شب ظلمت میں نکلا چاند (4)
” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مہرین۔ یہ بات تم مجھے اب بتا رہی ہو، اتنا سب کچھ ہونے کے بعد“
خضر صاحب اور ایمن کے سونے کے بعد مہرین گیسٹ روم میں شرجیل کو سب کچھ بتا چکی تھیں جس پر شرجیل سخت غصے میں تھے
” میں نہیں چاہتی تھی بھائی جان کہ ایک بار پھر آپ کے اور اس کے درمیان کلیش ہو“ ۔
” ہونہہ۔ کلیش۔ اب میرے پاس کیا بچا ہے جسے وہ چھین لے گا“
ایک عجیب سا دکھ ان کے لہجے میں بول رہا تھا
” اس نے دھمکی دی ہے بھائی جان کہ۔ “
” کچھ نہیں کر سکتا وہ، خواہ مخواہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اب میں آ گیا ہوں نا، اور خبردار جو اس کی کوئی فضول بات مانی“
” وہ تو ٹھیک ہے پر ماحد، وہ تو رحمان کا بیٹا ہے“ ”ڈونٹ وری، وہ شاہ بانو کا بھی تو بیٹا ہے رحمان جیسا نہیں ہو سکتا“
سگریٹ کے دھویں میں شاید انہوں نے شاہ بانو کو دیکھنے کی کوشش کی تھی
” ویسے۔ کیسی ہے وہ“
ان کے بے چین دل سے ایک آہ نکل کر لبوں تک آ گئی۔ بھائی کے دکھ سے مہرین کا دل بھی دکھی ہو گیا
” بظاہر تو ٹھیک ہی لگتی ہے مگر انکھیں اندر کا حال سنا دیتی ہیں“ ۔
شرجیل کو اپنی انکھوں کے کونوں میں نمی کا احساس ہوا۔
رات میں ماحد اور رحمان صاحب کو خضر صاحب نے بطور خاص مدعو کیا تھا مگر شرجیل کو سامنے دیکھ کر رحمان صاحب کی اندرونی حالت عجیب ہو گئی۔ بمشکل تمام دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا ایک ضروری کال کا بہانہ کر کے رحمان صاحب فوراً ہی وہاں سے اٹھ آئے لیکن ماحد کافی دیر بیٹھا رہا۔ ماحد کے چہرے میں شرجیل کو شاہ بانو کی جھلک دکھائی دی تھی ساتھ ہی اس کی باتوں سے شرجیل کو ایک سہما سہما سا تاثر بھی ملا بعد میں انہوں نے سوچا شاید یہ میرا وہم ہو۔
***********
دو دن بعد بظاہر سب ٹھیک ٹھاک تھا لیکن بیوی ہونے کی حیثیت سے مہرین سمجھ گئیں کہ خضر صاحب پریشان ہیں۔ رات جب دونوں کمرے میں آ گئے تب مہرین نے پوچھا
” آپ مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔ سب خیریت تو ہے“ ۔
خضر صاحب انہیں دیکھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئے
” ابھی تو خیریت ہے لیکن شاید آگے نہ ہو“ ۔
” کیا مطلب۔ میں سمجھی نہیں“
مہرین ان کے قریب آ گئیں
” اکاؤنٹس میں پانچ کروڑ کی ہیرا پھیری ہے اور الزام میرے سر آ رہا ہے“
” کیا۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے“ ۔
” میں خود حیران ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ۔ میں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک روپے کی ہیرا پھیری نہیں کی اور اب یہ پانچ کروڑ۔ “ ۔
یہ کہتے ہوئے وہ اپنا سینہ مسلنے لگے۔ مہرین ایک دم گھبرا گئیں۔
” خدا کے لیے خود کو سنبھالیں، کچھ نہیں ہو گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اللہ ہماری مدد کرے گا اس مشکل سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی تو حل ہو گا“
” ہاں ہاں، تم گھبراؤ نا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں صبح ہی رحمان صاحب سے بات کروں گا“ ۔
مہرین نے ایک دم چونک کر انہیں دیکھا
” رحمان“
” ہاں۔ وہ ہیڈ کوارٹر میں ہوتے ہیں نا، ان کی مدد سے یقیناً مسئلہ حل ہو جائے گا“ ۔
مہرین سن سا وجود لیے انہیں دیکھتی رہیں۔ تو اس کا مطلب یہ سب رحمان کروا رہے ہیں ان کی سوچ اسی ایک نقطے پر ٹھہر گئی تھی۔
