اور کرسمس سفید ہو نہ سکی
برف کی سفیدی سے ڈھکے صنوبر کے بلند بالا پیڑوں کی ایک قطار کے پہلو میں چمکتی سفید چراگاہ جس کے عین بیچ میں بھوری کھال پر ننھے ننھے سفید دھبوں پر اتراتے دو بڑے ہرن اور ان کا ایک بچہ نیم روشن جھیل میں اپنے عکس دیکھنے میں مگن ہیں۔ جھیل کا پانی جم کر شفاف آئینے کا روپ دھار چکا ہے۔ سارے میں جھٹپٹے کا عالم ہے۔ شام ڈھلنے کو ہے یا دن نکلنے کو بے تاب ہے؟ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔
یہ وہ منظر ہے جو میرے سامنے میز پر پڑے کرسمس کارڈ پر چمک رہا ہے۔ یہ کارڈ مجھے میری ہم کار مزگین نے سوئس چاکلیٹس کے ایک ڈبے اور ایک روایتی مسکراہٹ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مزگین کردستان سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون ہیں مگر یہاں کے ہر تہوار کو انتہائی جوش و خروش اور خوش دلی سے مناتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں
” میں کینیڈین ہوں۔“
تحفتاً دیے ان کے کارڈ پر ہلکے قرمزی پس منظر سے ابھرتے نیلے اور سفید منظر کے نیچے سنہری رنگ میں یہ الفاظ درج ہیں
کیسا پرسکون اور روشن سماں ہے یہ
اور اندر تین سطروں میں پھیلا یہ مختصر پیغام
ڈیئر سید (دفتر میں مجھے اسی نام یعنی میرے مکمل نام کے پہلے حصہ سے پکارتے ہیں۔ )
”موجودہ اور آنے والے موسموں میں آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی خوشی اور خوش حالی کے لیے نیک تمنائیں۔
اور اس تحریر کے بائیں جانب کے کونے کے پاس سات عدد نقرئی سنو فلیکس ”گرتے“ دکھائی دے رہے ہیں۔ جن میں سے تین بڑے بڑے ہیں جبکہ باقی تین چھوٹے۔ یہ سات ہی کیوں ہیں اور چھوٹے بڑے فلیکس کی تعداد میں تفاوت کا کیا منطقی سبب ہو سکتا ہے؟ مجھے معلوم نہیں۔ شاید صفحہ میں تحریر و تصویر کا تناسب برقرار رکھنے کے لیے یا شاید محض موسم سرما کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ ہاں، اس سے ہفتہ کے سات دن بھی تو مراد لیے جا سکتے ہیں۔
ارے، اس کارڈ کے منظر میں جو واضح اشارہ ”سفید کرسمس“ کا موجود ہے اس جانب تو میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ جی ہاں، سفید کرسمس۔ میں اسے یہاں کے باشندوں کی ”کمزوری“ کہوں تو بے جا نہ ہو گا۔
یہاں کینیڈا، شمالی امریکا میں کرسمس کی ”چاند رات“ یا کرسمس کی صبح کم از کم دو سے اڑھائی سنٹی میٹر برف پڑ جائے تو اسے ”سرکاری“ طور پر سفید کرسمس قرار دے دیا جاتا ہے۔
کرسمس پر برف گرنا گویا جشن مسرت کا ناگزیر حصہ بن گیا ہے۔ اور یہ آج کی بات نہیں اور نہ کسی ایک سبب سے۔ ”سفید کرسمس“ کا تصور نیا نہیں ہے اور اس تصور کو ترویج و ترقی دینے میں مذہب نے نہیں بلکہ آرٹ یعنی اس سے منسوب قصے کہانیوں، پینٹنگز، گیتوں، ڈراموں اور فلموں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گویا یہ ایک ثقافتی مظہر ہے جسے مقامی باشندوں نے اپنے خوشی کے احساس سے منسلک کر رکھا ہے۔
ادبی محققین کا کہنا ہے کہ سفید کرسمس کے تصور کو عام کرنے میں انگریزی زبان کے ممتاز ادیب چارلس ڈکنز کی تحریروں کا بہت ہاتھ ہے۔ اس کے ہاں کرسمس پر برف گرنے پر خوشی اور نہ گرنے پر مایوسی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ باکمال ہے۔ اور پھر بیرونی منظر کے کرداروں کی اندرانی کیفیات پر اثرات کی ترجمانی جس موثر انداز میں کی گئی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ شاعری اور موسیقی کی طرف آئیں تو بنگ کرازبی کے گائے گیت ”وائیٹ کرسمس“ کی پانچ کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
