دنیا کا معروف دانشور لیکن اپنے ہی گھر میں اجنبی
’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کی ساتویں قسط
بر صغیر ہند کی بیسویں صدی نے اپنے مکینوں کو دو ایسی ’اقبال‘ نام کی شخصیات سے نوازا جنہوں نے اپنے اقبال کو معراج تک پہنچا دیا۔ ایک مشرق میں ہی رہتے ہوئے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے سے مسلمانوں کے لئے خودی اور عشق کا پیامبر بنے۔ دوسرے ’اقبال‘ مغرب میں رہتے ہوئے تدریس، سیاسی سر گرمیوں، تجزیہ نگاری، اور صحافت کے ذریعے سے بے خوف و خطر عالمی سطح پہ ظلم و ستم اور جنگ و جدل کے خلاف ایک پر زور موثر آواز بن گئے۔
ڈاکٹر اقبال احمد ( 1934۔ 1999 ) ایک ایسے سرگرم کارکن، صحافی اور نظریہ ساز تھے جن سے انقلابی اور سیاسی کارکنوں کے علاوہ پالیسی ساز اور ماہرین تعلیم بھی مشاورت کرتے تھے۔ انہوں نے دی نیشن، نیو یارک ریویو آف بکس، ماہانہ جائزہ اور پاکستان اور مصر کے اخبارات میں مضامین اور کالم شائع کیے۔ ان کی تحریروں نے عالمی مسائل کے بارے میں سوچنے کے نئے طریقوں کو اجاگر کیا، چاہے وہ عسکریت پسند اسلام کے عروج، کشمیر کے تنازعہ، ویتنام میں امریکہ کی شمولیت یا سرد جنگ کی جغرافیائی سیاست کی سنسنی خیز منطق پر لکھنا ہو۔
اقبال احمد بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا (اب مگدھ ڈویژن) کے گاؤں ارکی میں پیدا ہوئے۔ جب وہ جوان تھے، تو ان کے والد کو زمین کے تنازعہ پر لوگوں کے ایک گروپ نے ان کی موجودگی میں قتل کر دیا تھا۔ 1947 ء میں تقسیم ہند کے دوران وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ پیدل پاکستان چلے گئے۔ اقبال احمد نے 1951 ء میں فورمین کرسچن کالج لاہور سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔ ایک فوجی افسر کی حیثیت سے مختصر خدمات انجام دینے کے بعد ، انہوں نے 1957 میں کیلیفورنیا کے آکسیڈینٹل کالج میں روٹری فیلو کی حیثیت سے داخلہ لیا۔ 1958 میں وہ پرنسٹن یونیورسٹی چلے گئے جہاں انہوں نے پولیٹیکل سائنس اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی تعلیم حاصل کی، اور 1965 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
پرنسٹن میں اپنی تعلیم کے دوران، احمد نے اپنے ڈاکٹریٹ مقالے کے لئے تیونس اور الجزائر کا سفر کیا۔ الجزائر میں انہوں نے فرانس کے قبضے کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں فرانس میں ان کی گرفتاری بھی ہوئی۔ اقبال اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور انقلابی جذبہ کی وجہ سے الجزائر کی انقلابی کونسل کے رکن کے طور پر مقرر کیے گئے۔ اقبال ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے انقلاب کی کلاسیکی فلم ’الجزائر کی جنگ‘ کے اسکرپٹ پر تحقیق کی۔ اقبال احمد اردو، انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
امریکہ واپس آنے کے بعد ، اقبال احمد نے 1968 تک یونیورسٹی آف الینوائے اور کارنیل یونیورسٹی میں پڑھایا۔ اس عرصے کے دوران، احمد جنگ مخالف انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کے ایک نمایاں فیلو بھی بن گئے۔ 1967 کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کے حقوق کی کھل کر حمایت کرنے کی وجہ سے وہ تعلیمی برادری کے اندر تنہائی کا شکار ہو گئے، جس کی وجہ سے انہیں کارنیل چھوڑنا پڑی۔
1968 ء سے 1972 ء تک انہوں نے شکاگو یونیورسٹی میں فیلو کی حیثیت سے کام کیا۔ اس عرصے کے دوران احمد ویتنام جنگ کے خلاف ایک موثر اور نمایاں کارکن بن گئے، جس کے نتیجے میں جنوری 1971 میں ہنری کسنجر کو اغوا کرنے کی سازش کے الزام میں ان پر ہیرسبرگ سیون کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے بعد احمد کو 1972 میں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔
1973 ء میں پروفیسر اقبال احمد کو یورپ بھر میں پانچ ہفتوں کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تاکہ
The Transnational Institute
(ٹی این آئی) کے تصور کے بارے میں مشاورت کی جا سکے۔ اس مشاورت میں 200 سے زائد افراد شامل تھے جو وسیع سیاسی اور دانشورانہ دائرے کی نمائندگی کرتے تھے۔ وہ 9 نومبر 1973 کو ایمسٹرڈیم میں وان گوگ میوزیم کے سامنے ایک خالی عمارت میں ٹی این آئی کے پہلے ڈائریکٹر کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ جلد ہی انہوں نے ٹی این آئی کو ایک دانشورانہ مرکز میں تبدیل کر دیا اور سرگرمیوں سے فعال بنا دیا۔
1982 میں اقبال احمد امریکہ واپس چلے گئے اور ایمہرسٹ میں ہیمپشائر کالج میں بطور پروفیسر شامل ہوئے اور 1997 میں پروفیسر ایمریٹس بننے تک وہاں پڑھایا۔ 1990 ء سے انہوں نے اپنا وقت اسلام آباد اور ایمہرسٹ کے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا اور الاحرام (قاہرہ) ، الحیات (لندن) اور ڈان (کراچی) کے لیے کالم لکھنے شروع کیے ۔ انہوں نے اسکینڈینیوین ممالک کی طرح مسلم ممالک کے لئے سوشل ڈیموکریسی کو فروغ دیا تاکہ ان ممالک میں انتہا پسندی، غربت اور نا انصافی کو روکا جا سکے۔
1990 ء کی دہائی کے اوائل میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت نے انہیں پاکستان میں ایک آزاد، متبادل یونیورسٹی بنانے کے لئے زمین کا ایک ٹکڑا دینے کا وعدہ کیا تھا، جس کا نام ’خلدونیہ‘ تجویز کیا گیا تھا۔ یہ پیشکش کبھی حقیقت میں تبدیل نہیں ہوئی۔ اقبال احمد اس وقت نئے قائم ہونے والے ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے بانی چانسلر بھی تھے، جو ٹیکسٹائل پر مبنی سائنس، ڈیزائن اور بزنس ڈگری دینے والا ادارہ ہے۔
1997 میں ہیمپشائر سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مستقل طور پر پاکستان میں مقیم ہو گئے جہاں وہ ڈان کے لیے ہفتہ وار کالم لکھتے رہے۔ اقبال 11 مئی 1999 کو کولون کینسر کی سرجری کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔
اقبال احمد کے دوست، مصنف اسٹورٹ شر نے اقبال احمد پر ایک کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 1990 میں امریکہ کو عراق پر حملہ کرنے کے خلاف متنبہ کیا تھا۔ انہوں نے درست پیشن گوئی کی تھی کہ صدام کے خاتمے سے خطے میں فرقہ وارانہ تشدد اور افراتفری پھیلے گی۔ اقبال احمد نے 1986 میں پشاور میں اسامہ بن لادن کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ اسامہ بن لادن کے نظریے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ بالآخر اپنے اس وقت کے اتحادیوں امریکہ اور پاکستان کے خلاف ہو جائیں گے۔ اقبال نے کہا تھا کہ پاکستان میں اسلام مصیبت میں گھرے ہوئے اور کمزور رہنماؤں کے لیے ایک آسان پناہ گاہ رہا ہے۔ ملک قیادت کے طویل بحران کا شکار ہے، ان حالات میں ایک ’اسلامی ریاست‘ کے وعدے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کا کام کرتے ہیں۔
اقبال احمد اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے نوم چومسکی، ہاورڈ زین، ابراہیم ابو لغود، رچرڈ فاک، فریڈ جیمسن، الیگزینڈر کوکبرن اور ڈینیئل بیریگن جیسی متنوع شخصیات کے فکری ساتھی تھے۔ ان کی جمع کردہ تحریروں کی پہلی جلد، جس کا عنوان
The Selected Writings of Eqbal Ahmad
کو کولمبیا یونیورسٹی پریس نے 2006 میں شائع کیا تھا۔ یہ کتاب عالمی سیاست کے بارے میں ان کی منفرد تفہیم کے ساتھ ساتھ غربت اور جبر میں رہنے والوں کے لئے ہمدردی کے گہرے احساس کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس میں احمد کی تحریروں کو ایک ہی جلد میں جمع کیا گیا ہے اور بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے کے اہم سیاسی واقعات اور تحریکوں کا گہرا، پرلگن اور اکثر صحیح ثابت ہونے والا تجزیہ پیش کیا ہے۔
ان کی میراث:
اقبال احمد پاکستان اور امریکہ دونوں میں بائیں بازو کے ممتاز ترین دانشوروں میں سے ایک تھے۔ ان کی وراثت عسکریت پسندی، بیوروکریسی، جوہری ہتھیاروں اور نظریاتی جبری کی سخت مخالفت ہے، جبکہ وہ جمہوریت اور خود ارادیت کے پر جوش حامی ہیں۔ اگرچہ احمد پاکستان کے اندر ایک کم معروف شخصیت تھے، لیکن انہوں نے ملک کے اندر اور باہر دانشور حلقوں میں ایک مضبوط وراثت فراہم کی۔
یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ ذہانت اور بے پناہ لگن کی وجہ سے پہچانے جانے والے اقبال کو نہ تو پاکستان کی تاریخ میں کوئی نمایاں مقام حاصل ہوا اور نہ ہی انہیں ریاست کی جانب سے کسی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کی واضح وجہ لوگوں کو سماجی اصلاحات کے بارے میں ان کے ترقی پسند خیالات سے دور رکھنا ہے۔
· بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ڈاکٹر اقبال احمد پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، ان میں سے ایک ڈیوڈ بارسمین کی کتاب
’Confronting Empire
ہے، جو اقبال احمد پر کیا گیا ایک غیر معمولی کام ہے۔ ڈیوڈ بارسمین نے کہا: ”اقبال احمد ایک حقیقی اسکالر اور سرگرم کارکن تھے۔ انہوں نے نہ صرف سماجی تبدیلی کے لئے ترقی پسند تحریکوں کے ساتھ اپنے علم کا اشتراک کیا بلکہ ان میں عملی طور پہ حصہ لیا۔ وہ لوگوں کے بارے میں حساس تھے اور ان کے لئے عدل و انصاف چاہتے تھے۔“
· ان کی وفات کے بعد ہیمپشائر کالج میں ان کے اعزاز میں ایک میموریل لیکچر سیریز قائم کی گئی۔ مقررین میں کوفی عنان، ایڈورڈ سعید، نوم چومسکی اور اروندھتی رائے جیسی معروف و مشہور ہستیاں شامل ہیں۔
· وہ ایک انسائیکلوپیڈیا کی طرح وسیع علم کے حامل شخص تھے اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے الفاظ میں، ”اقبال احمد ایک حقیقی بین الاقوامی شخص کی روشن مثال تھے۔ اقبال احمد دنیا کی تمام عظیم تہذیبوں کی تاریخ سے تفصیلی طور پر واقف تھے۔“
· اقبال کے ایک اور دوست نوم چومسکی نے اقبال کے بارے میں کہا ہے ”اقبال کے نزدیک ریاست (پاکستان) اب بھی پرانی نوآبادیاتی ریاست کی طرح ہی ہے، جس کا ڈھانچہ ایک مرکزی طاقت، ایک پدرانہ بیوروکریسی، اور فوج اور چند با اثر افراد کے اتحاد پر مشتمل ہے۔ نئی اشرافیہ پرانے اشرافیہ کی وارث ہے۔ مالکانہ طبقہ، علم یافتہ طبقہ، اور بورژوازی غریبوں کے بارے میں فکر نہ کرنے میں اپنے طور طریقوں سے نوآبادیاتی ریاست کی طرح یا اس سے بھی زیادہ بے رحم ہیں۔“
· اقبال احمد کی منتخب تحریروں کے جائزے میں کیلی میکبرائیڈ نے ”انسانی فطرت کے بارے میں ان کے غیر معمولی احساس، اور عالمی تاریخ کے بارے میں ان کے انسائیکلوپیڈیا کی مانند علم“ کی تعریف کی ہے۔
· کبیر بابر نے لکھا کہ اقبال کے کام کا مطالعہ کرنے سے تجزیہ کار خود نادر تعلیمی رجحان کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کی خواہش سے روشناس ہو جاتا ہے۔
· ماہنامہ ریویؤ کے شاہد عالم نے لکھا کہ ”احمد نے فرینٹز فینن کے بعد تیسری دنیا سے سب سے زیادہ واضح، تجزیاتی اور پرجوش آواز فراہم کی۔ یقینی طور پر وہ بیسویں صدی میں اسلامی دنیا کے سب سے ذہین سیاسی مفکر بھی ہیں۔“
· ’ڈاکٹر اقبال احمد اچیومنٹ ایوارڈ‘ انسٹیٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کی جانب سے دیا جانے والا ایک باوقار اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ سالانہ کانووکیشن میں ٍ ایک ایسے گریجویٹ کو پیش کیا جاتا ہے جو فیکلٹی کے نزدیک اقبال احمد کی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک ترقی پسند تھنک ٹینک ہے جس کی بنیاد 1963 میں رکھی گئی تھی۔
· الجزائر نے جولائی 2023 میں الجزائر کی جنگ آزادی ( 1954۔ 1962 ) کے ہیروز کا جشن منایا۔ الجزائر کے تاریخی شہر میں جن لوگوں کو یاد کیا گیا ان میں ایک غیر عرب اقبال احمد کو بھی ’انقلاب کا دوست‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔
· اقبال احمد سینٹر فار پبلک ایجوکیشن (ای اے سی پی ای) کا نام ڈاکٹر اقبال احمد کی زندگی اور کام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہ مرکز فطرت اور معاشرے کو سمجھنے کے لئے سائنس اور عقل کے استعمال کو فروغ دینا چاہتا ہے اور اس طرح پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے معاشرے کی سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی میں مکمل طور پر حصہ لینے کے قابل بنانا چاہتا ہے۔ ای اے سی پی ای کے بورڈ میں امریکہ کی اعلیٰ اینٹی اسٹبلشمنٹ اسکالر نوم چومسکی، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نوبل انعام یافتہ چارلس پولانی، اور پاکستان کی کئی ممتاز ہستیاں شامل ہیں۔
ان کی تحریریں :
Eqbal Ahmad: Confronting Empire
By Eqbal Ahmad, Edward W. Said (Foreword) , David Barsamian ; Haymarket Books; 2017
The Pen and the Sword: Edward W. Said: Conversations with David Barsamian
By Edward W. Said, Eqbal Ahmad (Introduction) ; Common Courage Press; 1994
Terrorism: Theirs and Ours
By Eqbal Ahmad, David Barsamian (Foreword) ; Seven Stories Press; 2001
The Selected Writings of Eqbal Ahmad
By Eqbal Ahmad, Noam Chomsky (Foreword) , Carollee Bengelsdorf (Editor) , Margaret Cerullo (Editor) ; Columbia University Press; 2006
Between Past and Future: Selected Essays on South Asia
By Eqbal Ahmad, Dohra Ahmad (Editor) , Iftikhar Ahmad (Editor) , Zulfiqar Ahmad (Editor) ; Oxford University Press; 2006
Political Culture and Foreign Policy: Notes on American Intervention in the Third World
By Eqbal Ahmad ; Institute for Policy Studies; 1979
Indirect guilt
By Eqbal Ahmad ; The Nation Co; 1983
Counter insurgency
By Eqbal Ahmad; Glad Day Press; 1971
Islamic Revolution in Iran
By Eqbal Ahmad ; Vanguard Books Ltd
Race and Class: A Journal for Black and Third World Liberation (Volume 34, Number 3)
By Eqbal Ahmad (Editor) ; Institute of Race Relations
The Invasion of Lebanon. (Race & Class. 1983. Special Double Issue. Volume 24. Number 4.)
By Eqbal Ahmad, Ibrahim Abu Lughod ; Institute of Race Relations; 1983
Socialist Review American Politics in the 70 ’s and 80‘ s ؛
By Eqbal Ahmad ; New Fronts Publishing ;1980
Perspectives from the Past: Dr. Eqbal Ahmad on Kashmir
By Eqbal Ahmad ; Mountain Ink Magazine
Eqbal Ahmand Reader: Writings on India, Pakistan, and Kashmir
Sarthak Tomar (Editor) ; theComingAnarchy.wordpress.com
’The Satanic Verses‘ , The New York Review of Books
By Edward W. Said, Aga Shahid Ali, Ibrahim Abu-Lughod, Akeel Bilgrami, and Eqbal Ahmad ; 1989
حوالہ جات:
Eqbal Ahmad; https://en.wikipedia.org/wiki/Eqbal_Ahmad
Remembering Dr Eqbal Ahmad By Aamir Aqil; https://www.dawn.com/news/627662/remembering-dr-eqbal-ahmad
Algeria honours Eqbal Ahmad By Pervez Hoodbhoy; https://www.dawn.com/news/1764778/algeria-honours-eqbal-ahmad
Eqbal Ahmad Centre for Public Education (EACPE) ; https://eacpe.org/about-eacpe/
The Transnational Institute; https://www.tni.org/en
Institute for Policy Studies; https://ips-dc.org/
نوٹ: یہ مضمون ’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کی ساتویں قسط ہے۔ اس سلسلے کی پچھلی قسط کے لئے رجوع کریں :
کیا بھگت سنگھ ہمارا ہیرو نہیں ہو سکتا؟
https://www.humsub.com.pk/517401/habeeb-sheikh-94/


