشمیر کے انتظامی حصوں پر مشتمل ہے۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان اور آبادی کے لحاظ سے پنجاب بڑے صوبے ہیں۔ اندرون سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، جی بی اور آزاد جموں کشمیر انتہائی پسماندہ ہیں۔ جبکہ کراچی، حیدر آباد اور پنجاب کے بڑے اضلاع میں مواصلاتی اور شہری ترقی کے کچھ کچھ آثار نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی دیگر صوبوں اور مشرقی پاکستان کو یہ گلہ رہا ہے کہ ان کی وسائل زیادہ تر پنجاب میں استعمال ہوتے ہیں۔
اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور انتظامیہ ہی پاکستان کے اصل حکمران ہیں۔ یہ بات اس حد تک درست ہے کہ پنجاب کی آبادی زیادہ ہے اور اس بنا پر ان کے پاس قومی اسمبلی میں زیادہ واضح اکثریت موجود ہے اور ان کے مقابلے میں باقی صوبے مل کر بھی وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے۔ یہی حال بیوروکریسی اور فوج کے حوالے سے ہے کہ آبادی کی تقسیم کے فارمولے پر نصف سے زیادہ تعداد پنجاب ہی سے رکھنی ہوتی ہے۔ معاملات یہاں تک ہوتے تو شاید دوسرے صوبوں کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔
مگر عملاً اس کے علاوہ بھی طاقت کے ایوانوں میں پنجاب کارڈ کافی کارآمد ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کافی ہوگی۔ کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ پنجاب سے ہی ہو گا۔ ڈائریکٹر بھی پنجاب سے، سلیکشن کمیٹی بھی ساری کی ساری پنجاب سے اور تو اور اس کمیٹی میں ایک سزایافتہ شخص کو بھی دیدہ دلیری سے شامل کرنا کہ اگر کوئی کچھ بگاڑ سکتا ہے تو بگاڑ لے۔ لیکن اگر کھیلنے والے ٹیلنٹ کو دیکھا جائے تو اسی فیصد خیبر پختونخوا سے کھلاڑی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اس وقت ٹیم میں موجود ہیں۔
اگر یہ پاکستان کی ٹیم ہے تو سلیکٹرز پھر سارے پنجاب سے ہی کیوں ہیں؟ وفاق میں نو ایسے ادارے ہیں جیسے ایوان اقبال، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، سنٹرل بورڈ آف فلم سنسر، محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشن، فیڈرل لینڈ کمیشن، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، اقبال اکیڈمی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، قومی ادارہ برائے لوک اور روایتی ورثہ، قومی زبان کے فروغ کا شعبہ، نیشنل میوزیم آف پاکستان، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن، پی ٹی وی اکیڈمی، پریس کونسل آف پاکستان، قائداعظم اکیڈمی جو وزارت اطلاعات، نشریات اور قومی ورثہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
وہاں جاکر دیکھیں کہ کیا واقعی دوسرے صوبے بھی اس ملک میں ہیں یا صرف پنجاب ہی پاکستان ہے۔ یہ ایک وفاقی وزارت کا حال ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے صرف اہل پنجاب ہی کا راج ہے۔ کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سندھ سے ایک بندے کو سیاسی رشوت کے طور پر ان اداروں میں دو یا تین برسوں کے لیے لایا جاتا ہے مگر وہ ان اداروں میں موجود مضبوط پنجابی لابی کے سامنے بے بس رہتا ہے۔ اگر ہم نے وفاق کو مضبوط کر نا ہے تو ہمیں وسائل اور اختیارات کے مساوی تقسیم کا فارمولا بنانا ہو گا اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہو گا۔
اس لیے کہ ہم ماضی میں مشرقی پاکستان کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں میں جو فنڈز صرف لاہور پر خرچ ہوئے اگر یہی فنڈز دیگر سو علاقوں پر خرچ ہوتے تو آج ملک کی بہت بڑی آبادی ترقی کے راستے پر ہوتی مگر ایسا نہیں ہوتا اور چونکہ پالیسی ساز اور اختیار مند اگر اسٹریٹجک نقطہ نظر سے دیکھتے تو یہ بہت ہی خراب منصوبہ بندی ہے۔ اگر وہ ملک کو ایک یونٹ کی نظر سے دیکھیں تو مستقبل میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اس وقت غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ توانائی کے سستے ترین ذرائع کی جگہ ہم سب سے مہنگے ترین اور غیر ماحول دوست ذرائع کا انتخاب کر رہے ہیں اور ہمیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اس لیے کہ سستے ترین ذرائع پنجاب میں دستیاب نہیں ہیں۔ اور پاکستان کے دیگر صوبے تو جیسے کسی اور ملک کے ہیں جہاں کے دریاؤں کے پانی سے فائدہ ہی نہیں اٹھا یا جاسکتا۔ اس وقت خیبر پختونخوا او ر شمالی علاقہ جات میں زمین کے اوپر لوہے کے خام ذخائر موجود ہیں لیکن ہم وہاں سے مفت میں اٹھا کر لانے کی جگہ روس سے دس بیس گنا زیادہ قیمت پر خریدیں گے۔
چترال اور شمالی علاقہ جات میں نان بیکٹریا قدرتی گلیشیئروں کا پانی دستیاب ہے۔ جسے وہاں سے پیکنگ کر کے پورے ملک میں فروخت کیا جاسکتا یہاں تک کہ اس کو ایکسپورٹ کر کے اربوں ڈالرز سالانہ کمائے جا سکتے ہیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ لاہور کا نا قابل استعمال گندا پانی بوتلوں میں بھر بھر کر ان علاقوں کے ہوٹلوں تک پہنچائیں گے۔ شمالی علاقہ جات سے اس قیمتی پانی کو دنیا تک پہنچانے کے لیے جتنا سرمایہ درکار ہے وہ اورنج ٹرین کی سبسڈی سے چار گنا کم ہے۔
جبکہ اس انڈسٹری کے شروع کرنے سے پانچ لاکھ سے زیادہ ملازمتیں دی جا سکتی ہیں۔ اگر ہم ترقی کے لیے اپنے سامنے اہداف رکھیں تو ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ ترقی کے لیے تمام صوبوں کا ایک ہی رفتار سے آگے بڑھنا ضروری ہے ورنہ ان چھوٹے صوبوں کے لوگ روزگار کی تلاش میں اپنے علاقوں کو چھوڑ کر پنجاب اور کراچی شفٹ ہوتے رہیں گے اور ان کے علاقے مزید بنجر اور خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں ہم نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو افغانستان کے پروکسی جنگوں کے لیے استعمال کیا اور ان کے وسائل پر توجہ نہیں دی، وہاں کی آبادی کو تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات مہیا نہیں کیں اور ساتھ ہی ان علاقوں میں منشیات اور اسلحہ کلچر کو پھلنے پھولنے دیا۔
ان علاقوں میں امن و امان کو خراب رکھا۔ ان علاقوں میں لگے سو سے زیادہ کارخانوں اور ملوں کو بند کر کے ان کو پنجاب منتقل کیا، ان علاقوں کی نوجوان نسل کو جہاد کے لیے تیار کیا اور اس جہاد کے لیے جس کا فائدہ امریکہ کو تھا، پھر لاکھوں افغانستانیوں کو ان کے تمام تر خرابیوں سمیت ان علاقوں میں بسایا اور ان کو ہر جرم اور غلط کام کی کھلی اجازت دی۔ ہر نئے سیاسی تجربے کے لیے اس خطے کا استعمال کیا۔ یہ وہ سب وجوہات ہیں جن کی سبب سے یہ علاقے ترقی کی رفتار اور ثمرات میں پنجاب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
پاکستان کی ترقی کے لیے درکار وسائل ان تینوں صوبوں اور شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں ان خطوں کو بھی پنجاب کی طرح توجہ دینی ہوگی۔ ان علاقوں تک موثر رسائی کے ذرائع پر کام کرنا ہو گا۔ ان علاقوں میں تعلیم کا معیار بہتر کرنا ہو گا۔ عملی تعلیم کا بندوبست کرنا ہو گا، ان علاقوں کو آئی ٹی کی سہولیات تک رسائی دینا ہوگی۔ ان کے وسائل کا فائدہ بھی ان پر خرچ کرنا ہو گا۔ تب کہیں جاکر ملک کی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
گزشتہ دو برسوں میں انڈیا نے لداخ میں اس علاقے کی ترقی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ حیران کن ہیں اور ان کے ثمرات بھی حیران کن ہیں۔ دو برسوں میں وہاں سینکڑوں تکنیکی سکولوں کا قیام، وہاں کی مقامی دستکاری اور کاروبار کو وسعت دے کر وہاں روزگار کے اتنے مواقع پیدا کر دیے ہیں کہ ہزاروں دیگر علاقوں کے لوگ بھی سخت موسم میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے وہاں جا رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں سوات جیسے علاقہ میں بھی روزگار کے مواقع دستیاب نہیں ہیں اور اس کی آبادی کا دس فیصد حصہ کراچی منتقل ہو چکا ہے اور مزید ہو رہے ہیں۔
یہی حال کوہستان اور دیگر علاقوں کا ہے جہاں کی نصف آبادی جنگلات کی کٹائی میں مصروف ہے اور نصف آبادی ہجرت کر کے پنجاب اور کراچی میں مزدوری کر رہی ہے۔ پشاور او ر ایبٹ آباد کو چھوڑ کر پورے خیبر پختونخوا میں صحت کے مسائل کے حل کے لیے ادارے اور ٹیکنیکل افرادی قوت موجود ہی نہیں ہے اور جو ادارے ان اضلاع میں کام کر رہے ہیں ان کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی سہولیات۔ چترال، دیر، کوہستان، شانگلہ، تورغر، مانسہرہ، وزیر ستان، کرم، باجوڑ، مہمند، خیبر، مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، لکی مروت، ٹانگ وغیرہ سے روزانہ ہزاروں مریضوں کو معمولی معمولی امراض میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پشاور آنا پڑتا ہے۔
اور پشاور میں بھی ان کا علاج کرنا کی جگہ ان کو لوٹا جاتا ہے۔ اس سے بدتر حالت بلوچستان اور اندرون سندھ کی ہے جہاں اس جدید دور میں بھی زندگی کی کوئی سہولت موجود ہی نہیں ہے۔ خوراک کے وسائل اگر ایک دو برسوں میں مقامی طور پر پیدا کرنے کی صلاحیت ان علاقوں میں پیدا نہیں کی گئی تو یہاں بدترین بحران ہو گا۔ پنجاب کی زرعی پیداوار ہاؤسنگ سکیموں کی وجہ سے ہر برس دس فیصد کم ہو رہی ہے اور وہاں کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
اور پھر دیگر علاقوں سے ان علاقوں کی طرف ہجرت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر حکومت وسائل کی منصفانہ تقسیم کا عمل شروع کرے تو پورا پاکستان چل پڑے گا۔ ورنہ آنے والے چند برسوں میں سارے لوگ کراچی، اسلام آباد اور پنجاب میں آباد ہوجائیں گے۔ اور باقی پاکستان ہڑپہ اور موہنجوداڑو بن جائے گا۔ کرک کا رہائشی جب لاہور میں جاکر دیکھتا ہے کہ ہر گھر میں گیس کی سہولت ہے اور اس کے گھر میں نہیں ہے حالانکہ گیس اس کی گھر میں پیدا ہوتی ہے۔
تو وہ کیا سوچے گا۔ کہ جس گیس اور تیل کی کنووں سے اربوں روپے ماہانہ کمائے جاتے ہیں ان میں سے چند ارب بھی اس کے علاقے کی سڑکوں اور ہسپتالوں پر خرچ نہیں ہوتے۔ اور تو اور ان گیس اور تیل کے کنووں میں اسے دیہاڑی پر ملازمت بھی نہ ملے اور دور کسی اور صوبے سے لوگ وہاں ملازمت کرتے ہوں اور اسے کہا جائے کہ مشرقی وسطی جاکر روزگار تلاش کرو تو اس کی دل پر کیا گزرے گی۔ ہے کسی کے پاس اس کا جواب۔ انتخابات کا سیزن شروع ہونے و الا ہے۔ وہ سیاست دان جو اسلام آباد اور لاہور میں گھر بنا کر مزے کر رہے ہیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں پہنچ کر اپنے اپنے علاقوں کی مظلومی کا رونا رو کر اور نعرے لگا کر پھر منتخب ہو کر واپس اسلام آباد چلے جائیں گے۔


آپ کا دکھڑا کافی حد تک جائز ہے لیکن بہت سے معاملات اور جگہوں پر ہر پاکستانی کی طرح آپ بھی غلط سمت چل پڑے۔ سن 2010 سے پاکستان میں 18 ویں ترمیم نافذالعمل ہے۔ یعنی اب تیرہ سال سے زائد عرصہ گزرچکا۔
آب پاشی کا نظام، چھوٹے ڈیم کی تعمیر، پانی پر بجلی کے منصوبے، جنگلات، ہر طرح کی زراعت، معدنیات، گیس، یہ سب متعلقہ صوبوں کے اختیارات ہیں۔
یعنی اگر آپ کو دکھ ہے کہ کے پی کے بہتے پانی پر منصوبے نہیں بنے تو قصور پنجاب یا اسلام آباد کا کہاں سے ہوگیا
اگر کوئی صوبہ معدنیات سے لبریز ہے تو اسکو ترقی کرنے سے کس نے روکا ہے۔ وفاقی ادارے ویسے بھی اب معدنیات کے پنگوں میں نہیں پڑتے کیونکہ پیسہ وہ اگر لگائیں گے تو فائدہ متعلقہ صوبہ لے جائے گا۔ یہی گیس اور تیل کا بھی حال ہے۔ روس سے بقول آپکے جو خام لوہا آرہا ہے اس سے کے پی والے خود اسٹیل مل لگاکراسٹیل کیوں نہیں بنالیتے۔
زراعت اور جنگلات صوبے کا درد سر بھی ہیں اور فائدہ نقصان اپنا اپنا۔
پی سی بی کے ہیڈ کی تعیناتی پنجاب کی وجہ سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہے۔
اگر پاکستان میں کہیں صحت مند پانی موجود ہے جو بقول آپ کے کڑوڑوں نہیں اربوں ڈالر دے سکتا ہے تو فوراً اس صوبے کے صاحب اختیار سے ملیں۔ اپنا پلان ضرور ان سے شیئر کریں ویسے خود سندہ اور پنجاب میں ہی
صاف پانی کی بڑی ڈیمانڈ ہے کیا آپ بتائیں گے یہ قیمتی پانی آپ کیسے سندہ اور پنجاب تک پہنچاسکتے ہیں۔ جب یہ اندرون ملک نہیں جاسکتا تو بیرون ملک کیسے جائے گا۔
جہاں تک اورنج ٹرین اور میٹرو کے اوپر دی جانے والی سبسڈی کا تعلق ہے یہ سوال جائز ہے اگر سبسڈی پنجاب کے بجٹ سے نہ جارہی ہو۔ اگر وفاق یا کوئی اور صوبہ اسکا خرچ اٹھارہا ہے تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹالیں۔