بلوچستان، ایک عالمی شکار گاہ
عمومی تاثر اصل حقائق سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ جب ایک تاثر دل و دماغ میں راسخ اور شکوک و شبہات کی آکاس بیل بن جائے تو محض لفاظی اور لایعنی دعوؤں سے یہ تاثر زائل نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت میں گوشواروں اور حقائق ناموں کا کھیل مضحکہ خیز تماشا بن جاتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ بدقسمتی سے یہ صوبہ قیام پاکستان سے اب تک احساس محرومی کا شکار ہے۔
بلوچستان کا احساس محرومی محض تخیلاتی نہیں بلکہ یہ اپنے اندر ٹھوس وجوہات رکھتا ہے، اہالیان بلوچستان کے پاس اپنی محرومیوں کی ایک طویل فہرست ہے، جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ بلوچستان کئی عشروں سے سلگ رہا ہے، مری، مینگل اور بگٹی قبائل کے خلاف کئی آپریشن ہوئے، ڈاکٹر شازیہ کے واقعے اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے حالات بگڑتے چلے گئے اور احساس محرومی کی برسوں سے سلگتی آگ، شعلوں سے قومی و لسانی عصبیت اور مملکت سے بغاوت کے خوفناک الاؤ میں تبدیل ہو گئی۔
چند لفظوں میں بلوچستان کے مسائل کا احاطہ کیا جائے تو وہ یہ ہیں۔ •گڈگورننس نہ ہو نا۔ •سرداری نظام۔ • معاشی بدحالی۔ •غربت۔ •احساس محرومی۔ •پسماندگی۔ ان کے علاوہ سب سے اہم وجہ بیرونی ہاتھ اور سازشیں ہیں۔ امریکہ نے بھی بلوچستان کی آگ بھڑکانے میں وقتاً فوقتاً اپنا حصہ ڈالا۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کی کوششیں ہمیشہ ”قلیل مدتی“ رہیں ”طویل مدتی“ حل کی سنجیدہ کوششیں دکھائی نہیں دیں، جس کے باعث بلوچستان بدامنی کا شکار ہوتا گیا۔ ’علیحدگی پسندوں ”کی کارروائیوں میں عالمی طاقتیں بھی ملوث ہیں جن کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ عالمی طاقتوں کی مداخلت کی تین بڑی وجوہات ہیں۔
1۔ بلوچستان میں قدرتی وسائل، گیس اور تانبے کے ذخائر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح لوہا، سیسہ، زنک، سلفر، کوئلہ، سیلیکا، قیمتی پتھر، اور تیل سمیت دنیا کی ہر قیمتی شے بلوچستان کی مٹی میں موجود ہے۔ ان وسائل کو درست طریقے سے استعمال کر لیا جائے تو بلوچستان کے عوام کے تمام معاشی مسائل حل ہو جائیں۔
2۔ دوسری اہم وجہ بلوچستان کا محل وقوع ہے۔ اس کے مغرب میں ایران اور شمال میں افغانستان واقع ہے۔ ساحلی علاقے سمندری راستے سے مشرق وسطی سے ملتے ہیں۔ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور آگے بحیرہ عرب۔ بلوچستان سے متصل سمندر مشرق و مغرب کا سنگم اور عالمی سمندری جہاز رانی کا اہم ترین راستہ ہیں۔
3۔ زمینی طور بھی بلوچستان اہم ترین تجارتی راستہ، گیس اور تیل کی ایک سے زائد عالمی پائپ لائنوں کی ممکنہ گزر گاہ ہے۔
ان وجوہات کی بنا پر عالمی طاقتوں کی نظریں ہمیشہ اس پر رہیں۔ ہنری کسنجر کے 1962 کے بیانات اور 1971 میں امریکہ کے دورے کے دوران اندرا گاندھی کی جانب سے بلوچستان اور ”صوبہ سرحد“ کو پاکستان کا حصہ ماننے سے انکار کو اگر ہم پرانی بات سمجھ بھی لیں تو 2012 میں امریکی کانگریس میں پیش ہونے والی قرار داد کے بارے میں کیا کہیں جس میں بلوچستان کو پاکستان کے تسلط سے آزاد کرانے کا مطالبہ تھا۔ ایک رکن کانگریس ”ڈینا اوہرا بیکر“ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ پاکستان میں ”علیحدگی پسندوں“ کی حمایت جاری رکھے گا۔
امریکی وزارت خارجہ اور سی آئی اے کے پاکستان ونگ میں ”بلوچستان واچ ڈیسک“ قائم کیا گیا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے بلوچستان کو ایک ایسا شورش زدہ علاقہ قرار دیا، جس میں پاک فوج، نیم فوجی آئی ایس آئی اور دوسرے خفیہ ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سرخیل ہیں۔ امریکی ماہرین پروفیسر کرسٹین فیئر، لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) رالف پیٹر (جنہوں نے جون 2006 ءمیں آرمڈ فورسز جرنل میں اسلامی دنیا کا ایسا نقشہ شائع کیا جس میں پاکستان کے حصے بخرے کرتے ہوئے، ایران اور پاکستانی بلوچستان کو افغانستان کے مخصوص علاقے پر مشتمل ”گریٹر“ یا ”آزاد بلوچستان“ دکھایا گیا تھا) امریکی حکام کو فوج، آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف سی پر پابندیاں لگانے اور تعلقات ختم کرنے کی تجاویز دیں اور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں حالات معمول پر لانے کے لیے امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالے اور پاکستان سے پوچھے کہ بلوچوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیا جا سکتا؟
بھارت کی بلوچستان میں مداخلت ڈھکی چھپی نہیں اس کا مقصد عالمی طاقتوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی پاکستان اور اسلام دشمنی بھی نبھانا یے۔ دہشتگردوں اور دہشتگردی کو زندہ رکھنے والی تینوں اہم چیزیں پیسہ، ہتھیار اور تربیت، بھارت خود اور اپنے کچھ دوست ممالک کے ذریعے بلوچستان میں پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسلسل بی ایل اے کی مدد کر رہا ہے۔ یہ الزام نہیں ثابت شدہ حقیقت ہے جس کے ثبوت ماضی میں ایک بھارتی وزیراعظم کو شرم الشیخ میں بھی پیش کیے گئے۔ اسی طرح ”کلبھوشن“ کی رنگے ہاتھوں گرفتاری سمیت بے شمار اور بھی ثبوت موجود ہیں۔ ایک امریکی تھنک ٹینک (FAS) کی رپوٹ کے مطابق اس وقت RAW کے ہزاروں ایجنٹ پاکستان میں کام کر رہے ہیں جن میں سے پانچ ہزار سے زائد صرف بلوچستان میں ہیں۔
بی ایل اے اور خان آف قلات آغا سلیمان نے ماضی میں جب امریکہ سے مدد طلب کی تو ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین ممبروں، ڈانا روہبیشر، لوئی گومرٹ اور سٹیوکنگ نے ایک بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”بلوچستان پاکستان، ایران اور افغانستان میں منقسم ہے، پاکستانی بلوچستان میں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور یہ صوبہ بدامنی کا شکار رہے۔ یہ بل، بلوچوں کے حقوق اور حق خود اختیاری کی حمایت کرتا ہے کہ ان کی آزاد ریاست ہو اور انہیں اپنا مقام خود متعین کرنے کا حق حاصل ہو“ ۔
عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کی خارجہ پالیسی چین کی مخالفت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی سے خوف زدہ امریکہ ”ون بیلٹ ون روڈ“ اور ”سی پیک“ کو کسی صورت کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ بلوچستان میں امن امان قائم نہ ہو تاکہ گوادر کی بندرگاہ مکمل ایکٹو نہ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے RAW چیف کی نگرانی میں سپیشل سیل قائم ہے۔
مختصر یہ کہ بھارت سمیت بہت سی عالمی طاقتیں بلوچستان میں اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکومت اور ذمہ دار ادارے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس سلسلے میں اغماض کی پالیسی کیوں اپنائے ہوئے ہیں؟ وہ کوئی ٹھوس اور دور رس عملی اقدامات کرنے میں سنجیدہ کیوں نہیں۔ خارجہ پالیسی کی بہتری کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مسائل کا دیرپا سیاسی حل ہی کامیابی کی واحد کلید ہے۔ پاکستانی حکومت کا ثبوت موجود ہونے کے باوجود عالمی طاقتوں کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ دشمنوں کو کھل کھیلنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے اور وہ اپنے مفادات کے لیے بلوچستان کے الاؤ کو بھڑکانے میں شب و روز مصروف ہیں۔
بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ حکومت، میڈیا، عدالتوں، فوج اور خفیہ اداروں کو اس سلسلے میں ہوشمندی سے کام لینا ہو گا۔ حکومت امریکہ اور دوسرے ممالک سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دے اور حقائق بلوچ عوام اور عالمی اداروں کے سامنے رکھے۔ کیونکہ ہم سے تو :
خفیہ ہاتھوں کی شرارت نہیں دیکھی جاتی۔
غیر ملکی مداخلت کی روک تھام کے لیے جہاں فی الفور زمینی حقائق کی روشنی میں ”طویل مدتی“ پالیسی بنانی اور اس پر صدق دل سے عمل کرنا ہو گا، وہاں عالمی مداخلت کے ثبوت سامنے لانا ہوں گے تاکہ عوام اصل حقیقت سے آگاہ ہوں تو حکومت اور اس کے اقدامات کو عوامی تائید حاصل ہو۔ حکومت اور بلوچستان کے حالات پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ بیرونی دشمنوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کی سازشوں کا توڑ کرنے کے لیے تگ و دو کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ماضی میں مشرقی پاکستان کی مثال سب کے سامنے موجود ہے۔ آئندہ کالم میں ان کوتاہیوں پر بات ہوگی جس کے مرتکب ہمارے ادارے، حکومت اور میڈیا ہے۔