********
” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ اس حد تک گر سکتے ہیں“
رحمان صاحب اپنے آفس میں کچھ ضروری فائلیں چیک کر رہے تھے جب انہیں مہرین کی کال موصول ہوئی۔
” اوہ۔ تو تم ہو“
انہوں نے فائل سائیڈ میں کھسکا دی اور ریوالونگ چیئر سے ٹیک لگا کر تصور میں پریشان دکھائی دیتی مہرین کی حالت سے لطف اندوز ہونے لگے
” کیوں۔ کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب کچھ“ ۔
”۔ میں۔ میں کیا کر رہا ہوں“ ۔
” رحمان! آپ اچھی طرح جانتے ہیں خضر بے قصور ہیں ان کا ریکارڈ صاف ہے۔ آپ پھنسا رہے ہیں انہیں“ ”اچھا۔ کیا ثبوت ہے اس بات کا“ ۔
مہرین نے بے بسی سے اپنا ہونٹ کاٹ لیا
” کیا ملے گا اپ کو یہ سب کر کے“
” تمہیں میرے اور اپنے معاملے میں شرجیل کو نہیں لانا چاہیے تھا“
” کیا مطلب۔ وہ بھائی ہیں میرے، کبھی بھی میرے گھر آسکتے ہیں“
” بچہ نہیں ہوں میں، سب سمجھ رہا ہوں وہ کیوں آیا ہے لیکن یاد رکھو اس کے آنے سے میری ڈیمانڈ ختم نہیں ہو جائے گی تمہیں میرے پاس آنا ہی ہو گا ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔ تمہارا شوہر عہدہ اور عزت دونوں گنوا بیٹھے گا اور تمہاری بیٹی اپنی محبت“ ۔
” آپ کو رحم نہیں آتا رحمان، دو زندگیاں برباد کر کے۔ اب اور کتنی زندگیاں برباد کریں گے۔ کتنی اچھی ہے شاہ بانو، کیوں قدر نہیں کرتے آپ اس کی“ ”شاہ بانو۔ ہونہہ“ ۔
انہوں نے آگے ہو کر ایش ٹرے میں سگریٹ مسل دی ”تمہارے بھائی کو سبق سکھانے کے لیے میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ایسی عورت کو خود پر مسلط کر لیا جس کے دل سے میں مرتے دم تک غیر کی محبت نہیں نکال سکتا اور نہ ہی وہ ذلت آمیز سلوک بھول سکتا ہوں جو تم نے اور تمہارے بھائی نے میرے ساتھ کیا تھا۔ بہتر ہے اپنے بھائی کو واپس بھیج دو۔ اب تم اسے میرا انتقام سمجھو یا محبت، تمہیں میرے پاس آنا ہی ہو گا۔ میری بات مان لو گی تو تم بھی خوش رہو گی اور میں بھی“ ۔
” اور اگر میں نہ مانوں تو۔ “
” تو۔ ہاہاہا۔ میں نے سنا ہے خضر بہت نازک دل کا انسان ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس کا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے اگر کوئی بڑی بات ہو گئی تو کہیں ہارٹ اٹیک ہی نہ ہو جائے اسے“ ۔
اس سے زیادہ سننے کی تاب نہیں تھی مہرین میں۔ شدید غصے اور جھنجھلاہٹ میں انہوں نے اپنا فون سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا۔ بے بسی اور کرب کی کیفیت میں وہ کھڑکی میں آ کھڑی ہوئیں۔ ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ساتھ گزرے وقت کی تلخ و شیریں یادوں نے بھی ان کا دامن گھیر لیا۔ ان کا ماضی بازو پھیلائے ان کے سامنے کھڑا تھا۔
**************
مہرین غالب کی دیوانی تھی اور کتنے ہی غالب کے شعر وہ عائزہ کو سنا چکی تھی مگر جب عائزہ نے غالب کا ایک شعر اسے سنایا تو وہ پھڑک کر رہ گئی جلدی سے اس نے اپنے بیگ سے نوٹ بک نکال لی اور عائزہ کا سنایا ہوا شعر اس میں لکھ ڈالا۔
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
سر رحمان کا پیریڈ شروع ہونے والا تھا وہ دونوں بھاگتی ہوئی کلاس میں پہنچیں۔ سر رحمان کو کالج جوائن کیے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا وہ ٹائم اور اصولوں کے سخت پابند انسان تھے۔ لڑکیاں سرحمان کو دیکھتیں تو حیران رہ جاتیں کہ اتنا ینگ ڈیشنگ اور سمارٹ سا ٹیچر اتنا سخت مزاج کیسے ہو سکتا ہے۔ مشکل سے سمجھ میں آنے والا مضمون سٹیٹس وہ پڑھاتے تھے ویسا ہی مشکل سے سمجھ میں آنے والا ان کا مزاج تھا۔ کبھی کسی نے انہیں کسی کے ساتھ فری ہوتے نہیں دیکھا تھا۔
آج بھی وائٹ بورڈ پر ان کے ہاتھ چل رہے تھے اور سٹوڈنٹس تیزی سے اتار رہے تھے پھر انہوں نے سب کی نوٹ بکس چیک کرنے کے لیے مانگ لیں۔ چند ایک جو رہ گئیں وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اتفاق سے مہرین کی نوٹ بک بھی انہی میں شامل تھی۔ اگلے دن عائزہ اور مہرین کیفے ٹیریا میں چائے اور سینڈوچز سے لطف اندوز ہو رہی تھیں تبھی عائشہ تیزی تیزی سے چلتی ان کے پاس آئی
”مہرین تمہیں سر رحمان بلا رہے ہیں سٹاف روم میں“ مہرین کی انکھیں حیرت سے پھیل گئی
” مجھے۔ پر کیوں“
”بھئی مجھے کیا پتا خود ہی جا کر پوچھ لو“
یہ کہہ کر وہ چلتی بنی مہرین عائزہ کے ساتھ سٹاف روم تک آئی۔ سر رحمان کا بلانا اس کے لیے اچنبھے کی بات تھی۔ عائزہ سٹاف روم کے باہر ہی رک گئی۔ کانپتے دل کے ساتھ مہرین اندر آئی تو وہ سامنے صوفے پر بیٹھے دروازے کی طرف ہی دیکھ رہے تھے ”جی سر آپ نے بلایا تھا“
” آپ مہرین ہیں“
” جی سر“
انہوں نے سرتا پا غور سے اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
” یہ نوٹ بک آپ کی ہے“
” جی میری ہے۔ کیوں سر کوئی غلطی ہو گئی ہے کیا“ ۔
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا
” نہیں تو۔ میں نے تو آپ کی یہ نوٹ بک لوٹانے کے لیے آپ کو بلایا تھا“
انہوں نے نوٹ بک اس کی طرف بڑھا دی جو خاصی حیرت سے مہرین نے تھام لی۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی جس کے لیے انہوں نے اس کو بلوایا تھا دوسرے سٹوڈنٹس کی نوٹ بکس کے ساتھ وہ اس کی بھی لوٹا سکتے تھے۔ چہرے پر الجھن کے اثار لیے وہ باہر آ گئی مگر کچھ ایسا تھا جس نے اسے اندر ہی اندر کھٹکا دیا تھا۔ باہر آ کر اس نے اپنی نوٹ بک کھول کر دیکھی تو اس کے لکھے ہوئے شعر کے نیچے ایک اور غالب کا شعر لکھا ہوا تھا
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
جو لگائے نہ لگے بجھائے نہ بجھے
اور پھر وہ کچھ آئے دن ہونے لگا۔ سرحمان آئے دن اسے آفس میں لائبریری میں بلوانے لگے کبھی راہ چلتے اسے روک کر کچھ پوچھنے لگ جاتے ان باتوں سے وہ الجھ رہی تھی۔ سر رحمان کی نسبت سے اس کا کردار مشکوک ہو رہا تھا اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی ہے تو شاید خود کو خوش نصیب سمجھتی پر مہرین کے دل پر اس کے بھائی شرجیل کے دوست خضر کے نقش بہت گہرے تھے
*******
کاسنی رنگ کے لباس میں جس پر مکیش کا کام تھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ آج اسے اپنی والدہ مسز احمد کے ساتھ اپنے بھائی کے سسرال ہونے والی بھابی سے ملنے جانا تھا۔ چار ماہ پہلے ہی شرجیل اور شاہ بانو کی منگنی ہوئی تھی۔ دونوں کالج میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ ایک دوسرے کو جانتے اور محبت کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے اتفاق سے مسز احمد اور شاہ بانو کی والدہ حمیرا بیگ سکول کے زمانے کی گہری سہیلیاں نکلیں سو محبت کا رشتہ دوستی کے رشتے سے مل کر ایک مضبوط منگنی کے رشتے میں خوشی خوشی بندھ گیا تھا مگر جانے وہ کیسے لوگ ہوں گے جن کے پیار کو پیار مل جاتا ہو گا۔
مہرین شاہ بانو کے گھر آئی تو دروازہ کھولتے سر رحمان کو دیکھ کر حیران رہ گئی وہ بھی اسے دیکھ کر حیرت میں مبتلا تھے۔ حمیرا خالہ نے تعارف کروایا تو دونوں کی حیرت دور ہوئی۔ رحمان حمیرا خالہ کے بڑے بھائی کی اکلوتی اولاد تھے جن کا پچھلے سال راولپنڈی میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی والدہ بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں۔ ادھر حمیرا خالہ کی شوہر بھی پانچ سال قبل فوت ہو چکے تھے اس لیے حمیرہ خالہ نے رحمان کو اپنے پاس بلا لیا تھا نہ جانے یہ مہرین کا وہم تھا یا حقیقت اس نے آج پہلی بار سر رحمان کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔
ان کی جذبے لٹاتی آنکھیں ان کے دل میں پلنے والی اس کی محبت کا پتہ دے رہی تھیں اس کا دل ایک دم ہی وہاں سے اچاٹ ہو گیا۔ گو کہ شاہ بانو کی اور اس کی اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔ شاہ بانو شرجیل کے ساتھ ساتھ اس کی بھی پسند تھی لیکن آج اس کا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں سے چلی جائے۔ اس کے بعد کالج میں سر رحمان مزید فری ہونے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ اب وہ اسے روک کر فیملی کے حوالے سے بھی بات کرلیتے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سر رحمان کو خود کی طرف پیش قدمی کرنے سے کیسے روکے۔
وہ ان کی حرکتوں سے بیزار ہو چکی تھی۔ تبھی ایک دن سر رحمان نے اسے لائبریری میں بلوا لیا۔ اس وقت زیادہ تر کلاسوں میں پیریڈ جاری تھے اس لیے لائبریری میں طلباء کا رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ چند ایک سٹوڈنٹ بڑی میز کے گرد بیٹھے تھے سر رحمان ان سے قدرے ہٹ کر الماریوں کے سامنے ایک ڈائری ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔
” آپ نے بلایا تھا“
اس کی امد پر سر رحمان نے اسے گہری نظروں سے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی ڈائری اس کی طرف بڑھا دی
” اس کے آخری صفحے پر اپ کے لیے ایک پیغام ہے آپ یہ لے جائیں اور پڑھ کر تسلی سے مجھے جواب دینا“ ۔
ان کا لہجہ سرگوشیانہ اور پراسرار سے تھا اسے عجیب سا لگا اور غصہ بھی آیا۔ اس نے ڈائری لے کر جانے کی بجائے وہیں کھول لی
” آپ یہ اپنے ساتھ گھر لے جائیں اور پھر آرام سے پڑھ کر جواب دیں“
مگر اس کی نظریں وہیں اس تحریر پر پھسلتی چلی گئیں۔ وہ اظہار محبت سے بھری تحریر تھی جس کے آخر میں انہوں نے اس سے کالج کے باہر ایک قریبی ہوٹل میں تنہا ملنے کی درخواست کی تھی۔ مہرین کا خون کھول اٹھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سر رحمان اس گھٹیا پن پر اتر آئیں گے۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے صفحہ پھاڑ کر ان کے منہ پر دے مارا۔
” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ اتنے گرے ہوئے انسان ہوں گے اگر آپ میرے استاد نہ ہوتے تو ان پرزوں کے بجائے میں اپ کے منہ پر طمانچہ دے مارتی۔ یہی میرا جواب ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کے بعد آپ مجھ سے کوئی سوال نہیں کریں گے“ ۔
اس کے زور زور سے بولنے پر وہ طلباء اور لائبریرین ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے مہرین کے وہاں سے جانے کے بعد سر رحمان کا وہاں موجود افراد کے سامنے کھڑا رہنا اور نظر ملانا محال ہو گیا تھا۔
**********
اگلے دو تین دن وہ کالج نہیں گئی مسز احمد پوچھتی رہیں لیکن وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی مگر جب شرجیل نے پوچھا تو وہ خود کو روک نہیں پائی اور ساری بات بتا دی۔
” اس خبیث کی اتنی جرات ہو گئی کہ اس نے میرے بہن پر بری نظر رکھی میں خون کر دوں گا اس کا“
شرجیل کا غیرت سے بھرا خون کھول اٹھا
” نہیں بھائی جان! آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے وہ شاہ بانو کا کزن ہے اس سے لڑائی آپ کے اور شاہ بانو کے رشتے پر اثر انداز ہو سکتی ہے“
” تو پھر کیا کروں بے غیرت بن جاؤں“
” میں نے ایسا کب کہا بس آپ جلد از جلد شادی کی تاریخ پکی کروائیں اور شاہ بانو کو وہاں سے لے آئیں“ شرجیل کا دل وسوسوں میں گھر گیا کہیں وہ شاہ بانو کو ستانا نہ شروع کر دے سو انہوں نے اپنی والدہ پر زور ڈالنا شروع کر دیا مسز احمد مہرین کی اور شرجیل کی ایک ساتھ شادی کرنا چاہ رہی تھیں دونوں کے باپ کا سایہ سر پر نہیں تھا اور وسائل محدود تھے اس لیے وہ مان کر نہیں دے رہی تھیں۔ انہی دنوں حمیرہ خالہ کے چھوٹے بھائی کی بڑی بیٹی کی شادی کی تقریب کا دعوت نامہ موصول ہوا مسز احمد طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے نہ جا پائیں مگر انھوں نے مہرین اور شرجیل کو بھیج دیا۔ بہت دنوں بعد مہرین نے وہاں سر رحمان کو دیکھا انہوں نے بھی بہ نظر غائر مہرین کو دیکھا اور آگے نکلتے چلے گئے۔ شادی کا انتظام گھر کے باہر ایک پارک میں کیا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد گھر کے اندر سے ایک بچہ مہرین کے پاس آ کر کہنے لگا
” آپ کو شاہ بانو باجی اندر بلا رہی ہیں“
شرجیل نے مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے دی وہ گھر میں آئی تو بہت کم لوگ تھے اور جو تھے وہ بھی افراتفری میں تھے۔ اس نے ایک لڑکی سے شاہ بانو کا پوچھا تو وہ کہنے لگی
شاید اوپر ہو گی
جیسے ہی وہ اوپر والی سیڑھیوں میں آئی کسی نے اپنے آہنی شکنجے جیسے بازوں میں اسے جکڑ لیا۔ وہ چکرا کر رہ گئی اوسان بحال ہوئے تو سر رحمان کو خود سے اتنا قریب دیکھ کر بوکھلا گئی
” یہ کیا بدتمیزی ہے، چھوڑیں مجھے“ ۔
اس نے خود کو چھڑانے کی لاکھ کوشش کی پر بے سود رہی۔ سر رحمان کی گرفت بہت مضبوط تھی
” بدتمیزی نہیں، یہ تو میری چاہت ہے۔ بدتمیزی تو وہ تھی جو تم نے کالج میں میرے ساتھ کی تھی۔ کیا تھا۔ صرف اظہار محبت ہی تو کیا تھا، منع کرنا تھا تو آرام سے کر دیتیں اتنا برا ری ایکشن کیوں دکھایا پورے کالج میں بدنام کر کے رکھ دیا مجھے، کسی سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑا“ ۔
ان کی گرفت سخت سے سخت تر ہو رہی تھی
” میں کہتی ہوں چھوڑیں مجھے ورنہ میں شور مچاؤں گی“
مہرین خود کو ان سے آزاد کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی تھی
” مچاؤ۔ مچاؤ شور، یہی تو میں چاہتا ہوں آج تم بھی بدنامی کا مزا چکھو، تم بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو۔“
ابھی وہ نہ جانے کیا کچھ بولنے والے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں کھینچا اور اپنی طرف رخ موڑ کر ایک زوردار گھونسا ان کے جبڑے پر رسید کر دیا اور صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ لاتوں مکوں سے ان کی تواضع کر ڈالی۔ یہ شرجیل تھے۔ مہرین کے گھر میں جانے کے چند منٹ بعد ہی انھیں شادی کے پنڈال میں شاہ بانو دکھائی دی تو ان کا ماتھا ٹھنکا تھا۔ شاہ بانو یہاں ہے تو اندر مہرین کو کس نے بلایا ہے۔ پنڈال کی طرف آتے رحمان کو وہ بھی دیکھ چکے تھے اس خیال کے آتے ہی وہ گھر کی طرف لپکے تھے۔
اگر جو مہرین انہیں کھینچ کھینچ کر وہاں سے لے نا جاتی تو شاید وہ رحمان کا خون ہی کر ڈالتے۔
********
جاری ہے


