بے مثال پاک ترک دوستی!
عمومی طور پر ملکوں کے باہمی تعلقات ان کی خارجہ پالیسی کے تابع ہوتے ہیں۔ بدلتے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اثرات ملکوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خارجہ تعلقات کی بنیاد بھی یہی اصول ہے۔ تاہم سعودی عرب، ترکی اور چین سے ہمارے تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ان ممالک سے پاکستان کا پیار، محبت اور عقیدت کا گہرا رشتہ ہے۔ مسلم ممالک میں ہمیں سب سے زیادہ محبت سعودی عرب اور ترکی سے ہے۔
سعودی عرب سے ہماری عقیدت مذہبی نوعیت کی ہے۔ اس سر زمین مقدس پر اللہ رب العزت کا گھر اور آقا دو جہاں نبی پاک ﷺ کا روضہ مبارک ہے۔ ترکی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ترکی سے ہماری محبت کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ خصوصی طور پر تحریک خلافت کے تناظر میں ترکی سے ہمارا نہایت گہرا تعلق ہے۔ انیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور سرزمین ترکی مغربی استعماری طاقتوں کے نشانے پر تھی۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں نے برطانوی سامراج کے خلاف اور ترکی کی حمایت میں ایک بھرپور تحریک چلائی تھی۔
مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ابتلاء کے اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے عثمانی خلافت اور ترکوں کے ساتھ نہایت محبت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ جنگی صورتحال کی وجہ سے ترکوں کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ انہیں امداد درکار تھی۔ اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترکوں کی بڑھ چڑھ کر امداد کی۔ مسلمان خواتین نے اپنے قیمتی زیورات تک ترکوں کی امداد کے لئے بھجوا دیے۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے ترکی کے حق میں جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا۔ مساجد میں نوافل پڑھ کر دعائیں کیں۔ اس تاریخی تناظر میں ترک ہمیشہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی محبت اور ایثار کے احسان مند رہے۔ ترکوں نے مسلمانان ہند کی اس قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی ترکوں کے حامی اور ترک قائد مصطفی کمال پاشا کے مداح تھے۔
قیام پاکستان کے بعد ترکی ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔ ہر دور حکومت میں ترک حکومت نے پاکستان اور پاکستانیوں کا ساتھ نبھایا۔ عالمی اور سفارتی سطح پر ہمیشہ پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کے موقف اور نکتہ ہائے نگاہ کے حامی رہے ہیں۔ ترکی نے کشمیر کے مسئلہ پر ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہے۔ 1999 میں ترکی میں آنے ولے خوفناک زلزلے میں پاکستان، ترک عوام کے ساتھ کھڑا رہا۔
ترکی نے بھی قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی خوب مدد کی۔ 2010 کے سیلاب میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان تشریف لائے تو ان کی بیگم نے اپنا قیمتی ہار گلے سے اتارا اور سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیا۔ رجب طیب اردگان نے ترکی کی تعمیر و ترقی میں جو کردار ادا کیا ہے، اس وجہ سے پاکستانی عوام اور سیاسی قیادت ان سے نہایت متاثر ہیں۔ پاک ترک تعلقات کی گرمجوشی کا اندازہ کیجئے کہ رجب طیب اردوان کی بیٹی کی شادی ہوئی تو اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بطور خاص شادی میں شرکت کی اور نکاح نامہ پر بطور گواہ دستخط کیے ۔
ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تحریک خلاف کے زمانے کی قربانی اور محبت کو ترک قیادت کے ساتھ ساتھ ترک عوام نے بھی یاد رکھا ہوا ہے۔ یہ احسان مندی محض تاریخ کی کتابوں میں محفوظ نہیں ہے۔ ترکوں نے اس محبت، عقیدت اور احسان مندی کو اپنی نئی نسل تک منتقل کیا ہے۔ آج بھی ترکی کی نوجوان نسل اس احسان مندی کا اظہار کرتی ہے۔ ترکی جائیں تو ترک بطور پاکستانی ہمیں نہایت محبت اور گرم جوشی سے ملتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل ہمارے بزرگوں کی قربانی اور امداد کا نہایت عقیدت اور محبت سے تذکرہ کرتے ہیں۔
پاکستانی طالب علموں، مزدوروں، کاروباریوں، پروفیسروں وغیرہ کے لئے ترکی نے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مجھے بھی ترکی کے کچھ دورے کرنے کا موقع ملا ہے۔ سچ یہ ہے کہ بطور پاکستانی ہر جگہ میری خوب عزت افزائی ہوئی۔ ہر محفل اور نشست میں ترک دوست تحریک خلافت کا ذکر کرتے رہے۔ ترکی میں میرے درجن بھر دوست ہیں۔ یہ دوست مجھ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں پہلی مرتبہ ترکی گئی تو میری ایک پروفیسر دوست ڈنیس ایکشے اپنے سارے کام بالائے طاق رکھ کر مجھے استنبول گھماتی رہی اور ترک کھانے کھلاتی رہی۔ ترکوں کی محبت واقعتاً لاجواب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی جا نا، گھومنا پھرنا اور ترکوں سے ملنا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ ترکی پر دستاویزی فلموں کی ایک سیریز بناؤں۔ ترکی کے شہر، اس کی ثقافت اور ترک شہری اس قدر خوب صورت ہیں کہ ان پر کئی دلچسپ دستاویزی فلمیں بن سکتی ہیں۔
تاہم سیاحتی اور ثقافتی حوالوں کی علاوہ، نہایت ضروری ہے کہ بطور قوم ہم ترکی کی تیز رفتار ترقی سے سبق حاصل کریں۔ ماضی میں کچھ کام ہوا بھی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں رجب طیب اردوان کی پیروی میں، میٹروز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی تھی۔ مجھے بھی کچھ ترکوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ واقعتاً قابل تعریف ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ترکوں کے کام کے طریقہ کار پر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔
خالی خولی باتوں کے بجائے یہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی توجہ تصویر اور تشہیر کے بجائے نتائج پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔ حکومت ترکیہ کے ایک اہم نمائندے محسن بالچی پاکستان میں نہایت عمدگی اور تیز رفتاری کے ساتھ تعمیر و ترقی کے مختلف کاموں میں مصروف ہیں۔ کچھ معاملات پر میری ان سے ملاقات ہوئی۔ بغیر کسی بیورو کریٹک رکاوٹ کے وہ مجھ سے ملے۔ بیٹھے بٹھائے کچھ معاملات طے ہوئے۔ ابتدائی ملاقات کے فوری بعد اپنی ٹیم سمیت دیگر معاملات طے کرنے کے لئے تشریف لائے۔ ان کا طریقہ کار دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ترکی نے اتنی ترقی کیسے کی ہے۔ پاکستان میں تو پروٹوکول کے بہت سے مسائل ہیں۔ ایک فائل کسی افسر کے دفتر میں جاتی ہے تو مہینوں اور سالوں بیت جاتے ہیں۔ ترکوں کے کام کا طریقہ کار مختلف ہے۔
ترکی کا تذکرہ ڈاکٹر خلیل طوقار کے بغیر نامکمل ہے۔ یہ پاکستان کی محبت میں گندھی ایک شاندار شخصیت کے مالک ہیں۔ برسوں سے آپ پاکستان اور ترکی کے مابین ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے متحرک ہیں۔
جب وہ ترکی میں تھے تو انہیں ترکی میں پاکستان کا سفیر سمجھا جاتا تھا۔ پاک ترک دوستی کے فروغ کے لئے ان کی کاوشوں کو سفارت کاری کا نام دینا بے جا نہیں ہے۔ سفارت کاری کا ذکر چلا ہے تو ترکی کے نئے کونسل جنرل درمش باس طوغ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ چند دن پہلے ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ یہ بھی پاکستان کی محبت میں گندھے ہوئے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی تو خیال آیا کہ ایک عام شہری سے لے کر ایک اعلیٰ سفارتی عہدے دار تک، ہر ترک ہی پاکستان سے محبت کرتا ہے۔ چند دن پہلے برادرم عامر محمود جعفری صاحب نے ترکی کے معروف صوفی شاعر یونس ایمرے کی شخصیت اور شاعری پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا تھا۔ اس تقریب میں بھی کونسل جنرل درمش باس طوغ مدعو تھے۔ یہاں بھی اپنی گفتگو میں انہوں نے پاکستان سے نہایت اظہار محبت کیا۔
بہرحال جس طرح ترک پاکستانیوں کے لئے احسان مندی کے جذبات رکھتے ہیں، ہم پاکستانی بھی ترکی کی محبت کے مقروض ہیں۔ تاہم اس امر کی تفہیم نہایت ضروری ہے کہ ترکی سے ہمیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ ترکی نے جس طرح ٹھوس منصوبہ بندی اور سخت محنت سے ترقی کی ہے۔ معیار تعلیم بلند کیا ہے۔ اقوام عالم میں اپنا مقام بنایا ہے۔ لازم ہے کہ ہم ترکوں سے یہ سب سیکھیں اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھیں۔


