ایک مختصر مکالماتی افسانہ ”دماغ کی خرابی“
انیلا کی ماں اسے برا بھلا کہتے کہتے گالی گلوچ پر اتر آئی تھی
”تو کتی، حرامزادی، اپنے باپ کی طرح بے حس۔ وہ حرامی بھی ایسا ہی تھا۔ تین بچے پیدا کرائے اور پھر طلاق کے کاغذات میرے ہاتھ میں تھما کر دفعان ہو گیا“ ۔
”یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں ماں۔ مجھے میرے باپ سے ملا رہی ہیں؟“ ۔
”جب تو اتنے اچھے موقع کو خود ٹھوکر مار کر آ جائے گی تو اور کیا دعائیں دوں گی تجھے؟ تو اچھی طرح جانتی ہے کہ تیری ڈراموں میں اداکاری سے گھر کے اخراجات بھی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ ہائے! کتنا خوش ہوئی تھی میں کہ تجھے اتنی بڑی فلم مل گئی ہے۔ اب میں بھی دو چار زیور اصلی سونے کے پہن سکوں گی۔ مگر کہاں؟ میری قسمت اتنی اچھی کیسے ہو سکتی ہے؟“ ۔
”آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں نے وہ فلم کیوں چھوڑی“ ۔
”ہاں جانتی ہوں۔ فلم کا پروڈیوسر چاہتا تھا کہ تو دو تین راتیں اس کے ساتھ گزارے۔ بس اتنی سی بات پر تو نے اتنی بڑی فلم اور بھاری معاوضے کو لات مار دی“ ۔
”آپ کے لئے تو یہ اتنی سی بات ہے نا؟“ ۔
”تو اور کیا؟ تو کوئی ستی ساوتری ہے؟ کوئی حاجن نمازن، باکرہ دوشیزہ ہے؟ یا تو نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا؟ تو سمجھتی ہے مجھے تیرے سکینڈلوں کی، تیرے یارانوں کی کوئی خبر نہیں؟“ ۔
”میں ایک نوجوان لڑکی ہوں۔ میرے بھی جذبات ہیں۔ اس لئے کوئی دوستی وغیرہ بھی ہو جاتی ہے“ ۔
”تو پھر کوئی دولت والا دوست کیوں نہیں ڈھونڈتی؟ تیرے ساتھ کی کتنی لڑکیوں نے پیسے والے دوست ڈھونڈے، اپنا مستقبل محفوظ کیا اور اب وہ آرام سے ہیں“ ۔
”اگر مجھے بھی کوئی ایسا پیار کرنے والا مل گیا، جو مجھے بھی پسند ہوا تو میں بھی ایسا کر لوں گی۔ پھر آپ بھی خوش ہو جائیے گا“ ۔
”میں تو تیرے بھلے کے لئے کہتی ہوں پاگل لڑکی۔ دو تین راتیں اس پروڈیوسر کے ساتھ گزار لیتی تو اتنی بڑی فلم مل جاتی تجھے۔ پیسے بھی ایڈوانس میں دینے کے لئے تیار تھا وہ“ ۔
”راتیں گزارنے کی آفر تو مجھے اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ پیسے بھی ٹھیک مل سکتے ہیں مگر میں وہ کام نہیں کر سکتی۔ جب تک خود میری پسند اور مرضی ساتھ شامل نہ ہو“ ۔
”لیکن وہ تو تمہیں فلم میں کام کرنے کے پیسے دے رہا تھا“ ۔
”وہ جو پیسے ایڈوانس کے طور پر دے رہا تھا وہ ان دو تین راتوں کے ہی تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ فلم کے کام کے دوران مجھے احساس دلا سکے کہ جو پیسے مجھے ملے ہیں وہ میری اداکاری کے نہیں، بلکہ میرا جسم استعمال کرنے کے ملے ہیں اور یہی میری اوقات ہے“ ۔
”تمہارا تو دماغ ہی خراب ہے۔ جو تمہیں پیار محبت کا چکر دے اسے سب کچھ مفت میں پیش کر دو اور جو صاف صاف بتا دے اسے اپنا دشمن بنا لو“ ۔
”جی میرا خراب دماغ یہی کہتا ہے کہ برے سے برا کام بھی کرنا ہے تو تبھی کرو جب خود کو پسند ہو اور اپنا بھی جی چاہتا ہو۔ لیکن اگر کوئی دھونس دھاندلی سے، پیسے کے زور پر یا بلیک میل کر کے وہی کام کرانا چاہے تو صاف انکار کر دو “ ۔


