شاعر بلوچستان، مبارک قاضی


محمود درویش کو کون نہیں جانتا ( معروف عربی ادیب، ماہر لسانیات اور شاعر ) ۔ اور ریٹا نامی ایک لڑکی سے بے حد محبت کی تھی۔ لیکن اس نے اپنے وطن کی محبت میں، اس لڑکی کی محبت کو ٹھکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ تو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں درویش سے اسے چھوڑنے کی وجہ پوچھی گئی، تو اس نے کہا: ”میں اس لڑکی سے کیسے محبت کر سکتا ہوں، جو نابلس اور القدس میں میرے ملک کی لڑکیوں کو گرفتار کرتی ہے“ ؟ اور زمین کی محبت اور اس لڑکی کی محبت کے بارے میں کہتے ہیں کہ ”ریٹا“ اور میری آنکھوں کے درمیان رائفل حائل ہو گئی ہے!

جب پہلی بار محمود درویش کو معلوم ہوا کہ اس کی محبوبہ تو دراصل دشمنوں کے فوجی دستے سے تعلق رکھتی ہے، تو اس نے کہا:

‏ ”شعرت بان وطنی احتل مرة اخرى“
(مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا ملک دوبارہ غیروں کے قبضے میں آ گیا ہے۔ )

لیکن دوسری پہلو میں واجہ ابا مبارک قاضی جو اس کی اولی اور آخری محبت اپنی گل زمین تھی۔ اس محبت کی مضبوط مثال اس کے اکلوتے بیٹے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کمبر مبارک کی شکل میں بلوچستان کی تاریخ میں اس کا جلی حروف میں نام ثبت ہو گا، قاضی کے اکلوتے بیٹے وہ بھی بلوچستان کے مسلح جد و جہد میں شہید ہونے والا جوان لیکن مبارک نے اپنی زبان سے ایک آہ بھی بلند نہ کی، اس قربانی کے علاوہ اور کیا گلزمین کی محبت ہو سکتی ہے؟ محمود نے ریٹا کو چھوڑا قاضی نے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے گلزمین کی مٹی کی امانت کی تھی۔

مبارک قاضی کا تعارف خود اس کی شاعری میں موجود ہیں۔ ہم کس طرح بلند قامت شخص کی تعارف کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے اندر کئی اشخاص تھے کیوں کہ یہ ایسا شاعر ہے، جس کی تعریف لفظوں یا اوصاف سے ممکن نہیں، وہ ہماری تعریف و توصیف سے بالاتر ہے۔ لیکن اس کی شاعری اور فکر کو سمجھنے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہیں۔

شاعر چوں کہ اپنے ارد گرد کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں لہذا معاشرے کے تغیر و تبدل کا بلاواسطہ یا بالواسطہ اثر قبول کرتا ہے اور پھر اسی خاصیت کے سبب معاشرے کا عکاس بن جاتا ہے۔ تو اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بلوچی شاعری ایک نئے انداز میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس کا سبب وہ حالات و واقعات ہیں جن سے اس کا سامنا ہوا ہے یا ہو رہا ہے۔

چوں کہ قاضی نے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے غزل اور نظم دونوں صنف میں طبع آزمائی کی اور کامیاب بھی ہوا۔ ان کی یہ نظمیں قابل دید ہیں ”جہد ء سفر، مہر ء قصہ ہلاس، درآمد، منی قبلہ منی کعبہ، بالاچ اور کوہ انت بلوچانی کلات“ قاضی کو گلزمین کی درد ہر جگہ گھیرتے ہیں اس کے ہر لفظ میں بلوچ اور بلوچستان آپ کو ضرور ملے گا۔

بقول بشیر ”خیالات و نظریات کو تخلیق کرنا، اظہار پیش کرنا، کوئی مہنگا کام نہیں۔ خیالات و نظریات کو سچ ثابت کر کے رائج کرنا انتہائی مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ عظیم تو وہ ہوتے ہیں، جو اپنے اصول و نظریات کو اپنا لہو بہا کر لہو کی منطق سے سچ ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں“ مبارک قاضی ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کر کے دکھاتے ہیں وہ اپنی نظریات سے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور وہ مزاحمت کی نشان بنتے ہیں۔

قاضی نے ستر کے دہائی میں بلوچی ادب میں قدم رکھا اور ان شعرا میں شمار ہوتا ہے جنھوں اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا اور مبارک کو غزل کے ساتھ ساتھ نظم نگاری میں بھی کمال درجہ حاصل تھا۔ درج بالا کچھ نظموں کے نام درج ہیں ان نظموں میں قاضی کی درد کا احساس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس حد تک بلوچ اور بلوچستان سے محبت تھی۔ بغاوت، انقلاب، غریبی، غلامی، استحصال، لاچاری، عشق، گلزمین، رومان، مذمت زیادہ تر قاضی کے موضوع تھے۔ مذمتی شاعری کی وجہ سے دو بار زندان میں پابند و سلاست ہوئے لیکن اس نے جیل میں بھی انقلاب کا نعرہ بلند گیا تھا۔

مبارک قاضی نے بلوچستان کی حالات کی تغیر پذیر کے در عمل کے طور پر ایسے سامنے آئے کہ جن کے ساتھ بغاوت کا نام لازم و ملزوم ہو گیا تھا۔ ان کے احساسات کسی بغاوت کا لبادہ اوڑھ کر یوں گویا ہوتے ہیں۔

بلوچی وعدہ ء قولانی پاسدارئے تو
مہ ور زبان ء کہ قاضی تئی زبان کپیت

( ترجمہ ; آپ بلوچی وعدہ اور روایتوں کی حفاظت کرنے والے ہو، زبان دینے کے بعد پشیمان نہ ہو جائے کہ تری زبان کی بے حرمتی ہوگی)

ھون ء لوہاریں ہار ء بچار کمبرو
تنگہیں سرڈگار ء بچار کمبرو
(ترجمہ; کمبرو! خون کی طوفان کو دیکھو، گوہر قیمتی سرزمین کو دیکھو)
چو مہ بیت سیوی غیرانی دست ء بروت
چاکر ء یاتگار ء بچار کمبرو
(ترجمہ ; دیکھو کمبرو! سبی چاکر کی یاد گار ہیں ایسا نہ ہو کہ غیروں کے ہاتھوں چلا جائے )

قاضی کا یہ لب و لہجہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ تیز اور تیکھا ہوتا چلا گیا پہلے وہ بغاوت کی انگاروں میں خود جلتے تھے بعد میں انھوں نے اپنے ہم وطنوں کو بھی اس راہ پر خار پر چلنے کی تلقین کی وہ ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں جو آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن سامنے نہیں آتے وہ اپنے لوگوں کو پیغام دیتے ہیں۔

وطن بہارانی رنگ ء درین انت
وطن کہ نیست انت تہ ہچ نہ مانیت
وطن کہ است انت ما زندگاں، زندگاں نمیراں

(ترجمہ۔ وطن بہاروں کی قوس قزح ہے، نہیں ہے وطن تو کچھ چیز معنی نہیں کرتی، جب ہے وطن تو ہم زندہ ہیں اور امر ہیں چوں کہ ہماری شناخت موجود ہوگی )

چوں کہ مبارک قاضی کو اس بات کا علم تھا کہ سرزمین جب تک ہیں ہم موجود ہیں ہماری شناخت موجود ہیں جب سرزمین نہ ہو گئی تو ہمارے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ زبان، کلچر، تمدن، تاریخ، شناخت اور نہ کہ بلوچیت سب فنا ہو جائے گا۔ ان کو معلوم تھا کہ امن جنگ کے بغیر ممکن نہیں اور ظلم و غلامی کے لیے جنگ لازمی ہے۔ وطن کی راگ الاپنے والا یہ بوڑھا شخص واقعی ایک دیوانہ تھا، گلزمین کا عاشق تھا، یہ ملنگ نما شخص کی رحلت نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی یہ فقیر پورا بلوچستان ہے اور پورا بلوچستان مبارک قاضی ہے۔

بیا کہ پدا مرگ ء را مڑاہے گوں کنیں
بیا کہ کنیں بدواہ ء سرا یلغار بلوچ
(ترجمہ ; آ جاؤ ملکموت کو شکست دے گئیں، آ جاؤ کہ دشمن کے سر کو تن سے جدا کریں گئیں )

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d