نہرو خاندان اور رومان۔ سید حسین اور وجے لکشمی پنڈت
قاہرہ کے عمومی طور ”مردوں کا شہر“ پکارے جانے والے الحرافہ نامی قبرستان میں واحد ہندوستانی مدفون ہے۔ یہ ہے سید حسین کا مدفن۔ پنڈت نہرو کی ہمشیرہ وجے لکشمی پنڈت اور سید حسین کی محبت کے قصے کا مرکزی کردار۔ یہ فقرے کلکتہ سے ایک عزیز دوست کی بھجوائی بی بی سی ہندی پر نشر رحمان فضل کی بیان کردہ مفصل داستان کے ابتدا میں بولے گئے۔
برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی اپنی تحریر تقریر، شعلہ بیانی، دیش بھگتی اور ہندو مسلم اتحاد کے داعی ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں معروف مشہور ہو چکا، پانچ فٹ دس انچ قد کا حسین اور پر کشش شخصیت کا انتہائی خوش لباس اکتیس سالہ جوان سید حسین نہرو خاندان کے بنگلے الہ آباد آنند بھون کا باسی بن چکا تھا۔ بمبے کرانیکل کی ادارت کرنے والا نوجوان پنڈت موتی لال نہرو کے اخبار انڈیپینڈنٹ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے فروری انیس سو انیس میں الہ آباد آیا۔
ڈھنگ کی رہائش نہ ملنے پر پنڈت جی اسے اپنے گھر لے آئے تھے۔ یہاں اس کی ملاقات موتی لال کی بیٹی اور جواہر لال نہرو کی بہن انیس سالہ سروپ کماری سے ہوئی۔ حسین و جمیل مست نظروں والی سروپ کماری جو گھر میں ”نین“ کہلاتی پہلی نظر میں سید حسین پہ فریفتہ ہو گئی اور سید بھی دل ہار بیٹھا۔ اخبار کے اداریے، مضامین، سید کی شعلہ بیانی، جلسے جلوسوں اور تحریکوں میں شرکت، انگریز راج کے خلاف عوام کے دل گرما رہی تھی تو گھر میں آزاد خیال اور ہندو مسلم اتحاد کے داعی سیاسی خاندان کے ان ہی نظریات میں پلی بڑھی ”نین“ کے نین سید کی زندگی میں مستقل بسیرے کا فیصلہ کرچکے تھے اور سید حسین بھی ان ہی خوابوں میں ڈوب چکا تھا۔
سروپا اپنی دوست سروجنی نائیڈو کی بیٹی پدمجا نائیڈو کو اپنی خط و کتابت میں سید حسین کے اپنے گھر رہائش اور اس سے متاثر ہونے کا بتا چکی تھی۔ اور اپنے گھر کی تربیت اور ماحول کی وجہ سے بین المذاہب شادی میں کوئی ہرج نہ پاتی تھی۔ اس نے اپنی کتاب سکوپ آف ہیپی نیس میں بہت سے اعترافات کے ساتھ یہ اعتراف بھی کیا ہے۔
سید حسین کو لندن کی خلافت کانفرنس میں بھی وفد کے ممبر کے طور شرکت کرنے کے لئے نامزد کر لیا گیا تھا۔ تب دونوں نے سید کے برطانیہ جانے سے پہلے ہی خفیہ طور شادی کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستانی مصنف ایس ایم عباسی نے سترہ نومبر انیس سو اکہتر کے ”دی نیوز“ میں شائع مضمون ”مسز پنڈت کی محبت کی زندگی“ ( لو لائف آف مسز پنڈت ) میں بتایا کہ وہ اپنے دادا مولانا رشید فاخری کے پاس تھے کہ بلاوا آیا اور وہ اپنے دادا کو لے سید حسین کی قیام گاہ پہنچے۔ سید حسین پریشان سے ٹہل رہے تھے۔ ان کے دوست نواب سر محمد یوسف اور سید اصغر حسین بھی موجود تھے۔ نزدیک ہی سروپا مطمئن مسکراتی براجمان تھیں تب عباسی کو پتہ چلا کہ ان دونوں کا نکاح پڑھانے مولانا کو بلایا گیا تھا۔
خفیہ شادی کی اطلاع ملتے ہی نہرو خاندان کی ساری ہندو مسلم ایکتا کی تبلیغ غصے اور ناراضی کا طوفان بن چکی تھی۔ دھرم سے باہر شادی، وہ بھی مسلمان سے، آگ بگولا کرچکی تھی۔ اٹھارہ دسمبر انیس سو انیس کو سید حسین اخبار کی ادارت سے استعفی دے نکل آئے تھے۔ امرتسر خلافت کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچے تو گاندھی جی اور موتی لال نہرو نے پروگرام بنا انہیں تر غیب، دھونس یا دھمکی، کسی طرح راضی کر لیا کہ وہ شادی سے دستبردار ہو جائیں۔ اور برطانیہ جا بسیں۔ سید حسین نے طلاق دی اور انیس سو بیس میں برطانیہ ہوٹل میں جا بسیرا کیا۔ آزادی کی تحریک میں ویسے ہی سرگرم رہے۔ اگلے برس مستقل یو ایس اے چلے گئے اور اپنا مشن جاری رکھ جنگ آزادی کے ہیرو کے طور نام کماتے رہے۔
گاندھی جی کے مشورہ سے خاندانی دباؤ سے سروپا دیوی کو گاندھی جی کے سابر متی آشرم میں بھیج دیا گیا جہاں اسے اپنے گھر کے آزادانہ ماحول میں دماغ میں بھر چکے بھس اور پاگل پن سے نجات حاصل کرنا تھی۔ یہاں اس کی زندگی ایک عام داسی کی تھی۔ چوکی، چولہا، جھاڑو۔ دال چاول۔ پھیکی بد مزہ سبزی اور ہر وقت کی برین واشنگ۔ قیدی نما زندگی۔ وہاں گزرے دنوں کو وہ اپنی آپ بیتی میں جہنم سے بدتر گردانتی ہے۔ نو مئی انیس سو اکیس کو اس کی شادی وکیل رنجیت پنڈت سے کردی گئی تھی۔ اب سروپا کماری، وجے لکشمی پنڈت کا نام پا چکی تھی اور کانگرس کی سیاست میں بھرپور حصہ دار تھی۔
سید حسین یو ایس اے میں سات سال اخبار وائس آف انڈیا چلاتے بعد میں دوسرے اداروں میں شامل رہے مگر دیس کی آزادی کی تحریک میں پہلے سے بڑھ کر متحرک رہے۔ تاہم نہرو خاندان اور کانگرس کی ہندو لیڈر شپ ان کی خدمات کی قدر کرنے کو تیار نہ تھی۔ انیس سو سینتیس میں صرف چند روز کے لئے برطانیہ گئے۔ انیس سو چوالیس میں رنجیت پنڈت اچانک دنیا چھوڑ گئے۔ اگلے سال وجے لکشمی پنڈت امریکہ کے دورہ پر گئیں تو مدتوں سے بچھڑے دلوں کی پھر ملاقات ہو گئی۔
انیس سو چھیالیس میں سید حسین نے خط لکھ جواہر لال نہرو سے واپس ہندوستان آ بسنے کی اجازت مانگی ( موتی لال نہرو پندرہ پہلے سورگباش ہو چکے تھے ) مگر انتہائی سرد مہری سے لکھا جواب وہیں ٹکے رہنے کا حکم دے رہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اب سید حسین واپس آ گئے تھے۔ اور وجے لکشمی پنڈت سے ملاقاتیں پھر شروع تھیں۔ وجے لکشمی اتر پردیش صوبہ کی وزیر تھیں۔ پنڈت نہرو کے بہت عرصہ سکریٹری رہے ایم یو متھائی اس دور کی اپنی یادداشتیں پر مبنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وجے لکشمی جب بھی لکھنؤ سے دلی آتیں اپنے بھائی جواہر لال نہرو کے گھر ٹھہرتیں ان دنوں روزانہ صبح سید حسین چشمہ لگائے وہاں پہنچ جاتے اور اس سے گپ شپ کرتے۔
اس دوران پتلون کی جیب میں رکھا سگار سلگا کش لگاتے رہتے۔ یہی میتھائی۔ لکھتے ہیں کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد راج کماری امرت کور نے، جو بعد میں وزیر رہیں، گاندھی جی کے پاس محفوظ ایک سر بمہر فائل نہرو کو پیش کی۔ نہرو نے میتھائی کو یہ بتاتے کہ اس فائل میں وجے لکشمی اور سید حسین کے اکٹھے رہنے اور شادی وغیرہ کے متعلق خفیہ دستاویزات تھیں، میتھائی کے اس فائل کو محفوظ رکھنے پر اصرار کے باوجود، انہیں فوری جلانے کا حکم دیا اور میتھائی نے اسی وقت باورچی خانہ میں جا تمام کاغذات کو اپنے ہاتھوں نذر آتش کیا۔
