ہر تصویر ایک داستان

کسی نے کہا تھا کہ ایک تصویر ہزار الفاظ بیان کرنے کے برابر ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی یہاں ہر تصویر کے ساتھ ایک پوری داستان ہے۔ یہ تصاویر ہیں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی۔ ایک داستان ہے نوجوان بیٹے کی جو اپنے بابا کی تلاش میں نکلا ہے۔ تو دوسرے میں بوڑھے بابا کو اپنے نوجوان بیٹے کی تلاش۔
ایک روتے ہوئے کہتا ہے ”میں چھ سال کا تھا جب میرے بابا کو لاپتہ کیا گیا تھا۔ پتہ نہیں وہ اب مجھے پہچان پائے گا۔“ دوسرے میں بوڑھا بابا کہتا ہے کہ میں ستر سال کا بوڑھا، میرے بڑھاپے کا سہارا میرا بیٹا مجھے لوٹا دو۔ پھر چیخ چیخ کر غم سے نڈھال کبھی اپنی بے بسی پر ماتم کرتا ہے تو کبھی بد دعائیں دیتا ہے۔
ہر تصویر ایک کہانی ہے۔
یہ تربت کے شہید فدا چوک کا منظر ہے جہاں ایک علامتی تابوت کے گرد سینکڑوں خواتین، مرد اور بچے اپنے لاپتہ پیاروں کے تصاویر اٹھائے پچھلے دو ہفتوں سے بیٹھے ہیں۔ یہ خاندان تربت اور گرد و نواح سے آ کر یہاں اس لیے بیٹھے ہیں کہ کہیں ان کے لاپتہ افراد کو لاش کی صورت میں بازیاب نہ کیا جائے۔ ان تصاویر میں مختلف ناموں کے ساتھ جو چیز مشترک ہے وہ ہے لفظ ”بلوچ اور لاپتہ“ ۔ اس کے علاوہ ہر تصویر کی ایک اپنی کہانی ہے۔
سات سالہ کلثوم بلوچ کے ننھے ہاتھوں میں ان کے بھائی اسرار بلوچ کی تصویر ہے جسے اس نے پیدا ہوتے ہی صرف تصاویر میں دیکھا ہے۔ اسرار برکت بلوچ کو 2015 میں کوئٹہ سے لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ کلثوم جب کسی کیمرہ اور مائک کو اپنی طرف آتے دیکھتی ہے تو انھیں لگتا ہے جیسے یہ کیمرہ ان کی آواز ان تک پہنچاتے ہیں جنھوں نے ان کے بھائی کو لاپتہ کر دیا ہے۔ وقت و حالات نے اس چھوٹی بہن کو ایسے ٹرین کیا ہے کہ اب روانی کے ساتھ کہیں بھی اپنا دکھڑا سنا سکتی ہے اور اپیل کرتی ہے کہ ان کے بھائی کو بازیاب کیا جائے۔
دھرنے کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک شخص بتاتے ہیں کہ گزشتہ دنوں باری باری تمام لاپتہ افراد کا نام لے کر وہ نعرہ لگا رہے تھے کہ ایک بوڑھی ماں سے برداشت نہیں ہوا اور اٹھ کر میرے قریب آ کر کہنے لگی تم میرے بیٹے کا نام کیوں نہیں لے رہے۔ ان ماؤں کو اس دھرنے میں انتظار رہتا ہے کہ کب ان کے بیٹے کا نام لے کر نعرہ لگایا جائے گا کہ لاپتہ فلاں شخص کو بازیاب کرو۔ یہی تصاویر اور نعرے ان کی امیدیں ہیں۔
بالاچ مولابخش نامی نوجوان کی مبینہ فیک انکاؤنٹر کے بعد سے یہ احتجاج جاری ہے۔ بالاچ کی خاندان کے مطابق بالاچ کو گھر سے جبری گمشدگی کا شکار کیا گیا تھا اور بعد میں فیک انکاؤنٹر میں انھیں قتل کر کے لاش ورثہ کے حوالے کیا گیا۔ بالاچ کی میت چھ دن تک اسی چوک پر رکھا گیا جسے بعد میں دفنایا گیا مگر باقی لاپتہ افراد کے لواحقین اسی خوف سے یہاں بیٹھے ہیں کہ کہیں ان کے لاپتہ پیارے بھی تابوت میں ان کے حوالے نہ کیے جائیں۔ ان لواحقین کے پاس دیکھنے میں تو ایک مشترکہ غم ہے۔ ہاتھ میں تصویر اور زبان پر نعرے ہیں لیکن ہر تصویر کو اٹھانے والی کی تصویر میں ایک داستان ہے۔

