کیا پاکستان کے تمام مسائل وفاق کی نوعیت کی وجہ سے ہیں؟
پاکستان کی ریاست کو جن مسائل کا سامنا ہے یہ مسائل 1947 میں اس کے قیام کے بعد ہی پیدا ہو چکے تھے اور ابھی تک نہ ختم ہونے والے گورکھ دھندے کی صورت موجود ہیں۔ صوبائی عصبیت 1947 اور 48 میں اپنی شکل اختیار کر چکی تھی۔ آج شدت پسندی کی مختلف تحریکیں اس عصبیت کو کسی دوسرے ہی درجے میں لے کر جا چکی ہیں۔ وفاق اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور کوئی ایسا بیانیہ موجود نہیں ہے جو غیر جانبدارانہ انداز میں ہمیں اس مخمصے کی درست تفہیم فراہم کر سکے۔
بہت کتابیں لکھی گئی، ہزاروں مضامین لکھے گئے مگر معنی ندارد۔ ایسے میں ڈاکٹر یونس صمد کی دانش ہم سے ایک بہت عمدہ تفہیم کا وعدہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ان کی کتاب ’پاکستانی قومیت اور ریاست کا نظریاتی بحران‘ اپنے موضوع پر اہم ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب نوے کی دہائی کے وسط میں شائع ہوئی اور اب تک اس موضوع پر کی جانے والی تحقیق میں نمایاں ترین حیثیت کی حامل ہے۔ اس کتاب کے مصنف یونس صمد ہیں جن کا شمار ان پاکستانی ماہرین سیاسیات میں ہوتا ہے جو عالمی علمی حلقوں میں معروف ہیں۔
اس وقت وہ لاہور میں لاہور یونیورسٹی فار مینجمنٹ سائنسز میں ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر یونس صمد آکسفرڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ دنیا کی بڑی جامعات سے وابستہ رہ چکے ہیں اور اپنے تحقیقی مقالات سے پیچیدہ مضامین کی تحقیق کا خصوصی درک رکھتے ہیں۔ ان کی یہ کتاب 90 کی دہائی کے وسط میں شائع ہوئی جب پاکستان کی ریاست کی وفاقی خد و خال کے بارے سنجیدہ مباحث نہ ہونے کے برابر تھے اور اب جب یہ کتاب اردو قارئین کے لیے ترجمے کی شکل میں شائع ہوئی ہے تو پاکستان کی ریاست کے وفاقی ڈھانچے کا قضیہ نہ صرف علمی حلقوں میں موضوع بحث ہے بلکہ عوامی حلقوں میں بھی اس بارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب پہلی بار درست وقت اور صحیح قارئین کا انتخاب کر رہی ہے۔ اب یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کے بڑے مسائل اس کی وفاقی آئینی ڈھانچے کی نوعیت سے منسلک ہیں۔ یہ انسلاک 1947 سے نہیں شروع ہوتا۔ کہانی شروع ہوتی ہے 1937 میں جب برطانوی ہندوستان میں پہلی بار انتخابات ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں بنانے کا تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ یونس صمد کے استدلال کی شروعات اس تجربے سے ہوتی ہے۔ مصنف کی رائے کے مطابق ہندوستان کی تقسیم کے بعد اس خطے میں دو قومیں جنم لیتی ہیں۔
ایک ہندوستان اور ایک پاکستان۔ اس میں سے ایک قوم کی بنیاد ہندوستانی قوم پرستی پر رکھی گئی۔ جبکہ دوسری قوم یعنی کہ پاکستان کی بنیاد کا تصور ماورائی نوعیت کا تھا۔ جس کے تانے بانے مذہب اسلام کے نظریاتی خد و خال سے اخذ کیے گئے۔ مصنف کی تحقیق اور رائے کے مطابق کانگرس نے جن نظریات کی بنیاد پر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی اور سیاست کے کاروبار کو چلایا۔ وہ نظریات ہندوستان میں 1980 کی دہائی تک نہ صرف قابل عمل رہتے ہیں۔
یوں ہندوستان میں ایک مضبوط سول سوسائٹی اور سول حکومت جنم لیتی ہے۔ اس کے برعکس ہم پاکستان میں یہ صورتحال نہیں دیکھتے۔ پاکستان اپنی ایک مستحکم شناخت قائم نہیں کر پاتا اور اپنے قیام سے لے کر اب تک صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مابین اختیارات کی آئینی تقسیم کے جھگڑے کا سامنا کرتا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع رہا ہے۔ سیاسیات اور تاریخ کے میدان کے طلبہ اور محققین اس موضوع پر بیسیوں اہم کام کر چکے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوئی ایسی قابل قدر کتاب سامنے نہیں آئی جو اس عمل کی صحیح معنوں میں تشخیص کر سکے۔
یونس صمد اپنے اس کام میں امتیازی طور پر کامیاب نظر آتے ہیں۔ یونس صمد اس تمام تر قضیے کو ایک مختلف تاریخی جہت میں لے جاتے ہیں اور وہ اس طرح سے کہ وہ پاکستان کے تمام تر مسائل کا حل 1947 کے بجائے نو آبادیاتی دور کے آئینی ڈھانچے اور سیاسی عمل میں تلاش کرتے ہیں۔ مصنف کتاب کے پہلے تین ابواب میں اس تاریخی عمل کی تحقیق کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستان میں دو متوازی رجحانات پنپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پہلا رجحان آئینی نوعیت کا ہے جس میں ہندوستان کا مرکزی اور صوبائی سیاسی و آئینی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
اس ڈھانچے کے مطابق مرکز کو کمزور بنایا گیا اور صوبوں کے اندر دو عملی کا نظام نافذ کیا گیا۔ جس کے باعث صوبوں کے اندر صوبائی طاقتوں کو مرکزی قوتوں سے قدرے آزاد رکھنے کی ابتدائی کوشش کی گئی۔ یونس صمد کے مطابق یہی کوشش ہندوستان کے اندر فرقہ ورانہ سیاست کو باقاعدہ اور واضح تشخیص دینے کا باعث بنتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر فرقہ ورانہ سیاست کو پروان چڑھایا گیا۔ ان کے مطابق 1919 کے اصلاحاتی ایکٹ کے باعث ہندوستان کے اندر مرکز گریز قوتوں کو متحرک کر دیا۔
جس کی وجہ سے پورے ہندوستان کے اندر کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہ پنپ سکی جو کل ہندوستان سیاست کرنے کے قابل ہوتی۔ صوبوں کے اندر صوبائی طاقتیں زیادہ طاقت پکڑتی گئی اور کل ہند قوتوں کے لیے صوبوں کے اندر اپنے سیاسی نظریات کے مطابق سیاست کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ ان اصلاحات کے باعث مسلم سیاست کے اندر طاقت اور اثر مسلم اقلیتی صوبوں سے مسلم اکثریتی صوبوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ مصنف کے مطابق ان اصلاحات کے بعد مسلم اکثریتی صوبوں کی سیاست فرقہ واریت کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔
جبکہ مسلم اقلیتی صوبوں کے اندر اس کے برعکس نوعیت کے سیاسی رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہی اصلاحات کے باعث مسلم اکثریتی صوبوں کے اندر مسلمان صوبائی خود مختاری کے زیادہ سے زیادہ حامی ہو چکے تھے اور ان کا سیاسی ایجنڈا اب یہ تھا کہ وفاقی ڈھانچہ کمزور ہونا چاہیے اور صوبائی حکومتوں میں مسلمانوں کو زیادہ سیاسی وقعت ملنی چاہیے۔ یہ مطالبات کانگرس کی کل ہند وفاقی پالیسی کے بالکل برعکس تھے یوں اس کا رد عمل مرکز گریز اثرات کی مخالفت میں مرکزیت پسند ہندوستانی قوم پرستی کی پیدائش کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ان مسلم اکثریتی صوبوں میں یونینسٹ پارٹی، کرشک پروجا پارٹی اور سندھ یونائٹڈ پارٹی مرکز گریز سیاست کی واضح نمائندگی کرتی تھیں۔ یہ تمام تر سیاسی جماعتیں اپنی بنیاد، اپنی سماجی ترکیب کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ مگر بعد کی سیاست میں ان جماعتوں کا خمیر مسلم لیگ کی مرکزی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہوا نظر اتا ہے۔ مرکز حامی رجحان کا سب سے واضح اظہار خلافت اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تاریخ میں ہمیں نظر اتا ہے یہ ہندو مسلم یکجہتی کا ایک ایسا مظہر تھا جو وقتی نوعیت کا حامل تھا۔
اسی وجہ سے جب یہ اتحاد ختم ہوتا ہے تو فرقہ واریت اور فرقہ ورانہ فسادات پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر ہندوستان بھر میں پھوٹ پڑتے ہیں۔ سیاست کے میدان میں مذہب اور کلچر کی علامتوں کو استعمال کیا جانے لگا۔ مسلم سیاست میں اسلامی محاوروں اور استعاروں کے زیادہ سے زیادہ استعمال نے انہیں پہلے سے زیادہ فرقہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط بنا ڈالا۔ دوسری جانب مسلم اقلیتی صوبوں میں مسلم سیاست ایک مختلف نوعیت کی نہج پکڑتی ہوئی نظر اتی ہے۔
1939 کے بعد ، آل انڈیا مسلم لیگ ہندوستان بھر میں مقبولیت حاصل کرنا شروع کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جنا کو صوبائی مسلم لیگوں پر ایک زیادہ مرکزیت کے حامل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو نافذ کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مسلم لیگ آہستہ آہستہ مرکز اور صوبوں ہر دو جگہ پر اپنی طاقت کو پہلے کی نسبت زیادہ بڑھاتی ہوئی نظر اتی ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں علاقائی مسلم جماعتیں اپنی حیثیت کھونا شروع کرتی ہے۔ مسلم لیگ پہلے کے ساتھ زیادہ مرکزی طاقت کی حامل جماعت بنتی چلی جاتی ہے۔
مسل سیاست کے سسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر یونس صمد اپنے استدلال کی تشکیل کے لیے تقسیم ہندوستان سے قبل دورانیے کے حصے کو تقسیم کے بعد کے پاکستان کی ریاست کے اندر پائے جانے والے بحران کے بنیادی خمیر کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔ یونس صمد کے مطابق تقسیم ہندوستان سے قبل مسلم لیگ کا بتدریج مرکزی اختیارات کے عمل کو حاصل کر لینا ہی اصل میں اس مسئلے کو جنم دیتا ہے جس مسئلے نے پاکستان کی ریاست کو اس کی وفاقی عمرانی معاہدے کے حوالے سے موقف اپنانے پر مجبور کیے رکھا۔
یونس صمد کی یہ کتاب اس تاریخی تسلسل کو عیاں کرتی ہے کہ تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان جس نا ختم ہونے والی سیاسی بحران کے تسلسل کا شکار ہے وہ اسی بنیادی سیاسی حکمت عملی کے باعث ہے جس میں مسلم لیگ نے تقسیم ہندوستان سے پہلے صوبائی سیاست کو مرکزیت کے تحت لانے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی تھی۔ اس موضوع پر ہونے والے کام عام طور پر متحدہ ہندوستان میں مسلم سیاست کو قیام پاکستان تک ایک مکمل باپ کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔
جبکہ یونس صمد ایسا نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق 1937 کے بعد پیدا ہونے والے رجحانات قیام پاکستان کے بعد تسلسل پذیر رہے ہیں اور پاکستان کے موجودہ مسائل کی اہم ساختیاتی وجہ ہیں۔ فرق صرف اس بات کا ہے کہ تقسیم سے پہلے یہ رجحانات مسلم قوم پرستی کے لبادے میں چھپے ہوئے تھے تقسیم کے بعد صوبائی عصبیت قومی سیاست میں عدم اپنے قدم جماعتی نظر اتی ہے جبکہ ریاست مضبوط مرکزیت پسندی کی حکمت عملی پر مسر رہتی ہے آئینی آئین سازی میں تاخیر بھی دراصل وفاق کو ضرورت سے زیادہ مضبوط اور مرکز مائل کرنے کے باعث تھی تو بات یوں کھلتی ہے کہ تقسیم ہندوستان سے پہلے کل ہند مسلم سیاست کا مطمح نظر اگر کمزور مرکز اور مضبوط مسلم صوبے تھا تو تقسیم کے بعد ہی مطمح نظر اس کے مکمل طور پر الٹ خواہشات کا حامل ہو جاتا ہے اب پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر ایک مضبوط مرکز چاہتی ہے اور کمزور صوبے 1956 کے آئین میں سول ملٹری ہیئت مقتدرہ نے ایک ایسا عمرانی معاہدہ بنوایا جس نے ملک کے تمام صوبوں کے اوپر مضبوط مرکز کی عملداری کو قائم کیا گیا مگر جب یہ واضح ہوا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود عام انتخابات میں وہ صوبائی قوتیں کامیاب ہو جائیں گی جو حکومت سازی کے بعد اس آئین کی مرکزیت پسندی کو ختم یا کمزور کر دیں گی تو اس راستے تو اس اشرافیہ نے آئین کا ہی خاتمہ کر ڈالا مارشل لا کا نفاذ ہوتا ہے اور انتخابات کا مکو ہی ٹھپ دیا جاتا ہے۔
یونس صمد کی کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے نہ صرف اکیڈیمیا کے لیے بلکہ صحافی اور دانشور حلقوں کے اندر اس کتاب کی تفہیم کا در کر جانا آج کے دور کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ یہ بڑی آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ یونس صمد کی یہ کتاب اس موضوع پر شاید پہلی مربوط اور مدلل کتاب ہے۔ یونس صمد نے ایک ماہر محقق ہونے کی حیثیت سے بنیادی ماخذات کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ درحقیقت یہ پوری کی پوری کتاب صرف بنیادی ماخذات ہی کی مدد سے لکھی گئی ہے۔


