چقو ہے میرے پاس! مردوں پر بھی ذرا نظر کرم!


ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں کہ عورتیں مظلوم اور مرد ظالم ہوتے ہیں۔ مرد اور خواتین اپنی نگارشات میں یہی کہتے ہیں۔ کبھی کسی نے مردوں کی مظلومیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ خود مرد بھی یہی کہتے ہیں تو یا تو یہ بالکل ٹھوس حقیقت ہے یا پھر افسانہ اور سنی سنائی بات کو سوچے سمجھے بغیر دو ہرانا اور دوغلی حکمت عملی ہے۔

اصل حقیقت آدھا گلاس بھرا ہوا ہونا ہے۔ اگر مرد ظالم ہوتے ہیں تو عورتیں بھی ظلم کرتی ہیں۔ اور ان میں سے بہت سی باتوں کے ہم چشم دید گواہ ہیں لیکن پردہ رکھنے کے لیے نام شائع نہیں کر رہے ہیں۔ زیل میں ہم انہی آدھے مظلوم مردوں پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ہم اگر مردوں پر ہونے والے مظالم کو بیان کرنا شروع کریں تو دفتر کے دفتر بھر جائیں گے۔ مرد دراصل اپنی مردانگی اور اناء کے غرور کی وجہ سے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو چھپاتے ہیں۔

ایک طرف معاشرے نے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے عورت کو چھوئی موئی اور سجاوٹ کی چیز بناء کر رکھ دیا ہے کہ جو سنگھار کرنے اور خود کو شوہر کے لیے سجانے میں مصروف رہتی ہے اور اسے معاشرے، معیشت کو آگے بڑھانے اور ترقی دینے کے عمل سے باہر کر دیا ہے۔ جو عورتیں اس معاشرے میں معیشت کو بہتر کرنے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں، یہ وہی جانتی ہیں کہ کیسے یہ کام کر رہی ہیں۔ لڑکیوں کو ہر وقت کہا جاتا ہے کہ تم کمزور، نازک ہو یہ کام مت کرو، یہی وجہ ہے کہ وہ سکول میں تو کئی کلو وزنی بستہ آرام سے لاتی، لے جاتی ہیں، لیکن شادی کے بعد شوہر کے ساتھ باہر خریداری کے لیے جائیں تو بچہ اور خریداری کے لفافے اسے سونپ دیتی ہیں، خود خالی ہاتھ بیگ جھلا رہی ہوتی ہیں اور شوہر بچے اور خریداری کا سامان اٹھائے یوں ساتھ چل رہا ہوتا ہے جیسے وہ ملازم ہو۔

تقریباً ہر گھر میں لڑکیاں اور لڑکے ہوتے ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا ہو کہ بہت سارے گھروں میں کیسے جب بیٹیوں کو سکول یا مدرسے بھیجا جاتا ہے تو پیار اور شفقت سے جبکہ بیٹوں کو دھتکار کر بھیجا جاتا ہے۔ لڑکے اگر سکول میں کسی استاد وغیرہ کے غلط رویے کی شکایت کریں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مرد بنو مرد، مرد روتے نہیں ہیں۔ لڑکوں کے ساتھ تو تڑاخ سے بات کی جاتی ہے۔ لڑکا سکول جانے کی تیاری کر رہا ہو تو اسے ڈپٹ کر کہا جاتا ہے کہ یہ تم کیا سستی دکھا رہے ہو، نالائق جلدی سے تیار ہو کر آؤ۔

جبکہ لڑکیوں کو مائیں بڑے پیار سے سکول بھیجنے کی خود تیاری کرواتی ہیں، اپنے ہاتھ سے ان کی زلفیں سنوارتی ہیں جبکہ لڑکوں کی تو بہت ساروں کے بالوں میں کنگھی تک نہیں ہوتی۔ لڑکوں کو خواہ مخواہ بانس پر چڑھایا جاتا ہے کہ مرد بنو، مرد روتے نہیں ہیں، یہ کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہانے لگے ہو، اگر سکول میں استاد مارتے ہیں تو تمھاری بھلائی کے لیے کرتے ہیں۔ لڑکوں کو اتنی پریشانی ہوتی ہے کہ سکول جاتے ہوئے اکثر کے چہروں پر پھٹکار برس رہی ہوتی ہے اور پھر جب سکول کے اندر بھی مار پڑتی ہے تو وہ اس غصے اور اضطرابی کو رفع کرنے کے لیے چھٹی ہونے پر باہر نکلتے ہیں تو آپس میں لڑتے بھڑتے ہیں۔

کتوں بلیوں کو لاتیں مارتے ہیں۔ سکول واپسی پر بھی ان کے ساتھ تو تڑاخ سے بات اور ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔ اوئے جاؤ، فلاں کی دکان سے یہ چیز لے آؤ، فلاں رشتہ دار کے گھر یہ چیز لے آؤ یا دے آؤ۔ جس سے فرار کا راستہ وہ یہ نکالتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا بہانہ کر کے گھر سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جبکہ لڑکیوں کو سکون سے گھر میں رہ کر پڑھائی کا موقع مل جاتا ہے اور پھر جب نتائج آتے ہیں تو لڑکیاں آگے اور لڑکے پیچھے ہوتے ہیں۔

جب لڑکوں کو پڑھائی کا زیادہ موقع نہیں ملے گا تو پھر ایسے ہی نتائج آئیں گے۔ یوں لڑکیوں کو اعتماد ملتا جاتا ہے جبکہ لڑکے مضطرب ہو کر گیند بلا لے کر ادھر ادھر بولائے پھرتے ہیں۔ اوپر سے انہیں لوفر لفنگے کا خطاب دیا جاتا ہے۔ لڑکیوں پر پوری توجہ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کامیاب ہوتی ہیں جبکہ لڑکوں کو یوں ہی خواہ مخواہ بانس پر چڑھایا جاتا ہے کہ تم ہمارے وارث ہو تم ہی یہ گھر سنبھالو گے جبکہ بہنیں تو جوان ہو کر دوسرے گھر کو چلی جائیں گی۔ باپ اگر بیٹے کی پٹائی کر رہا ہو تو عام طور پر مائیں اپنی عزت سادات بچانے کے لیے سامنے نہیں آتیں۔ جبکہ بیٹیوں کی اول تو والد پٹائی نہیں کرتے یا ایک آدھ تھپڑ کے بعد ماں کی سفارش پر چھوڑ دیتے ہیں۔

ماں باپ تو جو ظلم کرتے ہیں، سو کرتے ہیں لیکن بہنیں بھی کم رعب نہیں جماتیں۔ پہلے تو نہ جانے کس نے یہ بات طے کر دی ہے کہ بہنیں خواہ بھائیوں سے کتنی چھوٹی کیوں نہ ہوں، جب تک بہنوں کی شادیاں نہیں ہوں گی تو تب تک بھائیوں کی بھی نہیں ہوں گی خواہ اس دوران بھائیوں کی شادی کی عمر ہی کیوں نہ گزر جائے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اگر بہو آئے گی تو وہ آتے ہی بہنوں کی بے عزتی اور لڑائی شروع کر دے گی۔ لیکن غور کریں کہ اگر بھائی واقعی گھر کے مالک ہیں تو ، وہ بیوی کو سختی سے منع کر دیں گے۔

اور یہ بھائی کیسا گھر کا مالک اور وارث ہے کہ جب تک بہنیں گھر میں ہیں تو وہ بیوی نہیں لا سکتا۔ اگر وہ کسی لڑکی کے ساتھ بھاگ جائے تو اسی پر الزام لگتا ہے کہ بیٹا لوفر، نافرمان تھا، بھاگ گیا۔ جبکہ لڑکیوں کی بڑے تام جھام اور طریقے سے شادی کی جاتی ہے اور جب وہ میکے سے رخصت ہوتی ہیں تو گویا گھر میں جھاڑو پھر جاتی ہے کہ کتنے زیادہ اخراجات اس کے جہیز اور دیگر انتظامات پر صرف ہوتے ہیں۔ جب تمام لڑکیاں گھر کا صفایا کر کے رخصت ہوجاتی ہیں تو تب کہیں جا کر بیٹے کی باری آتی ہے۔

لیکن جب بہو آتی ہے تو اس کو بار بار طعنے دیے جاتے ہیں کہ تم میں تو یہ برائی ہے جبکہ ہماری بیٹیاں کتنی اچھی اور سگھڑ ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ زبان دراز بن جاتی ہے۔ اور گھر میں سٹار پلس کے ڈرامے شروع ہو جاتے ہیں۔ آخر کار بیٹا تنگ آ کر بیوی کو لے کر اس گھر ہی سے نکل جاتا ہے۔ اور یوں وہ گھر کہ جس کے بارے میں اسے بچپن سے باور کرایا جاتا ہے کہ تم ہی اس گھر کے اصل وارث ہو گے، اس کا کبھی نہیں ہوتا۔

پھر جب بہنوں اور ماں باپ کے بعد لڑکا بیوی کے ہتھے چڑھتا ہے تو وہ بھی اس سے سات جنموں کے گناہوں کا حساب لیتی ہے۔ یوں مرد کی ذمہ داریوں اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا تا ہے۔ مرد کے دماغ میں ایک ہی انا بیٹھی ہوتی ہے کہ دیکھو، میں کتنا مرد ہوں، میں نے پانچ سات یا دس بچے پیدا کرا لیے ہیں لیکن بچوں کی ذمہ داریاں اور اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ ایک مشین بن جاتا ہے، اسے کئی کئی نوکریاں کرنی پڑتی ہیں اور اس کے سر پر ہر وقت پیسہ کمانے کی دھن سوار رہتی ہے۔

اگر عورتیں ملازمت بھی کرتی ہوں تو وہ اپنی تنخواہ اپنے سنگھار اور لباس وغیرہ کے لیے استعمال کرتی ہیں یا کسی کمیٹی میں ڈال دیتی ہیں اور گھر کے سارے اخراجات شوہر سے لیتی ہیں۔ مرد بس اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں مرد ہوں، گھر کا مالک ہوں، جب چاہے جو کر سکتا ہوں حالاں کہ حقیقت میں اس کے بس میں کچھ نہیں ہوتا، مرد خود ظلم کا شکار ہوتے ہیں لیکن انہیں یہ کہہ کر ان کے منہ بند کر دیے جاتے ہیں کہ تم مرد ہو، آہن ہو، مرد رویا نہیں کرتے۔

آپ نے کبھی لوگوں کو اپنے بیٹوں کے لیے یہ بات کرتے دیکھا ہے کہ کیا کریں بیٹوں کی عمر گزرتی جا رہی ہے، ان کے سر پر سہرا کیسے باندھیں۔ لوگ لڑکیوں کی شادیوں کے لیے تو مخیر حضرات سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں، اس حوالے سے کئی فلاحی تنظیمیں بھی کام کرتی ہیں لیکن آپ نے کبھی کسی کو لڑکوں کی شادی اور جہیز کے لیے چندہ اکٹھا کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔

کیا لڑکوں کے دلی جذبات نہیں ہوتے؟ پھر اس معاشرے میں گرل فرینڈ پر پابندی ہے اور اگر کسی لڑکے نے یہاں یا باہر کے کسی ملک میں کسی لڑکی سے دوستی کر لی ہو تو اس پر عمر بھر کے لیے ٹھپا لگ جاتا ہے کہ یہ تو بدمعاش ہے، لفنگا ہے

لڑکی کے ہاتھ کیوں پیلے کیے جاتے ہیں کہ دوسرے گھر میں اسے مرد کا پیار ملے جو اس کی فطرتی ضرورت ہے۔ جبکہ لڑکے کی ایسی ضرورت کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا، وہ دن بھر کمانے کی فکر میں مگن رہے اور رات کو بستر پر کروٹیں بدلتا رہے۔ کسی کو اس کی پروا نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے مرد جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ وہ خوش نصیب مرد کہ جن کو گھر میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی وہ بڑی عمر میں بھی جوان نظر آتے ہیں اور لمبی عمر پاتے ہیں۔

اور لیجیے قارئین! چند دن پہلے کی اس خبر کے مطابق ہندوستان میں ایک بے چاری صنف نازک نے بہت ساری مظلوم عورتوں کی جانب سے بدلہ لے لیا۔ صرف اس وجہ سے کہ شوہر اس کی سالگرہ پر اسے دوبئی سیر کرانے نہیں لے گیا، شوہر کی ناک پر اس زور کا مکا رسید کیا کہ وہ ناک سے بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے مر گیا اور یہ ان دونوں کی پسند کی شادی تھی جسے چھ سال ہو چکے تھے۔ اس واقعے سے آپ سمجھ سکتے ہیں اس سے پہلے وہ شوہر پر کتنے ظلم کرتی رہی ہوگی۔ یہ رہا اس خبر کا آنکڑہ

https://www.dawnnews.tv/news/amp/1217355

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اگر پچاس فیصد مرد ظالم ہیں تو پچاس فیصد مظلوم بھی ہیں اور اگر پچاس فیصد لڑکیاں مظلوم ہیں تو پچاس فیصد ظالم بھی ہیں۔

مرد بھی کہتے ہیں کہ عورتیں مظلوم اور مرد ظالم ہیں، عورتیں بھی یہی کہتی ہیں، یعنی سبھی مرد خراب ہیں تو جس طرح زمانہ قدیم میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے، اسی طرح اب لڑکوں کو ختم کر دیجیے۔ اب تو پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم کی جا سکتی ہے۔ اور اگر یہ ممکن نہیں تو بیٹوں کی پرورش پر بھی بیٹیوں جتنا دھیان اور توجہ دیں۔

اصل حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں فریقین میں سے جو کمزور ہو، وہ مظلوم ہوتا ہے، اس میں مرد یا عورت کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ بہن بھائی پر اور بیوی شوہر پر ظلم کر سکتی ہے۔ اب تو آپ نے بھی یہ خبریں سن لی ہوں گی کہ شادی سے انکار پر عورت مرد پر تیزاب پھینک دیتی ہے۔ خدارا اس حقیقت کو سمجھیں۔ حقیقت پسند بنیں اور صدیوں سے سنی سنائی باتوں کو بغیر تصدیق کے دوہرانے سے گریز کریں۔ روح پر لگے زخم دنیا کا کوئی معالج نہیں بھر سکتا۔ مردوں کو ایسے روح کے زخم نہ دیں کہ جیتے جی مر جائیں یا واقعی خود کشی کر لیں۔

اس لیے ہم نے اس حوالے سے اپنے قلم کے ”چقو“ (بزبان جمشید انصاری مرحوم ) سے معاشرے کے اس ناسور کے خلاف جراحی کرتے ہوئے اپنا نشتر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS