ماحول میں تفاوت


تم اپنے والدین کی پہلی اولاد تھیں اور شادی کے دس سال بعد ڈھیر ساری دعاؤں۔ منتوں اور چڑھاووں کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ اس لیے تم پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ سرخ و سپید خوبصورت رنگت گھنگھریالے بال اور خصوصی رنگت کی پرکشش اور ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں جو کبھی نیلی محسوس ہوتیں اور کبھی ہلکی سبز۔ بلکہ بعض اوقات تو ان کی رنگت بلی کی آنکھوں کی رنگت جیسی بھی محسوس ہوتی۔ تم تقریباً سال بھر کی تھیں جب گھر والے تمہیں ہتھیلی پر کھڑا کر کے دائیں بائیں گھماتے اور تم ہتھیلی پر بالکل سیدھی کھڑی رہتیں۔ مجال ہے کہ کوئی جھول آئے۔ ایسے معلوم ہوتا کہ جیسے کسی ربڑ کی گڑیا کو جھلایا جا رہا ہے۔ اسی لیے سب لوگ ہی تمہارے اصل نام کی بجائے تمہیں گُڈی کے نام سے پکارا کرتے تھے۔

تم اسی لاڈ پیار کے ماحول میں پرورش پاتی ہوئی بڑی ہوتی گئیں۔ ان دنوں بڑے بچے پر ننھیال کا زیادہ حق تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے اس مصدقہ اصول کے تحت سات آٹھ سال کی عمر میں ہی تم بھی اپنے ننھیال میں آ گئیں۔ تمہارے ننھیالی گھر میں تمہارے ماموں اور ممانی میری ہمشیرہ اور میرے بہنوئی تھے۔ تمہارے ماموں میرے خالہ زاد بھی تھے۔ تمہارے ماموں ممانی اور نانا پر مشتمل یہ کل تین افراد کا گھرانا تھا جہاں تمہاری آمد ہوئی۔ یہ ایک چھوٹا سا زمین دار گھرانا تھا۔ جن کے پاس اپنی ملکیتی زمین کا ایک معقول یونٹ موجود تھا۔ یہاں پر مرد حضرات سارا دن زمینوں پر کام کرتے اور عورتیں گھریلو کام کاج کے علاوہ ڈھور ڈنگڑوں کی دیکھ بھال بھی کیا کرتی تھیں۔

تمہارے گھر میں زمینوں پر کام کرنے والے فرد واحد صرف تمہارے ماموں ہی تھے۔ کیونکہ تمہارے نا نا اس قدر عمر رسیدہ تھے کہ کام کاج کرنا ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ تمہارے ماموں نے اپنے زمینداری کے کام میں مدد کے لیے ایک ہمہ وقتی نوکر بھی رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود تم دونوں ممانی بھانجی سارا دن مصروف رہتیں۔ گھریلو کام کاج کے علاوہ ڈھیر سارے ڈھور ڈنگڑوں کی دیکھ بھال بھی تم لوگوں کی ذمہ داری تھی۔ یہ تھا وہ ماحول جس میں تم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کی منزلیں طے کیں۔

میرے ساتھ شادی ہونے کے بعد جب تم ہمارے گھر میں آئیں تو تمہیں دونوں گھروں کے ماحول میں موجود فرق کا بخوبی احساس ہو گیا۔ ہمارے گھر میں سبھی لوگ تعلیم یافتہ تھے اور تمہارے ہاں اسے لڑکیوں کے لیے تو خاص طور پر شجر ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں پر تم نے بھی اپنی تعلیمی حالت کو بہتر بنانے کا تہیہ کر لیا اور اس مقصد کے لیے تمہاری نظر انتخاب ابا جی پر پڑی۔ جو ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھے اور انہوں نے بھی بہت دلچسپی، رغبت اور ذمہ داری سے تمہیں پڑھانے کا بیڑہ اٹھا لیا۔

اس طرح ابا جان کے ساتھ تمہارے سسر اور بہو کے تعلق کے علاوہ استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی قائم ہوا۔ انہوں نے بھی اپنے اس تعلق کو بہت احسن طریقے سے انجام دیا اور بعد میں تم نے بھی شاگرد ہونے کا خوب حق ادا کیا۔ تم دونوں استاد شاگرد کی طرف سے ہی سنجیدگی، محنت اور لگن کا نتیجہ بہت مثبت رہا اور تم نے ڈیڑھ دو ماہ کے اندر اندر ہی چھوٹے موٹے بچوں کے رسائل پڑھنا شروع کر دیے۔

میں بھی بڑے شوق سے تمہارے لیے چھوٹی چھوٹی آسان اردو میں لکھی ہوئی دلچسپ کہانیوں کی کتابیں ڈھونڈ کر لاتا۔ مجھے یاد ہے کہ سب سے پہلے جو باقاعدہ کتابیں تمہارے پڑھنے کے لیے لایا وہ ڈپٹی نذیر احمد کی کتابوں کا سیٹ تھا۔ نہ صرف تم نے یہ کتابیں بہت دلچسپی سے پڑھیں بلکہ تمہاری آئندہ کی زندگی میں بھی ڈپٹی نذیر احمد کی تربیت یافتہ خاتون کا عکس ہمیشہ ہی تمہاری شخصیت میں غالب رہا۔ اب خصوصاً تمہارے لیے کتابیں لانے کی ضرورت نہ رہی۔

گھر میں جو کتابیں، اخبار اور رسائل وغیرہ آتے۔ باقی افراد کی طرح تم بھی انہیں پڑھ لیتیں۔ ناظرہ قرآن تو تم نے پہلے ہی پڑھا ہوا تھا۔ اب مولانا مودودی کے اردو ترجمے کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن لا دی۔ جو بقیہ تمام عمر تمہارے زیر مطالعہ رہی۔ قرآن کو اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا تمہاری عادت بن گئی اور کبھی کبھی تفسیر بھی پڑھ لیتیں۔

شادی کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک ہم گاؤں میں اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ اکٹھا ہی رہے۔ اس عرصے میں تم نے یہ سب کچھ بہت آسانی سے کر لیا تھا۔ ان دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہوا کرتی تھی۔ میں جمعرات کو فارغ ہو کر گاؤں چلا جاتا، جمعہ کا دن وہاں گزار کر ہفتہ کے دن دوبارہ شہر میں واپس آ جاتا۔ گاؤں سے باہر رہنے والے باسیوں کو گاؤں کے ساتھ التفات اور کشش کی قوت ہمہ وقت اس کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ چھ دن شہر میں گزارنے کے بعد گاؤں میں واپس جانا میرے لیے بہت بڑی تفریح کا مقام تھا اس لیے گاؤں میں جانے کی بے تابی بدھ سے ہی شروع ہو جاتی اور بدھ اور جمعرات کے دن اسی بے قراری انتظار اور مسرت و شادمانی کی ملی جلی کیفیات میں گزرا کرتے۔

Facebook Comments HS