تم جیو ہزاروں سال
چچا جان کا فون تھا۔
وہ کہہ رہے تھے کہ ”میں نے اپنی وصیت بہت پہلے لکھ دی تھی۔ اب میں نے اپنے کریا کرم کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے۔“ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آہستہ آہستہ بولتے ہوئے بتایا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ فون کے دوسرے سرے پر عادت سے مجبور وہ دھیرے دھیرے سے مسکرا بھی رہے ہوں گے۔
”کریا کرم یعنی آپ آخری رسومات کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ میں نے سوال کیا تھا۔
”بالکل میں مرنے کے بعد کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔
”گڈ، اچھا ہے مجھے بھی کچھ کرنا ہے۔“ میں نے دوبارہ سوال کیا تھا۔
”نہیں تمہیں کچھ نہیں کرنا، سب آرگنائز ہو چکا ہے۔ یہاں سب کچھ آرام سے ہوجاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ تم کو بتا دوں۔“
”ضرور، بہت شکریہ۔“ میں نے جواب دیا اور سوچ رہا تھا کہ ’سب کچھ آرگنائز ہے‘ سے کیا مطلب ہے۔
”میں جب مرجاؤں گا تو پانچ افراد کو فوری طور پر خبر دی جائے گی۔ تم، وقار، تنویر، ریاض اور اس کمپنی کو، جو میرے جسم کی دیکھ بھال کریں گے۔ “
”میں سمجھا نہیں۔“ میں نے پوچھا تھا۔
”میں مرنے کے بعد دفن نہیں ہونا چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ کوئی مولوی صاحب میری زندگی کے بعد میرے جسم کے انچارج بن جائیں اور وہ بتائیں کہ میرے جسم کے ساتھ کیا کیا جائے۔“
”میں ابھی بھی نہیں سمجھا۔“ میں نے دوبارہ پوچھا تھا۔
”اگر کوئی مولوی صاحب میرے مرنے کے بعد میرے معاملات کے ذمہ دار بنا دیے گئے تو وہ جس طرح سے کام کریں گے مجھے وہ طریقہ بالکل بھی پسند نہیں ہے، کیونکہ وہ سب سے پہلے تو میری موت پر جذباتی انداز (ایموشنلی) میں غم کا اظہار کریں گے جبکہ میرے جیسے آدمی کی موت پر غم کرنا ایک طرح کی حماقت ہے، خاص طور پر ایک ایسا آدمی جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہیں اور اس نے دنیا میں اپنا اچھا وقت گزار لیا ہے اور ایک مطمئن طریقے سے موت کا استقبال کرنے کے لیے تیار رہا ہے۔
دوسری اہم اور ضروری بات یہ کہ وہ میری موت کو بہانہ بنا کر دوسروں کو ڈرائیں گے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ہر جاندار کی موت ایک فطری عمل ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ انسان کا جسم مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اسے کچھ بیماریاں ہوجاتی ہیں جن میں سے کچھ بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہے اور کچھ کا نہیں ہو سکتا اور اس جاندار کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مولوی صاحبان مختلف حیلوں بہانوں سے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا یہ کام بہت سالوں سے کر رہے ہیں۔
میری موت کے بعد کم از کم میرے حوالے سے انہیں لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی میری طرف سے کوئی اجازت نہیں ہوگی۔ جو لوگ ان کے ذریعے سے ہی دفن ہونا چاہتے ہیں وہ ضرور ان سے مدد لیں جس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں اپنے لیے ان کی کوئی مدد نہیں چاہتا ہوں۔ ”انہوں نے مجھے تفصیل سے جواب دیا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے کہا کہ“ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کھود کر اس زمین میں دفنانے کا طریقہ کار بھی کوئی اچھا نہیں ہے، مجھے یہ طریقہ ذاتی طور پر بالکل بھی پسند نہیں ہے کیونکہ اس طرح سے زمین کے اندر لاشوں کو دبا کر زمین کو خراب کر دیا جاتا ہے جو کہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ بڑے بڑے قبرستان بنا کر زمینوں کو ضائع کیا جاتا ہے زمین کو اچھے کاموں کے لیے استعمال کرنا چاہیے، ایسے کام جس سے عوام کو فائدہ ہو، لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اور میں اپنی رائے پر میں عمل کرنا چاہتا ہوں جو لوگ میری اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں ان کا حق ہے کہ وہ وہی کریں جو وہ چاہتے ہیں۔ ”
”تو آپ نے اپنے لیے کیا انتظام کیا ہے۔“ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
”یہی تو بتا رہا ہوں۔ دراصل میں نے اپنے جسم میں کام آنے والی ہر چیز ڈونیٹ کردی ہے۔ میرے مرنے کے بعد اگر فوری طور پر متعلقہ کمپنی والے پہنچ گئے تو ہو سکتا ہے کہ میری آنکھوں کا کورنیا، کسی کے استعمال میں آ سکے۔ اگر انہیں آنے میں دیر ہو گئی تو تب تک کام آنے والی چیزیں خراب ہو چکی ہوں گی اور آرگن ڈونیشن کے قابل نہیں رہیں گی اور میں کسی کی بھی جان نہیں بچا سکوں گا۔ میں نے اپنا جسم ایک میڈیکل کالج کو ریسرچ کرنے کے لیے دے دیا ہے۔
وہ لوگ چھ مہینے میرے جسم پر مختلف تجربات کریں گے اور جسم کے جو بھی حصے استعمال کر سکتے ہیں استعمال میں لے آئیں گے۔ اس کے بعد جو بھی کچھ بچ جائے گا، جیسے ہڈیاں، کھال، ناخن وغیرہ وہ سب اس کمپنی کو واپس دے دیں گے۔ کمپنی والے میری بچی کھچی ہڈیاں اور جسم کی باقیات جلا کر راکھ میں تبدیل کر دیں گے۔ ”میں ان کی باتیں توجہ سے سن رہا تھا۔
”تم کو تو پتہ ہی ہے میں ساری زندگی جانوروں کو پالتا رہا ہوں، میرے پاس کل ملا کر بارہ بلیاں اور دو کتے تھے جنہوں نے بہت اچھے وفادار دوستوں کی طرح میرے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ وہ میرے ساتھ میرے خاندان کے فرد کی طرح رہتے تھے، دو کی موت اس وقت ہوئی تھی جب میرا اپنا گھر تھا جہاں میں نے انہیں دفن کر دیا تھا، اس کے بعد جو مرتے گئے انہیں میں نے جلوانے کا انتظام کیا تھا۔ ان سب کی راکھ چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں میرے پاس محفوظ ہے۔
میری راکھ بھی ان کی راکھ میں ملا دی جائے گی پھر ان سب راکھ کو کیلی فورنیا کے سرخ جنگل (Red Wood Forest) میں پھیلا دیا جائے گا۔ یہی میری وصیت ہے۔ میں نے سوچا تم کو بتا دیا جائے۔ ”انہوں نے پھر تفصیل سے جواب دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے جانوروں کو کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ کئی لوگ جب اپنے گھروں سے دوسرے شہر جاتے ہیں تو اپنے ساتھی جانوروں کو اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ بہت ظالمانہ اقدام ہے۔
ایسا کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے۔ کسی جانور کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ ایک زندگی بھر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ نارتھ کیرولینا سے منتقل ہوئے تو اپنے سارے جانور ساتھیوں کو ہوائی جہاز میں لے کر گئے۔ اسی طرح سے جب وہ ٹیکساس سے کیلی فورنیا گئے تو انہوں نے بالکل نئی فورڈ ایرو اسٹار وین خریدی، ساتھ ہی بڑے بڑے کئی پنجرے خریدے، ہر پنجرے میں ایک یا دو بلیاں رکھیں۔ اس وقت میرے پاس ایک ہی کتا تھا، اسے پنجرے میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے تنویر سے مدد مانگی اور وہ میرے ساتھ ڈرائیو کرنے کے لیے آمادہ ہو گیا۔ کئی دنوں کا یہ سفر مشہور و معروف روٹ 66 پر ہوا جس میں ہم نے موجووا (Mojava) ریگستان کا سفر کیا۔ اس ریگستان میں کوئی بھی پیٹرول پمپ نہیں ہے۔ ریگستان میں داخل ہونے سے پہلے ہم لوگوں نے پیٹرول بھروایا۔
یہ سفر شاندار اور پرلطف سفر تھا جس میں تنویر کے ہونے کی وجہ سے بہت مزا آیا۔ تنویر کا حس مزاح (Sense of Humar) بہت اچھا ہے اور اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے سارا راستہ ہم دونوں ہنستے رہے۔ راستے میں ہم لوگ موٹیل میں رکتے تھے۔ آدھی رات میں کمرے میں سوتا تھا اور آدھی رات تنویر کمرے میں سوتا تھا۔ ہم دونوں نے جانوروں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ کتا ہمارے ساتھ کمرے میں تھا جب کہ بلیوں کا ساتھ ہم دونوں نے باری باری دیا۔ ان کا ہم دونوں نے ایسے ہی خیال کیا جیسے ہم اپنے گھر کے افراد کا خیال کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا جب وہ کیلیفورنیا کی سرحد پر پہنچے تو پریشان ہو گئے، جہاں سرحدی پولیس نے پوچھا کہ ہم کیا لے کے جا رہے ہیں۔ میرے پاس سارے جانوروں کے حفاظتی ٹیکے کے سرٹیفکیٹ تھے مگر میں پریشان ہو گیا کہ کہیں یہ ہمیں گھسنے نہ دیں۔ مگر انہوں نے صرف پھلوں کے بارے میں پوچھا کیونکہ کیلیفورنیا میں دوسری ریاستوں کا پھل لانے پر پابندی ہے۔ یہ واقعہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب آپ ایک جانور کو اپنا ساتھی بناتے ہیں تو پھر اس سے آپ کی دوستی بھی زندگی بھر کی دوستی ہوتی ہے، ان سے بالکل ایسا ہی سلوک بھی کرنا چاہیے۔
یہ میرے چچا سید ابوالبر رضوی ہیں۔ میرے والد کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں، دونوں بہنیں تقسیم کے بعد ہندوستان میں ہی رہ گئیں جبکہ سارے بھائی پاکستان آ گئے۔ سید ابوالبر رضوی کا بھائیوں میں تیسرا نمبر ہے۔ میری بڑی پھوپھی سنجیدہ خاتون کے کئی بچے پاکستان آ گئے اور بقیہ بچے امریکا اور کینیڈا ہجرت کر گئے۔ خورشید پھوپھی کے بچوں میں سرفراز کے علاوہ ریاض اور ایاز امریکا میں آباد ہیں جبکہ سرفراز بھارت میں رہتے ہیں۔ میرے دادا سید ابوطاہر بہار کے شہر پٹنہ میں وکیل تھے اور وہاں کے ایک محلہ لنگر ٹولی میں رہتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ان کے سارے بیٹے پاکستان آ گئے جبکہ وہ خود اور ان کی دو بیٹیاں اپنے شوہروں کے ساتھ ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے۔
میرے چچا سید البر رضوی نے اپنی بنیادی تعلیم پٹنہ میں حاصل کی اور پٹنہ میں بہار نیشنل کالج (BN College) سے بی ایس سی کیا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سائنس میں دلچسپی رکھتے تھے انہیں آسمان پر چاند اور چاند سے آگے ستاروں کا اژدھام بہت متاثر کرتا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ رات کے وقت گھنٹوں آسمان کو تکتے رہتے تھے اور انہیں کوئی اکتاہٹ نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ آسمان پر ستاروں کا اژدھام دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوتی تھی وہ سوچتے تھے کہ ان ستاروں میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں پتہ کرنا چاہیے۔
اسکول کے زمانے میں ہی انہوں نے مختلف اخباروں کو یکجا کر کے ان کو ٹیوب کی شکل دی تھی، جس میں مختلف جگہوں سے عدسے جمع کر کے ایک دیسی قسم کا ٹیلی اسکوپ بنایا۔ یعنی اخباروں کو موڑ کر ایک ٹیوب بنایا جس کے شروع میں ایک عدسہ کسی پرانے کیمرے کا لگایا اور آخر میں کسی کے پرانے عینک کا عدسہ نکال کر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے اس دیسی ٹیلی اسکوپ سے پہلی دفعہ چاند کو دیکھا تو وہ حیران ہو گئے۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ چاند اتنا بڑا ہو گا۔ انہیں جب بھی موقع ملتا وہ اپنے ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چاند اور چاند کے چاروں طرف بکھرے ہوئے تاروں اور سیاروں میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی زمانے میں جب وہ پٹنہ کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو انہوں نے کالج میگزین کے لیے ایک مضمون لکھا۔ بنیادی طور پر تو وہ سائنسی معلومات پر مبنی ایک مضمون تھا جس میں انہوں نے ایک نئے قسم کے ٹیلی اسکوپ کا ذکر کیا تھا جس سے یورپ میں سائنسدان آسمانوں میں تاروں کو دیکھنے اور تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے اس مضمون میں یہ بھی لکھا کہ بہت جلد انسان بیماریوں سے نجات حاصل کر لے گا اور وہ موسموں پر بھی قابو پالے گا کیونکہ سائنس بہت تیزی کے ساتھ نئی نئی دریافتیں کر رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ اسے اس مضمون کو ایک طرح سے مذہب کے خلاف سمجھ لیا۔ کسی نے اس مضمون کے حوالے سے ابا سے شکایت کی کہ میں مذہب کے خلاف ہو گیا ہوں۔
اس دن دوپہر کو جب ابا گھر آئے تو انہوں نے مجھ سے بہت سے سوالات کیے جس کا میں نے جواب بھی دیا۔ جس کے بعد وہ دیر تک مجھ سے میری تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھتے رہے اور تاکید کی کہ میں پابندی سے نماز پڑھوں اور دوسروں کے کام آؤں۔ میں ان کے پہلے مشورے پر تو عمل نہیں کر سکا لیکن ان کے دوسرے مشورے پر میں نے ساری زندگی عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔
ابوالبر رضوی پاکستان بننے کے بعد اپنے بھائیوں کے ساتھ کراچی آئے اور کراچی میں ہی اپنی بقیہ تعلیم مکمل کی۔ کراچی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پہلے وہ سرسید گرلز کالج اور اس کے بعد پی ای سی ایچ ایس گرلز کالج میں فزکس کے لیکچرار کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک دن انہیں ان کے استاد پروفیسر مجتبیٰ کریم نے بلایا اور کہا کہ سرسید گرلز کالج میں فزکس کے ایک لیکچرار کی ضرورت ہے اور انہیں وہاں پڑھانا ہے۔ مجھے پتہ تھا کہ میرا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بہت کم لڑکیاں یونیورسٹی میں سائنس پڑھتی تھیں اور خاص طور پر فزکس کے مضمون کو پڑھنے کے لیے عام طور پر لڑکیاں داخلہ نہیں لیتی تھیں اور کوئی بھی طالبہ فزکس پڑھانے کی نوکری کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اس زمانے میں فزکس کا مضمون بہت مقبول نہیں تھا بلکہ بہت سے لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ فزکس بھی ایک مضمون ہے جس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کالجوں میں لڑکوں کا داخلہ بند ہے۔ ان کالجوں کی انتظامیہ کو ان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں لڑکیوں سے بہت دور دور رہتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کو فزکس میں ڈگری سے زیادہ اہم سمجھا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے مجتبیٰ کریم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے وہاں پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ کچھ دن وہاں پڑھانے کے بعد میں نے پی ای سی ایچ ایس گرلز کالج میں لیکچرار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ امریکا جاؤں اور مزید تعلیم حاصل کروں، جس کے لیے میں نے پیسہ جمع کرنا شروع کیا، یہ نوکریاں کرنے کا بنیادی مقصد بھی ٹکٹ کے لیے پیسے جمع کرنا اور امریکا جا کر مزید تعلیم حاصل کرنا تھا۔
چچا جان بتاتے ہیں کہ جب ان کے پاس مناسب رقم جمع ہو گئی تو انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی کے شعبہ فلم سازی میں داخلہ لیا جو اسکول آف پبلک ریلیشن اینڈ کمیونیکیشن کا حصہ تھا جس کا پتہ 640 کامن ویلتھ ایونیو بوسٹن انہیں ابھی تک یاد ہے۔ میں سینما فوٹو گرافی میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے درخواست بھیجی۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ہی انہیں پرانے زمانے کا ایک کیمرہ تحفے میں ملا تھا، جس سے وہ تصویریں کھینچتے تھے، جس کا انہیں بہت شوق تھا۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں آیا کہ میں امریکا جا کر سینما اور فوٹوگرافی کی تعلیم حاصل کروں جس کا اس زمانے میں بہت چرچا ہو رہا تھا۔ میں نے بھی سوچا کہ ان مضامین میں مہارت حاصل کی جائے۔ جیسے ہی مجھے داخلے کی خبر ملی اور ساتھ میں ویزا بھی آ گیا تو میں امریکا کے سفر پر چل دیا۔


