اڈیک(افسانہ)
جنگل کی خاموش فضا میں ایک عجیب سی وحشت چھائی ہوئی تھی۔ پتوں کی سرسراہٹ رگ و پے میں سرایت کر رہی تھی مگر تاج الدین کو کسی بات کی پرواہ نہ تھی۔ اسے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کچھ خوراک چاہیے تھی۔ پیٹ کی انتڑیاں مختلف آوازیں نکال رہی تھیں۔ سیدھا ہو کر چلنا مشکل تھا۔ چلتے چلتے پاؤں بھی چکنا چور ہو گئے تھے۔ آدھا ٹوٹا جوتا اس جنگل کے کانٹوں کے لیے ڈھال ثابت نہ ہوا تھا۔ کانٹے لگنے سے لہو کی بوندیں جگہ جگہ اپنا رنگ چھوڑ رہی تھیں۔
درختوں کی گھنی شاخوں میں سے الجھتا ہوا تاج الدین اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک طرف سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ اس دھوئیں نے تاج الدین میں جینے کی امنگ پیدا کر دی تھی۔ ہمت کر کے وہاں تک پہنچا کہ ایک بزرگ آگ کا آلاؤ جلائے اکیلا ہی بیٹھا تھا۔ تاج الدین آ گے بڑھا اور سلام کیا۔
”السلام علیکم! بابا جی“
”وعلیکم السلام! آؤ بیٹھو پت“ بزرگ نے کہا۔
بزرگ بابا نے ایک پیڑھی اسے بیٹھنے کے لیے دی۔ تاج الدین بہت تھک چکا تھا اور بھوک سے نڈھال زمین پر لڑھک گیا۔ بزرگ بابا جی نے جلدی سے اس کے منہ میں پانی ڈالا تو تاج الدین کی سانس بحال ہوئی۔
”تمھیں بھوک لگی ہو گی کچھ کھانے کے لیے لاتا ہوں“ بزرگ بابا یہ کہہ کر ایک چھوٹی سی جھونپڑی کی طرف چل پڑا۔ اس جھونپڑی کی گھاس پھوس کی چھت تھی جو کافی بوسیدہ ہو چکی تھی۔ بزرگ بابا اپنی گدڑی کندھے پہ ڈالے جھونپڑی میں داخل ہوا تھا لیکن تاج الدین کو بھوک نے بدحال کر دیا تھا۔ وہ بزرگ بابا جی کا انتظار نہیں کر سکا۔ وہ لکڑیوں کے کوئلے جو کچھ ٹھنڈے ہو چکے تھے، کھانے لگا۔ کھاتے کھاتے جیسے اس نے بدن میں کچھ طاقت محسوس کی ہو۔ پھر اٹھا اور تیز قدموں سے چلنے لگا جیسے اس نے ذرا بھی تاخیر کر دی تو وہ جس آفت سے بھاگ رہا ہے وہ اسے گھیر لے گی۔ تاج الدین کے ذہن کے قرطاس پر گزرتے ماضی کے اوراق الٹنے لگے۔
اسے یاد آ گیا۔ کچھ عرصے کے بعد جب لاجونتی کے دروازے پر بھیک مانگنے گیا تھا تو اس نے لاجونتی کو بڑبڑاتے سن لیا تھا: ”آج وہ فقیر نہیں آیا۔ کب آئے گا؟ خدا خیر کرے۔ میں اس دل کو کیسے سمجھاؤں“ ۔ پھر تاج الدین ڈر کے مارے بغیر بتائے چلا آیا تھا۔
دراصل لاجونتی ہندو دھرم کی ایک کھتری کی بیٹی تھی۔ وہ تاج الدین کی جوانی اور خوبصورتی پر فریفتہ تھی۔ تاج الدین اگرچہ مسلمان تھا لیکن پیشہ فقیری تھا۔ لاجونتی جب بھی تاج الدین کو آٹا ڈالنے آتی تو اکثر وہ آٹا کاسہ میں ڈالنے کے بجائے باہر گرا دیتی، اس کا سارا دھیان تاج الدین کی طرف ہوتا تھا۔ وہ اسے اپنے دل کا مکین بنا چکی تھی۔ اسے اس بات سے واسطہ نہ تھا کہ وہ ہندو ہے اور تاج الدین مسلمان۔ وہ اپنے دل کی آ واز پر لبیک کہہ چکی تھی۔ اس کہاوت کے مصداق ”بھوک نہ پوچھے لازمہ تو عشق نہ پوچھے ذات“ وہ صرف عشق کے مرتبے کو جانتی تھی۔ وہ تاج الدین سے اظہار محبت کرنا چاہتی تھی لیکن چاہتے ہوئے بھی نہ کر سکی تھی۔
پھر کبھی بھی تاج الدین مانگنے نہ آ یا تو انتظار کرتے کرتے لاجونتی کی بے چینی بڑھتی گئی۔ بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی کہ بے خودی کے عالم میں تاج الدین کی تلاش میں گھر سے نکل پڑی۔ تاج الدین کی اکیلی جان تھی۔ ماں باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ گاؤں کے باہر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جہاں وہ زندگی کی تلخیاں جھیل رہا تھا۔ پوچھتے پچھاتے لاجونتی نے تاج الدین کو ڈھونڈ ہی لیا تھا۔ سہمی سہمی کمرے میں جھانک کر دیکھا تو تاج الدین ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بخار میں تپ رہا تھا۔ لاجونتی نے کہا:
”تاج الدین، آج تو آ یا نہیں تھا تو میں تجھے دیکھنے کے لیے چلی آئی۔“ اس کی آ واز سن کر تاج الدین ہڑ بڑا کر اٹھا اور گھبرائی ہوئی آواز میں کہا:
”لاجونتی، تم یہاں کیوں آئی ہو؟ تیرے گھر والوں کو پتہ ہے؟ لاجونتی جا جلدی واپس چلی جا۔ اس سے پہلے کہ کسی کو پتہ چلے، چل تجھے چھوڑ کر آؤں۔“ تاج الدین ایسے چار پائی سے اترا جیسے کبھی بیمار تھا ہی نہیں۔
”نہیں تاج الدین اب میں نہیں جا سکتی۔“
”کیوں نہیں جا سکتی؟ چل میں چھوڑ کر آتا ہوں“
لاجونتی کسی گہری سوچ میں ڈوبی کہہ رہی تھی۔
”نہیں تاج الدین میں تیرے لیے سب کشتیاں جلا کر آئی ہوں۔ اب واپسی نہیں ہو سکتی۔ میں اب تیرے ساتھ رہوں گی۔“
”کبھی مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگ سکتا ہے؟ تو کھتری خاندان کی بیٹی ہے۔ میں ایک فقیر۔ میں تجھے کچھ نہیں دے سکتا۔“
لاجونتی اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔ اچانک بولی:
”نہیں تاج الدین اب میرا جینا مرنا تیرے ساتھ ہی ہے، ہم شادی کر لیں گے۔“ دھیمی آ واز سے لاجونتی نے کہا۔
”میں کیسے تجھے رکھ سکتا ہوں؟ پھر میں مسلمان ہوں اور تو ۔“
”میں اپنا دھرم چھوڑ دوں گی۔ تیرے عشق میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ لیکن اب جا نہیں سکتی۔“
”چل پھر، جلدی چل کوئی آ نہ جائے۔ رات ہونے سے پہلے یہاں سے جانا ہو گا۔ دوسرے گاؤں میں میری ماسی رہتی ہے۔ وہ ہماری مدد کرے گی۔“ تاج الدین نے لاجونتی کو اٹھایا۔ اور گاؤں سے نکل پڑے۔ بہت لمبی مسافت کے بعد دوسرے گاؤں میں پہنچ گئے۔ ماسی سے تاج الدین نے تمام ماجرا بیان کیا۔ ماسی بھی پریشان تو ہوئی لیکن اسے گھر رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ دوسرے دن ماسی نے اپنے اس علاقے سے دور اپنے کسی رشتہ دار کے گھر بھیج دیا۔
وہ گاؤں لاجونتی کے گاؤں سے بہت دور تھا۔ یہاں دونوں نے شادی کر لی کچھ عرصہ تک دونوں نے پیار محبت میں زندگی بسر کی۔ تاج الدین محنت مزدوری کر کے ضروریات زندگی پوری کرتا رہا۔ لاجونتی بھی مطمئن تھی۔ لاجونتی کے گھر والوں نے بہت ڈھونڈا لیکن نہ ڈھونڈ سکے۔ لاجونتی کا منگیتر انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔ اس نے ہر گاؤں چھان مارا۔ ایک سال بعد اللہ نے لاجونتی اور تاج الدین کو پیاری سی بیٹی سے نوازا۔ دونوں کی پر سکون زندگی میں ایک دن ایسا بھی آ یا۔ جب تاج الدین کے ایک دوست نے اسے بتایا کہ لاجونتی کا منگیتر تجھے ڈھونڈ رہا ہے۔
کچھ دیر تک بیٹی اور بیوی کو پیار بھری نظروں سے دیکھتا رہا اور مزدوری کے لیے نکل گیا۔ گاؤں سے باہر جنگل کی طرف جا رہا تھا کہ لاجونتی کے منگیتر نے اسے دیکھتے ہی للکارا اور اس پر کلہاڑی سے وار کیا۔ تاج الدین نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ایک ڈنڈا اسے اس زور سے دے مارا کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ اور یہ جنگل کی طرف بھاگنے لگا۔ یہاں ماضی کے دھندلکے سے باہر آ یا اور لاجونتی اور اپنی بیٹی کو یاد کرنے لگا۔
”لاجونتی مجھے معاف کر دینا اگر میں لوٹ نہ سکوں تو “ خود کلامی کرتے ہوئے چل رہا تھا۔ لاجونتی کے منگیتر اور اس کے بھائیوں نے تاج الدین کو ڈھیر کرنے کے لیے اسے تلاش کیا مگر اسے تلاش کر نہ سکے۔
لاجونتی اپنے خاوند کا انتظار کر رہی تھی۔ برے برے وسوسوں کو بار بار جھٹکتی تھی لیکن وہی پھر اسے گھیر لیتے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلتے لاجونتی کا منگیتر اور اس کے بھائی گھر میں گھسے۔ اس کی بیٹی کو وہیں قتل کر کے لاجونتی کو گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ لاجونتی کی چیخ و پکار کا کسی پر اثر نہ ہوا۔ گھر لے جا کر لاجونتی کو شادی پر مجبور کیا۔
”ایسا ظلم مت کریں۔ میں اب مسلمان ہوں اپنے تاج الدین کی امانت ہوں۔ ظالمو میری معصوم بیٹی قتل کر ڈالی“
”خاموش تو میری منگیتر ہے تیرا دھرم ہندو ہے تو کھتری کی اولاد ہے۔ میں کسی مسلے کو نہیں جانتا۔ تمھیں ہندو ہی ہونا پڑے گا۔ وہ ملا تو اسے پاش پاش کر دیں گے۔“ اس کے منگیتر نے کہا۔
ایک کمزور لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ظلم کا شکار ہو گئی۔ اس کی زبردستی اسی منگیتر کے ساتھ شادی کر دی گئی۔ اسے ظلم کا نشانہ بننا پڑا۔ سال ہا سال گزر گئے لیکن لاجونتی آج بھی ہر فقیر کو آٹا ڈالنے جاتی ہے کہ شاید اس کا تاج الدین فقیر آ جائے۔ اس کی اڈیک آج بھی تاج الدین کی راہ دیکھ رہی ہے اور ماضی کے مزاروں سے نکلتے لاجونتی کی اڈیک جنگل میں سے گزرتی اور سختیاں جھیلتے دوڑے جا رہی ہے۔


