میرا کالج آر ایم سی، میرا ملک ہے پاکستان


اختے، پختے لم ڈھینگ چپختے ٹھاہ، چپختے ٹھاہ۔ یہ تھا وہ نعرہ جو آر ایم سی، یعنی راولپنڈی میڈیکل کالج میں میرے اولین دنوں کی یاد ہے۔ یہ نعرہ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں بے ڈھنگے اور بے معنی الفاظ پر مشتمل تھا اور کالج کے کرکٹ میچوں میں مد مقابل کو حواس باختہ کر نے کے لئے لگایا جاتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے، خاموشی سے میچ دیکھتے، یک بیک انتہائی بلند آواز میں اختے پختے کی آواز آتی، کان اس طرف لگ جاتے اور جب تک سمجھ آتی، ٹھاہ ٹھاہ کے نعروں کے ساتھ اگلی ٹیم سہم چکی ہوتی۔

یہ نعرہ میرے لئے آر ایم سی کی ملک پاکستان کے ساتھ مماثلت کی پہلی وجہ تھی۔ بچپن سے ہمیں اپنا قومی ترانہ ایک ڈیکورم کے ساتھ سکول کی مارننگ اسمبلی میں پڑھنے (یا گانے ) کا حکم تھا، ہم ”پاک سرزمین کا نظام، قوت اخوت عوام“ جیسے الفاظ سنتے اور سوچا کرتے کہ نظام کدھر ہے؟ عوام کی قوت کو کون مانتا ہے، اور ان کے مابین اخوت کی بھلا کسے فکر ہے؟ لیکن ان سوالات پر غور لاحاصل رہتا اور ترانہ ختم ہو جاتا، ہاں اس کا ڈرم رول کافی دیر تک اپنا رعب برقرار رکھتا۔ یہی اثر اس اختے پختے والے نعرے کا ہوتا تھا۔

اسی طرح آر ایم سی کی تخلیق بھی موجودہ پاکستان سے کچھ ملتی جلتی تھی۔ موجودہ پاکستان سن انیس سو اکہتر میں متحدہ پاکستان کی تقسیم سے معرض وجود میں آیا۔ اس واقعے کو ہم بڑی آسانی سے سقوط مشرقی پاکستان کہہ دیتے ہیں حالانکہ سقوط تو پورے پاکستان کا ہوا تھا اور اس کے بعد دو الگ الگ ملک بن گئے۔ آر ایم سی بھی گارڈن کالج راولپنڈی کے سقوط سے معرض وجود میں آیا۔ اس کی نئی عمارت کو گارڈن کالج سے الگ کر کے نئی بلڈنگ کو راولپنڈی میڈیکل کالج کا نام دے دیا گیا۔

تیسری مماثلت ہماری جنریشن کی شخصیت کشی تھی جو پاکستان میں جنرل ضیا الحق نے کی اور ہمارے کالج میں استاد الاساتذہ نے۔ جب سکول میں تھے اور ہم پر چھپ چھپا کر جوش ملیح آبادی کا کلام ”ہوئے جوان تو مرنے لگے حسینوں پر“ پڑھنے کا وقت تھا تو جنرل ضیا کی طاری کردہ اسلامائزیشن نے پتلون شرٹ کی جگہ ملیشیا کی شلوار قمیص پہنائی اور سکول کے اوقات میں بھی نماز کی صف پر کھڑا کر دیا۔ سوچا کہ کالج میں جا کر ”جوان“ ہوں لیں گے لیکن قسمت راولپنڈی لے آئی۔ یہاں فرسٹ پروفیشنل کے وائیوا میں یہ پوچھا جاتا کہ نماز پڑھ کے آئے ہو یا نہیں، اور رمضان میں ریلوے سٹیشن پر جہاں مسافروں کے لئے کھانے پینے کا بندوبست موجود ہوتا ہے، مقامی پولیس یہ دیکھنے کے لئے چھاپے مارتی کہ روزہ خوار یہاں تو نہیں گھوم رہے۔ یوں جوان ہونے کی حسرت میں ایک جنریشن کی جوانی گزر گئی۔

آر ایم سی سیاسی طور پر بھی مملکت پاکستان کے ساتھ بہت ہم آہنگ رہا۔ پاکستان کے دارالحکومت یعنی اسلام آباد میں بطور حکمران آنے والوں نے ہمیشہ یاد رکھا کہ "دارالخلافہ” نہیں، "دارالخلیفہ” زیادہ اہم ہوتا ہے اور وہ راولپنڈی ہے۔ آر ایم سی کے حکمرانوں میں بھی جس نے اس بات کو پلے باندھا، اس کے اقتدار کو دوام ملا۔ انہیں معلوم تھا کہ پنڈی والے انگریزی بہت شوق سے بولتے ہیں اور دوسرے نمبر پر جو چیز انہیں بھاتی ہے اسے سپن ڈاکٹرنگ کہتے ہیں۔ سو دونوں میں کمال رکھنے والوں کو کمال سہارا ملا۔

