ہنری کسنجر:مری صدا مرے کانوں میں لوٹ آتی ہے
ہنری کسنجر ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ تاہم ان کے غیرمعمولی ہونے کا فائدہ انہیں اور امریکا کو ہی ہوا۔ عالمی سطح پر امن، استحکام اور انصاف کا بول بالا نہ ہوسکا۔ مفاد کے حصول کے لیے استدلال کی اپنی ٹکسال سے اصول، قانون، تشریح و تعبیر اور اصطلاحات گھڑی گئیں۔ اپنے مفاد اور دوسروں سے عناد کی پالیسی سے چیزوں کو خاص زاویے سے دیکھنا معمول رہا۔
ہنری کسنجر نے امریکہ کو سیکورٹی اور سفارت کاری کی راہ سجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب تک امریکا باقی ہے، کسنجر کی سوچ، فکر اور عملیت پسندی امریکی فیصلہ سازی اور اقدامات میں جھلکتی رہے گی۔ وہ حکومتی عہدوں پر صرف دو ری پبلکن صدور نکسن اور فورڈ کے ساتھ رہے مگر وہ ہر دور اور ہر صدر پراثر انداز ہوتے رہے۔ ہنری کسنجر کی شخصیت میں ایک طرف خوف دوسری جانب اقتدار اور طاقت کا حصول، خوف کا احساس کم کرنے کے لیے ان کی ضرورت رہا۔ ہنری کسنجر ایک جملہ بہت شوق سے کہا کرتے تھے کہ ’طاقت سب سے شہوت انگیز غذا ہے۔
ہٹلر کے بارے میں منفی رد عمل بالآخر ان کی شخصی خصوصیات کا حصہ بن گیا۔ یہودیوں کی ہٹلر اور نازیوں سے شدید نفرت کے باوجود فلسطینیوں کے ساتھ نازیوں کی طرح ظلم و جبر روا رکھنا اسی نفسیات کا مظہر ہے۔ ہنری کسنجر کی پیدائش (مئی 1923 ء) کے وقت نازی، جرمنی میں تھے۔ امریکا ان کی جائے پناہ بنا تو وہ ہائینز کسنجر سے ہنری کسنجر بن گئے۔ ایک ابھرتی ہوئی نئی عالمی طاقت میں نقل مکانی اور حصول تعلیم نے ان کے لیے عزت و شہرت کی ساری منزلیں آسان تر بنا دیں۔ وہ سات دہائیوں تک مسلسل امریکا میں ایک اہم شخصیت اور معتبر حوالہ رہے۔ نوجوانی کی طوفانی نفرت کی تسکین کے لیے اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی ہنری کسنجر امریکی فوج میں بھرتی ہوئے اور اس کے ساتھ جنگ عظیم دوم کے دوران ہٹلر کی سرزمین پر انتقام کے لیے سفر کیا۔
جرمنی سے واپسی کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرنے پر توجہ دی۔ خارجہ امور کی سمجھ اور شعور کے لیے اس بارے میں مضامین کا انتخاب کیا اور امریکی ادارے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ منسلک ہو گئے۔
ان کی کتاب ’ایٹمی جنگ اور خارجہ پالیسی‘ شائع ہوئی، جس میں یہ تصور دیا گیا کہ محدود پیمانے پر ہونے والی ایٹمی جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔
اس کتاب کی بدولت شہرت کی جانب کسنجر کا لانگ مارچ شروع ہوا۔ ’چھوٹی ایٹمی جنگ‘ کا ان کا نظریہ اب بھی خاصا مقبول ہے۔ ہنری کسنجر نے وزیر خارجہ بننے کے محض دو ہفتے بعد (اکتوبر 1973 ء میں) عرب اسرائیل جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی جہاز اور اسلحہ اسرائیلی امداد کے لیے روانہ کر کے جنگ کا اختتام اسرائیل کے حق میں کروایا۔ اسی طرح 7 اکتوبر 2023 کی حماس اسرائیل جنگ کے آغاز پر ہی امریکی بحری بیڑے اسرائیل کی مدد کے لیے روانہ کر دیے گئے۔ گویا وہی سوچ اس وقت بھی امریکا میں روبہ عمل ہے۔
صدر رچرڈ نکسن نے 1969 ء میں ہنری کسنجر کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا تو انہوں نے امریکہ کو ویت نام جنگ کی دلدل سے نکالنے میں فعال کردار ادا کیا۔ بعد ازاں اپنی انہی خدمات کی وجہ سے وہ وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔ وہ بیک وقت دونوں عہدوں پر کئی سال فائز رہے۔
سرد جنگ کے زمانہ عروج میں صدر نکسن اور کسنجر نے سوویت یونین کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا فیصلہ کیا اور جوہری ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھایا۔
چین سے تعلقات کو اپنی ضرورت اور مفاد میں دیکھا تو کسنجر نے چین کے ساتھ امریکی تعلقات قائم کرنے میں کردار ادا کیا، علیل ہونے کی جھوٹی خبروں کے کور میں وہ پاکستان سے چین پہنچے۔ ان کی کوششوں کی ہی بدولت 1972 میں نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا اور چو این لائی اور ماؤزے تنگ سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے سے امریکہ اور چین کے درمیان 23 برس سے جاری سفارتی کشیدگی ختم ہوئی۔
کسنجر نے جس سے جس لہجے میں بات کرنا چاہی کرتے رہے۔ اندرا گاندھی کی ڈانٹ ڈپٹ ہویا پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ’خوفناک انجام کی دھمکی دی‘ وہ کبھی نہیں ہچکچائے۔ ہنری کسنجر نے اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی کی جو داغ بیل ڈالی وہی اکتوبر 1973 ء سے اب تک جاری ہے۔
وہ سفارتی و خارجی محاذ پر امریکا کو فکر و عمل کا ایک خاص نظام دے کر گئے جو امریکی خوف کے ازالے اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختص ہے۔ شٹل ڈپلومیسی، بیک چینل اور بیک ڈور ڈپلومیسی میں بھی ہنری کسنجر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کے غیر معمولی کردار نے ہر امریکی مشیر برائے قومی سلامتی اور وزیر خارجہ کو عملاً دنیا بھر کے لیے امریکی وائسرائے کا مقام دلوایا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ہنری کسنجر ایک انتھک شخصیت تھی۔ اسی لیے ان کے لیے 90 سال کی عمر میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر کتاب لکھنا ممکن ہوا۔
ہنری کسنجر پاکستان پر خاصے ”مہربان“ رہے۔ 28 اپریل 1977 کو پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’امریکہ پاکستانی حکومت کے خلاف مداخلت کر رہا ہے اور اپوزیشن کے ذریعے مجھے ہٹانا چاہتا ہے۔ بھٹو کا یہ بیانیہ تھا کہ میرے خلاف عالمی سازش کو امریکہ نے مالی مدد فراہم کی اور مخالفین کو سازش میں مہرہ بنایا۔ یاد رہے کہ حکومت گرنے سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ 2022 کو ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بیرون ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے 51 برس قبل الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے۔ بھٹو نے امریکی مداخلت کی یہ وجوہات بیان کیں۔
1۔ ’ویتنام جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنا۔ 2۔ اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دینا۔ 3۔ پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا عزم کرنا۔ 4۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرنا۔ اس تقریر میں انھوں نے امریکہ کو ایک ہاتھی قرار دیا جو بھولتا ہے نہ معاف کرتا ہے۔ ہنری کسنجر کے خبردار کرنے کے باوجود جب بھٹو نے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو کسنجر نے دھمکی دی کہ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا۔ کسنجر کا یہ مبینہ جملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج بھی گونج رہا ہے اور پاکستان آج جن حالات کا سامنا ہے اس میں اس دھمکی اور اس کے نتائج کا بہت بڑا کردار ہے۔ اگر چہ بعض دانشور اس دھمکی کی تردید کرتے ہیں۔
بھٹو پاکستان پر انڈیا کے تسلط کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ چنانچہ 1965 سے ہی وہ جوہری پروگرام سے متعلق ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’متھ آف انڈیپینڈنس ( 1970 ) میں لکھا کہ اگر انڈیا نے ایٹمی برتری حاصل کر لی تو وہ ہمیں بلیک میل کرتا رہے گا۔ اسے پاکستان کی ائر فورس پربھی برتری حاصل ہو جائے گی اور پاکستان شمالی علاقہ جات اور کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ باقی پاکستان کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ کر ختم کر دیا جائے گا۔
1974 میں جب انڈیا نے‘ سمائلنگ بدھا ’کے نام سے ایٹم بم کا تجربہ کیا تو بھٹو نے ہنری کسنجر سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کی سالمیت اور بقا کو خطرہ ہے۔ جواب میں کسنجر نے کہا کہ جو ہونا تھا ہو چکا اب پاکستان کو اس حقیقت کے ساتھ گزارا کرنا ہو گا۔ بھٹو اس کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید سنجیدہ ہو گئے۔ بھٹو کا ایک قصور یہ بھی تھا کہ انھوں نے 1974 میں اسلامی ممالک کے اہم رہنماؤں کو اکٹھا کیا اور سربراہی کانفرنس میں یہ قراردادیں منظور ہوئیں کہ مسلم دنیا کی اپنی کرنسی اور اپنی پارلیمنٹ ہو، تیل کی قیمتیں مسلم ممالک خود طے کریں وغیرہ وغیرہ۔ یہ باتیں امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔
گزشتہ صدی کے دوران دنیا بھر میں ہونے والے بڑے واقعات میں کسنجر ایک اہم کردار رہے۔ بہت سے لوگوں کی نفرت اور غصے کے باوجود بھی وہ امریکی مفادات کے دفاع کے بارے میں کبھی معذرت خواہ نہیں رہے۔ کسنجر نے کہا کرتے تھے کہ ’ایسا ملک جو اپنی خارجہ پالیسی میں اخلاقیات کا مطالبہ کرتا ہے، وہ نہ تو کمال حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی سکیورٹی۔ نازی خوف اور امریکی طاقت کے امتزاج نے کسنجر کی شخصیت کو اس شعر کا مصداق بنا دیا تھا:
عجیب خوف کا گنبد ہے میرے چار طرف
مری صدا مرے کانوں میں لوٹ آتی ہے




