نوجوانوں کے سیاسی شعور کی قربان گاہ


پاکستان پیپلز پارٹی نے 1967 میں لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر سے اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت اس کے بانی ارکان اوسط عمر 34 سال تھی۔ خود ذوالفقار علی بھٹو 39 سال کے تھے۔ غلام مصطفے ٰ کھر، حیات محمد خان شیر پاؤ، رفیع رضا کی عمر تیس سال تھی جب کہ کراچی یونیورسٹی کے طالب علم رہنما معراج محمد خاں ان سے بھی کم عمر تھے۔ بعد میں یہی لوگ ان کی کابینہ کے اہم رکن بنے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد بائیں بازو کی تنظیموں میں کام کر چکے تھے۔ کچھ افراد طالب علم رہنما تھے۔ آغاز میں ہی پیپلز پارٹی کو حکومتی مزاحمت اور مارشل لا کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ یہ سب جوان تھے اور سیاسی قیادت اور کام کے ماہر بھی اس لیے انہوں نے بڑی کامیابی سے حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا۔

1968۔ 69 کے دوران بھٹو کو گرفتاری اور قاتلانہ حملوں سے ڈرایا گیا۔ ان کے ساتھ پارٹی کے کارکنان کو بھی مقدمات اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملتان اور پیر جو گوٹھ میں ان پر قاتلانہ حملے میں کچھ کارکنان قتل بھی ہوئے لیکن جذبہ اور سیاسی شعور اتنا زیادہ تھا کہ ان کو دبایا نہ جا سکا۔ نوجوانوں کے اس شعور و جذبہ کی ایک جھلک ہمیں پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم رہنما راجہ انور کی کتاب ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں دکھائی دیتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں، ”طارق (عزیز) میرا جیل کا ساتھی ہے، میں یہ نہیں جانتا کہ طارق اداکار کیسا ہے، مگر طارق آدمی بہت ہی پیارا ہے، ایک بار طارق چندہ کرنے“ اس بازار ”میں بھی گیا۔ ایک طوائف نے اپنی ساری پونجی طارق کو دے دی، طارق نے بھرے بازار میں اس کے پاؤں چوم لئے۔“

1985 میں جب نواز شریف نے وزارت اعلیٰ سنبھالی تو ان کی عمر 39 برس تھی۔ مسلم لیگ جو کہ پاکستان بننے کے بعد کی تین دہائیوں کی گندی سیاست سے تباہ ہو چکی تھی اس کو دوبارہ جوانی 1979 کے نوجوان بلدیاتی رہنماؤں اور 1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے نوجوان لوگوں سے ملی۔

جب وزیر اعظم نواز شریف نے 1990 میں اپنی پہلی کابینہ بنائی تو گرچہ اس میں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ صاحب زادہ یعقوب علی خاں اور جنرل ریٹائرڈ عبدالمجید ملک جیسے 71 سالہ افراد بھی موجود تھے لیکن باقی افراد کی اوسط عمر 43 سال تھی۔ اکثر ان کے ساتھ 1985 سے چل رہے تھے اور اب تک ان کے ساتھ ہیں۔ بعض لوگوں کی اگلی نسل اب اپنے باپ دادا کی پیڑھی سنبھال چکی ہے۔ اس وقت کئی رہنماؤں کی عمر 35 سال سے بھی کم تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کابینہ میں سے اکثر سیاست دان جن کی عمر 45 سال سے زیادہ تھی بعد میں ان کو دھوکا دے گئے۔ ان میں سید فخر امام 48، چوہدری امیر حسین 48، انور سیف اللہ 45 حامد ناصر چٹھہ 46 سال جیسے خاندانی سیاست دان بھی شامل ہیں۔

عمران خاں نے 2018 میں جب اپنی پہلی کابینہ بنائی تو اس وقت ان کی اپنی عمر 66 سال تھی اور اس کابینہ کی اوسط عمر 58 سال تھی، اس میں صرف دو افراد پنتالیس سال سے کم عمر کے تھے : حماد اظہر 37 اور مراد سعید 32۔ یہ دونوں آج کل کے مشکل حالات میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ باقی ستر افراد میں سے صرف چند افراد ہی ان کے ساتھ ہیں : شاید پانچ چھ ہی۔

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جس نے بھی سیاست کرنی ہے اسے مقتدرہ کی سختیاں جھیلنی پڑھتی ہیں۔ جس نے بھی اس دشت زار میں قدم رکھا ہے اسے اندرون ملک مذہبی و علاقائی دہشت گردی اور عالمی تنظیموں کی ٹارگٹ کلنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس ملک میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس پر بار بار غداری اور کرپشن کے الزامات نہیں لگے۔ کوئی ایسا لیڈر نہیں جس پر ایک سے زیادہ مرتبہ قاتلانہ حملے نہیں ہوئے۔ کوئی ایسی پارٹی نہیں جسے سڑکوں پر کئی کئی مرتبہ گھسیٹا نہ گیا ہو۔ کوئی ایسا سیاسی خاندان نہیں جسے سیاسی جنازوں کو اپنے کندھوں پر اٹھانا نہ پڑا ہو۔

پی ٹی آئی پر مشکل وقت ہے۔ بدقسمتی ہے کہ سب پارٹیوں کو ان مشکلات میں الجھایا گیا لیکن پی ٹی آئی نے اس بلا کو اپنی حماقت سے خود للکارا ہے۔ ایسی مشکلات کا سامنا صرف جوان قیادت کر سکتی ہے جو کہ ان کے پاس نہیں۔ عمران خان نے جوانوں کی اکثریت کو سیاسی نعرے لگا کر اپنا ہمدرد تو بنا لیا ہے لیکن ان کو قیادت نہیں دی۔ یہ بوڑھے اور دوسری پارٹیوں سے لائے گئے تجربہ کار لوگ موسم بدلتے ہی اپنا آشیانہ کسی اور ٹہنی پر سجا لیتے ہیں۔

پارٹی کی دوسری بدقسمتی ہے کہ خاں صاحب اپنی ذات کے علاوہ کسی اور پر بھروسا نہیں کرتے۔ پنجاب اور کے پی کو کمزور افراد کے حوالے کیے رکھا، اب مشکل پڑی ہے تو وہ دونوں کہیں نظر نہیں آتے۔ خاں صاحب نے اپنی ذاتی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹی کو بوڑھے ابن الوقت وکیلوں کے حوالے کر دیا ہے۔ کیا کھوسہ، اعتزاز احسن اور گوہر جیسے لوگ اپنی ناک سے آگے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا ان جیسے تیز طرار افراد اس عمر میں سختیاں جھیلیں گے یا اپنا الو سیدھا کر کے چلتے بنیں گے؟

ایک اور وکیل شیر افضل خاں مروت کی سیاسی سوجھ بوجھ پر قربان جسے اتنا بھی اندازہ نہیں کہ وہ اپنے ہی ٹی وی پروگرام کو برباد کر کے کیسے گندے لفظ سے یاد کر رہا ہے۔ پوری قوم اس کے تبصرہ پر میمز بنا رہی ہے اور وہ تھرڈ کلاس سٹیج ڈرامہ جیسی بیہودہ جگت پر فخر کر رہا ہے۔ اس کا اپنے الفاظ پر اتنا کنٹرول ہے کہ اپنی ٹیم کے ہی دوسرے وکیل شعیب شاہین کے خلاف روزانہ پریس کے سامنے الٹی سیدھی ہانکتا رہتا ہے۔

کیا نوجوانوں کو ایسے وکلا کے حوالے کیا جائے گا؟

پارٹی لیڈر کی نچلی سطح پر بھی سیاسی کارکنان، کاروباری شخصیات، سیاسی خاندانوں، زمین دار گھرانوں اور روایتی ڈیرہ داروں کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سب کچھ وکلا کے حوالے کر دیا گیا ہے اور امید کی ڈوری عدلیہ سے باندھ لی گئی ہے۔ کیا پارٹی کو اندازہ نہیں کہ پوری قوم ججوں کی نا انصافی اور موجودہ نظام میں وکلا گردی کا پہلے ہی شکار ہے؟

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہاں میں
لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی اوسط عمر 57 سال تھی۔ اگلے گیارہ برس میں ان بوڑھوں نے ملک کی سیاسی تحریک کو تباہ کر دیا۔ ان کی نا اہلی اور مفاد پرستی نے پوری قوم کی سیاست کو دفن کر دیا جس کے نتیجے میں ملک تیرہ سال تک آمریت کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ دو مارشل لا بھگتنے اور آدھا ملک گنوانے کے بعد جوان کل وقتی سیاست دانوں کی محنت سے کچھ روشنی پھیلی اور ملک صحیح ٹریک پر چلنے لگا۔ فی زمانہ پی ٹی آئی نے نوجوان ووٹرز کی اکثریت کو اپنی طرف راغب کیا ہوا ہے لیکن قیادت ساری بوڑھی ہے۔

ان حالات میں، اس وقت سے، ڈر لگتا جب اس پارٹی کے بوڑھے قوم کے جوانوں کی سیاسی جدوجہد اپنے مفادات اور مجبوریوں کی بھینٹ چڑھا کر کسی دوسری پارٹی میں جا ٹھکانا کریں گے اور یہ پارٹی موجودہ نوجوان نسل کے سیاسی شعور کی قربان بن جائے گی۔

Facebook Comments HS