سپن ڈاکٹرنگ سے یاد آیا کہ ایک مرتبہ کالج کے طلبا نے ٹیپو روڈ پر بہت ہنگامہ کیا، ایک آدھ گاڑی کو بھی جلا دیا، پولیس آ گئی اور کہنے لگی کہ ہم ہاسٹل کی تلاشی لیں گے اور ذمہ داروں کو گرفتار کریں گے۔ پرنسپل پوچھنے لگے آپ کیسے تعین کریں گے کہ ذمہ دار کون ہے؟ پولیس نے کہا کہ اتنی توڑ پھوڑ انہوں نے کی ہے، اگر آپ ہمیں تلاشی لینے دیں تو کتنے ہی لڑکے ایسے ہوں گے جن کے ہاتھوں پر ابھی بھی کالک لگی ہو گی۔ پرنسپل کہنے لگے کالک تو میرے ہاتھوں پر بھی لگی ہے، کیا آپ مجھے بھی گرفتار کر لیں گے؟

شدید تناؤ والے ماحول میں ایک قہقہہ لگا، لڑکوں نے تالیاں بجائیں اور پولیس وہاں سے چلی گئی۔ ہم ان کے ”پرو سٹوڈنٹ“ رویے سے حوصلہ پاکر ان کے دفتر چلے گئے کہ سٹوڈنٹ یونین پر پابندی ہے تو ڈبیٹنگ کلب کی ہی اجازت دے دیں۔ کہنے لگے، میاں پہلے یہ بتاؤ کہ تم ہو کون؟ کیا کوئی خود ساختہ لیڈر ہو، طلبا کے نمائندہ ہو؟ تب ہمیں سمجھ آئی کہ یونین کے بغیر نمائندہ نہیں اور نمائندگی کے بغیر مطالبہ نہیں۔ نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی۔

کسی کالج کا ذکر اساتذہ کے بغیر ادھورا ہے تو آر ایم سی میں اساتذہ کا ذکر پروفیسر نسیم اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن اس کا کیا کریں کہ ان کے علاوہ بھی بہت سے اشخاص تھے جو کتاب تو پڑھاتے تھے، لیکن انداز ایسا ہوتا کہ کم علمی کا طعنہ دے دے کر شاگرد کی کمر میں سے سپائن نکال دیتے، ہارڈ باؤنڈ کتاب کو پیپر بیک میں تبدیل کر دیتے۔ شاگرد جواب میں کچھ بول نہ پاتا کہ ہمارے کلچر میں استاد کو شاگرد کی کھال ادھیڑ کر اس سے اپنی جوتی بنا لینے کا اختیار بھی مانا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم ایف سی پی ایس کی خاطر ٹیچنگ ہسپتال میں ٹرانسفر کے لئے سفارشی خط لئے ایک منسٹر کے پاس گئے تو وہاں دو پروفیسر حضرات کو بھی دیکھا۔ دونوں کی موجودہ جگہ پر ملازمت دس برس سے اوپر ہو چکی تھی، دونوں کو اپنی ٹرانسفر رکوانا تھی اور دونوں کے ہاتھ میں جیولری باکس تھے۔ ہم نے لیکن اپنی تربیت اور ثقافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہی سوچا کہ ویلوٹ سے مرصع ان ڈبوں میں دراصل تمغے ہیں جو وزیر صاحب نے ان پروفیسر حضرات کی خدمات کے طور پر دیے ہیں۔

ذکر پروفیسر نسیم اللہ کا تھا، بیچ میں ڈبے آ گئے۔ ہم نے ان سے میڈیسن تو پڑھی ہی، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھا۔ اللہ ان کا بھلا کرے، کالج میگزین کے لئے ہماری شاعری کو دیکھ کر کہنے لگے : بھلا اقبال اور فیض کے بعد سیالکوٹ سے کسی تیسرے شاعر کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ ہم نے تب سے ”قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا“ کے مصداق شاعری چھوڑ دی اور اچھا ہی کیا کہ چھوڑ دی۔ شاعروں کے لئے یہ دور کچھ اچھا نہیں۔ پچھلے برسوں میں بارہا پی ٹی آئی والوں کو یہ کہتے سنا کہ ”نسخہ ہائے وفا“ جس شاعر نے لکھی اس کا نام فیض حمید فیض ہے اور آج کل انور مقصود یہ شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ منیر، نیازی کے دیوان کے پیچھے ہے۔

آخیر میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اچھا ہوا فلسطین میں ہونے والے ظلم کے پس منظر میں گولڈن جوبلی تقریبات کو کینسل کرنے کی تجاویز نظر انداز ہو گئیں۔ ورنہ ملنا جلنا، سی ایم ای، نارتھ ٹو ساوتھ نالج ٹرانسفر اور نیٹ ورکنگ وغیرہ کا موقع ضائع ہو جاتا۔ لیکن کیا کریں کہ انہی دنوں بلوچستان سے محرومیوں کا ایک قافلہ چلتے چلتے اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ مناسب ہو اگر آر ایم سی کی گولڈن جوبلی تقریبات میں ایک قرارداد ڈاکٹر ماہ رنگ اور اس کے رفقا کے لئے بھی منظور کر لی جائے۔ میرے آر ایم سی کا میرے پاکستان سے اتنا رشتہ تو بنتا ہے۔ وہ پاکستان جس میں ”چپختے ٹھاہ“ کا نعرہ اب کافی لوگوں کو سمجھ میں آنے لگا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 15 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq