غالب کی سالگرہ


27 دسمبر 1797 مرزا اسداللہ خان غالب کا یوم ولادت ہے اور 15 فروری 1869 کو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے

میری طرح آپ میں سے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جن کا باقاعدہ شعر و ادب سے تعلق تو نہیں مگر میری طرح انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار غالب سے ان کے اشعار اور نثر کے ذریعے زندگی کی نا انصافی ’سفاکی‘ کج ادائی ’بے وفائی‘ بے ڈھنگے پن وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے کی کوشش کی ہو گی یا کچھ دردناک مرحلوں کو نبھانے یا ان سے آسانی سے گزرنے کے لیے غالب میں پناہ ڈھونڈی ہو گی

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

ایک بے طاقت بے نوا سوچنے والی پاکستانی شہری کی حیثیت سے جس کے پاس باوجود اشرافیہ سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے نہ کوئی نہ انشورنس ہے نہ پنشن نہ کوئی اور سہولت میں نے کئی مرتبہ غالب سے جذباتی صحت یا مینٹل توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کئی بار مدد لی ہے

کل ان کی 226 ویں سالگرہ پر گزر گاہ خیال مجھ کو پھر غالب تک لے گئی اور ان کو شاہراہ دستور اسلام آباد میں اپنی خلعت میں جس کی حالت کافی خستہ تھی ملبوس دیکھا (مرزا غالب بندر روڈ کراچی پر بھی ایک دفعہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر خواجہ معین الدین کے توسط سے نظر آچکے ہے اس لیے زیادہ حیرانی نہیں ہوئی)

قریب گئی تو یہ شعر سنائی دیا
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ۔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
قیاس یہی ہے کہ وہ اپنی ٹوپی شاید پولیس والوں کے ہتھے چڑھ جانے کے باعث یہ پڑھ رہے
بہر کیف

شہنشاہ سخن نے بتایا کہ ان کو حالیہ انڈیا سے اہلیہ کے کشمیری نژاد ہونے کی بنا پر واہگہ بارڈر کراس کرنا پڑا

ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے

بے سبب ہوا غالب دشمن آسمان اپنا

لاہور میں وہ کسی طرح فیض گھر پہنچے تو گیٹ پر ان کے استقبال کے لیے موجود فیض سے پتا چلا کہ ان کی آمد کو زیادہ پسند نہیں کیا جائے گا کیوں کہ غالب نے باوجود اس کے کہ ان کے دادا محترم لاہور سے دلی گئے تھے پنجابی نہیں سیکھی نہ ہی اس زبان میں شاعری کی نہ ہی نثر لکھی ویسے بھی ان کی فارسی سے کسی کو دلچسپی نہیں رہی اور کسی اداکار نصیر شاہ کے ادا کے گئے اردو اشعار اور جگجیت چترا کی گائی ہوئی غزلوں کی وجہ سے ان کی کچھ مقبولیت ہے

فیض کا بھی دم اس لیے بھرا جاتا ہے کہ سیالکوٹ کے ہیں اور کسی طرح اپنے داماد شعیب ہاشمی کے اصرار پر تھوڑی سی پنجابی میں شاعری کر لی

بعد میں پتا چلا کہ وہ فیض نہیں تھے بلکہ کوئی سوشل میڈیا influencer تھا جس کو پاپولر صحافی بھی سمجھا جاتا ہے اور وہ اسی طرح کے کونٹینٹ کو بیچ دیتا ہے

غالب نے اس گفتگو میں یہ بھی جتایا کہ جس طرح ان کو اپنے اصلی پیرایہ بیان کو چھوڑ کر عام زبان میں شاعری کرنی پڑی تھی اس لئے وہ میری اور مجھ جیسی عوام کی ذہنی حالت اور علمی استعداد جانتے ہوئے نام نہاد اردو زبان میں انگریزی الفاظ کا استعمال بھی کر رہے ہیں

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
میں نے شکریہ ادا کرنے کے بعد بصد احترام دریافت کیا کہ کیا اب آپ اسلام آباد میں قیام کریں گے؟
کہنے لگے کہ یہ شہر راج شاہی کو اجاڑ کر بنا آباد پھر بھی نہ ہوا یہاں تو پردیسی ہیں پھر بھی آنکھوں کو اچھا لگتا ہے اس لیے خوف بھی آتا ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو، اسدؔ
عالم تمام، حلقہ دام خیال ہے

پی ٹی وی پر جب سے فیض کو فراز بنا کر ان کی برسی منائی گئی ہے اور تو اور جناح کی سالگرہ کو بھی برسی کا دن ٹھہرا دیا اس وقت سے کچھ رٹائرڈ پروڈیوسرز ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں اسلم اظہر ’پطرس بخاری‘ اور اقبال کی سفارش بھی ہے ان کو کہلوا دیا ہے کہ وجاہت مسعود سے بات کر لیں کچھ رضا کار بھیج دے گا جیسے کہ محمد حسن معراج یا محمد حنیف ان کے background بھی checked ہیں۔
وظیفے پر درست اور سادہ اردو میں پیچیدہ خیالات کو بیان کرنے کے کام کی دو پیشکش ہیں ایک تو صدر مملکت کی طرف سے ہے، دوسرے ادارے کا نام نہیں لے سکتا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟

غالب نے پہلی مرتبہ میری طرف مسکرا کر دیکھا اور فرمایا کہ کچھ اشعار پاکستان کو ڈھاکہ کھو دینے ’مظلوموں‘ کو بے یار و مدد گار چھوڑ دینے ’بچوں کو بے علم رکھنے اور بے گناہوں کو جرم آگاہی کی سزا دینے پر عطا کروں گا پھر اس ویزا پر امریکا روانہ ہوں گا جو میرے جیسے جینیس انسانوں کو جاری کیا جاتا ہے

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

 

Facebook Comments HS