امن کے فروغ اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں مذہبی رہنماؤں کا کردار


امن ایک ایسی کیفیت، احساس اور جذبے کا نام ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد انفرادی سطح پر اپنی زندگی، جائیداد اور دیگر حقوق کو محفوظ تصور کرتا ہے۔ اور بطور مجموعی، قوم اپنے وسائل، اختیارات اور ملکی معاملات کو بغیر کسی بیرونی دباؤ کے استعمال کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کسی بھی ملک میں ذاتی، اجتماعی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی معاملات کا کسی بھی قسم کے دباؤ اور خوف کے بغیر طے پانا امن کہلاتا ہے۔

امن کی ضد جنگ ہے۔ اس کائنات میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب عزازیل نے خدائی حکم کو نہ مانتے ہوئے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا گیا، دوسرے کئی مسائل مثلاً معاشی عدم مساوات، قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہب کی اندھی تقلید امن کی تباہی کا باعث بننے لگے۔ امن، اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی صلح و آتشی اور حفاظت کے ہیں۔ انگریزی میں اسے peace کہا جاتا ہے۔

امن کی دو اقسام ہیں۔ ایک اندرونی جس کا تعلق فرد کی ذاتی زندگی سے ہوتا ہے اور دوسری خارجی جس کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے۔ انفرادی امن کی تباہی، زندگی عذاب بنا دیتی ہے تو خارجی امن کی تباہی قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ جب دو عالمی جنگیں ہو چکی، تو انسان غفلت سے بیدار ہوا اور عالمی امن کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کو 1945 ء میں وجود میں لایا گیا۔ 1981 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21 ستمبر کو امن کا دن قرار دیا۔

امن کی تباہی قوم کی تباہی ہے اس وجہ سے قرآن مجید میں ارشاد ہے :
”اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
حضرت محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
”جس نے کسی غیر مسلم پر امن شہری کو ناحق قتل کیا اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کر دی۔“

جنگیں، جو مسائل کے حل کے لیے لڑی گئی تھیں جب وہ خود مسائل پیدا کرنے لگیں۔ تو ساحر لدھیانوی بول اٹھے۔

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
امن جنگ سے نہیں آتا بلکہ وہ تو بس ایک مسکراہٹ کے عوض خریدا جا سکتا ہے۔
”Peace begins with a smile.“
(Mother Teresa)

میانہ روی کو ترک کرتے ہوئے دو انتہاؤں، چاہے وہ انتہا نظریاتی، سیاسی، مذہبی، معاشی ہو یا معاشرتی، میں سے کسی ایک انتہا کی طرف جھکنا انتہا پسندی کہلاتا ہے۔

جب گفتگو کا ماحول نہ رہے، دلیل کی بجائے جذبات کی پیروی کی جانے لگے اور زبان جذبات کی ترجمان بن کر چیخ و پکار پر اتر آئے تو انتہا پسندی کا جنم ہوتا ہے۔ انتہا پسندی تب پروان چڑھتی ہے جب یہ نعرہ معاشرے میں پنپ جائے کہ ”بول کہ لب آزاد ہیں ترے“ اور اس پر کوئی سنسرشپ نہ ہو۔ انتہا پسندی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی عمر۔ انتہا پسندی کی اصل وجہ علم کی کمی اور اس کا ناقص ہونا ہے۔ قرآن مجید میں انتہا پسندی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے ؛

”اور تو اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ، بے شک سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی ہے۔“

حضرت محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی میانہ روی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ: ”میانہ روی اختیار کرو کیونکہ جس کام میں میانہ روی ہوتی ہے، وہ کام سنور جاتا ہے اور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی وہ کام بگڑ جاتا ہے۔“

انتہا پسندی کا حل صرف یہی ہے کہ اخوت کو اجاگر کرتے ہوئے ہر شخص کو یہ سمجھایا جائے کہ اصل کامیابی اور مسائل کا حل درمیانہ راستہ اختیار کرنے میں ہے۔

مذہب کے معنی طریقہ، دین، آئین اور عقیدہ کے ہیں۔ جبکہ رہنما کا مطلب ہے ہادی اور رہبر۔ اس طرح مذہبی رہنما کے معنی ہوئے وہ شخص جو ایک خاص دین کے اصولوں اور قوانین کے مطابق لوگوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتا ہے۔ ہر مذہب میں مذہبی رہنماؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لوگ ان کی بات کو معتبر سمجھتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں۔ مختلف مذاہب میں مذہبی رہنماؤں کو مختلف خطابات سے پکارا جاتا ہے۔ مثلاً اسلام میں علامہ، عیسائیت میں پادری، یہودیت میں رابی، سکھ مت میں گرو اور ہندومت میں سوامی وغیرہ۔

ہر مذہب بنیادی طور پر امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔ یہ ذمہ داری مذہبی رہنما پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو امن و سلامتی کا درس دیتے ہوئے معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس مضمون میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کی امن کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ اسلام کی بات کی جائے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک کا نام سب سے پہلے لیا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں امن کا پیغام پھیلانے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے ”اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن“ قائم کی ہے اور Peace TV کے ذریعے امن و سلامتی کا درس دیتے ہیں۔

دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ممالک میں انہیں امن کا داعی کے طور پر پر پروگراموں کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ جہاں وہ امن کا پیغام دیتے ہیں تو دوسری طرف ان لوگوں کی بھرپور مخالفت بھی کرتے ہیں جو انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہیں خود کش حملہ کرتے ہیں۔ جب ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بات اسلام کے خلاف ہے اور حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ نے بھی کبھی نہیں کہا کہ معصوم لوگوں کو قتل کیا جائے۔ میری ویڈیوز اٹھا کر دیکھ لیں میں نے کسی لیکچر میں خودکش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کی حمایت نہیں کی۔ امن کے فروغ کے لیے کوشاں ہونے کی بدولت انہیں کئی عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ جن میں عالم اسلام کا سب سے بڑا ایوارڈ شاہ فیصل ایوارڈ بھی شامل ہے۔

مفتی اسماعیل بن موسی مینک زمبابوے کے اسلامی اسکالر ہیں۔ انہوں نے 2016 ء میں مالدیپ میں مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا اور اپنے چینل Mufti Menk Official سے امن کے فروغ کے لیے بیانات جاری کیے ۔ اس کے ساتھ انھوں نے 2016 ء میں لائبیریا کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ مسلم عیسائی تشدد سے گریز کریں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے عقیدے کو زبردستی ٹھونس سکے۔ انہوں نے مغربی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا کہ وہ مسلمانوں کو کو بلاوجہ دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔

اگر عیسائیت کی بات کی جائے تو پوپ فرانسس کا امن کے فروغ اور انتہا پسندی کے مقابلہ میں اہم کردار ہے۔ 2013 ء میں جنوبی سویڈن میں جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو پوپ فرانسس نے یوں بیان دیا۔

” میں تمہیں کہتا ہوں کے اس کی جستجو کرو جو تمہیں متحد کر دے۔ لوگ ماضی کے تنازعات سے بیزار اور تنگ آ گئے ہیں اور یاد رکھو کہ جنگ کے ساتھ تم سب کچھ کھو دو گے۔“

انہوں نے امن کا پیغام پہنچانے کے لیے 2016 ء میں ان مہاجرین کے پاؤں دھو کر انہیں بوسہ دیا جو جنگ کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ اٹلی چلے آئے تھے۔ ان سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا:

”آپ سب اپنے مذہبی عقائد کے مطابق خدا سے دعا کریں کہ دنیا میں بھائی چارہ اور امن قائم ہو۔“
فلسطین میں جاری جنگ کے حوالے سے انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا:
”ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور امن کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔“

پوپ فرانسس نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔

یوکرین روس جنگ کو روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے پوپ فرانسس نے جنگی جنون کی روک تھام کی حمایت کرتے ہوئے عالمی سیاسی رہنماؤں سے یوکرین میں امن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔

ہندو دھرم کی بات کی جائے تو سوامی و ویکانند، شری شری روی شنکر اور سوامی سشیل جی مہاراج کا نام لیا جا سکتا ہے۔ سوامی وویکانند نے امن کے فروغ کے لیے اخلاقیات پر زور دیا اور کہا کہ ”وہ معاشرہ سب سے عظیم ہے، جہاں اعلیٰ ترین سچائیاں عملی ہو جاتی ہیں۔“ اگر انسان حقیقت کو پہچان لے تو دنیا میں بدامنی نہیں پھیل سکتی۔

سوامی سشیل جی مہاراج آل مذاہب پارلیمنٹ آف انڈیا کے صدر ہیں۔ نئی دہلی میں رام نومی تہوار کے موقع پر ان کا کہنا تھا:

ہم سبھی مذہبی نمائندے رام نومی تہوار کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس طرح کے واقعات اور تشدد کے رجحان و ذہنیت کو ملک اور سماج کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے 25 اپریل 2023 ء کو نئی دہلی میں پندرہویں قومی بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ہوا جس کا موضوع ”ہمدردی، امن اور انصاف کی ثقافت کے لیے اپنے دلوں کو کھولنا“ تھا۔

شری شری روی شنکر ہندوؤں کے روحانی پیشوا ہیں۔ وہ اپنے مریدوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ امن وہ پہلا قدم ہے جو تمام مشکلات کا حل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس جہاں میں اس لئے آیا ہوں کہ اپنے الفاظ سے دنیا میں امن لا سکوں۔

بدھ مت کی بات کی جائے تو چودھویں دلائی لاما امن کے فروغ میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ تبت کے داخلی جھگڑوں کو حل کرنے اور پوری دنیا میں اپنی کتابوں کے ذریعے امن کا پیغام پہنچانے پر 1989 ء میں انہیں نوبل انعام برائے امن سے نوازا جا چکا ہے۔

سکھ مت کے گیانی سنت سنگھ مسکین اور ہرپال سنگھ پنو نے اپنی کتابوں اور خطابات کے ذریعے معاشرے میں انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے اور پیام امن عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

مجموعی جائزہ:

ہر مذہب کی بنیاد امن پر ہے اور ہر مذہب کے رہنما اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق معاشرے میں امن کا پیغام پھیلانے اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو معاشی، معاشرتی، اخلاقی، ثقافتی، سماجی، نسلی، بلکہ ہر قسم کی انتہا پسندی سے روکتے ہوئے محبت، اخوت اور بھائی چارہ کی فضا کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہب کی روح سے واقف رہنما کبھی بھی جنگ کی ترغیب نہیں دیتے بلکہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ملکی و بین الاقوامی مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے۔ وہ اپنے خطبات کے ذریعے لوگوں کو میانہ روی اختیار کرتے ہوئے محبت پھیلانے کا درس دیتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ : بقول ظفر زیدی

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais