بچوں کا جاسوسی ادب۔ چند زاویے


جاسوسی ادب کو اہلِ نظر نے ہمیشہ نگاہِ کم سے دیکھا ہے اور اس وقت بھی ایک کم نظر ہی اس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہا ہے۔ مصائب اور بھی ہیں پر جی کے جانے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک بچپن کی تعریف اور حدود متعین نہیں ہوئیں، چناں چہ شیرخوار سے لے کر چالیس سالہ بزرگ تک بچہ سمجھ لیا جاتا ہے :

چہل سالِ عمر عزیزت گزشت
مزاجِ تو از حالِ طفلی نگشت

مغرب میں ایسا نہیں ہے، وہاں وقت کی تقسیم کی گئی ہے، وہاں طفولیت کے مختلف درجے ہیں اور ہر مرحلۂ عمر کے الگ تقاضے طے ہیں اور ان تقاضوں کے پیش نظر بچوں کی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی پٹائی ہوتی ہے اور مغرب میں پڑھائی۔ وہاں بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کیا جاتا ہے، اس کی آبیاری کی جاتی ہے اور اس میں مرحلہ وار اضافہ کیا جاتا ہے، چناں چہ دس برس کے بچوں کے لیے الگ سے کتابیں شائع ہوتی ہیں اور بارہ، پندرہ برس کے بچوں کے لیے الگ سے کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ بچوں کے تخیل، ذوق اور ذخیرۂ الفاظ میں بتدریج اضافہ کیا جاتا ہے اور اٹھارہ برس کی عمر میں اسے بلوغت کی سند عطا کر دی جاتی ہے۔ گویا اٹھارہویں سال گرہ کا دن وہ سنگم ہے جہاں بچپن کی جوانی سے ملاقات ہوتی ہے۔ اردو کے رومانوی شاعر اختر شیرانی اس دل کش منظر کو یوں بیان کیا ہے :

ہوا چل رہی تھی، کلی کھل رہی تھی
جوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی

اس شعر سے قبل میں یہ کہہ رہا تھا کہ مغرب میں بچے کو اٹھارہ برس کی عمر میں بلوغت کی سند عطا کر دی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے وہ سند پاتے ہی اگلے روز بلوغت کے تجربات میں مصروف ہو جاتا ہے بلکہ ایسی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں کہ وہاں کم سنی ہی میں بچے، صاحبِ اولاد ہو جاتے ہیں اور باپ بیٹے اور ماں بیٹی کی عمروں میں محض چند برسوں ہی کا فرق ہوتا ہے۔ خیر، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں ہے۔

ہمارے ہاں بچوں کے ادب کو بازیچۂ اطفال خیال کیا گیا ہے۔ بچے کی شخصیت کے مرحلہ وار ارتقا کو نظرانداز کیا گیا ہے اور اس کی عمر عزیز کے مختلف درجوں اور مرحلوں کو کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ یہاں محمود اور ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ سولہ برس کے محمود کے لیے جو کتاب میسر ہوتی ہے، آٹھ سالہ ایاز بھی وہی کتاب پڑھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ چناں چہ اس محفل میں موجود میری عمر کے ”بچے“ اس بات کی تائید کریں گے کہ عمران سیریز میں جولیا کا ذکر آتے ہی ہمارے معصوم دل دھڑکنے لگے تھے، حالانکہ وہ اس وقت عمر میں ہم سے دس بارہ سال بڑی ہی ہو گی۔

عمران سیریز کا ہماری نسل پر یہ احسان ہے کہ اس نے ہمارے بے رنگ بچپن کو رنگین کیا، ہمیں رومان کی لذتوں سے آشنا کیا، مزاح کی لطافتوں سے روشناس کرایا اور سائنس فکشن کی ابتدائی صورتوں سے متعارف کرایا۔ ابنِ صفی ہوں یا مظہر کلیم، ایک زمانے میں ان کے ناول گرم کیکوں اور ٹھنڈی قلفیوں کی طرح فروخت ہوتے تھے۔ ان ناولوں کے قارئین کے لیے عمر کی قید نہیں تھی، ان سے بچے بھی لطف اندوز ہو سکتے تھے، نوجوان بھی اور بزرگ بھی۔ جی ہاں بزرگ! اور بزرگ بھی کوئی عام تام بزرگ نہیں، جابر علی سید جیسے ممتاز نقاد اور محقق۔

ایک پرانا واقعہ یاد آتا ہے۔ بیس سال پہلے کی بات ہے۔ جابر علی سید کی برسی کے موقعے پر ہم دوستوں نے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب کے اگلے روز علاقے کی ایک پرائیویٹ لائبریری۔ مدینہ لائبریری۔ کے لائبریرین کو میں نے فاتحانہ شان سے تقریب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے منہ بسور لیا۔ میں نے بے زاری کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ مرحوم، عمران سیریز کے بہت سے ناول لے کر گئے تھے مگر واپس نہ کیے۔

مجھے اس لائبریرین سے ہم دردی ضرور ہے مگر اس واقعے سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ تحقیق کا جاسوسی ادب سے کوئی نہ کوئی پراسرار رشتہ ہے۔ زمین ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے!

مجنوں گورکھ پوری کے بارے میں بھی سنا ہے کہ وہ جاسوسی ادب کا خاص طور پر مطالعہ کرتے تھے۔

جاسوسی ادب کی دنیا میں ایک نام البتہ ایسا ہے کہ جسے بجا طور پر صرف اور صرف بچوں کا ادیب کہا جا سکتا ہے۔ یہ اشتیاق احمد کا نام نامی ہے۔ انہوں نے جو دنیا تخلیق کی ہے، اس میں لڑکے بالے ہی جاسوسی کا فریضہ انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ محمود، فرزانہ اور فاروق کو دیکھ کر ننھے قارئین کا بھی جاسوس بننے کا جی چاہتا ہے اور پھر شوکی، اخلاق اور آفتاب تو بچوں کو اپنے ہی دوست اور ہم جماعت محسوس ہوتے ہیں۔ میری نسل کے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ”عہدِ اشتیاق“ میں زمانۂ طفلی بسر کیا ہے۔ ”پاکستانی ادب“ ایک بامعنی اصطلاح ہے اور اگر ”پاکستانی جاسوسی ادب“ کی اصطلاح وضع کی جائے تو اس ذیل میں اشتیاق احمد کا نام سرِفہرست ہو گا۔ ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاسوسی ناول نگار سے بڑھ کر، نگارِ وطن کا کوئی عاشق نہیں ہوتا۔ اشتیاق احمد کے ناولوں کے کردار دشمن ملک کے جاسوسوں سے برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ یہ دشمن کا ہتھیاروں سے نہیں، محاوروں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اشتیاق احمد کے ناولوں میں محاورات کا ایک خزانہ ہے اور انہیں پڑھ کر بچے زبان و بیان کی دولت سے مالامال ہو جاتے ہیں۔ اشتیاق مبلغ اخلاق بھی تھے، چناں چہ ان ناولوں میں ایمان افروزی کا سامان بھی ہے۔ ان ناولوں میں تحیر اور تجسس کی فراوانی اور طنزومزاح کی چاشنی ہے۔ میری اپنی تحریروں کے خاکستر میں جو چنگاری مسکراتی ہے وہ اشتیاق احمد کے شعلۂ تبسم سے مستعار ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ایک ”نیک پروین“ لڑکا بنانے میں ان ناولوں نے بہت مدد کی۔ یہ ناول محض تجسس، تحیر اور تفریح کا ذریعہ نہیں ہے، تدریس اردو اور تربیتِ اطفال کے لیے یہ بہت اہم ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں، بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ہیں، جاسوسی ناولوں کا زمانہ بدل گیا ہے، یہ ہیری پوٹر کا دور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سونا، سونا ہی ہوتا ہے۔ سونے کو پگھلا کر نئے زیور بنائے جا سکتے ہیں۔ ان جاسوسی ناولوں کو بھی نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے فلمیں اور ڈرامے بنائے جا سکتے ہیں اور تحیر، تجسس اور تفریح کا ایک نیا جہان پیدا کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS