جبری گمشدگیاں، آئین سے متصادم ریاستی جبر
ریاستیں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے عوام و الناس میں کئی طرح کے ابہام پیدا کرتی ہیں تاکہ وہ ان کے تابع رہیں مگر اس میں عدم توازن کے سبب وہ خود اپنے ہاتھوں اپنا وجود خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ریاستی معاملات کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے جب آئین اور قوانین موجود ہیں تو پھر ماورائے آئین و قانون جو بھی قدم اٹھایا جائے گا اس سے خوف و ہراس پیدا ہونے کی بجائے نفرت اور غصہ پروان چڑھے گا جو سرپھروں کو جنم دے کر بغاوت کی راہ ہموار کرے گا، آئین اور قانون اپنا وجود کھو دیں گے اور ریاست اپنا بھرم قائم نہیں رکھ سکے گی۔ پاکستان میں ایک طویل عرصے سے یہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کے سدباب کے لیے کوششیں باور ثابت نہیں ہو رہیں۔ منو بھائی نے کہا تھا کہ ”ماؤں کے بیٹے مر جائیں تو انہیں کبھی نہ کبھی صبر آ جاتا ہے مگر ان کے بچے اغوا یا اٹھا لیے جائیں تو وہ پل پل مرتی ہیں“ ۔
بلوچستان کے لاپتہ افراد کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے احتجاج کا میڈیا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے مگر ریاست کو انہیں ضرور سننا چاہیے، ریاستی اداروں کی جانب سے اختیار کی گئی غیر منصفانہ پالیسیوں نے ریاست کا اپنا وجود خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جبری گمشدگی ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ڈاکٹر ماہ رنگ کی جد و جہد ایک مثالی جدوجہد ہے، ان کے لوگوں کی جان اتنی ہی قیمتی ہے جتنے وفاقی دارالحکومت میں موجود کسی وزیر کے بیٹے کی ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے ہمارے علماء اور معتبر حلقے جو ہر ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں اس ظلم کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے، حالانکہ سب سے زیادہ دین KPK اور Baluchistan میں ہے اس کے باوجود، سب سے زیادہ ظلم اور جبری گمشدگیاں بھی یہاں ہوتی ہیں اور علماء نے کبھی بھی جمعہ کے خطبہ میں یہ بیان نہیں دیا۔ ہمارے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ کھل کر اس کے خلاف بیان دیں مگر ”خاکی خوف“ نے سب کو چپ لگائی ہوئی ہے؟
بلوچستان وہ سلگتا ہوا موضوع ہے جس پر اب ہر پاکستانی کو آواز اٹھانی ہو گی اور ہر اس آواز کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا جو اس حوالے سے گونج رہی ہے۔
فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی رواں برس شائع ہونے والی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تاریخ اگرچہ ستر کی دہائی سے شروع ہوتی ہے تاہم سال 2000 کے بعد دہشت گردی کے خالف جنگ سے اس میں بڑی تیزی آئی اور یہ سلسلہ بدستور آج بھی قائم ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ اب جبری گمشدگیوں کا دائرہ زیادہ وسیع ہو رہا ہے اور پنجاب میں بھی ایسے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جب ”لاپتہ افراد کمیشن قائم“ کیا گیا تھا تب ایسے مقدمات 150 سے کم تھے اور اب یہ تعداد دس ہزار سے بھی زائد کے ہندسے کو چھو رہی ہے، اگرچہ گزشتہ برس کی نسبت رواں برس کی اوسط تعداد زیادہ ہے کیونکہ اب پنجاب بھی زد میں ہے جبکہ پہلے کے مقابلے میں سیاسی کارکنوں پر دست درازی سرعام اور دیدہ دلیری سے ہو رہی ہے۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز ”وی بی ایم پی“ کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے 2000 کے بعد سے ریاستی اداروں نے ہزاروں بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا تاہم ریاستی ادارے ان افراد کے مسئلے کو ریاست اور اس کے اداروں کے خالف ایک بے بنیاد پروپیگنڈا اور سازش قرار دیتے ہیں جبکہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ جبری گمشدگیوں کے پیچھے حکومت کی خاموش معاونت ہی ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اگرچہ کئی افراد بازیاب ہوئے اور واپس بھی آئے مگر اپنی گمشدگی کے حوالے سے سب کا بیانیہ ایک ہونے کی وجہ سے معاملہ مشکوک ہو جاتا ہے خاص طور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد چاہیے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، جبری لاپتہ ہونے کی خبروں کے بعد جب واپس آئے تو شمالی علاقہ جات کی کہانی سناتے پائے گا جس کا خاندان میں کسی کو علم ہی نہیں ہوتا تھا۔
2022 میں کل 207 قوانین، 62 وفاقی اور 145 صوبائی، نافذ کیے گئے۔ فوجداری قوانین، ترمیمی بل، جو کہ جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دیتا ہے گزشتہ سال اکتوبر میں سینیٹ سے قومی اسمبلی کو واپس کر دیا گیا تھا جہاں اسے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں بھیجے جانے کے بجائے مزید ترمیم کی گئی، جس سے قانون کے نفاذ میں موثر طریقے سے تاخیر ہوئی۔ یعنی ریاستی سطح پر باقاعدہ پلاننگ کے تحت اس اہم ترین قومی بلکہ فوری نوعیت کے قابل گرفت معاملے کو جان بوجھ کر پس پشت ڈالا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چاہیے وہ مقامی ہوں یا عالمی کی جانب سے مسلسل دباؤ کے بعد کم از کم لاپتہ افراد کے بارے میں کھل کر بات ہونے لگی ہے جبکہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بات کرنے والوں کو غائب کر دیا جاتا تھا۔
جبکہ یہ جاننا ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے کس قانون اور جرم میں اٹھایا گیا اور اس کے لواحقین کو اس کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر یہاں نہ فرد کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے کیا کیا اور نہ ہی پیاروں کو کہ کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ کسی نظام یا ریاست کے خلاف نفرتیں ایک دم پروان نہیں چڑھا کرتیں اگر ہم صرف بلوچستان کے لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی بات کریں تو وہاں سالوں سے مسلط کی گئی محرومیوں کو جب زباں ملی تو پھر اپنی ہی ماں کے خالف زہر پلنے لگا اور پھر نفرتوں کی اس لہر میں سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔
مشرقی پاکستان ہو یا پھر بلوچستان باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت محروم رکھے گئے جن میں سرداروں کا کردار اہم ترین ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خواہش سرداری تھی اور اقتدار، قیمت عام آدمی نے ادا کیا۔ اس کے بعد سیاسی نظام میں ریاست کے ”وارثوں“ نے ایک جماعت کو تیار کیا اور اسے جن بنیادوں پر تیار کیا گیا اس میں بھی عام ذہنوں کو جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر مخصوص انداز میں پیش کیا گیا اور پھر ”معاملات“ بگڑ گئے تو حسب حال یہاں بھی وہی ”مسنگ پرسنز“ والا معاملہ شروع ہو گیا اور پھر وہی آہ و فغاں ملک کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ریاستیں اپنے معاملات میں سفاک ہوا کرتی ہیں مگر یہ کیا کہ ڈائن بن کر اپنے ہی بچوں کو کھانے لگے۔
واضح رہے کہ لاپتہ افراد کمیشن کی طرف سے اگست میں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ماہانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران مزید 157 افراد لاپتہ ہوئے، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 9736 سے بڑھ کر 9893 ہو گئی۔ کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال سن 2022 میں ملک بھر سے لاپتہ افراد کے 860 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد اکتوبر کے مہینے میں 128 کیسز تھے۔ رواں برس جولائی میں یہ تعداد 157 تک پہنچ گئی۔
جبکہ جبری گمشدگیوں کے معاملے کی چھان بین کے لیے پاکستان میں پہلا کمیشن 2010 ء میں جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور عالم کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا، جس کے دیگر دو ارکان جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال اور جسٹس ریٹائرڈ فضل الرحمان تھے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی جو آج تک منظر عام پر نہ آ سکی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے دوسرے کمیشن کو انکوائری ایکٹ سن 1956 کے تحت 2011 ء میں تشکیل دیا گیا، جسے بعد میں اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے دور میں اسے کمیشن آف انکوائری ایکٹ سن 2017 کا نام دیا گیا تھا۔
2020 ء میں اس کمیشن کی مدت ختم ہونے والی تھی مگر اسے تین سال کے لیے توسیع دی گئی۔ اس توسیع کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے اس کے سربراہ کی تعیناتی، اس کے محدود دائرہ کار اور ناقص کارکردگی کی بنا پر مخالفت کی تھی۔ رواں برس جون میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جبری گمشدگی کے ایک مقدمے میں ریمارکس دیتے ہوئے تھا کہ بادی النظر میں کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہا، کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وضاحت کرے کہ کیوں موثر اور قابل ذکر ایکشن نظر نہیں آ رہا؟ ایک دہائی قبل تشکیل دیے گئے کمیشن نے جبری گمشدگی خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو تجاویز کیوں نہیں دیں؟ ”یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے اور انصاف اسی طرح ایک سے دوسرے عدالت میں دھکے کھا رہا ہے۔
پچھلے سال کی رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیوں کا سلسلہ پورے سال بغیر کسی مہلت کے جاری رہا اور انصاف کے متلاشی خاندانوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ COIED کے مطابق، کم از کم 2,210 مقدمات غیر حل شدہ رہے۔ اپریل میں کراچی یونیورسٹی میں خودکش بم دھماکے کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔ 28 اپریل کو بلوچ طالب علم بیبگر امداد کو لاہور سے زبردستی لاپتہ کیا گیا اور 13 دن بعد رہا کر دیا گیا۔ جون میں دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا اور ایک ہفتے بعد واپس آیا۔ بلوچ مصنف لالہ فہیم بلوچ کو اگست میں اغوا کیا گیا تھا۔ دو خواتین بلوچ کارکنوں کو لاپتہ کر دیا گیا، جبکہ میں سے چار بلوچ مردوں کو لاپتہ کر دیا گیا تھا جنہیں اکتوبر میں ایک مبینہ مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
2022 دو ہزار 22 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) (پی ایم ایل۔ این) ، پاکستان مسلم لیگ (ق) (پی ایم ایل۔ ق) کے درمیان مسلسل لڑائی میں، لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے سال بھر سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے۔ چوتھے پارلیمانی سال ( 2021۔ 22 ) میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس بو قاعدہ اور بدنظمی سے متاثر ہوئے۔ میڈیا والوں کو ریاست پر تنقید کرنے کی ہمت ہونے پر ہراساں اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور ہوائی اڈے پر صحافی عمران ریاض خان کی گرفتاری اور سٹیون بٹلر (صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کے ) سے بلاجواز پوچھ گچھ اس بات کو واضح کرتی ہے جبکہ جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن نے 2022 میں پنجاب سے جبری گمشدگی کے 57 کیسز موصول ہونے کی اطلاع دی تھی۔ ہر گزرتے دن ملک کی فضاؤں میں ڈر اور خوف کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اب سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے بھی جبری گمشدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں کیا صورتحال ہو گی کیا دو ہزار 24 میں بننے والی نئی حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکے گی؟ کیا عدلیہ موثر انداز میں ان معاملات کو ہینڈل کر سکے گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ہم صرف یہ دعا کر سکتے ہیں کہ
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


