شہید بینظیر بھٹو کا عالم ارواح سے بلاول کو خط


میرے پیارے بیٹے بلاول

آج تمہیں خط لکھتے مجھے بابا شہید کا میری سالگرہ پہ مجھے لکھا خط یاد آ گیا، جس میں بابا شہید نے مجھے اپنے بے انتہا پیار کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی زندگی کی شروعات کے لیے انتہائی مفید مشورے اور ہدایات دی تھیں تاکہ میں اپنے سیاسی سفر اور بہتر مستقبل کی شروعات کر سکوں۔

شہید بابا کے لکھے خط اور آج میرے لکھے خط میں فرق صرف یہ ہے کہ وہ خط بابا نے اپنی پیاری بیٹی کو موت کی کال کوٹھری سے لکھا تھا اور میں یہ خط اپنے پیارے بیٹے کو عالم ارواح سے لکھ رہی ہوں۔

میرے بیٹے میں ہمیشہ سے تمہارے اور تمہاری دونوں بہنوں کے بہتر، پر سکون اور روشن غیر سیاسی مستقبل کی خواہش مند تھی، مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“ میری ان خواہشات پہ میرا دم نکل ہی گیا اور میری حادثاتی موت نے تم سب کو، میرے چاہنے والے عوام اور کارکنان کو بکھیر کر رکھ دیا، تمام منصوبے تمام خواب ریزہ ریزہ ہو گئے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے ادھورے مشن کو میرے خوابوں کو تم شرمندہ تعبیر کرو گے انشاءاللہ۔

جس طرح میرے لیے سیاست ایک عبادت ایک فرض کی طرح تھی اور بابا نے میری سالگرہ پہ عوام کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا تھا اسی طرح آج میں اپنی برسی پہ وہی ورثہ تمہارے سپرد کر رہی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ تم اپنا یہ فریضہ فرض سمجھ کر نبھاؤ گے۔ مجھے اس بات کا بے حد دکھ ہے کہ میں جسمانی طور پر تمہارے ساتھ نہیں ہوں مگر ساتھ یہ اطمینان بھی ہے کہ تم میرے وژن کے مطابق میرے بتائے راستے پر چل رہے ہو۔ مجھے یہ بھی اطمینان ہے کہ تمہیں اپنے بلند حوصلہ، باہمت اور دلیر سیاسی مدبر والد سمیت میرے اور تمہارے نانا کے ان سینیئر مخلص وفادار ساتھیوں کا ساتھ بھی حاصل ہے جن کی وفاؤں مخلصی سچائی پہ شک کرنا بھی گناہ ہے۔

میرے بیٹے جہاں میں تمہاری اور آصفہ کی زندگیوں کو لاحق خطرات کی وجہ سے متفکر ہوں وہیں بختاور کی شادی کے بعد اپنے پیارے پیارے بچوں کے ساتھ خوش و خرم غیرسیاسی زندگی پہ مطمئن بھی ہوں۔

بلاول، پچھلے سولہ ماہ کی اتحادی حکومت کے دوران بحیثیت وزیر خارجہ تمہاری شاندار کارکردگی نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا۔ تمہیں وزیر خارجہ کے منصب پہ دیکھ کر بابا شہید کی یاد تازہ ہو گئی۔ وہ مجھے بھی سفارتکار کی حیثیت میں دیکھنا چاہتے تھے۔ کم عمر اور ناتجربہ کار ہوتے ہوئے تم نے اپنی قدرتی ذہانت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پہ دنیا بھر کی قیادت کو اپنی جانب متوجہ کیا، دنیا کے انتہائی تجربہ کار سفارت کاروں اور وزراء خارجہ کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ تمہاری کارکردگی ہمارے خاندان اور پارٹی کے لیے باعث فخر ہے۔

میرے بیٹے، 18 اکتوبر کو وطن واپسی کے لیے جب میں جہاز پہ سوار ہوئی تو ایک طرف میری آنکھوں میں ایک روشن، ترقی یافتہ، پرامن پاکستان کا نقشہ تھا۔ خوبصورت سہانے خواب تھے جو میں نے اپنی عوام، چاہنے والوں اور کارکنان کے لیے آنکھوں میں سجائے تھے، تو دوسری طرف تم لوگوں سے بچھڑنے کا ایک انجانا سا خوف بھی تھا کہ کیا کبھی میں دوبارہ تم لوگوں سے مل اور تمہیں دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں۔ اس کے ساتھ ایک یقین اور اللہ تعالیٰ کی ذات پہ کامل ایمان بھی تھا کہ اگر میری زندگی لکھی ہے، ملک کی ترقی میرے ہاتھوں سے ہونی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے گزند نہیں پہنچا سکتی اور اگر یہیں پہ ہی میری زندگی کا سفر مکمل ہو گیا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے ایک لمحہ بھی مزید نہیں دے سکتی، یہی کامل ایمان میری زندگی کو لاحق تمام تر خطرات کے باوجود مجھے واپس وطن کھینچ لایا۔

میرے پیارے بلاول مجھے پاکستان میں کبھی انصاف نہیں ملا۔ انتخابات میں جھرلو چلا کر مجھے شکست دلائی گئی یا پھر میری دو تہائی اکثریت کو کم کر کے مجھے بیساکھیوں کے ساتھ حکومت کرنے پہ مجبور کیا گیا۔ مجھے دونوں ادوار میں اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ میرے اور تمہارے بابا سمیت پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں کے خلاف جعلی احتساب کی بنیاد پہ بدترین ریاستی جبر اور انتقام لیا گیا۔ لیکن پھر بھی جمہوریت پہ میرا یقین کبھی نہیں ڈگمگایا۔

پھر میں نے اور تمہارے بابا نے پارٹی کی سینیئر قیادت کے مشوروں کے بعد میثاق جمہوریت کر کے انتقام اور نفرت کی اس سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر کے ایک نئے روشن، ترقی یافتہ، جدید ٹیکنالوجی سے لیس خوشحال اور پرامن پاکستان کی بنیاد ڈالنے کا سمجھوتہ کیا۔ پاکستان ہمیشہ مذہبی جنونیوں کی جنت رہا ہے، جہاں یہ شدت پسند اسلام کے نام پہ مسجدوں بازاروں میں دھماکے کر کے بے گناہ انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔ ہم نے میثاق جمہوریت میں ہر قسم کی مذہبی جنونیت کے خاتمے کا معاہدہ کیا۔ ہم نے ملک میں اداروں کو اپنی آئینی جمہوری حدود میں رہ کر اپنی ذمے داریاں سرانجام دینے کے لیے روڈ میپ دیا۔ مگر افسوس کہ میں اپنی زندگی میں یہ سب ہوتا نہیں دیکھ سکی، لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ میثاق جمہوریت پہ عمل درآمد کرنے کے لیے میرا شہزادہ بیٹا ضرور عملی اقدامات اٹھائے گا، انشاءاللہ۔

میرے بیٹے یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں مگر خود رب العزت کو جو راستہ سب سے زیادہ پسند ہے وہ ہے اس کی مخلوق کے ساتھ محبت، رواداری احترام اور انصاف کرنے کا راستہ، تمہیں بھی یہی راستہ چننا ہے، اپنی عوام اور کارکنان کو راضی کر کے تم یقیناً اللہ تعالیٰ کو بھی راضی کر سکو گے اور پھر دیکھنا کامیابیاں کامرانیاں تمہارے کس طرح قدم چومتی ہیں۔

میرے بیٹے اب چونکہ ملک میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے تو عوام سے اپنے رابطوں میں مزید تیزی لانا، پیپلز پارٹی ایک انقلابی عوامی جماعت ہے یہ کبھی مت بھولنا۔ یہ بھی یاد رکھنا کہ کامیابی اور اقتدار کا راستہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور مدد اور عوام کے ساتھ سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ اس بار ملک شدید سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہے۔ تاریخ کے سب سے نازک دور میں تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ملک کی مقتدرہ شدید عوامی دباؤ کا شکار ہے ایسے میں اپنی عوام، کارکنان اور تنظیم کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رہنا۔ مجھے پارٹی کی تنظیم اور کارکنان کے مایوس چہرے صاف نظر آ رہے ہیں، لگتا ہے جیسے تم عوامی نمائندوں کو ان پہ فوقیت اور اہمیت دے رہے ہو اور اگر ایسا ہے تو ایسی غلطی میرے بچے کبھی نہ کرنا، کارکنان اور تنظیم کو سب پہ مقدم رکھنا یہی تمہاری کامیابی کی کنجی ہے۔

میرے بیٹے میں تمہارے لیے ہمیشہ دعاگو ہوں کہ اپنی زندگی میں نہ سہی اب عالم ارواح سے تمہیں ملک کا وزیراعظم بنتے دیکھوں اور پاکستان تمہاری قیادت میں ایک روشن ترقی پسند، پرامن اور تیز رفتار ترقی کرتی قوم بن کر ابھرے آمین۔ اللہ تبارک و تعالیٰ میرے بچوں اور میرے ملک کا حامی اور ناصر ہو اسی دعا کے ساتھ اپنا خط مکمل کر رہی ہوں انشاء اللہ آئندہ جب تمہیں خط لکھوں گی تو تم پاکستان کے وزیراعظم ہو گے۔ آمین

تمہاری ماں
بینظیر بھٹو۔

Facebook Comments HS