وائیٹ کرسمس کا تصور عوامی سطح پر اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ چوبیس دسمبر کی شب یا پچیس دسمبر کی صبح برف باری ہونے پر لوگوں میں ایک ان جانی خوشی اور ناقابل بیاں جوش و خروش سا پیدا ہوجاتا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ کینیڈا میں موسم سرما کا سرکاری آغاز تواکیس دسمبر رات دس بج کر ستائیس منٹ پر پرہی ہو گیا تھا مگر قدرت اس سرکاری اعلان کی کوئی خاص پروا کرتی دکھائی نہیں دی۔ درجہ حرارت تو چلیے منفی ہی میں ہے مگر نہ سردی میں وہ شدت اور نہ برف کی سفید کاری۔ وہی خزاں کا بھورا بھورا سا منظر تاحد نظر پھیلا ہوا۔ جب موسمیات کے ماہرین نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ اب کے ہم ”وائیٹ کرسمس“ سے لطف اندوز نہ ہو سکیں گے تو کتنے ہی چہرے بجھے بجھے دکھائی دینے لگے تھے۔
تاہم شمالی خطے کے ”زندہ دلاں“ نے اس پیش گوئی اور مہنگائی کے عفریت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ڈٹ کر کرسمس کی خریداری کی، سینٹا کے روایتی جلوسوں میں زور شور سے حصہ لیا، اس کے ساتھ بچوں کی تصاویر بنائیں، کرسمس کے مخروطی پیڑوں کی رنگا رنگ آرائش کی۔ گویا قدرت اور حالات نے جتنی خوشی عطا کی اس سے خوب استفادہ کیا۔ اور پھر عزیز و قارب اور دوست احباب کے ساتھ طعام اور قہقہے شیئر کرنے میں کوئی کنجوسی نہیں کی۔
مانا کہ اب کے کرسمس سفید ہو نہ سکی مگر اچھی اور خوش آئند بات یہ ہے کہ موسم سرما کے ”سرکاری“ آغاز سے بہت پہلے ہی شروع ہو جانے والا یہ ”موسم تعطیلات“ اپنے جلو میں جو جوش و خروش اور احساس مسرت لے آیا تھا اس کی گونج اب نئے سال کی آمد کی آتش بازیوں تک سنائی دے گی۔
نیا سال۔ جب وقت سے وقت مل جائے گا۔ جب وقت سے وقت جدا ہو جائے گا۔ کسی سوچ کی دہلیز پر کھڑا دکھائی دے گا وقت۔ ایک سائل کی طرح۔ خلا کا کشکول تھامے ہوئے۔ اور یادوں اور اندیشوں کے دروازے سے لگی شب یک دم گنگنا اٹھے گی:
مری ٹوٹی پھوٹی سی دہلیز پر اک تہی وقت سائل کھڑا ہے
لرزتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں نادیدہ کشکول ہے
یا خلا ہے؟
اسے اس بھرے گھر، بھری زندگی میں سے کیا دوں؟
نگاہوں میں اڑتی پشیمان حیرت
تھکے صحن میں برف کی جزوی پسپائی
بگڑی ہوئی، بے توازن ہوا سے الجھتی ہوئی ٹہنیاں
کمرہ کمرہ لپکتی اداسی کی سرگوشیاں
اک حوصلہ مند دیوار کی سرد تنہائی
بے رنگ، بے وضع پتھر؛ محبت
پرانے فریموں میں روشن نئے زخم
جھکتے کرسمس ٹری میں بھٹکتی
گئے سال کے قہقہوں کی دہک
مستقل ادھ کھلے ان درازوں میں دبکی
وہ ستر کے رومانوی ناولوں کی مہک
ہلکے پیلے فریج پر فسردہ دواؤں کی پرچی
ابھی پر سکوں اور ابھی پھڑپھڑاتی ہوئی خواہشیں
پھول ہے کینوس پر
مگر تتلیاں اڑ گئیں
اور ادھر۔ جانے کب سے
کواڑوں سے آزاد کھڑکی میں رکھے ہوئے
تین رنگین، وہ روغنی مرتبان
مرتبانوں میں کیا ہے؟
انھیں کھول کر میں نے دیکھا نہیں
کیسا شاعر ہوں میں!
حرف کا رنگ
امکان میں گھول کر میں نے دیکھا نہیں
…………
(تہی وقت سائل: نظم۔ حامد یزدانی)
……………



