کوئی لیڈر یا جرنیل بچوں کو مارنے کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟


انسانی شخصیت کا ایک روشن رخ ہے جس کا اظہار محبت ’پیار‘ خلوص اور ہمدردی میں ہوتا ہے۔ اس رخ کی وجہ سے انسان دوسرے انسانوں کا خیال رکھتا ہے اور وقت پڑنے پر اپنی زندگی کے سماجی ’مذہبی اور سیاسی مسائل اور اپنے دشمنوں سے تضادات کو پر امن طریقے سے حل کرتا ہے۔

روشن رخ کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کا ایک تاریک رخ بھی ہے جس کا اظہار غصے اور نفرت میں ہوتا ہے۔ وہ مسائل کا سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔ وہ ہر وقت جنگ و جدل کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب کے فرق کو جواز بنا کر دوسرے انسانوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اپنی بقا کے لیے دوسرے انسانوں کے قتل کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ اس بے رحم قتل و غارت پر نادم ہونے کی بجائے فخر بھی کرتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اپنے جبر ’ظلم اور استحصال کے حق میں مذہبی اور سیاسی توجیہات بھی پیش کرتا ہے

عذر گناہ بدتر از گناہ
جدید انسان
اپنی جنگ کو
کبھی جہاد کا نام دیتا ہے
کبھی کروسیڈ کا
کبھی اس جنگ کو حب الوطنی کا اظہار سمجھتا ہے
اور کبھی
اسے مقدس جنگ کہہ کر پکارتا ہے
بہت سی قومیں ایسی جنگ میں دوسرے انسانوں کو قتل کرنے والوں کو انعاموں اور تمغوں سے بھی نوازتی ہیں۔
کیا وہ قومیں نہیں جانتیں کہ
ایک معصوم انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے؟

انسان صدیوں سے جنگیں لڑتے آئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر خون ہے لیکن انہوں نے اپنے ہاتھوں پر سیاسی مصلحتوں اور مذہبی روایتوں کے دستانے پہن رکھے ہیں اور ہر مظلوم و مجبور و معذور انسان پوچھتا ہے۔

بقول مصطفیٰ زیدی
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی انسان نے دوسرے انسانوں کے ساتھ امن اور آشتی سے رہنا نہیں سیکھا۔ یہ علیحدہ بات کہ اسے اشرف المخلوقات ہونے کا دعوی ہے۔ اس سے بہتر تو وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ محبت ’پیار اور آشتی سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔

میں جب غزہ کی تکلیف دہ صورت حال کے بارے میں غور کرتا ہوں تو
مجھے یقین نہیں آتا کہ

کوئی فوجی جرنیل کسی بمبار طیارے کے پائلٹ کو حکم دیتا ہے کہ وہ دشمن کے ہنستے کھیلتے مسکراتے بچوں بھرے شہر کی فضا میں جا کر سکولوں اور کالجوں ’مسجدوں اور گرجوں‘ ہسپتالوں اور ایمبولنسوں پر بم پھینکے تا کہ وہ بچے جل کر کوئلہ ہو جائیں۔

میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ

کوئی سیاسی لیڈر اپنے فوجیوں کو بندوقیں دے کر کہتا ہے کہ وہ معصوم بچوں ’عورتوں اور مردوں پر گولی چلائے اور گلیوں اور بازاروں میں خون کے دریا بہا دے۔

ساری دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کی آنکھوں کے سامنے پچھلے چند ہفتوں سے نسل کشی ہو رہی ہے۔ وہ اپنے سیل فونوں اور ٹی وی کی سکرینوں پر ہر روز یہ خون کی ہولی دیکھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے با ضمیر ’مہذب اور ہمدرد قوموں کے نمائندے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کی بہت کوشش کر رہے ہیں لیکن امریکہ کے ویٹو نے انہیں بے بس کر دیا ہے اور اقوام متحدہ کے معزز و محترم ادارے کو مفلوج کر رکھا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اسرائیلی نمائندے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ انسان دوستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور معصوم بچوں کے قتل کر روکنا چاہتے ہیں۔

بعض ماہرین سیاست اور امن دوست رہنماؤں کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ میں تمام ممبران کو برابر کا حق ہونا چاہیے اور پانچ بڑی طاقتوں سے ویٹو کی طاقت کو ختم کر دینا چاہیے۔

اس جنگ نے انسانی حقوق کی سب روایتوں کو پامال کر دیا ہے اور انسانی بربریت کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔

اس جنگ میں نہ صرف بے گناہ شہری بلکہ مختلف ممالک کے صحافی اور اقوام متحدہ کے امن دوست کارکن بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ کالم لکھتے ہوئے میں نے ایک نثری نظم لکھی اور پھر مجھے ساقی فاروقی کی ایک نظم یاد آ گئی جو کئی برس پیشتر میں نے پڑھی تھی۔ دونوں نظمیں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

نسل کشی
میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا
کہ کسی
فوجی لیڈر یا سیاسی رہنما
کے چھوٹے سے دل میں
اتنا زیادہ نفرت سما سکتی ہے
کہ
اسے اس وقت تک چین نہ آئے
جب تک وہ
دوسرے انسانوں کی پوری نسل کو
جسے وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے
کرہ ارض سے
نیست و نابود نہ کر دے
وہ لیڈر کیوں نہیں سمجھتا کہ
اس کے دشمن بھی
اس کے دور کے رشتہ دار ہیں
کیونکہ وہ بھی
دھرتی ماں کے بچے ہیں
۔ ۔
ساقی فاروقی کی نظم
بہرام کی واپسی
بس دماغ چل گیا
اور نیک نام سے
دل مرا بدل گیا
رائفل نکال کے
ایک دن نکل گیا
جو ملا اسے تمام کر دیا
جبر عام کر دیا
ختم شہر کا نظام کر دیا
خوں سے احتراز کیا
میرے سامنے بنے
خوف کا محاذ کیا
میں خدائے ظلم ہوں
ظلم کا جواز کیا
۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail