عوام کا حق حکمرانی


سپریم کورٹ ملک کی وہ عدالت ہے جس کے فیصلے کے خلاف کہیں اپیل نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے ہر ملک میں ایک اعلیٰ ترین عدالت ہوتی ہے جو اپنی ماتحت عدالتوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرتی ہے اور بالآخر کسی معاملہ میں ایک حتمی رائے دیتی ہے۔ ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے متعدد فیصلے ہیں جن پر طویل عرصہ تک بحث مباحثہ ہوتا رہا، اکثر انصاف کے اصولوں کے مطابق، اور کبھی کبھی سیاسی وجوہات کے باعث۔ یوں بھی ہوا کہ فیصلے کے بعد ہونے والے بعض افسوسناک واقعات کی روشنی میں اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کو پرکھا گیا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جب بھی ملکی سیاست پر بحث ہوتی ہے جسٹس منیر کا تذکرہ لازم ہوتا ہے۔ ان کے دو متضاد فیصلوں کے اثرات بعد میں پورے ملک پر پڑے۔ ان کا پہلا فیصلہ 1954 میں آیا۔ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی توڑ دی تھی۔ جسٹس منیر کے عدالت نے غلام محمد کے فیصلے کو درست قرار دیا، اور آئین ساز اسمبلی کی معطلی برقرار رکھی۔ اس طرح پہلی بار ملکی سیاست میں نظریہ ضرورت متعارف کرایا گیا۔ جسٹس منیر اس وقت بھی چیف جسٹس تھے جب 1956 کا آئین منسوخ کر کے 1958 میں پہلا مارشل لا لگا یا گیا۔ اس مارشل لاء کے خلاف بھی مقدمہ جسٹس منیر کے سامنے پیش ہوا، اور انہوں نے ایک بار پھر نظریہ ضرورت کے مطابق فیصلہ دیا اور کہا کہ کامیاب انقلاب یا ایک کامیاب فوجی قبضہ کو بین الاقوامی طور پر آئین تبدیل کر نے کا درست طریقہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ میں ڈوسو مقدمہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایوب خان کے مارشل لاء کا ورثہ 1969 میں جنرل یحیٰی خان کو منتقل ہوا۔ 1971 میں پاک بھارت جنگ ہوئی جو پاکستان کی شکست اور بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوئی۔ یحیٰی خان کو حکومت سے الگ کر دیا گیا، اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا گیا، وہ سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ ان کے دور میں متعدد لوگوں کو گرفتار اور نظر بند کیا گیا، ان میں سے ایک ملک غلام جیلانی صاحب تھے۔ جیلانی صاحب نے مارشل لاء کو چیلنج کیا اور جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے مارشل لاء کو غیر آئینی، اور یحیٰی خان کو غاصب قرار دیدیا۔ عدالتی عظمیٰ نے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کو مسترد کر دیا اور یوں ایوب خان کا مارشل لاء بھی غیر قانونی قرار پایا۔

1977 کے انتخابات کے بعد پاکستان قومی اتحاد کی تحریک چلی۔ پورے ملک میں ابتری پھیلی اور جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی کو مارشل لاء لگا دیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ان کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا اور ان پر نواب محمد احمد کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے اسے اور مارشل لاء کو عدالت میں چیلنج کیا۔ یکم نومبر 1977 کو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں مکمل بینچ نے ایک بار پھر مارشل لاء کو جائز قرار دیا اور کہا کہ نظریہ ضرورت اور قوم کے عظیم تر مفاد میں فوج نے جو ماورائے آئین اقدامات کیے ہیں وہ درست ہیں۔ عدالت نے فوجی سربراہ کو تمام آئینی اور قانونی اقدامات کرنے سمیت قانون سازی کے اختیارات بھی تفویض کر دیے جو مانگے بھی نہیں گئے تھے۔

آئین میں ترمیم کا اختیار ایک فوجی سربراہ کو دینے کے 23 برس بعد ایک بار پھر سپریم کورٹ نے اسی فیصلے کا اعادہ کیا۔ اس بار حکومت پر قبضہ کرنے والے جنرل مشرف تھے اور حکومت نواز شریف کی برطرف کی گئی تھی۔ اس قبضے کے خلاف سید ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ نئے چیف جسٹس ارشاد حسن خان اور پورے بینچ نے ایک بار پھر نظریہ ضرورت کے مطابق فیصلہ دیا، جنرل مشرف کی کارروائی کو درست قرار دیا اور ساتھ ہی مشرف کو وہ اختیارات بھی دیے جو اس سے پہلے سپریم کورٹ جنرل ضیاء کو دے چکی تھی۔

یہاں پر بدقسمتی یہ ہے کہ بعض مواقع کے علاوہ نہ صرف پاکستان کی اعلٰی عدلیہ نے مارشل لاؤں کو جائز ہونے کی سند عطاء کی بلکہ بن مانگے سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کا حق بھی تھما دیا۔ آئین کی دفعہ (b) 58۔ 2 کے تحت محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو برطرف کر دیا گیا، اور صرف ایک بار سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت بحال کی۔ آئین میں سے اٹھاون ٹو بی بھی نکال دی گئی مگر پھر بھی یہ ممکن ہوسکا کہ اعلیٰ عدلیہ دو منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر فارغ کر بیٹھے۔

آج جس مرحلے پہ اعلیٰ عدالتوں میں پیش مقدمات پرویز مشرف سنگین غداری کیس، بھٹو کا عدالتی قتل، فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے برطرفی کے خلاف جیسے مقدمات چلائے کے لئے جو سیاسی و قانونی اور عدالتی حلقے پر جوش ہیں وہ ملک میں جمہوریت، عوام کی حکمرانی اور غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے خاطر نہ صرف مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے والے متعلقہ بنچ کے ججز کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بات کریں بلکہ اس کے ساتھ ہی ان جمہوری عناصر کی بھی جو اٹھتے بیٹھتے جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کی مالا جپتے ہیں لیکن آمروں کی قبضہ گیری کے پروگراموں میں پیش پیش ہوتے تھے یا ہیں۔

Facebook Comments HS