جب ملکہ ترنم نورجہاں نے فیض کی خاطر افسروں سے ٹکر لی
دسمبر 1954 ء کے ابتدائی ایام تھے۔ کچھ لوگ ملکہ ترنم میڈم نورجہاں کے پاس حاضر ہوئے اور کہا ”ہم قائد اعظم کے یوم پیدائش پر ایک چیریٹی شو کر رہے ہیں اور 6 لاکھ کی ٹکٹیں فروخت کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ آپ تشریف لائیں اور نغمہ سرا ہوں تو یہ ایک قومی خدمت ہوگی“
ملکہ ترنم نے حامی بھر لی۔
25 دسمبر 1954 ء ویک اینڈ کا دن تھا، یعنی ہفتے کے شام۔ ملکہ ترنم نور جہاں وقت مقررہ پر پہنچ گئیں اور اپنے آٹھ دس گانوں کی فہرست منتظمین کو دے دی کہ یہ سازندوں تک پہنچا دی جائے تاکہ وہ سنگت کی تیاری کر سکیں۔ فہرست سازندوں سے پہلے بڑے افسران تک گئی اور کچھ ہی دیر میں لوٹ کر اس ہدایت کے ساتھ میڈم کے پاس پہنچ گئی کہ فلاں نمبر پر لکھی ہوئی نظم آپ نہیں گائیں گی۔
میڈم نے پوچھا ”کیوں نہیں گاؤں گی؟“
بتایا گیا ”افسران کا حکم ہے“
میڈم نے کہا ”یہ نظم اگر نہیں ہوگی تو میں سرے سے گاؤں گی ہی نہیں“
کہا گیا ”میڈم! ضد نہ کریں“
میڈم نے کہا ”میں نے آپ سے کوئی پیسے نہیں لئے میں تو اپنے ملک کے لئے گانے آئی ہوں۔ اگر یہ نظم نہیں ہوگی تو میں پرفارم نہیں کروں گی“
بتایا گیا ”یہ ایک باغی شاعر کی نظم ہے جو راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہیں اور جیل میں بند ہیں۔ ان کی نظم نہیں گائی جا سکتی“
میڈم نے کہا ”پھر میری معذرت قبول کریں“
بات افسران تک گئی، معاملہ گمبھیر ہو گیا۔ میڈم نورجہاں کی گائیکی کا طوطی بولتا تھا اور وہ ملکہ ترنم کا ٹائٹل پا چکی تھیں۔ ٹکٹیں انہی کے نام پر فروخت ہوئی تھیں۔ وہ نہ گاتیں تو شو ہی نہ ہو پاتا۔ میڈم کو منانے کی بہتیری کوشش ہوئی مگر وہ بضد رہیں کہ یہ نظم ہوگی تو میں گاؤں کی وگرنہ نہیں۔ مجبوراً افسران کو سر تسلیم خم کرنا پڑا۔
تب ملکہ ترنم نے اپنی کمپوز کی ہوئی فیض کی نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ گائی۔ کسی بھی عوامی پروگرام میں یہ پہلی دفعہ گائی گئی تھی اور اس کو ایسی پذیرائی ملی کہ راتوں رات مقبول ہو کر زبان زد عام و خاص ہوئی۔ میڈم کہتی ہیں کہ یہ نظم میرے دل کے بہت قریب تھی سو میں نے بڑی محبت سے اس کی دھن بنائی۔
24 مارچ 1955 ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بشیر احمد نے راولپنڈی سازش سپیشل ٹریبونل ایکٹ مجریہ 1951 ء کے تحت سزا پانے والے آٹھ قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ان میں فیض بھی شامل تھے۔ مگر جونہی رہائی عمل میں آئی، حکومت پنجاب کے احکامات کے تحت انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
12 اپریل 1955 ء کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے ایک مرتبہ پھر راولپنڈی سازش کیس کے تمام اسیروں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر یہ قیدی کسی اور مقدمہ میں مطلوب ہیں تو بھی انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔
اپریل 1955 ء ہی کی کسی رات کا تیسرا پہر تھا، ملکہ ترنم سونے کی تیاری کر رہی تھیں کہ ملازم نے اطلاع دی کوئی فیض نامی صاحب ملنے آئے ہیں۔
میڈم نے پوچھا ”کون فیض؟“
ملازم نے بتایا ”معلوم نہیں، بس اپنا نام فیض احمد فیض بتاتے ہیں“
نورجہاں کچھ دیر کو سکتے میں آ گئیں۔ آگے کی کہانی میڈم کی زبانی۔
”نہ سر پہ دوپٹہ، نہ پیر میں چپل، میں باہر کو بھاگی۔ دروازے پر فیض صاحب کھڑے تھے، انگلیوں میں سگریٹ سلگ رہا تھا۔ میں ان کے کلام کی عاشق تھی مگر ان سے ملی کبھی نہ تھی۔ میرا دل چاہا کہ فیض صاحب کے گلے لگ جاؤں مگر جرآت نہ کر پائی۔ ہر آرٹسٹ کے دل میں ایک محل ہوتا ہے جس کا مکیں آرٹسٹ کے دل کا شہزادہ ہوتا ہے۔ کسی بری نیت سے نہیں، عموماً نیت اچھی اور پاک ہوتی ہے۔ میرے دل کے محل کے مکیں فیض صاحب تھے۔ میں ہچکچائی اور فیض کی شخصیت کے رعب سے لجائی سی کھڑی تھی کہ فیض صاحب نے بڑھ کے مجھے گلے لگا لیا۔ میں نے کہا“ اندر تشریف لائیے ”
فیض صاحب بولے ”بھئی! ہم آپ کا شکریہ ادا کرنے کو حاضر ہوئے ہیں۔ آپ اتنی اونچی ہستی ہیں کہ آپ مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ حکومت کے زیر عتاب لوگوں کے لئے سٹینڈ لے جانا بڑے شخص کا کام ہے“
اس دن کے بعد فیض صاحب سے ہمارے گھریلو مراسم ہو گئے۔ اک دوسرے کے ہاں آنا جانا شروع ہوا۔ لیکن مجھے قلق ہے کہ اپنی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے میں فیض صاحب سے بہت کم مل سکی۔ کاش وقت لوٹ آئے اور میں اپنا یہ موسیقی کا کیرئیر چھوڑ کر بس فیض صاحب کے سامنے بیٹھ کر ان کی شاعری سنتی رہوں۔ ”
آج 23 دسمبر کو اس بہادر خاتون کی برسی ہے جو برصغیر کی اور اردو/پنجابی دنیا کی سب سے بڑی گلوکارہ ہیں۔ جو ترنم اور سروں کی ملکہ ہیں۔ جس بکے ترانوں نے برستی آگ اور چنگھاڑتے ٹینکوں کے سامنے کھڑے اپنے سپاہی کا حوصلہ استوار کیا۔ وہ ایک بہادر خاتون تھیں جو اپنے موقف پر ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتی تھیں۔
(اس تحریر کا مرکزی خیال میڈم نورجہاں کے ایک انٹرویو سے لیا گیا جو یو ٹیوب پر موجود ہے۔ تاہم مکالموں کی زباں، تاریخ و سنین اور راولپنڈی کیس بارے حقائق تحریر نگار نے قارئین کی سہولت کے لئے خود سے شامل کیے ہیں )


