خوفناک فلموں کی مقبولیت ڈاکٹر حسن زی کی فلمی علمی باتیں


” ڈاکٹر صاحب آپ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بننے والی ہارر فلموں کے بارے میں بتلایے“ ۔

” لفظ ہارر سے مراد خوفناک یا دہشت ہے! ہم گھر سے نکل کر فلم دیکھنے سنیما کا رخ کرتے ہیں جو ایک تجربہ گاہ ہے۔ یہاں دنیا کی تمام چیزیں چھوڑ کر ایک ایسے ہال میں جاتے ہیں جہاں روشنی بالکل مدہم ہوتی ہے اور پردہ اسکرین پر فلم دیکھتے ہیں۔ یہاں فلم میکر آپ کو محسوسات کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ آپ کانوں کو بہت بھلی لگنے والی موسیقی بھی سنتے ہیں۔ آنکھوں سے خوبصورت چہروں اور مناظر دیکھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جس طرح اچھی فلم آپ کے احساسات اور جذبات کو چھوتی ہے! بالکل اسی طرح ہارر یا خوفناک فلمیں بھی آپ کے احساسات کو جھنجھوڑتی ہیں۔ جب سے فلم کی بنیاد رکھی گئی تب سے خوفناک فلمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ایسے ممالک جہاں سے فلموں کا آغاز ہوا جیسے جرمنی، فرانس میں بہت سی ہارر فلمیں بن رہی ہیں اور آج تک سنیما گھروں میں چلتی اور بے حد پسند کی جاتی ہیں! “ ۔

باکس آفس پر کامیاب ترین فلمیں :

” ہارر فلم ایک واحد یانرا یا صنف ہے جو سب سے زیادہ باکس آفس پر کامیاب ہوتی ہے! میں بھی جب آج سے 23 سال پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آیا تو میں نے یہاں سان فرانسسکو کے ایک بہت بڑے تاریخی تھیٹر ’کیسٹرو تھیٹر‘ میں دیکھا کہ فلم ’ایگزرزسٹ‘ کے سلسلے کی تینوں فلموں کی نمائش جاری تھی۔ واضح ہو کہ ان میں ہر ایک فلم دو گھنٹے کی ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں فلم ’ایگزرزسٹ‘ ( 1973 ) کے بارے میں اپنے بڑے بھائی سے سنا تھا کہ بہت خوفناک فلم ہے لیکن لوگ دھڑا دھڑ دیکھ رہے ہیں۔

تو بچپن میں مجھے بہت ڈر لگا اور میں نے سوچا کہ میں تو کبھی اس قسم کی ڈراؤنی فلم نہیں دیکھوں گا! لیکن جب میں 28 سال کی عمر میں سان فرانسسکو آیا تو میں نے دل میں سوچا کہ میں اس سلسلے کی تینوں فلمیں ایک ساتھ دیکھتا ہوں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔ یوں میں نے ’دی ایگزرزسٹ‘ کی تینوں فلمیں پردہ اسکرین پر دیکھیں۔ ہدایتکار فریڈکن ولیم نے کیا ہی کمال اور لاجواب فلم بنائی تھی! مجھے واقعی وہ فلم دیکھ کر احساس ہوا کہ خوف بھی ہماری زندگی کا جذبہ اور احساس ہے۔

زندگی کے ہر مقام پر ہمیں کسی نا کسی چیز سے خوف آتا ہے۔ ہمیں اندھیرے سے خوف آتا ہے رات میں اکیلے چلنے پر ڈر لگتا ہے۔ اگر ہم گاڑی میں بیٹھے ہوں اور گاڑی کی رفتار بہت زیادہ ہو تو جان کا خوف لاگو ہو جاتا ہے! اس کے علاوہ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے ایسے معاملات ہوتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ خوف کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے“ ۔

نوجوان اور ہارر فلمیں :

” تو یہاں 18 سے 20 سال کے لڑکے لڑکیاں ہارر فلمیں بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے پہلے ان فلموں میں 18 سے کم عمر والوں کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا۔ تو میں نے جب بڑی اسکرین پر فلم ’ایگزرزسٹ‘ دیکھی تو مجھے بے حد پسند آئی۔ ایک بچی میں بدروح داخل ہوجاتی ہے۔ بچی تکلیف میں ہے۔ ماں سخت پریشان ہے۔ اس کو ہدایتکار ولیم فریڈکنز نے بڑے شاندار طریقے سے فلمایا! اس سلسلے کی تینوں فلموں میں سب سے زیادہ پر اثر پہلی والی ’ایگزارسسٹ‘ ( 1973 ) ہے۔

آج 50 سال بعد بھی یہ فلم یہاں کے سنیما گھروں میں چلتی ہے اور لوگ بہت شوق سے دیکھنے جاتے ہیں۔ یہ آج بھی پسند کی جاتی ہے! باکس آفس پر مذکورہ فلم کے پروڈیوسر یا فلمساز اور بنانے والوں کو بے حد منافع ہوا۔ پھر بے شمار بڑے اور نامور ڈائریکٹروں نے بھی ہارر فلموں سے ہی سے اپنے فنی سفر کا آغاز بھی کیا ہے۔ جیسے جرمنی کے فلم ڈائریکٹر ایف ڈبلیو مارنو کی ایک بہت پرانی خاموش ہارر فلم ’نوس فراٹو‘ ( 1922 ) جو مجھے ہمیشہ یاد آتی اور میری پسندیدہ ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ کبھی آپ کو موقع ملے تو یہ فلم یو ٹیوب پر موجود ہے اور آپ اسے دیکھ سکتے ہیں“ ۔

الفریڈ ہچکاک اور ہارر فلم:

” ڈاکٹر صاحب نامور فلم ڈائریکٹر الفریڈ ہچکاک نے کون سی مشہور ہارر فلم بنائی تھی؟“ ۔

” برطانیہ میں پیدا ہونے والے فلمساز و ہدایتکار الفریڈ ہچکاک نے صحیح معنوں میں فلم ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی پہچان ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کروائی اور کئی ایک فلمیں بنائیں جن میں ’دی برڈز‘ ( 1963 ) بہت مانی ہوئی فلم ہے۔ 1960 میں انہوں نے ایک فلم ’سائیکو‘ بنائی تھی جو مجھے بہت پسند ہے۔ اس فلم کی کہانی یہ ہے کہ ایک لڑکی چھوٹے آفس میں ملازمت کرتی ہے۔ دفتر کا ملک اسے ایک تگڑی رقم بینک میں جمع کرانے کے لئے دیتا ہے۔

لڑکی کی نیت میں فتور آتا ہے اور وہ یہ رقم لے کر نو دو گیارہ ہو کر ایک دوسرے شہر میں جاتی ہے۔ راستے میں اس کی کار خراب ہو جاتی ہے اور وہ ایک چھوٹے سے موٹل میں ٹھہرتی ہے۔ جہاں اس کی ملاقات انتھونی پرکنز سے ہوتی ہے۔ یہ زبردست فلم ہے۔ جب میں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا تو میرے تو اوسان خطا ہو گئے۔ فلم کا شاور والا سین آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اور لوگ آج 63 سال بعد بھی اسے تھیٹر میں بصد شوق دیکھنے جاتے ہیں!

اسے یو ٹیوب پر آن لائن بھی دیکھا جاتا ہے۔ فلم ’ایگزارسسٹ‘ کی طرح فلم ’سائیکو‘ بھی میرے اعصاب پر سوار ہو گئی۔ الفریڈ ہچکاک کی وہ فلم میری پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے۔ سان فرانسسکو پبلک لائبریری میں لاکھوں کی تعداد میں ڈی وی ڈی میں فلمیں موجود تھیں۔ میں نے اس کتب خانے میں فلم کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھیں جن سے مجھے فلمساز و ہدایتکار الفریڈ ہچکاک کی زندگی کے بارے میں بھی علم ہوا۔ اس کے علاوہ اطالوی، فرانسیسی اور جرمن فلموں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوئیں۔

جب میں یہ کتابیں پڑھ رہا تھا تو اس کے ساتھ ان فلموں کو لائبریری کے شعبہ فلم میں جا کر دیکھا بھی! اس سے میری معلومات میں خاصا اضافہ ہوا۔ پھر اس طرح ان بڑے بڑے ڈائرکٹروں کو پڑھنے کا موقع ملا اور الفریڈ ہچکاک کی بہت سی فلمیں بھی دیکھیں۔ مجھے ان میں سب سے زیادہ فلم ’سائیکو‘ پسند ہے۔ اس فلم میں انتھونی پرکنز نے لاجواب اداکاری کی ہے۔ یہیں سے وہ فلم اسٹار بنے تھے۔ الفریڈ ہچکاک ہالی ووڈ آنے سے پہلے برطانیہ میں 17 فلمیں بنا چکے تھے۔ ان کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فلمی مرکز، ہالی ووڈ نے بلوا لیا تھا۔ یوں ہچکاک ہالی ووڈ منتقل ہو گئے“ ۔

سالانہ امریکی فلم مارکیٹ:

” ہالی ووڈ میں سالانہ امریکی فلم مارکیٹ لگتی ہے۔ میں بھی وہاں جاتا ہوں۔ وہاں میری ملاقات ایک بہت بڑے فلمساز و تقسیم کار رابی لٹل سے ہوئی جو لٹل فلم کمپنی کے مالک تھے۔ یہ 4 مئی 2018 کو جہان فانی سے گزر گئے۔ انہوں نے میری فلم ’بائی سائیکل برائیڈ‘ ( 2010 ) دیکھی اور اسے پسند بھی کیا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے؟ کہنے لگے کہ تم ہارر فلم بنانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ یہ بات سن کر مجھے بھی سوچنے کا موقع ملا کہ آیا مجھے ہارر فلم پر کام کرنا چاہیے؟

چوں کہ میں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں فلم“ نائٹ آف حنا ” ( 2005 ) پھر اس کے بعد فلم“ بائی سیکل برائیڈ ”بنائی تھی اور اب میں نے تیسری فلم بنانا تھی اور اس کی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ پھر میرے بھی کچھ دوست تھے۔ جیسے ایک فلم ایڈیٹر ڈین گٹلن کے ساتھ میں کافی عرصے سے کام کر رہا تھا، اس نے بھی کہا کہ تم ہارر فلم بنانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ یوں مجھے بھی جستجو ہوئی کہ کیا میں بھی ہارر فلم بنا سکتا ہوں؟ یوں فلم“ ہاؤس آف ٹمپٹیشن ” ( 2014 ) بنانے کا خیال آیا“ ۔

فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کا بنانا:

” یہ بتائیے کہ فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ آپ نے کس طرح بنائی؟“ ۔

” بات یہ ہے کہ میں نے کامیڈی فلم“ بائی سیکل برائیڈ ”بنائی تھی جو لوگوں نے بہت پسند بھی کی۔ یہ دنیا بھر میں آج بھی آن لائن دیکھی جاتی ہے۔ اب میں نے بھی سوچنا شروع کیا کہ ہارر فلم بنائی جائے۔ میں الفریڈ ہچکاک سے بہت متاثر تھا اور ان کی فلم ’دی برڈز‘ کے کچھ سین یہاں سان فرانسسکو بے ایریا کے پاس ہی ایک بہت چھوٹے سے گاؤں ’پٹیلا بے‘ میں شوٹ کیے گئے تھے۔ ہچکاک کو یہ گاؤں پسند تھا یہاں ایک چھوٹا سا دریا بھی ہے۔

میں اس گاؤں میں گیا۔ یہاں الفریڈ ہچکاک کا ایک بڑا سا مجسمہ ایستادہ تھا۔ میں نے ایک تصویر اس مجسمے کے ساتھ بنوائی۔ یہ تصویر انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس المعروف آئی ایم ڈی بی نے بھی لگائی ہوئی ہے۔ بہرحال پٹیلا بے میں جہاں جہاں الفریڈ ہچکاک نے اپنی فلم ’دی برڈز‘ کے سین عکس بند کیے تھے میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی اپنی فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کے کچھ سین وہاں شوٹ کروں! میں ان جگہوں پر گیا اور وہ چرچ دیکھا جہاں ہچکاک کی فلم میں ایک سین میں پرندے بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

پھر اسکول میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے اور آسمان سے پرندے آفت بن کر نازل ہوتے ہیں۔ میں نے بھی اسی اسکول اور چرچ میں اپنی فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کے سین شوٹ کیے۔ میری یہ فلم آج بھی آن لائن دیکھی جاتی ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ میری فلموں میں سب سے زیادہ بزنس اسی فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ نے کیا ہے۔ یہاں مغربی ممالک، کینیڈا، یورپ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہارر فلمیں بہت پسند کی جاتی ہیں اسی لئے میری بھی یہ ہارر فلم دیکھی جاتی ہے۔

فلمیں دیکھنے والے ای میل سے بھی رابطہ کر کے رائے زنی کرتے ہیں۔ مجھے بھی اس فلم کے بارے میں پسندیدگی کی ای میلیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ کسی بھی فلمساز و ڈائریکٹر کے لئے اعزاز کی بات ہوتی ہے کہ فلم بین اس کی فلموں سے متعلق رائے زنی کریں۔ بات ہو رہی تھی گاؤں پٹیلا بے جانے کی۔ تو میں جب اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں گیا تو مجھے بھی اس چھوٹے سے خوابیدہ گاؤں نے اپنے سحر میں جکڑ لیا! “ ۔

” ڈاکٹر صاحب اپنی فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کی کہانی کے بارے میں بتائیے؟“ ۔

” اس فلم کی کہانی بہت سادا ہے۔ ایک 13 سالہ بچہ جونی کو اس کی ٹیچر کہتی ہے کہ اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت پر ایک چھوٹی یو ٹیوب ویڈیو بناؤ۔ جونی فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے والد کے بارے میں مذکورہ ویڈیو بنائے گا۔ اس کے والد گاؤں پٹیلا بے کے پادری ہیں۔ اب جہاں جہاں پادری صاحب جاتے ہیں ان کا بیٹا والد کے ساتھ کیمرہ لے کر ساتھ جا کر ان کے بارے میں ویڈیو بنا رہا ہے کہ اس کے والد کن کن لوگوں سے مل رہے ہیں۔ ایسے میں ایک خوبصورت دوشیزہ بھی پادری سے ملنے آتی ہے اور بتدریج پادری کی زندگی بکھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اس دوشیزہ کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔ کہانی بڑی زبردست تھی۔ وہ فلم بے حد پسند کی گئی ”۔

فلم کی لوکیشن کی مزیدار کہانی:

” ڈاکٹر صاحب اس فلم کی لوکیشن آپ نے کس طرح ڈھونڈیں؟“ ۔

” فلم کو کامیاب بنانے میں اس کی لوکیشن کی بھی بڑے مزیدار کہانی ہے! چوں کہ میرا تعلق بھی روحانیت سے ہے۔ جب ہم بچے تھے تو ہماری امی کھانا لگاتی تھیں اور ہم والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے۔ ہمارے والدین کہتے کہ پہلے دعا کرو۔ وہ دعا دادا دادی، نانا نانی اور دیگر فوت شدگان کی ارواح کے لئے ہوتی۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ جب آپ کسی روح کے لئے دعا بھیجتے ہیں یا ان کے لئے کلام پاک پڑھتے ہیں تو اس کا ثواب انہیں مل جاتا ہے۔

پھر میں نے اس موضوع پر کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کی بات ہو رہی ہے۔ ہماری کہانی مکمل ہو گئی اور فلم کا اسکرپٹ تیار ہو گیا۔ اسکرپٹ میں 100 سال پرانا گھر تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ اس گھر کی تین منزلیں ہوں اور ہر ایک چیز میں لال رنگ نمایاں ہو! نیز یہ گھر ایک پرانے قلعے کی مانند لگے۔ یہ سب اسکرین پلے میں لکھ تو دیا لیکن اس گھر کی تلاش پھر تمام اداکاروں اور فلم یونٹ کو وہاں لے کر جانا، ٹھہرانا، واپس لانا۔

ایک لمبا کام تھا۔ اس سلسلے میں میری دوست پیج نے کہا کہ اس کی ایک دوست سکینہ کا گھر دیکھنے میں بہت پرانا لگتا ہے۔ پھر اس میں بہت سی قدیم چیزیں بھی سجائی گئی ہیں۔ مجھے کہا گیا کہ ایک مرتبہ اس کو دیکھ لوں ممکن ہے لوکیشن پسند آ جائے۔ میں وہاں چلا گیا۔ وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو مجھے لگا کہ یہ تو پادری کے گھر کے لئے بہت موزوں رہے گا۔ لیکن وہ دوشیزہ جب پادری کو ایک قلعہ کے اندر لے کر جاتی ہے اس کے لئے بھی ہمیں قلعے کی ضرورت تھی۔

تو جب میں سکینہ کے گھر سے باہر نکلا تو چند قدم ہی چلا ہوں گا تو میری نظر ایک بہت ہی پرانے گھر پر پڑی جو کہ بالکل بند تھا۔ پھر وہ گھر کوئی اتنا زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ یہ بہت پرانا تین منزلہ قلعہ نما گھر تھا۔ باہر سے تو وہ گھر بالکل ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا میں نے لکھا تھا۔ یوں لگا جیسے کسی نے میرے لکھے ہوئے کو حقیقت میں لا کھڑا کیا ہو! میں نے اس گھر کی اطلاعی گھنٹی بجائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی آہستہ سے چلتا ہوا باہر آیا۔

میں نے گھر سے متعلق معلومات لیں۔ اس نے بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ یہ گھر ڈیڑھ سو سال پہلے تعمیر ہوا تھا اور اس مکان کو یہاں کی مقامی انتظامیہ نے تاریخی عمارت کا درجہ دے دیا ہے یہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ ضرورت پڑنے پر مرمتیں کرائی جا سکتی ہیں لیکن اسے گرایا نہیں جا سکتا۔ بتایا گیا کہ موجودہ مکان مالکان تین بہن بھائی ہیں جن کے ماں باپ کو ان کی شادی کے موقع پر ان کے ماں باپ نے یہ مکان تحفے میں دیا تھا!

ان بچوں اور ان کے والدین نے اس کو بڑے پیار سے رکھا تھا۔ حتیٰ کہ اول روز سے جو جو چیزیں یہاں موجود تھیں وہ اب بھی سنبھلی ہوئی اسی حالت میں موجود ہیں۔ اسی گھر کے نام پر میری فلم کا نام بھی ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ ہے۔ مجھے مالکان کا نمبر دیا گیا اور کہا کہ یہ لوگ تو برسوں سے منتظر ہیں کہ کوئی فلم میکر آئے اور اس گھر میں اندرونی اور بیرونی شوٹنگ کرے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ اتنی عمدہ لوکیشن دستیاب ہو گئی۔ جب آپ وہ گھر اس فلم میں دیکھیں گے ( آن لائن) تو آپ کو نظر آئے گا کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔ یہ پرانا بھی اور خوفناک بھی ہے! “ ۔

فلم ’ہاؤس آف ٹمپٹیشن‘ کے اداکار:

” جب بھی فلم بنتی ہے تو ایک اہم مرحلہ اداکاروں کا انتخاب ہوتا ہے۔ کیوں کہ آپ کی پوری کہانی کا دار و مدار اچھی اداکاری پر منحصر ہوتا ہے۔ اچھے اداکار بہترین طریقے سے احساسات اور جذبات کو پردہ اسکرین پر پیش کرتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے پادری کی ضرورت تھی۔ بہت سارے اداکاروں کے آڈیشن ہوئے۔ ایک اداکار کرس فیوگر نے پادری کے کردار کے لئے بہت اچھے مکالمے ادا کیے اور مجھے لگا کہ یہ پادری کے کردار کے لئے موزوں رہیں گے۔

پھر ان کی عمر اور شخصیت بھی بھی کچھ ایسی تھی۔ پھر واقعی انہوں نے یہ کردار احسن طریقے سے نبھایا بھی۔ بچے کا کردار جولین لاراش نے بہت خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا۔ پادری کی بیوی کا کردار شیلی میک کے نے کیا۔ دوشیزہ جو پادری کی زندگی تباہ کرنا چاہتی ہے وہ در اصل شیطان ہے۔ یہ کردار خاصا پیچیدہ تھا۔ ہم نے کئی ایک خواتین کو دیکھا لیکن کوئی ایک بھی اس کے لئے موزوں نظر نہ آئی، پھر کسی نے ہالی ووڈ کی اداکارہ جینا ہنٹ کے بارے میں بتلایا۔

رابطہ کرنے پر اس نے کہا کہ کہانی تو عمدہ لگ رہی ہے اسکرین پلے بھیجا جائے تب وہ فیصلہ کرے گی۔ اس کے بھیجنے کے اگلے دن اس نے رابطہ کیا کہ اگر اسے یہ کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ اپنی جان لڑا دے گی۔ اس جوش اور جستجو کے ساتھ جب اس نے بات کی تو مجھے بھی یقین ہو گیا کہ یہ کردار سے انصاف کرے گی۔ آپ اس فلم میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس نے کتنے جاندار طریقے سے اس کردار کو نبھایا ہے! یہ کردار کبھی بھی بھولنے والا نہیں۔ ان کے علاوہ بھی دیگر اداکاروں نے اپنے کردار خوب نبھائے۔ یہ فلم ہم سب نے مزے سے بنائی۔ عکس بندی کے دوران اس مکان میں سب ہی کو عجیب عجیب آوازیں سنائی دیتی تھیں کبھی کبھار تو اچھے اچھے ڈر جاتے“ ۔

فلم کے ایوارڈ:

” یہ فلم یہاں کے سنیما گھروں میں نمائش کے لئے پیش ہوئی اور بے شمار لوگ ٹکٹ خرید کر فلم دیکھنے آئے۔ ’این ادر ہول ان دی ہیڈ‘ فلم فیسٹیول میں ہمیں بیسٹ فیچر فلم کا ایوارڈ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ جینا ہنٹ اور شیلی میک کے کو بھی بہترین اداکاراؤں کے ایوارڈ دیے گئے۔ میرے لئے یہ ہارر فلم بنانا ایک نہایت دلچسپ تجربہ تھا۔ مجھے بھی اس ہارر فلم بنانے کے بعد یہ سیکھنے کو ملا کہ ہارر فلمیں کس طرح سنیما شائقین کے ان دیکھے تجسس بھرے خوف کو ابھارتی ہیں۔

Facebook Comments HS