کینیڈا میں بچوں کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے


محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آداب و تسلیمات

آپ کا از حد ممنون ہوں کہ آپ نے میرے گزشتہ خط کا تفصیلی، پر مغز اور مفید جواب رقم کیا جس میں نہ صرف ”ڈھلتی عمر کی اداسی“ کے احساس کی وضاحت کی بلکہ اس کی علمی یا سائنسی حقیقت اور مختلف صورتوں سے بھی آگاہی عطا کی اور ساتھ ہی ساتھ اس احساس سے نمٹنے کے لیے کچھ موثر طریقے بھی درج دیے۔ آپ نے جیتی جاگتی مثالوں کا سہارا لے کر موضوع کا جس انداز میں جائزہ لیا ہے اس سے ”یاسیت“ کی دیدہ اور نادیدہ شکلیں پڑھنے والے پر واضح ہوجاتی ہیں۔ اور اس پر آپ کا تخلیقی رچاؤ کا حامل انداز بیاں اور شعری اور ذاتی حوالے۔ کیا کہنے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے خط سے میری طرح بہت سوں نے استفادہ کیا ہو گا۔

آپ کی من چاہی ”پاپی“ اور ”پارسا“ کی تقابلی ’شرارت‘ سے نظر چراتے ہوئے اب میں آپ کے خط کے آخر میں درج چلڈرنز ایڈ سوسائٹی اور کینیڈا میں بچوں کے حقوق کے بارے میں لائق توجہ سوالات کی جانب آنا چاہتا ہوں۔

محترم ڈاکٹر صاحب،

غالباً آپ کے علم ہو گا کہ کہ 2007 میں سوشل ورک میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد میری پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز چلڈرنز ایڈ سوسائٹی ہی کی ملازمت سے ہوا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں دوران تعلیم وہیں پریکٹیکل کر رہا تھا یعنی عملی تعلیم و تعلیم و تربیت کی تکمیل کے لیے اس سے منسلک تھا۔ اور دوسرے یہ کہ ایک سے زیادہ زبانیں جاننے کے سبب میں اس ادارے کے ذریعے بہتر اور زیادہ بچوں اور خاندانوں کی مدد کر سکتا تھا جو میں نے کی بھی۔ زبان اور ثقافت سے عدم آشنائی یا کم واقفیت کے باعث کئی کیس تعطل کا شکار تھے جن کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے میں میری خدمات مددگار ثابت ہوئیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی بہبود اور حفاظت کے ضمن میں کینیڈا نے بھی دوسرے ممالک کی طرح اقوام متحدہ کے کے متعلقہ چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں۔ بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کا کنونشن (UNCRC) ایک قانونی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد ہر بچے کے بنیادی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور دیگر حقوق کو یقینی بنانا ہے، قطع نظر اس کی نسل، مذہب یا صلاحیت کے۔ بہبود کے اسی کنونشن کی روشنی میں بچوں کی بہبود کے یہ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ بہت سے اداروں نے اب اپنا نام سی اے ایس سے بدل کر فیملی اینڈ چلڈرن سروسز کر دیا ہے تاکہ اس عام تاثر کی نفی کی جا سکے کو یہ ادارے والدین سے بچوں کو چھیننے کی غرض سے معرض وجود میں آئے ہیں۔

میں ان اداروں کی کارکردگی کی تاریخ اور تنازعات کی تفصیلات میں جائے بغیر بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان اداروں سے منسلک بعض ورکرز کے فیصلوں پر عدم اعتماد اور اس معاملہ کی حساسیت سے جنم لینے والے اثرات کے باوجود مجموعی طور پر ان اداروں نے بچوں کی بہبود و حفاظت کو یقینی بنانے میں، کم از کم، کینیڈا کی حد تک تو کافی لائق توجہ کام کیا ہے۔

یہ تاثر صد فی صد سچائی پر مبنی نہیں کہ چلڈرنز ایڈ سوسائٹی کے کارکن بلا وجہ بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے کے درپے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ازخود یا بلاوجہ ہی اپنی کارروائی کا آغاز نہیں کر دیتے۔

انھیں کمیونٹی سے میں سے کوئی نہ کوئی رپورٹ کرتا ہے۔
جس پر وہ حرکت میں آتے ہیں اور اس کارروائی میں بھی طے شدہ طریق کار پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

شکایت موصول ہونے پر اس کی تفتیش کرنا بھی ان کا فریضہ ہے اور اس بات کا تعین کرنا بھی کہ شکایت درست ہے یا نہیں اور اگر درست ہے تو بچے یا بچوں کی حفاظت کو کس طور یقینی بنایا جائے۔

بچوں کو فوری طور پر فاسٹر ہوم میں منتقل نہیں کر دیا جاتا۔

اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ضرورت کے مطابق فاسٹر ہوم موجود ہی نہیں ہیں اور پھر ورکرز کی کمی کا مسئلہ بھی ان اداروں کو درپیش رہتا ہے۔

بہرحال ایک طویل پراسیس کے بعد اگر عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ حقیقی والدین جسمانی یا ذہنی طور پر بچے کی ضروریات پوری کرنے کے اہل نہیں تو وہ ادارے کو حکم دیتی ہے کہ متاثرہ بچے کے لیے متبادل ہوم کا بندوبست کرے۔

اس مرحلہ پر سب سے پہلے قریبی رشتہ داروں سے رجوع کیا جاتا ہے۔ اگر وہاں بات نہ بنے تو پھر دوسری آپشنز زیر غور لائی جاتی ہیں۔

اور ہاں، فاسٹر ہوم جانے کے بعد بھی اکثر صورتوں میں حقیقی والدین ادارے کی نگرانی میں اپنے بچوں سے مل سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

میں نے دو برس فیملی اینڈ چلڈرنز سروسز یعنی چلڈرنز ایڈ سوسائٹی کے ساتھ کام کیا اور متعدد مواقع پر محض بعض رویوں میں تبدیلی کا مشورہ ہی کافی رہا اور کئی ایک تو، جیسا کہ میں نے عرض کیا، محض اس وجہ سے زیر تفتیش آئے کہ سکول کی استانی یا کوئی پڑوسی زبان اور محاورے سے عدم واقفیت کے باعث کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے۔ میں تو اب اس ادارے سے منسلک نہیں تاہم مقامی چلڈرنز ایڈ سوسائٹی مقامی وسائل کے بارے میں جاننے کے لیے یا زبان و ثقافت کے باعث فیملی کی سہولت کے لیے مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔

میرا ایک مشاہدہ یہ بھی ہے کہ خاص کر ایسے معاشروں سے نئے آنے والے خاندان جہاں بچوں اور خواتین کے حقوق کو اہمیت نہیں دی جاتی اکثر گھریلو جھگڑوں کے اور بچوں کی نگہداشت میں عدم احتیاط کے سبب قانون کے گھیرے میں آ جاتے ہیں۔ میں نے سماجی خدمات کے شعبے میں اپنے سولہ برس کے دوران میں بھارت، پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ویت نام اور کئی افریقی ممالک کے کتنے ہی باشندوں اور خاندانوں کو ایسی قانونی مشکلات کا شکار دیکھا ہے۔

معاشروں میں فرق کے باعث ان کے لیے یہ حقائق قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ عورتیں اور بچے بھی مکمل افراد ہوتے ہیں اور مساوی حقوق کے حق دار ہوتے ہیں۔ بعض معاشروں میں بچوں پر والدین کے حقوق کو ”ملکیتی“ رنگ بھی دیا جاتا ہے جیسا کہ مردوں کو عورتوں پر مقدم خیال کیا جاتا ہے اور اس بحث کا مذہبی، سماجی اور ثقافتی پس منظر بہت پیچیدہ اور الجھا ہوا ہے۔ بہرحال دیگر بہتر انسانی معاشروں کی طرح کینیڈا میں بھی والدین کو بچوں نگران تصور کیا جاتا ہے اور ریاست کی جانب سے بچوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ریاست کی جانب سے باقاعدہ مالی امداد مہیا کی جاتی ہے۔

یہاں بچوں کے افعال لے ضمن میں ”سزا“ دینے کے بجائے ”ڈسپلن“ کرنے یا بہتر تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

میں ایک بار پھر وضاحت کردوں کہ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ بچوں کی بہبود کے شعبے میں یہاں بے قاعدگیاں نہیں ہوئی ہوں گی اور لوگوں کو منفی تجربات نہیں ہوئے ہوں گے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ورکرز کی ثقافتی تربیت اور کثیر اللسانی سٹاف کی موجودگی کے باعث اب یہ ادارے بھی معاشرے میں اپنا امیج بہتر بنانے میں کام یاب ہو رہے ہیں۔

اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ والدین ہی بچے کی بہترین پرورش کر سکتے ہیں۔ بہبود کے یہ ادارے اس امر کو یقینی بنانے کا فریضہ انجام دینے پر مامور ہیں کہ بچوں کی بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ ضروریات جسمانی بھی ہو سکتی ہیں اور نفسیاتی بھی۔ اور یہ بھی کہ بچے جسمانی اور ذہنی طور پر ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہوں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اکثر والدین، رشتہ دار اور اساتذہ ہی بچوں کے حقوق کی پامالی کے ذمہ دار نکلتے ہیں۔

کیونکہ بچے زیادہ تر انھی کے زیر اثر ہوتے ہیں اور پھر یہ کہ وہ بڑوں کی طرف سے زیادتی کا نہ جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو بتانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسی زیادتیوں کا شکار ہونے والے بچے بعض اوقات عمر بھر نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ مستقبل میں رشتوں پر اعتماد نہیں کر پاتے اور مختلف عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں اور بدترین صورت کے بارے میں سوچیں تو بچپن کے یہ مظلوم بچے بڑے ہو کر خود ظالم کا روپ دھار لیتے ہیں۔ آپ خود ایک کام یاب ماہر نفسیات ہیں اور اس صورت حال اور اس کے اثرات کا بہتر ادراک رکھتے ہیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں والدین بچوں کو ادب و احترام اور اپنی اقدار کی قدر کرنے کی تلقین کرتے ہیں وہاں وہ خود بھی بچوں کے حقوق کے بارے میں جانیں۔ ان کی تربیتی مراحل کی ضروریات کا لحاظ رکھیں اور انھیں تحفظ فراہم کریں۔ دوسری جانب بچوں کو بھی اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے اور اس ضمن میں تعلیمی ادارے اور بچوں کے بہبود کے ادارے باقاعدہ کوشاں ہیں۔

ڈاکٹر صاحب،

یہ موضوع حساس بھی ہے اور تفصیل طلب بھی۔ ایک خط میں اس کا احاطہ ممکن نہیں۔ چند معروضات و مشاہدات رقم کرنے پر ہی اکتفا کر رہا ہوں۔

دعا کے ساتھ
حامدیز دانی
30 نومبر 2023

٭٭٭         ٭٭٭

خالد سہیل کا خط
۔ ۔ ۔
محترمی و مکرمی حامد یزدانی صاحب!

آپ نے اپنے تجربے ’مشاہدے اور مطالعے کی روشنی میں کینیڈا میں بچوں کے حقوق کے بارے میں جو تفصیلی خط لکھا ہے اس نے میری معلومات میں بہت اضافہ کیا ہے اور مجھے قوی امید ہے کہ اس سے‘ ہم سب ’کے قارئین بھی استفادہ کریں گے۔

مجھے تو یہ پتہ ہی نہ تھا کہ کینیڈا نے اقوام متحدہ کے ساتھ بین الاقوامی معاہدہ کر رکھا ہے اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ چلڈرن ایڈز سوسائٹی اب فیمیلی اینڈ چلدڑن سروسز کہلاتی ہے۔

اب میرا خیال ہے کہ آپ کے علم ’تجربے اور دانائی سے فیضیاب ہونے کے لیے ہمیں خطوط کا یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

حامد یزدانی صاحب!

آپ کا خط پڑھتے ہوئے مجھے وہ خبر یاد آ گئی جو کئی برس پیشتر میں نے مقامی اخبار میں پڑھی تھی۔ ان دنوں اونٹاریو کی مینانائٹ کمیونٹی ایک بحران کا شکار تھی۔ آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں گے کہ مینانائٹ کمیونٹی بہت روایتی اور مذہبی ہے۔ آپ اگر اس کمیونٹی میں سیر کریں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ لوگ اکیسویں صدی کی بجائے آج بھی سترہویں صدی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس شہر کے سب مرد و زن و بچے کالے کپڑے پہنتے ہیں اور گھوڑا گاڑی پر سفر کرتے ہیں۔ اتوار کے دن گرجے کے باہر بیسیوں گھوڑا گاڑیاں گھڑی ہوتی ہیں۔ میں جس دن ان گلیوں بازاروں میں گھوم رہا تھا اس دن مجھے بچپن کا لاہور یاد آ رہا تھا جب ہم اپنی خالہ کے گھر ٹانگے پر بیٹھ کر جایا کرتے تھے۔

مینانائٹ جدید کاروں اور ٹکنالوجی کے خلاف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں جدید سائنس اور ٹکنالوجی نے انسانیت کو گمراہ کر دیا ہے۔

وہ لوگ مذہبی روایات کی پاسداری کرتے ہیں اور ان کی مذہبی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ بچوں کی اصلاح کے لیے انہیں چھڑی یا ڈنڈے سے مار سکتے ہیں۔

جب چلڈرن ایڈز سوسائٹی کو کسی نے خبر دی کہ انہوں نے ماؤں کو بچوں کو مارتے پیٹتے دیکھا ہے تو چلڈرنز ایڈز سوسائٹی کی سوشل ورکرز وہاں پہنچ گئیں۔ انہوں نے ماؤں سے کہا کہ وہ بچوں کو مارنا پیٹنا چھوڑ دیں کیونکہ کینیڈین قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ کینیڈین قانون کے مطابق والدین بچوں کو PHYSICAL PUNISHMENT نہیں دے سکتے کیونکہ ایسی مار پیٹ محبت کی بجائے تشدد میں شمار ہوتی ہے۔ کینیڈین قانون چاہتا ہے کہ ماں باپ بچوں کو پیار محبت سے سمجھائیں اور بات چیت اور مکالمہ کرنے سے مسائل حل کریں۔

سوشل ورکرز کا خیال تھا کہ ان کی گفتگو کے بعد مینانائٹ مائیں معافی مانگیں گی اور آئندہ مار پیٹ سے احتراز کرنے کا وعدہ کریں گی۔ لیکن ان ماؤں نے سوشل ورکرز سے کہا

’جو حق ہمیں خدا نے دیا ہے وہ آپ ہم سے کیسے چھین سکتی ہیں؟‘
سوشل ورکرز کو ایسے جواب کی بالکل توقع نہ تھی۔

میں نے پھر اخبار میں نہیں پڑھا کہ ان سوشل ورکرز نے والدین کی مذہبی روایت اور ریاستی قانون کے اس تضاد کا کیا حل نکالا؟

حامد یزدانی صاحب!

انسانی نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناتے میرے لیے یہ موضوع ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہا ہے کہ جب کسی انسان کے سامنے دو راستے ہوں ایک مذہب کا راستہ اور ایک قانون کا راستہ تو وہ انسان کس راستے کا چناؤ کرتا ہے؟

چلے دیکھتے ہیں آپ اور ’ہم سب‘ کے قارئین اس حوالے سے کیا جواب دیتے ہیں؟
آپ کا مداح
خالد سہیل

Facebook Comments HS