سید حسین اور وجے لکشمی کی ملاقاتیں نہرو خاندان کے لئے شدید اضطراب کا باعث تھیں تقسیم ہند کے فوری بعد وجے لکشمی پنڈت کو روس سفیر بنا کر بھیج دیا گیا اور سید حسین مصر میں سفیر بنا بھیجے گئے۔ مقصد ان کی ملاقاتوں میں رکاوٹ پیدا کرنا تھا۔ شاہ فاروق نے انتہائی اعزاز سے گارڈ آف آنر دیتے چار گھوڑوں کی بگھی میں شان و شوکت سے بھرپور سو فوجی جوانوں کے دستہ کے جلوس میں آتے اسناد سفارت قبول کرنے کی تقریب کا اہتمام کیا۔
سید حسین اب بہت مختصر سامان لئے ہوٹل کے باسی تھے۔ سال بھر بعد ہی پچیس فروری انیس سو اڑتالیس کے دن اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کی وفات ہو گئی اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ وہ ”مردوں کا شہر“ کہلانے والے الحرافہ قبرستان میں دفن کر دیے گئے۔ قاہرہ کی ایک سڑک کا نام ان کے نام پر رکھا گیا۔ مگر ہندوستانی سرکار نے انہیں نہ نیتا تسلیم کیا نہ دیش بھگت لیڈر نہ قوم کا خادم۔ پورے ہندوستان میں نہ ان کے نام پر سڑک ہے نہ ان کی کوئی یاد گار نہ ہی تاریخ میں کوئی اہم مقام۔
تاہم اگلے سال امریکہ جاتے نہرو قاہرہ میں رکے اور ان کی قبر پہ پھول چڑھائے۔ اگلے سالوں میں وجے لکشمی اقوام متحدہ میں ہندوستانی نمائندہ اور امریکہ میں سفیر وغیرہ رہیں اور جب بھی مغرب کی طرف سفر ہوتا رستہ میں قاہرہ ضرور رکتیں اور اپنے محبوب کے مزار پہ محبت کا نذرانہ پھول نچھاور کرتے پیش کرتیں۔ یہ معمول زندگی بھر رہا۔
نہرو خاندان کی محبتوں کی داستان مختصراً میرے والد محترم نے انیس سو ساٹھ میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی ایڈونیا کی وفات کے دنوں پنڈت نہرو کے ان سے عشق کی کہانی سناتے سنائیں تھیں۔ بازگشت ہمیشہ میڈیا میں رہی مگر ذرائع ابلاغ کی ترقی نے مدفون خزانے اگلنا شروع کیے تو چھپے اور چھپائے گئے راز بھی سامنے آنے شروع ہو گئے
ساحر لدھیانوی کے امرتا پریتم کے سامنے سگریٹ کے کش لگاتے خاموش بیٹھے رہنے کی داستانیں، سید حسین کے وجے لکشمی پنڈت بن چکی سروپا کماری کے سامنے سگار کے کش لگاتے ”نین“ کا تصور کیے رہنا یا علامہ اقبال کے عطیہ فیضی کے نام ناموں کے اندر چھپے جذبے سماج کے بندھن۔ مذہب اور عقیدوں کی زنجیریں ہر زمانے، ہر معاشرہ میں ایک جیسے رخ دکھاتے ہیں، ایک جیسی کہانیاں سناتے ہیں۔ اور سید حسین جیسوں کی ”مردوں کے شہر میں“ واحد اجنبی قبریں وہی نوحہ کرتی ہیں جو ہمیشہ سے سنتے آتے ہیں۔
بر مزار ما غریباں نہ چراغے نہ گلے
نہ پر پروانہ سوزد نہ صدائے بلبلے
نوٹ۔ اس مضمون کی تیاری میں زیادہ مدد بی بی سی ہندی کے پوڈکاسٹ سے لی گئی ہے اور انٹرنیٹ پہ موجود دوسرے مواد اور مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔


