شاہ بھٹائی کے کلام سے ’پنجاب‘ اور ’لاہور‘ کا ذکر کیسے گم ہوا؟


سندھ کے سرتاج شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے مجموعے ’شاہ جو رسالو‘ کی سندھی تاریخ اور سماج میں اہمیت اور اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے سندھ میں عاشق اپنے محبوب کو اپنے پیار کا یقین دلانے اور منانے کے لئے شاہ بھٹائی یا ’شاہ جو رسالو‘ کی قسم اٹھاتا ہے تو اس قسم پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب انور مقصود نے سندھی قوم کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے تو انہوں نے بھی معذرت کرتے وقت مسجد میں جاکر قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اجرک پہن کر شاہ جو رسالو ہاتھ میں اٹھا کر سندھی قوم سے معافی مانگی تھی، اور ان کو نہ صرف دل سے معاف کر دیا گیا تھا، بلکہ ان سے اضافی عزت اور پیار کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری طرف پنجاب کے شعراء کی بات کی جائے تو ایک حضرت بابا فرید ہی کمال حیثیت کے شاعر ہیں کہ جس کا کلام سکھوں کے مذہبی کتاب ’گرو گرنتھ صاحب‘ کا حصہ بن کر آیتیں (اشلوک) بن چکے ہیں۔

شاہ بھٹائی نے بھی اپنے کلام کے بارے میں ایسا ہی کہا تھا کہ
جی تو بیت ڀانیا سی آیتون آھین
نیو من لائن پریان سندی پار ڏی
’جن کو تم بیت سمجھتے ہو یہ اصل میں آیتیں ہیں
جو تیرے من کو محبوب کی جانب کھینچ لے جاتی ہیں ’

آج ہم شاہ عبداللطیف بھٹائی کی اس دو سطروں والے بیت کی نہیں ایک اور مشہور ترین کلام کی بات کریں گے جس میں دو سطریں کافی وقت سے گمشدہ ہیں، وہ دو سطریں جن میں دیس پنجاب کے ساتھ لاہور اور چکوال کا ذکر کیا گیا ہے۔

شاہ جو رسالو کے مشہور ترین سر سارنگ کا وہ کلام و ترجمہ یوں ہے۔
موثی مانڈاڻ جی، واری ڪیائین وار؛
وڄون وسڻ آئیون، چؤڏس ۽ چوڌار،
ڪی اٿی ویئیون استنبول ڏی، ڪی مڻیون مغرب پار؛
ڪی چمڪن چین تی، ڪی لھن سمرقندین سار؛
ڪی رمی ویئیون روم تی، ڪی ڪابل، ڪی قنڌار؛
ڪی دھلیء، ڪی دکن، ڪی گڙن مٿی گرنار؛
ڪنھین جنبی جیسلمیر تان، ڏنا بیڪانیر بڪار؛
ڪنھین ڀڄ ڀڄائیو، ڪنھین ڍث مٿی ڍار؛
ڪنھین اچی امر ڪوث تان، وسایا ولھار؛
ڪی لڙیون لاہور تی، ڪی ہلن مٿی ہالار
ڪی پریون پنجاب تی ڪن چڪل مٿی چمڪار
سانئیم! سدائین ڪرین، مٿی سنڌ سڪار؛
دوست! مٺا دلدار، عالم سڀ آباد ڪرین۔

(ترجمہ)
آج پھر سجا دیا ہے میرے یار نے آسماں
برق اوڑھے امڈ آئی ہیں گھٹائیں، چار دشاؤں سے چہار سو
کچھ لپک جھپک جاتی ہیں جانب استنبول
کچھ نے لی مسافت مغرب پار کی
کچھ چمک چمک اٹھی ہیں چین پر
کچھ اہل سمرقند سے جا ہوئیں ہمکنار
کچھ جانب روم ہوئیں رواں دواں
کچھ نکل پڑیں رخ کابل اور کچھ رخ قندھار
کچھ جھپٹ جھپٹ اتر پڑیں دلی شہر پر
کچھ نے جا بسایا دکن کا دیار

کچھ کڑکتی گرجتی برس پڑیں گرنار پر
کچھ محو پرواز ہوئیں جیسلمیر کو
کچھ جھڑی بن کر برس گئیں بیکانیر پر
کئی جل تھل کرنے نکل پڑیں بھوج کو
کئی بھگو گئیں تھر کی آغوش کو
اور گل و گلزار کر گئیں امر کوٹ کو
”کچھ لپکیں لاہور کی جانب،
کچھ چلیں طرف ہالار
کچھ پہنچیں پنجاب کی طرف،
کچھ نے کی چکوال پر چمکار ”

اے میرے رب سائیں!
سندھ کو ہمیشہ یونہی ہرا بھرا رکھ
اے میرے دوست رب!
اے میرے پیارے دلدار رب!
سندھ کے ساتھ ساتھ
تمام جہانوں کو آباد رکھ

یہ پورا ترجمہ میڈم نورالہدی شاہ صاحبہ نے کیا ہے، بس اس میں ان دو عدد سطروں کا ترجمہ کرنے کی جسارت ہم نے کی ہے، جن میں پنجاب، لاہور اور چکوال کا ذکر ہے۔

نامور دانشور، افسانہ و ڈرامہ نویس نورالہدی شاہ کا کہنا ہے کہ ’یہ دو سطریں میں نے بھی کئی پرنٹ شدہ رسالوں میں ڈھونڈیں مگر مجھے کہیں نہیں ملیں، مجھے ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے بتایا تھا کہ شاہ جو رسالو سے یہ سطریں پاکستان بننے کے بعد کسی نے نکال دیں تھیں، یہ دونوں سطریں میرے پاس بھی موجود ہیں جو لگتا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے درمیاں پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات یا تعصب کے بعد حذف کردی گئی تھیں۔ جب میں نے اس بیت کا اردو میں ترجمہ کیا تو مجھے بھی کئی احباب نے کہا کہ اس میں پنجاب، لاہور اور چکوال والے ذکر کی سطریں کیوں موجود نہیں؟ ‘

نورالہدی شاہ جو اس وقت خود بھی شاہ جو رسالو کا ترجمہ کرنے کا سوچ رہی رہیں کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تک شاہ بھٹائی کے کلام کو چھاپنے والوں نے شاہ کی شاعری پر کئی بار ہاتھ صاف کیے ہیں، واقعہ کربلا سے متعلقہ سر کیڈارو کو بھی کئی پبلشرز نے نکال دیا ہے، اور خاص طور پر اس بیت سے یہ دو سطریں بھی نکال دی گئی ہیں۔ مگر جب میں ”شاہ جو رسالو“ کا ترجمہ کروں گی تو اس میں یہ دونوں سطریں ضرور شامل کروں گی۔‘

سندھی زبان کے با اختیار ادارے کے سابق سیکریٹری اور نامور دانشور تاج جویو کا کہنا ہے کہ ’شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں پنجاب، لاہور اور چکوال کا ذکر بالکل موجود ہے، اور یہ مشہور کلام میں نے خود ہالا شہر سے نیلی سلوں پر کاشیگری کے کام سے لکھوا کر ان پکی ہوئی اینٹوں کو سندھی لینگویج اتھارٹی کی عمارت میں برآمدے والی دیوار پر پختہ انداز میں لگوا لیا تھا، جو اب بھی وہاں کی زینت ہیں۔

ان دو سطروں کے بارے میں تاج جویو کا کہنا ہے کہ ’یہ دو سطریں کسی بھی پرنٹ شدہ رسالو میں نہیں ہیں، ہاں البتہ کچھ قدیمی قلمی نسخوں میں موجود ہیں، یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جب شاہ بھٹائی کا کلام اکٹھا کیا جانے لگا تو مختلف شہروں سے چالیس سے زیادہ قلمی نسخے حاصل کیے گئے، ان میں وہ نسخہ بھی شامل تھا جو اس وقت بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ کے احاطے میں رکھا گیا ہے۔ اس نسخے کو‘ گنج ’کہتے ہیں، اور گنج میں یہ دو سطریں موجود ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نسخے میں بھی یہ دو سطریں روانی کے ساتھ بیت میں موجود نہیں بلکہ نشانی دے کر اس صفحہ کے حاشیہ میں لکھی گئی ہیں، اس لئے کچھ دانشوروں کا گمان ہے کہ شاید بعد میں لکھی گئی ہیں، جبکہ غالب گمان یہ ہے کہ یہ سطریں اسی کلام کا اصل حصہ ہیں، کیونکہ ان سطروں کی ہاتھ لکھائی بالکل وہ ہی ہے جس سے گنج لکھی گئی ہے، مطلب کسی اور نے بعد مین میں نہیں لکھیں، گنج لکھنے والے خطاط نے خود ہی اور اسی وقت لکھی ہیں۔

تاج جویو اس بات پر بالکل کلیئر ہیں کہ یہ دو سطریں جس میں پنجاب، لاہور اور چکوال کا ذکر ہے وہ شاہ بھٹائی کا اپنا کلام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ ’پنجابی دانشور اقبال قیصر جب سندھ کے مختلف شہروں، درگاہوں، درسگاہوں، عبادت گاہوں اور کتب خانوں میں انڈس سولائزیشن اور خاص طور پر سندھ کی تاریخ میں پنجاب کو ڈھونڈھنے نکلا تھا تب میں نے ہی اس کو شاہ بھٹائی کا یہ کلام سنایا تھا، اور لاہور میں ہونے والی کئی تقریبات میں ہم خود اس کلام کو پیش کرچکے ہیں۔ لاہور اور پنجاب کا ذکر تو شاہ بھٹائی سے بھی بہت پہلے شاہ عنایت شہید کے کلام میں بھی موجود ہے۔ ‘

اس پورے قصے اور قضیہ میں دو باتیں بہت اہم ہیں کہ قوموں میں بدلتی سیاسی اور معاشرتی صورتحال سے قوم کے عظیم شعراء کے صدیوں پرانے کلام تک متاثر ہوتے ہیں۔ جس طرح شاہ جو رسالو کے واقعہ کربلا پر لکھے گئے ’سر کیڈارو‘ کے لیے سنی دانشور ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ شاہ کا کلام ہے جبکہ شیعہ دانشوروں کا خیال ہے کہ سر کیڈارو اور بھی بڑا تھا جس میں سے کچھ مرثیانہ شاعری کو نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح شاہ بھٹائی کے کلام سے دیس پنجاب اور لاہور شہر کا ذکر ہی حذف کر دینا اس شک کو اور پختہ بنا دیتا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد سندھ اور پنجاب کے درمیاں پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات نے سندھی دانشوروں اور خاص طور پر پبلشرز کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ شاہ بھٹائی کے کلام میں سے پنجاب اور لاہور کا ذکر ہی حذف کر دیں، جبکہ دوسری طرف پنجابی دانشور سندھ کے قومی ہیروز کو زیرو بنانے میں آگے آگے رہے۔

دوسری طرف اس پوری صورتحال میں پنجاب میں اس وقت قومی شناختی بحران سے نکلنے کے لئے جاری جدوجہد میں شاہ کے کلام میں چار صدیاں پہلے دیس پنجاب اور لفظ پنجاب کا ذکر اکسیر سے کم نہیں۔

یہ تاریخی سچ ہے کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جس کو انڈس سولائزیشن جیسی دنیا کی عظیم تہذیبی اور تمدنی دھرتی ملی ہے۔ اس وقت ملک جن سیاسی مسائل میں گھرا ہے اس سے نکلنے کے لئے اپنی دھرتی کی تاریخ اور تہذیب کی طرف واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں، مذہبی، معاشی اور سیاسی نظریات وقتی طور پر بڑا فائدہ تو دے سکتے ہیں مستقل حل صرف دھرتی، بولی، ثقافت، اصلیت اور تہذیب میں پیوستہ ہیں۔ اسے لئے تو سندھ کا سرتاج شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھ کے لیے مانگی گئی دعا میں سب سے پہلے استنبول، پورے یورپ، سمرقند، روم، کابل، قندھار، دہلی، دکن، گرنار، جیسلمیر، بیکانیر، بھج، ڈھاٹ، پنجاب، لاہور اور چکوال کی خیر مانگتا ہے، اور اللہ پاک سے دعا کرتا ہے کہ پہلے ان دیسوں میں بارش برسا، ان کو زرخیز کر اس کے ساتھ ساتھ سندھ کو بھی سکار و آباد رکھ۔

اس ملک کو اگر کوئی مستقل اکٹھا، طاقتور، پر امن اور خوشحال رکھ سکتی ہے تو وہ اس ملک کی تمام قومیتوں کی اصلی قومی شناخت کی بحالی اور عالمی سطح پر تہذیبی بنیادوں شناخت انڈس سولائزیشن ہے۔ کیونکہ ہمارا تو کوئی قومی شناختی بحران ہے ہی نہیں، ہم صدیوں سے اس دھرتی کی اولاد سندھی پنجابی، پشتون اور بلوچ ہیں، یہ مسئلہ ان کا ہے جو ان میں سے کسی شناخت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی نئی شناخت بنانا چاہتے ہیں، جو بات اس دھرتی سے مماثلت ہی نہیں رکھتی اور یہ ہی وجہ ہے کہ ان کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہی نہیں ہو پا رہا۔

Facebook Comments HS