نفرت کے بیج اور محبت کی ہوا
جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے اور سچ یہی ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، یہ دنیا مکافات عمل ہے لیکن کچھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیج بویا جاتا ہے لیکن کھیت کو اجاڑ دیا جاتا ہے تو فصل حاصل نہیں ہوتی لیکن نتیجہ پھر بھی نکلتا ہے۔
نفرت کا بیج نہایت زہریلا ہوتا ہے، کوشش یہی کی جاوے کہ ایسی نوبت نہ آوے، اگر غلطی ہو جائے تو حتی الامکان یہی کرنا چاہیے کہ فصل تیار ہونے سے قبل کھیت کو اجاڑ دینا چاہیے اور غلط فہمیوں کے ازالے کی حتی الامقدور کوشش کرنی چاہیے نہیں تو پھر یہ غلط فہمیاں ایک تناور درخت بن جاتی ہے اور وہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دیتا بلکہ کانٹوں سے بھری جھاڑی کی مانند ہوتا ہے جو صرف نقصان پہنچاتا ہے۔
آج میرے دیس میں نفرتوں کا کاروبار عروج پہ ہے غصیلے لہجے، طنز کے نشتر اور طعن و تشنیع سے لیس جملے ہماری عادت کا حصہ اور معاشرے کا جزو بن چکے ہیں، کہیں پڑھا تھا کہ دو چہرے انسان نہیں بھولتا، ایک مشکل میں سہارا دینا والا اور دوسرا مشکل میں ساتھ چھوڑ کر جانے والا، لیکن مشاہدے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے نفرت سے لبریز لہجے بھی کلیجے چھلنی کر دیتے ہیں اور وہ بھی کبھی نہیں بھولتے۔
دو بول محبت سے کیا جاتا ہے، ؟ تھوڑی سی عاجزی اختیار کرنے سے کیا قد چھوٹا ہو جاتا ہے؟ تکبر کا لبادہ اتار کر معاشرے میں جینے سے کیا مرنے سے قبل انسان مر جاتا ہے؟ نہیں نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ تجربہ کر کے تو دیکھئے، آپ بھی کئی بھید کھلیں گے اور بہت کچھ عیاں ہو گا، یہ بھی محسوس ہو گا معاشرہ اچھا ہے، دنیا دلکش ہے اور لوگ خوبصورت ہیں۔
ہم میں اکثریت کا تعلق نفرت کے کاروبار سے منسلک ہے تبھی تو ہمارے رویوں میں عجب سی بیزاری اور لہجوں میں تلخی شامل ہے جس کی وجہ سے لوگ زہر لگتے ہیں، معاشرہ پیارا نہیں لگتا اور زندگی دلکش محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ ہم ایسی دوڑ میں شامل محسوس ہوتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔
ہم نفرت کے بیوپار میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ پہلے خود کو اذیت دی، پھر معاشرے کو اس میں رنگا اور اب تو یہ حالت ہے کہ من حیث القوم اس کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ عادت ہمارے اندر ایسے سرایت کر گئی ہے کہ ہماری باگ ڈور سنبھالنے والے، اس قوم کی قیادت کرنے والے اور انتطام سنبھالنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔
لیکن اس میں ابھی تک ایک خیر کا پہلو باقی ہے کہ آج بھی جب درد حد سے بڑھ جاتا ہے، زندگی کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے، اور معاشرہ قبول کرنے سے انکاری ہوتا ہے تو لوگوں کی امید کا مرکز یہی انتظامی ادارے اور لیڈران ہی ہوتے ہیں جو ان کا ازالہ کرتے ہیں۔
اسی لیے کوئی بلوچستان سے نکلتا ہے تو یہی التجا کرتا ہے کہ اے والی شہر، ہماری شنوائی کی جائے، کسی پہ ظلم ہوتا ہے تو انصاف کے ترازو سے مظلوم امید کرتے ہیں کہ ہماری آہ سنی جائے اور درد کا مداوا کیا جائے، کئی درد دل رکھنے والے لوگ بھی میدان میں اترتے ہیں اور مظلوموں کی ڈھارس بنتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نفرت زدہ معاشرے میں ٹھکرائے ہوئے لوگوں پہ ڈھائے گئے مظالم کا مداوا نہ کیا گیا تو پھر کون ہو گا جو ان کے زخموں پہ مرہم رکھے گا اور یہ لوگ کس سے امید لگائیں گے؟
اگر امید کا خون ہو گیا تو پھر انارکی پھیلے گی، انتشار ہو گا جو سب کچھ ملیا میٹ کر دے گا اور نفرت زدہ معاشرے میں جو محبت کی ہلکی سی ہوا کا گزر ہے وہ بھی باد صمیم بن جائے گی، محبت ناپید ہو جائے گی، نفرت کا دور دورہ ہو گا اور پھر زندگی بھی اذیت ناک ہو جائے گی کیونکہ ہم ہر جنگ کو انا کی جنگ میں تبدیل کر دیتے ہیں، خود ہی جلتے ہیں اور خود کڑھتے رہتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے، انفرادی کردار ادا کریں، اجتماعی طور پہ بھی ہم متحد ہو کر اس نفرت زدہ ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں اور سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے اداروں کی ہے کہ وہ میدان عمل میں اتریں، نفرتوں کو ذبح کریں، نظریہ ضرورت کو دفن کریں، انا کو مار دیں، اور ان زخمی دلوں پہ مرہم رکھیں، اور اس امید کو زندہ رکھیں، جو مظلوموں کو اداروں سے ہے۔
پھر امید ہے بلکہ یقین ہے کہ محبت کی ایسی میٹھی ہوا چلے گی، جس میں امن کی خوشبو ہو گی، وحدت کی جھلک ہوگی، خوبصورت رنگ ہوں گے اور کچھ لوگ اس وقت بھی مصلیٰ بچھائے یہ مانگ رہے ہوں گے کہ
خدا کرے مرے ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو


